انٹرٹینمینٹتازہ ترین

پاکستان میں 15 لاکھ بچے آن لائن جنسی استحصال کا شکار، 71 فیصد متاثرین نے کسی کو نہیں بتایا: یونیسیف رپورٹ

آن لائن استحصال ہمیشہ کسی اچانک یا واضح خطرے سے شروع نہیں ہوتا

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

پاکستان میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک تشویشناک صورتحال سامنے آئی ہے، جہاں اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک سال کے دوران تقریباً 15 لاکھ بچے آن لائن جنسی استحصال کا شکار ہوئے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سماجی بدنامی، شرمندگی، خوف اور خاندان کے ممکنہ ردعمل کے باعث متاثرہ بچوں کی بڑی تعداد نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کے بارے میں کسی کو آگاہ نہیں کیا۔

یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق 71 فیصد متاثرین نے آن لائن جنسی استحصال کے بارے میں کسی بھی شخص کو نہیں بتایا، جبکہ سروے میں شامل کسی بچے نے پولیس، ہیلپ لائن یا سماجی کارکن سمیت کسی باضابطہ ادارے یا ذریعے کو شکایت درج نہیں کرائی۔

رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بچوں کو ڈیجیٹل دنیا میں درپیش خطرات صرف ٹیکنالوجی یا انٹرنیٹ کے استعمال تک محدود نہیں بلکہ ان کے ساتھ سماجی، خاندانی اور قانونی عوامل بھی جڑے ہوئے ہیں، جو متاثرین کو مدد حاصل کرنے سے روک سکتے ہیں۔

زیادہ تر متاثرین کا استحصال کرنے والے پہلے سے جان پہچان کے افراد

یونیسیف کی رپورٹ میں 12 سے 17 سال کی عمر کے بچوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ متاثرین میں تقریباً 85 فیصد بچوں کا جنسی استحصال کرنے والے افراد پہلے سے ان کے جاننے والے تھے۔

رپورٹ کے مرکزی مصنف ڈینیئل کارڈیفیلٹ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آن لائن استحصال ہمیشہ کسی اچانک یا واضح خطرے سے شروع نہیں ہوتا بلکہ بسا اوقات ایک دوستانہ گفتگو، آن لائن گیم کے دوران رابطے، تحائف، رقم یا محبت کے وعدے کے ذریعے اعتماد قائم کرنے سے اس کا آغاز ہوتا ہے۔

ان کے مطابق استحصال کرنے والے افراد سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی معلومات کو استعمال کرتے ہوئے بچوں کے ساتھ اعتماد کا رشتہ قائم کرنے میں کئی ماہ تک صرف کر سکتے ہیں۔

اس طریقہ کار میں بچے کو بظاہر دوستانہ رویے، ہمدردی، دوستی یا جذباتی وابستگی کے ذریعے اپنے قریب لایا جا سکتا ہے، جس کے بعد اس اعتماد کو بچے کے استحصال کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

سوشل میڈیا سے ذاتی معلومات کا غلط استعمال

رپورٹ میں اس امر کی جانب بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ بچے اور نوجوان سوشل میڈیا پر اپنی روزمرہ زندگی، پسند و ناپسند، اسکول، دوستوں، خاندان اور دیگر ذاتی معلومات کے بارے میں مواد شیئر کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہی معلومات بعض اوقات ایسے افراد کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہیں جو بچوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ بچے کی دلچسپیوں اور معمولات کو سمجھ کر اسی مناسبت سے گفتگو شروع کر سکتے ہیں اور آہستہ آہستہ اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ڈینیئل کارڈیفیلٹ کے مطابق استحصال کرنے والا شخص فوری طور پر اپنی اصل نیت ظاہر کرنے کے بجائے طویل عرصے تک بچے کے ساتھ رابطے میں رہ سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بچوں، والدین اور اساتذہ کے لیے آن لائن تعلقات اور ڈیجیٹل رابطوں میں موجود خطرات کو سمجھنا اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

71 فیصد متاثرین نے خاموشی اختیار کی

یونیسیف کی رپورٹ کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ متاثرین کی اکثریت نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کو رپورٹ نہیں کیا۔

رپورٹ کے مطابق 71 فیصد بچوں نے کسی کو بھی اس بارے میں نہیں بتایا، جبکہ سروے میں شامل کسی بھی بچے نے پولیس، ہیلپ لائن، سماجی کارکن یا کسی دوسرے رسمی ذریعے سے شکایت نہیں کی۔

ماہرین کے مطابق یہ خاموشی اس مسئلے کی اصل شدت کو سمجھنے میں ایک بڑی رکاوٹ بھی بن سکتی ہے، کیونکہ سرکاری یا ادارہ جاتی اعداد و شمار میں صرف وہ واقعات شامل ہوتے ہیں جن کی اطلاع دی جائے۔

یونیسیف کی رپورٹ سے سامنے آنے والی صورتحال کے مطابق اگر متاثرین خوف یا بدنامی کے باعث خاموش رہیں تو آن لائن جنسی استحصال کے حقیقی حجم کا اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔

بدنامی اور خاندان کے ردعمل کا خوف

رپورٹ کے مطابق بچوں کے خاموش رہنے کی بڑی وجوہات میں سماجی بدنامی، شرمندگی اور خاندان یا معاشرے کے ممکنہ ردعمل کا خوف شامل ہیں۔

خصوصاً ایسے معاشرے میں جہاں جنسی نوعیت کے معاملات پر کھل کر گفتگو کرنا مشکل سمجھا جاتا ہے، متاثرہ بچے یہ خدشہ محسوس کر سکتے ہیں کہ اگر واقعہ سامنے آگیا تو انہیں ہی الزام یا پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس صورتحال میں بعض بچے مدد طلب کرنے کے بجائے واقعہ اپنے اندر رکھنے کو نسبتاً محفوظ راستہ سمجھ سکتے ہیں۔

لڑکیاں زیادہ خطرے میں

رپورٹ میں لڑکیوں کو درپیش مخصوص خطرات کی جانب بھی توجہ دلائی گئی ہے۔ قدامت پسند سماجی ماحول میں جنسی مواد کے ذریعے بلیک میلنگ کا شکار ہونے والی لڑکیوں کو بعض اوقات خاندان کی جانب سے نقل و حرکت محدود کیے جانے، تعلیم رکنے یا دیگر سماجی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

لاہور میں بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم پہچان (PAHCHAAN) کی ڈائریکٹر مہک نعیم کے مطابق رپورٹ کیے گئے آن لائن استحصال کے تقریباً 44 فیصد واقعات مکمل طور پر آن لائن ہوئے۔

ان کے مطابق اسنیپ چیٹ اور واٹس ایپ ان واقعات میں سامنے آنے والے عام پلیٹ فارمز میں شامل تھے۔

یہ صورتحال اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ بچوں کو درپیش خطرات صرف ایسے واقعات تک محدود نہیں جہاں آن لائن رابطہ بعد میں حقیقی دنیا میں ملاقات کا باعث بنے، بلکہ بعض معاملات میں استحصال کا پورا عمل ڈیجیٹل ماحول کے اندر ہی جاری رہ سکتا ہے۔

پاکستان میں 74 فیصد بچے انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں

یونیسیف کے اندازے کے مطابق پاکستان میں 12 سے 17 سال کی عمر کے تقریباً 74 فیصد بچے انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔

انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک بچوں کی بڑھتی ہوئی رسائی نے تعلیم، رابطوں، تفریح اور معلومات کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں، تاہم اس کے ساتھ آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ، جنسی استحصال اور دیگر ڈیجیٹل جرائم کے خطرات بھی موجود ہیں۔

ماہرین کے مطابق بچوں کو انٹرنیٹ سے مکمل طور پر دور کرنا مسئلے کا واحد حل نہیں، بلکہ انہیں محفوظ ڈیجیٹل رویوں، پرائیویسی، مشکوک رابطوں کی شناخت اور خطرے کی صورت میں مدد حاصل کرنے کے طریقوں سے آگاہ کرنا بھی ضروری ہے۔

پنجاب میں کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی بحث

رپورٹ میں پاکستان میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے کی حالیہ کوششوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

پنجاب حکومت نے رواں ماہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی سے متعلق ایک قرارداد منظور کی، تاہم اس تجویز کو ڈیجیٹل حقوق کے کارکنوں کی جانب سے مخالفت کا سامنا ہے۔

ڈیجیٹل حقوق کے کارکن اسامہ خلجی نے پابندی سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اس پر عمل درآمد ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

ان کے مطابق بچے ممکنہ طور پر وی پی این سمیت دیگر ذرائع استعمال کرکے ایسی پابندیوں سے بچ سکتے ہیں۔ انہوں نے بچوں کے آزادی اظہار کے حق کی بھی نشاندہی کی اور کہا کہ مکمل پابندی اس حق کو متاثر کر سکتی ہے۔

اس بحث میں ایک طرف بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف ماہرینِ ڈیجیٹل حقوق بچوں کی آزادی اظہار اور انٹرنیٹ تک رسائی کے حقوق کے تحفظ کو بھی اہم قرار دیتے ہیں۔

قوانین موجود، مگر عمل درآمد بڑا چیلنج

پاکستان میں ٹیکنالوجی کے ذریعے بچوں کے خلاف جرائم سے نمٹنے کے لیے قانونی نظام اور متعلقہ قوانین موجود ہیں، تاہم ماہرین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی جانب سے ان قوانین پر مؤثر عمل درآمد کے حوالے سے سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔

غیر منافع بخش تنظیم مسلم ہینڈز کی ترجمان طاہرہ افراسیاب کے مطابق پاکستان میں بچوں کو ٹیکنالوجی کے ذریعے پیش آنے والے جرائم سے تحفظ دینے کے لیے قوانین موجود ہونے کے باوجود ان کا مؤثر نفاذ ایک مسئلہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف قانون بنانا کافی نہیں بلکہ پولیس، تفتیشی اداروں، عدالتی نظام، اسکولوں، والدین اور بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ بھی ضروری ہے۔

اسی طرح متاثرین کے لیے ایسے محفوظ اور قابل اعتماد شکایتی نظام کی ضرورت ہے جہاں بچے خوف یا بدنامی کے بغیر مدد حاصل کر سکیں۔

والدین اور بچوں میں آگاہی کی ضرورت

بچوں کے آن لائن تحفظ کے ماہرین کے مطابق والدین کی جانب سے بچوں کی ڈیجیٹل سرگرمیوں کی نگرانی اور ان کے ساتھ کھلی گفتگو انتہائی اہم ہے۔

بچوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ آن لائن کسی اجنبی یا حتیٰ کہ جان پہچان کے شخص کے ساتھ بھی ذاتی تصاویر، ویڈیوز، پاس ورڈز، گھر کا پتہ، اسکول کی معلومات یا دیگر حساس معلومات شیئر کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر کوئی شخص بچے کو تحائف، رقم، محبت، دوستی یا کسی اور لالچ کے ذریعے ذاتی معلومات یا تصاویر حاصل کرنے پر آمادہ کرے، یا اسے کسی بات کو خفیہ رکھنے کے لیے کہے، تو یہ خطرے کی علامت ہو سکتی ہے۔

ایسے حالات میں بچے کو ڈانٹنے یا الزام دینے کے بجائے اسے محفوظ ماحول فراہم کرکے متعلقہ ماہرین یا اداروں سے مدد حاصل کرنا زیادہ مؤثر طریقہ قرار دیا جاتا ہے۔

خاموشی توڑنا سب سے بڑا چیلنج

یونیسیف کی رپورٹ میں سامنے آنے والے اعداد و شمار کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ آن لائن جنسی استحصال کا سامنا کرنے والے بچوں کی بڑی تعداد مدد طلب کرنے سے گریز کرتی ہے۔

71 فیصد متاثرین کا کسی کو نہ بتانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلہ صرف آن لائن تحفظ کے نظام کا نہیں بلکہ سماجی رویوں کا بھی ہے۔

اگر بچے یہ سمجھیں کہ شکایت کرنے کے نتیجے میں انہیں ہی قصوروار ٹھہرایا جائے گا، ان کی تعلیم یا نقل و حرکت محدود کردی جائے گی، یا خاندان اور معاشرے کی جانب سے انہیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا تو وہ خاموش رہنے کو ترجیح دے سکتے ہیں۔

زارا کی کہانی بھی اسی خوف کی عکاسی کرتی ہے۔ ایک آن لائن گیم سے شروع ہونے والا رابطہ اس کے لیے طویل عرصے تک خوف اور بے چینی کا باعث بنا رہا۔

پاکستان میں بچوں کے بڑھتے ہوئے انٹرنیٹ استعمال کے ساتھ آن لائن جنسی استحصال کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ماہرین مؤثر قانون پر عمل درآمد، محفوظ شکایتی نظام، بچوں اور والدین کی ڈیجیٹل آگاہی، پلیٹ فارمز کی ذمہ داری اور متاثرین کے لیے رازداری پر مبنی معاونت کو اہم قرار دے رہے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button