یورپتازہ ترین

یورپی یونین کی ہزاروں روسی کاروباری شخصیات کے خلاف پابندیوں کی تجدید کی تجویز، دو کے خلاف پابندیاں ختم

پیر کے روز کیا جانے والا یورپی فیصلہ برسلز کے ماسکو اور سرکردہ روسی کاروباری شخصیات کے خلاف پابندیو‌ں سے متعلق ایک وسیع تر پیکج کا حصہ ہے۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
رائٹرز کے ساتھ

یورپی یونین کے رکن 27 ممالک کے سفیروں نے پیر 21 ستمبر کے روز‍ برسلز میں ہونے والے اپنے ایک اجلاس میں فیصلہ کیا کہ یوکرین جنگ کی وجہ سے روس سے تعلق رکھنے والی ہزاروں کاروباری شخصیات کے خلاف عائد یورپی پابندیوں کی مدت میں تین سال کے لیے توسیع کر دی جائے گی۔

برسلز میں یورپی یونین کے صدر دفاتر سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق متعدد سفارتی ذرائع نے نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ یونین کے رکن ممالک کے سفیروں نے اس مرتبہ روسی اداروں اور شخصیات کے خلاف پابندیوں کی مدت میں توسیع کا جو فیصلہ کیا ہے، اس کا دورانیہ تین سال رکھا گیا ہے۔

اس سے قبل ایسی پابندیوں کی مدت چھ ماہ یا ایک سال رکھی جاتی تھی، جس کے پورا ہونے سے پہلے اس میں توسیع کر دی جاتی تھی۔

پیر کے روز کیا جانے والا یورپی فیصلہ برسلز کے ماسکو اور سرکردہ روسی کاروباری شخصیات کے خلاف پابندیو‌ں سے متعلق ایک وسیع تر پیکج کا حصہ ہے۔

ارب پتی روس بزنس مین اور ایلفا بزنس گروپ کے شریک بانی میخائل فریڈمین کی چند برس قبل ماسکو میں لی گئی ایک تصویر
ارب پتی روس بزنس مین اور ایلفا بزنس گروپ کے شریک بانی میخائل فریڈمین کی چند برس قبل ماسکو میں لی گئی ایک تصویرتصویر: Pavel Golovkin/AP Photo/picture alliance

اسی دوران روئٹرز نے یورپی سفارتی ذرائع کے حوالے سے یہ بھی بتایا کہ تمام 27 ممالک کے سفیروں نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ اگر رکن ممالک میں سے کسی کی بھی حکومت کو کوئی اعتراض نہ ہو، تو اب تک ایسی پابندیوں کی زد میں رہنے والی دو سرکردہ روسی کاروباری شخصیات کے خلاف یہ پابندیاں ختم کر دی جائیں گی۔

ان دونوں روسی شخصیات کے نام علی شیر عثمانوف اور میخائل فریڈمین بتائے گئے ہیں۔ ان کے بارے میں یورپی یونین کے سفارت کاروں نے کہا کہ اگر اگلے چند گھنٹوں کے دوران بلاک کے کسی بھی رکن ملک کی حکومت نے کوئی اعتراض نہ کیا، تو عثمانوف اور فریڈمین کے خلاف عائد یورپی پابندیاں آئندہ ختم کر دی جائیں گی۔

علی شیر عثمانوف ازبک نسل کے ایک ارب پتی روسی بزنس مین ہیں، جن کے خلاف عائد پابندیوں کے خاتمے کی رواں ماہ فرانس اور سلوواکیہ کی طرف سے دی گئی تجویز پر یونین کے رکن کئی ممالک نے حیرانی اور غصے کا اظہار کیا تھا۔

برسلز میں یورپی یونین کے ہیڈکوارٹرز کی عمارت کا ایک حصہ اور اس کے باہر رکن ممالک کے قومی پرچم، اس سال مارچ میں لی گئی ایک تصویر
برسلز میں یورپی یونین کے ہیڈکوارٹرز کی عمارت کا ایک حصہ اور اس کے باہر رکن ممالک کے قومی پرچم، اس سال مارچ میں لی گئی ایک تصویرتصویر: Nicolas Tucat/AFP/Getty Images

اسی طرح میخائل فریڈمین ایسے سرکردہ روسی بزنس مین ہیں، جن کے نام کی پابندیوں سے متاثرہ افراد کی فہرست سے اخراج کا مطالبہ لکسمبرگ کی طرف سے کیا گیا تھا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button