
اے ایف پی کے ساتھ
ہنگ کاؤ نے یہ انکشاف منگل کو امریکی سینیٹر کرسٹن گلیبرینڈ کو لکھے گئے ایک خط میں کیا۔ انہوں نے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی جانب سے سینیٹر کے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے یہ تفصیلات فراہم کیں جس میں بحری بیڑے پر موجود اہلکاروں کے معیار زندگی کے بارے میں معلومات طلب کی گئی تھیں۔
کاؤ نے اپنے خط میں لکھا، ”یو ایس ایس لنکن کی تعیناتی کے آغاز سے اب تک اسٹرائیک گروپ میں خودکشی کی مجموعی طور پر آٹھ کوششیں ہوئی ہیں۔‘‘
انہوں نے وضاحت کی کہ اس تعداد میں یو ایس ایس ابراہم لنکن کا عملہ، طیارہ بردار بحری جہاز کے فضائی ونگ کے ملاح، اسٹرائیک گروپ اور ڈسٹرائر اسکواڈرن کے عملے، حفاظتی ڈیوٹی پر مامور ڈسٹرائرز اور جہاز پر تعینات تمام ایوی ایشن اسکواڈرنز کے اہلکار شامل ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ پر نکتہ چینی
گزشتہ نومبر میں نئی سمندری تعیناتی کے بعد سے طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر رہائشی حالات بگڑنے اور اہلکاروں کی ذہنی صحت سے متعلق مسائل کی اطلاعات نے امریکہ میں نمایاں توجہ حاصل کی تھی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ پر تنقید میں اضافہ ہوا تھا۔
امریکی بحریہ کے قائم مقام وزیر ہنگ کاؤ کے خط میں خودکشی کی کوششوں سے متعلق مزید تفصیلات بھی فراہم کی گئیں۔ ان کے مطابق بحری جہاز کے فضائی ونگ سے وابستہ ایک ملاح ”اگست کے اوائل میں جہاز سے سمندر میں جا گرا‘‘، تاہم سرچ اینڈ ریسکیو ہیلی کاپٹر نے اسے فوری طور پر تلاش کر کے بچا لیا۔ بعد ازاں اسے مزید طبی نگہداشت کے لیے بحری جہاز سے واپس بھیج دیا گیا۔
ایک اور ملاح نے ”مارچ میں جہاز سے سمندر میں چھلانگ لگانے کی کوشش کی، تاہم اس کے ساتھی ملاحوں نے اسے روک لیا‘‘ اور اسے واپس ‘ہوم پورٹ‘ پر بھیج دیا گیا۔
یو ایس ایس ابراہم لنکن نومبر 2025 میں کیلیفورنیا سے جنوبی بحیرہ چین میں تعیناتی کے لیے روانہ ہوا تھا۔ اس کا عملہ 286 دن تک سمندر میں رہا اور یکم ستمبر کو تھائی لینڈ کے ایک سیاحتی شہر میں جہاز سے اترا۔ عملے کی تعیناتی مئی میں مکمل ہونا تھی، تاہم ایران کے خلاف جنگ جاری رہنے کے باعث اس میں توسیع کر دی گئی۔ اس نے بالآخر ستمبر کے اوائل میں تھائی لینڈ میں مختصر قیام کیا۔

خودکشی کی کوششوں کے ممکنہ وجوہات
اگست میں فوجی اہلکاروں کے اہل خانہ اور قانون سازوں نے خودکشی کی مبینہ کوششوں، ذہنی صحت سے متعلق دیگر سنگین مسائل، خوراک کی قلت اور صفائی کے ناقص انتظامات پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
اس وقت صدر ٹرمپ نے ان دعووں کو مسترد کر دیا تھا۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی اصرار کیا تھا کہ اس طیارہ بردار بحری جہاز پر صورتحال کو ”غلط انداز میں پیش کیا گیا‘‘ ہے۔
دریں اثنا برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی نے ایک رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ جنوری 2025 میں 956 سیلرز کی شرکت کے ساتھ کیے گئے ایک مطالعے کے مطابق امریکی بحریہ کے جہازوں پر تعینات اہلکاروں میں امریکی فوج کی دیگر شاخوں کے اہلکاروں کے مقابلے میں شدید نفسیاتی دباؤ کی شرح زیادہ پائی گئی۔
محققین نے اس کی ممکنہ وجوہات میں بحری جہازوں میں رہائش کے نامناسب حالات، شور، انتہائی مصروف اور سخت نظام الاوقات، اور آرام و نیند کے لیے ناکافی وقت کو شامل کیا ہے۔


