پاکستاناہم خبریں

پاک افغان سرحد پر جارحیت کی کوشش ناکام، گلستان سیکٹر میں متعدد افغان طالبان ہلاک

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس کوشش کے بعد افغان طالبان کی جانب سے پاکستانی چوکیوں پر فائرنگ کی گئی، جس کا پاکستانی فورسز نے جواب دیا۔ 

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

پاک افغان سرحد کے گلستان سیکٹر میں افغانستان کی جانب سے پاکستانی حدود میں داخل ہونے اور جارحانہ کارروائی کی کوشش سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دی، جبکہ کارروائی کے دوران متعدد افغان طالبان ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغانستان کی جانب سے مسلح افراد نے گلستان سیکٹر میں پاکستانی حدود کی طرف پیش قدمی اور جارحیت کی کوشش کی، جس پر پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے فوری ردعمل دیتے ہوئے مؤثر جوابی کارروائی کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جوابی کارروائی کے نتیجے میں متعدد افغان طالبان ہلاک ہوئے۔

ذرائع کے مطابق سرحدی علاقے میں سیکیورٹی فورسز اور افغان طالبان کے درمیان وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا، جس کے باعث علاقے میں سیکیورٹی کی صورتحال کو انتہائی حساس قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم دستیاب اطلاعات میں افغان طالبان کی ہلاکتوں کی حتمی تعداد یا فائرنگ کے تبادلے میں دیگر جانی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

سیکیورٹی فورسز ہائی الرٹ

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق گلستان اور ملحقہ سرحدی علاقوں میں پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کو مکمل طور پر چوکس رکھا گیا ہے اور سرحدی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ فورسز کو کسی بھی ممکنہ دراندازی، مسلح نقل و حرکت یا سرحد پار سے فائرنگ کی صورت میں بروقت کارروائی کے لیے تیار رکھا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز افغانستان کی جانب سے پاکستانی حدود میں داخل ہونے کی کسی بھی کوشش کو روکنے اور سرحدی علاقے میں امن و سلامتی برقرار رکھنے کے لیے مسلسل نگرانی کر رہی ہیں۔

حکام کے مطابق سرحدی علاقوں میں تعینات اہلکار کسی بھی ممکنہ جارحانہ کارروائی کا مؤثر جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ گلستان سیکٹر میں تازہ صورتحال کے پیش نظر نگرانی اور حفاظتی اقدامات میں اضافہ کیا گیا ہے۔

پاک افغان سرحد پر بڑھتی کشیدگی

گلستان سیکٹر کا یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی میں حالیہ دنوں کے دوران اضافہ ہوا ہے۔ 23 ستمبر کو بھی پاکستانی سیکیورٹی ذرائع نے افغانستان کی جانب سے آنے والے آٹھ ڈرونز کو پاکستانی فضائی حدود میں مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔ ان ذرائع کے مطابق چار ڈرونز طورخم کے قریب جبکہ چار کوہاٹ سے ملحقہ پہاڑی علاقوں میں تباہ کیے گئے۔

اسی عرصے میں کرم کے سرحدی سیکٹر میں افغانستان سے پاکستان میں مبینہ دراندازی کی ایک کوشش بھی ناکام بنانے کی اطلاع سامنے آئی تھی۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس کوشش کے بعد افغان طالبان کی جانب سے پاکستانی چوکیوں پر فائرنگ کی گئی، جس کا پاکستانی فورسز نے جواب دیا۔

سرحدی صورتحال پر گہری نظر

حالیہ واقعات کے باعث پاک افغان سرحد کے مختلف مقامات پر سیکیورٹی فورسز کی نگرانی میں اضافہ کیا گیا ہے۔ حکام کی جانب سے سرحد پار سے کسی بھی مشتبہ نقل و حرکت پر نظر رکھنے اور پاکستانی حدود کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

گلستان سیکٹر میں تازہ جھڑپ کے حوالے سے سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ وقفے وقفے سے ہونے والی فائرنگ کے تناظر میں سرحدی دستے مکمل الرٹ ہیں۔

پاکستانی حکام ماضی میں بھی یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ملک کی سرزمین اور شہریوں کے تحفظ کے لیے سرحد پار سے ہونے والی کسی بھی مسلح دراندازی یا حملے کا قانون اور دفاعی تقاضوں کے مطابق جواب دیا جائے گا۔

دوسری جانب پاک افغان سرحد پر حالیہ واقعات نے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود سکیورٹی اور سفارتی تناؤ کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ پاکستان مسلسل افغانستان پر زور دیتا رہا ہے کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف مسلح کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دی جائے، جبکہ افغان حکام ماضی میں پاکستان کے بعض الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔ حالیہ سرحدی واقعات کے بعد دونوں جانب سے صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

فی الحال گلستان سیکٹر میں فائرنگ کے وقفے وقفے سے جاری رہنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز سرحدی علاقے میں مکمل طور پر چوکس ہیں اور کسی بھی نئی دراندازی یا جارحانہ کارروائی کی صورت میں فوری ردعمل کے لیے تیار ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button