یورپتازہ ترین

اٹلی میں میلونی حکومت نے مسلم نقاب پر پابندی عائد کر دی

‘ یہ اقدامات دائیں بازو کی اس رہنما کے بقول ''گھیٹو کلاسز‘‘ سے بچتے ہوئے طلبہ کے انضمام میں مدد دیں گے

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
اے ایف پی اور ڈی پی اے کے ساتھ

اٹلی کی وزیر اعظم جورجیا میلونی کی حکومت نے اسکولوں میں ایسے طلبہ کی تعداد محدود کرنے کے نئے قواعد منظور کیے ہیں، جو اطالوی زبان پر مکمل عبور نہیں رکھتے، جبکہ چہرہ ڈھانپنے والے مسلم نقاب پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

اٹلی کی قدامت پسند حکومت نے جمعرات کو ایک نئے فرمان کی منظوری دی، جس کے تحت اسکولوں میں برقعے اور نقاب سمیت چہرہ ڈھانپنے والے مسلم لباس پر پابندی ہو گی۔ اس کے علاوہ ہر کلاس میں اطالوی زبان پر کم عبور رکھنے والے طلبہ کی تعداد بھی محدود کر دی گئی ہے۔وزیر اعظم جورجیا میلونی نے کابینہ کے ان اقدامات کو ”ایسے عام فہم ذرائع قرار دیا جو سماج میں تقسیم پیدا نہیں کرتے۔‘‘ یہ اقدامات دائیں بازو کی اس رہنما کے بقول ”گھیٹو کلاسز‘‘ سے بچتے ہوئے طلبہ کے انضمام میں مدد دیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ نئے قواعد کے نتیجے میں تمام طلبہ کو ”یکساں مواقع‘‘ حاصل ہوں گے۔تاہم اپوزیشن جماعتوں اور دیگر ناقدین نے میلونی حکومت کے اس اقدام کو مسترد کیا ہے۔ بعض نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ اگلے سال ہونے والے عام انتخابات سے قبل تارکین وطن کے مسئلے کو مزید سیاسی رنگ دے رہی ہے۔

اٹلی کے نئے اسکول ضوابط میں کیا کچھ شامل؟

نئے اقدامات فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے، تاہم ان کے لیے 60 روز کے اندر اندر پارلیمان سے منظوری حاصل کرنا لازمی ہو گا۔ میلونی کے حکومتی اتحاد کو فی الحال ملکی قانون ساز ادارے میں اکثریت حاصل ہے۔

اس حکومتی اقدام کے تحت:ہر کلاس میں ایسے غیر ملکی طلبہ کی تعداد 30 فیصد تک محدود ہو گی جنہیں اطالوی زبان پر مناسب حد تک عبور حاصل نہ ہو۔پرائمری اسکولوں میں یہ حد ان طلبہ پر لاگو ہو گی جو اطالوی شہری نہ ہوں، اٹلی میں پیدا نہ ہوئے ہوں یا کم از کم دو سال تک پری اسکول نہ گئے ہوں۔مڈل اور ہائی اسکولوں میں یہ حد ان طلبہ پر لاگو ہو گی جو اطالوی شہری نہ ہوں اور کم از کم تین سال تک اٹلی کے تعلیمی نظام کا حصہ نہ رہے ہوں۔نئے فرمان کی خلاف ورزی پر ایک ہزار یورو تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی
وزیر اعظم جورجیا میلونی نے کابینہ کے ان اقدامات کو ”ایسے عام فہم ذرائع قرار دیا جو سماج میں تقسیم پیدا نہیں کرتےتصویر: Remo Casilli/REUTERS

اسکولوں میں چہرہ ڈھانپنے پر پابندی

اس فرمان کے تحت اسکولوں میں برقعے اور نقاب پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم حجاب پہننے یا سر کو ڈھانپنے کی اجازت برقرار رہے گی۔میلونی نے برقعے پر پابندی کو ”سکیورٹی کا معاملہ‘‘ قرار دیا۔ایک ٹیلی وژن انٹرویو میں میلونی کے حوالے سے کہا گیا، ”جب کسی خاتون یا اس سے بھی بڑھ کر کسی کم عمر لڑکی کو اپنا چہرہ ڈھانپنے پر مجبور کیا جاتا ہے، تو اسے بنیادی حقوق اور اس انضمام سے محروم کیا جا رہا ہوتا ہے، جس کی اکثر بلند آواز میں حمایت کی جاتی ہے۔‘‘اٹلی کے وزیر تعلیم کے مطابق نئے فرمان سے تقریباً ایک ہزار کلاس رومز متاثر ہوں گے، جو ملک بھر میں کُل کلاسوں کا صرف تقریباً 0.3 فیصد بنتے ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2022 سے 2023 کے دوران اٹلی کے اسکولوں میں ایسے طلبہ کا تناسب جن کے پاس اطالوی شہریت نہیں تھی، 11.2 فیصد تھا، جبکہ 30 فیصد سے زیادہ غیر ملکی طلبہ والی کلاسیں مجموعی تعداد کا 7.6 فیصد بنتی تھیں۔

ایک دکان پر حجاب فروخت کیا جا رہا ہے
نئے ضابطے کے مطابق اسکولوں میں برقعے اور نقاب پر تو پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم حجاب پہننے یا سر کو ڈھانپنے کی اجازت برقرار رہے گیتصویر: Antonio Pisacreta/ROPI/picture alliance

ناقدین کا موقف

حکومتی فرمان کے مخالفین کو خدشہ ہے کہ نئے قواعد کے نتیجے میں بعض طلبہ کو اپنے رہائشی علاقوں سے دور واقع اسکولوں میں داخلہ لینا پڑ سکتا ہے۔رپورٹوں کے مطابق ان علاقوں میں اسکولوں کی انتظامیہ کے خدشات بھی سامنے آئے ہیں، جہاں تارکین وطن کی تعداد زیادہ ہے اور جہاں نئے قواعد پر عمل درآمد مشکل ہو سکتا ہے۔بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم سیو دی چلڈرن نے بدھ کے روز اطالوی حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ اس اقدام کا ”انتہائی سیاسی ذمہ داری‘‘ کے ساتھ جائزہ لے۔ اس تنظیم نے خبردار کیا کہ اس سے امتیازی اثرات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔تنظیم نے اپنے بیان میں کہا، ”ایسا معیار ‘فرسٹ کلاس‘ اور ‘سیکنڈ کلاس ‘ کے طلبہ پیدا کرے گا۔‘‘

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button