مشرق وسطیٰتازہ ترین

یمن میں سعودی عرب، حوثی کشیدگی سے انسانی بحران سنگین

عالمی ادارہ مہاجرت کے مطابق تنازعے کے نتیجے میں ایک لاکھ 32 ہزار سے زائد افراد بے گھر بھی ہو چکے ہیں۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
جینیفر ہولائس، صفیہ مہدی

تازہ لڑائی اور حوثیوں کی جانب سے مزید علاقوں پر قبضے کے نتیجے میں ایک لاکھ 32 ہزار سے زائد افراد پہلے ہی بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ یمن ایک بار پھر بڑے پیمانے پر انسانی بحران کی جانب بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔

46 سالہ محمد مصلح نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”ہمیں نہیں معلوم کہ اب کیا ہو گا۔‘‘ ان کی اہلیہ منیٰ بھی پریشان ہیں کیونکہ خاندان اپنی شناختی دستاویزات بھی ساتھ نہیں لا سکا۔ انہوں نے کہا، ”حوثیوں نے ہمیں تقریباً فوری طور پر علاقہ چھوڑنے کو کہا۔ ہمارے پاس کچھ بھی ساتھ لے جانے کا وقت نہیں تھا۔‘‘

فی الحال یہ خاندان اپنی دو کم عمر بیٹیوں کے ساتھ جنوبی یمن کے سب سے بڑے حکومتی کنٹرول والے شہر عدن میں رشتہ داروں کے ہاں مقیم ہے۔ اس جوڑے نے کہا، ”فی الحال ہم اپنے بچوں سے یہی کہتے ہیں کہ ہمیں امید ہے کہ ہم جلد گھر واپس جائیں گے۔‘‘

یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد علیمی نے کہا ہے کہ حالیہ جنگی صورت حال میں تبدیلیاں ملک بھر میں ریاستی اختیار بحال کرنے کے حکومتی ہدف کو تبدیل نہیں کریں گی۔

تاہم ایران نواز حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی اور یمن میں ان کے زیر قبضہ علاقوں میں وسعت کے پیش نظر مصلح خاندان کی فی الحال مخا میں اپنے گھر واپسی کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔

جولائی کے اواخر سے ایران نواز حوثیوں نے ملک کے شمالی اور وسطی علاقوں سے اپنی پیش قدمی بڑھاتے ہوئے یمن کے بحیرہ احمر سے متصل بیشتر ساحلی علاقوں تک اپنا کنٹرول پھیلا لیا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ اور سعودی حمایت یافتہ حکومت کی فورسز سے علاقے چھین لیے ہیں۔ حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان میزائل اور ڈرون حملوں کے تبادلے کے ساتھ تنازعہ مزید شدت اختیار کر رہا ہے۔

حوثی اب مزید جنوب کی جانب کہبُوب کے اہم پہاڑی سلسلے کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں۔ ان پہاڑوں سے آبنائے باب المندب کے اطراف کے علاقوں پر نظر رکھنا آسان ہو جاتا ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے دوران یہ راستہ سعودی تیل کی برآمدات کے لیے متبادل راستے کے طور پر استعمال ہو رہا تھا۔

21 ستمبر 2026 کو یمن کے صوبہ تعز میں ایران نواز حوثی جنگجوؤں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے باعث بے گھر ہونے والے افراد کے لیے قائم عارضی کیمپ میں ایک شخص چل رہا ہے
ایران نواز حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومت کے درمیان تنازع نے انسانی بنیادوں پر بے گھر ہونے کے بحران کو جنم دیا ہے، جس کی شدت امدادی فنڈز کی کمی کے باعث مزید بڑھ گئی ہےتصویر: REUTERS

بے گھر افراد کی تعداد میں اضافہ

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے رواں ہفتے بتایا کہ اگست میں لڑائی میں شدت آنے کے بعد کم از کم 674 افراد ہلاک اور 2,998 زخمی ہو چکے ہیں۔ تاہم اب تک جاری جھڑپوں کے باعث ہلاکتوں کی اصل تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

عالمی ادارہ مہاجرت کے مطابق تنازعے کے نتیجے میں ایک لاکھ 32 ہزار سے زائد افراد بے گھر بھی ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے یمن میں نمائندے ارمین یدگاریان نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں 90 ہزار سے زائد افراد نے عدن، لحج، ابین اور الضالع صوبوں کے علاوہ مارب میں بھی پناہ لی ہے۔

انہوں نے پیش گوئی کی کہ لڑائی میں شدت کے باعث بڑے پیمانے پر مزید نقل مکانی ہو سکتی ہے اور لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد جبوتی، صومالیہ اور دیگر ممالک کے علاوہ یمن کے اندر بھی محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی پر مجبور ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا، ”بے گھر افراد کے لیے حالات مسلسل سنگین ہو رہے ہیں، کیونکہ وہ پہلے ہی گنجائش سے زیادہ بھرے ہوئے کیمپوں میں پہنچ رہے ہیں اور انہیں فوری طور پر رہائش، خوراک، صاف پانی، صحت کی سہولیات اور تحفظ کی ضرورت ہے۔ اس سے پہلے ہی سے کمزور بنیادی ڈھانچے پر مزید دباؤ پڑ رہا ہے۔‘‘

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے بتایا کہ حالیہ کشیدگی سے قبل بھی یمن میں 52 لاکھ سے زیادہ افراد اندرون ملک بے گھر تھے اور موجودہ لڑائی ملک کے پہلے ہی سے سنگین انسانی بحران کو مزید گہرا کر رہی ہے۔

یمن میں تقریباً 2 کروڑ 20 لاکھ افراد کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی ضرورت ہے، جن میں اندرون ملک بے گھر افراد کے علاوہ وہ تقریباً 65 ہزار مہاجرین اور پناہ کے متلاشی افراد بھی شامل ہیں، جن کی اکثریت صومالیہ اور ایتھوپیا سے ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button