پاکستان پریس ریلیزتازہ ترین

یونیورسٹی آف لاہور میں بین الاقوامی ورکشاپ؛ جرمن ماہرِ صحت مارا شارلٹ برکھارڈ کی زیرِ قیادت خصوصی تربیتی سیشنز

انہوں نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ ذہنی دباؤ سے نمٹنے، اپنی کارکردگی برقرار رکھنے اور پیشہ ورانہ و ذاتی زندگی میں توازن کے لیے صحت مند اور پائیدار طریقۂ کار اپنائیں۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

سید عاطف ندیم-پاکستان-ادارت
یونیورسٹی آف لاہور (UOL) میں ذہنی صحت، ذہنی دباؤ سے نمٹنے، مؤثر ابلاغ، ٹیم ورک اور پیشہ ورانہ و ذاتی زندگی میں توازن کے موضوعات پر تین روزہ بین الاقوامی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔فیکلٹی آف الائیڈ ہیلتھ سائنسز (FAHS) کے زیرِ اہتمام منعقدہ ورکشاپ کی قیادت جرمنی کے شہر برلن کی اَکون یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ اِن انٹرنیشنل اسسٹنس (IRIA) سے وابستہ ذہنی و عالمی صحت کی ماہر اور ریسرچ ایسوسی ایٹ، محترمہ مارا شارلٹ برکھارڈ نے کی۔
ورکشاپ میں فیکلٹی ممبران، طلبہ، سربراہانِ شعبہ اور یونیورسٹی کی تعلیمی قیادت نے شرکت کی۔ورکشاپ کے مختلف سیشنز شرکاء کی تعلیمی، پیشہ ورانہ اور انتظامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے عملی سرگرمیوں اور باہمی مکالمے پر مبنی تھے۔ ان کا بنیادی مقصد ذہنی فلاح و بہبود کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا، ذہنی دباؤ سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے عملی طریقے متعارف کرانا اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ ذاتی زندگی میں صحت مند توازن برقرار رکھنے کی صلاحیتوں کو فروغ دینا تھا۔

اس موقع پر یونیورسٹی آف لاہور کے چیئرمین بورڈ آف گورنرز، اویس رؤف نے ذہنی صحت اور فلاح و بہبود کے فروغ کے لیے محترمہ برکھارڈ کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے یونیورسٹی کمیونٹی کیلئے بین الاقوامی تعلیمی روابط اور مفید تعاون کو فروغ دینے میں شعبہ ہیلتھ پروفیشنل وٹیکنالوجیز کی کاوشوں کو بھی سراہا۔ ڈین فیکلٹی آف الائیڈ ہیلتھ سائنسز ، پروفیسر ڈاکٹر اشفاق احمد نے کہا کہ ذہنی صحت کو تعلیمی اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ ذہنی دباؤ سے نمٹنے، اپنی کارکردگی برقرار رکھنے اور پیشہ ورانہ و ذاتی زندگی میں توازن کے لیے صحت مند اور پائیدار طریقۂ کار اپنائیں۔
محترمہ مارا شارلٹ برکھارڈ نے فیکلٹی ممبران کے لیے منعقدہ سیشنز میں کام کی جگہ پر ذہنی دباؤ، اس کے اثرات اور ذہنی فلاح و بہبود برقرار رکھنے کے عملی طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا۔ شعبہ ہیلتھ پروفیشنل ٹیکنالوجیز (DHPT) کے طلبہ کے لیے ذہنی دباؤ سے نمٹنے، ٹیم ورک اور آپریشن تھیٹر میں مؤثر ابلاغ کے موضوعات پر خصوصی انٹرایکٹو سیشنز بھی منعقد کیے گئے۔ ان سیشنز میں صحت کی نگہداشت کے شعبے میں مستقبل کی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کے لیے ضروری عملی اور ابلاغی مہارتوں کو اجاگر کیا گیا۔ورکشاپ میں شرکاء کو اپنے تجربات اور مسائل شیئر کرنے، پیشہ ورانہ چیلنجز پر گفتگو کرنے اور ان کے ممکنہ عملی حل تلاش کرنے کا موقع بھی فراہم کیا گیا۔ سربراہانِ شعبہ اور تعلیمی قیادت کے لیے الگ سیشنز میں انتظامی عہدوں سے وابستہ ذہنی دباؤ، کام کی جگہ کے چیلنجز، ان سے نمٹنے کی حکمتِ عملیوں اور پیشہ وارانہ و ذاتی زندگی میں پائیدار توازن کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی گئی۔تمام سیشنز کے اختتام پر سوال و جواب کے مراحل بھی منعقد ہوئے، جن میں شرکاء نے موضوعات سے متعلق سوالات اٹھائے اور ماہر سے عملی رہنمائی حاصل کی۔

ورکشاپ میں یونیورسٹی آف لاہور کے ویل بینگ سینٹر کی ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر شمائلہ اسد اور شعبہ ہیلتھ پروفیشنل ٹیکنالوجیز کی سربراہ ڈاکٹر صنبل شہباز نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے ورکشاپ کے انعقاد اور محترمہ برکھارڈ کی خدمات کو سراہا۔ ڈاکٹر صنبل شہباز نے محترمہ گیبی فیلڈمین اور اَکون یونیورسٹی آف ہیومن سائنسز، برلن، جرمنی کے تعاون اور معاونت پر بھی اظہارِ تشکر کیا۔
تین روزہ بین الاقوامی ورکشاپ کا اختتام ذہنی فلاح و بہبود، مؤثر ابلاغ، ٹیم ورک اور کام اور ذاتی زندگی میں توازن کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ہوا۔ اختتامی تقریب میں چیئرمین بورڈ آف گورنرز، مسٹر اویس رؤف نے محترمہ مارا شارلٹ برکھارڈ کو ان کی گراں قدر خدمات اور بین الاقوامی علمی تعاون کے اعتراف میں یادگاری شیلڈ پیش کی۔ورکشاپ کا اختتام شرکاء کےگروپ فوٹو پر ہوا جس کے ساتھ یونیورسٹی آف لاہور اور اَکون یونیورسٹی آف ہیومن سائنسز، برلن، جرمنی کے درمیان ایک بامعنی بین الاقوامی تعلیمی و علمی اشتراک کا یہ سلسلہ اختتام پذیر ہوا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button