
اجتماعی کوشش سے عوام کے دن پِھر سکتے ہیں !……ناصف اعوان
اس سے مراد یہ ہے کہ ان کی یہ خواہش پوری ہو سکے گی کہ انہیں عدالتوں کے ذریعے باہر لایا جائے
خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نئی رُت میں کچھ نئے لوگ اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہو سکتے ہیں جو اپنی دُور اندیشی ذہانت اور اہلیت کے بل بوتے پر لرزتی معیشت کو سنبھالا دے سکیں اور عوام کے دیرینہ مسائل حل کرنے میں کامیاب ہو سکیں ۔ یہ بہت اچھی بات ہو گی مگر اگر اس اکھاڑ پچھاڑ کا مقصد محض عوامی اضطراب کو کم کرنا ہے تو یہ ناممکن ہو گا۔حکمرانوں کی اناسی برس کی چالاکیاں ان کے سامنے ہیں لہذا اب وہ پختہ ذہن ہو چکے ہیں انہیں موجودہ دور کے ذرائع ابلاغ نے معلومات کی اتنی بھرمار کر دی ہے کہ وہ بڑے تجزیہ کاروں اور دانشوروں کو مشورے دینے لگے ہیں لہذا ان لوگوں کو بیوقوف نہیں بنایا جاسکتا۔ اگرچہ موجودہ حکومت نے انتظامی حوالے سے کچھ اقدامات بھی کیے ہیں مگر ان سے بنیادی نوعیت کے مسائل کا حل ممکن نہیں ہوا یہی وجہ ہے کہ عوام کی غالب اکثریت حکومت سے سخت نالاں و بیزار ہے اور وہ چاہتی ہے کہ اب یہ گھر جا کر آرام کی زندگی بسر کرے مگر سوال یہ ہے کہ یہ نہیں تو کون ؟
جس نئی حکومت کے قیام کی افواہیں ہیں وہ اگر عوامی حمایت یافتہ ہوئی تو پھر معیشت کو چار چاند لگ جائیں گے بصورت دیگر حالات میں تبدیلی نہیں آئے گی۔ ہاں! اگر قومی حکومت جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے وہ ہمارے لئے سود مند ثابت ہو سکتی ہے؟ یہاں یہ عرض کردیں کہ ہم ایک ماہ سے قومی حکومت بنانے سے متعلق اپنے کالموں اور وی لاگوں میں عرض کرتے چلے آرہے ہیں کہ اس کے بغیر حکومتی وغیر حکومتی معاملات کا چلنا بےحد مشکل ہے مگر اس میں پی ٹی آئی کو بھی شامل کیا جائے اور جو لوگ اس میں شریک ہوں وہ خان سے اجازت لیں۔ ہمیں پوری امید ہے کہ وہ اس کی اجازت دے دیں گے۔ اس طرح ان کو بھی ریلیف مل سکے گا اس سے مراد یہ ہے کہ ان کی یہ خواہش پوری ہو سکے گی کہ انہیں عدالتوں کے ذریعے باہر لایا جائے۔ اگر ایسا کوئی پروگرام ہے تو پھر ہم کہہ سکتے ہیں کہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا کیونکہ جب سب مل بیٹھیں گے تو جو ہیجان انگیز صورت حال ہے اس میں بہت کمی واقع ہو سکتی ہے کیونکہ پی ٹی آئی ملک کی بڑی سیاسی جماعت ہے اور اسے بین الاقومی سطح پر بھی بھر پور پزیرائی حاصل ہے لہذا اگر اس پہلو کو پیش نظر رکھتے ہوئے اہل اختیار آگے بڑھتے ہیں تو یقیناً یہ ایک نیک شگون ہو گا کیونکہ انہوں نے جس جس کو آزمانا تھا آزما لیا وہ کھوٹے سکے ثابت ہوئے ہیں اب بھی ایک ایسی جماعت جو کاغذی پہلوان ہے اس کو بھی متعارف کروایا جا رہا ہے جسے مقبول عام ہونے کے لئے خان کی طرح کے حالات سے شناسا ہونا پڑے گا مگر اس کے طرز عمل کے تناظر میں دیکھا جائے تو وہ ایسا نہیں کر سکے گی لہذا پی ٹی آئی کو زیادہ سے زیادہ قومی حکومت میں نشستیں دے کر خوشحالی کا چراغ روشن کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بغیر بہت کوشش کی جا چکی ہے مگر حالات پُرسکون و پُر آسائش نہیں ہو سکے یہ حقیقت ہے اس کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ بھاری ترین قرضے لے کر بھی غربت بھوک بیماری اور بے روز گاری سے نجات نہیں مل سکی۔ پنجاب حکومت نے وقفے وقفے سے بہت سے منصوبے شروع کر رکھے ہیں مگر وہ بنیادی معیشت کو مستحکم کرنے میں ناکام رہے ہیں ٹیکس لگا کر اور نئی فورسیں بنا کر بھی دیکھ لیا مگر پرنالہ وہیں کا وہیں ہے۔ نفسیاتی حربے بھی آزما لیے ڈنڈا سوٹا بھی کرلیا ”سٹیٹس کو” تب بھی بر قرار ہے۔
بہرحال سب جماعتوں کی حکومت کا قیام انتہائی ضروری ہے کیونکہ پورے ملک کے عوام ایک اذیت میں مبتلا ہیں اور ان میں احساس بیگانگی و احساس محرومی گہرے ہوتے جارہے ہیں وہ صرف روٹی کپڑا اور مکان کے طلب گار نہیں۔ ان کو اپنی عزت نفس کا تحفظ بھی چاہیے ۔ اظہار رائے کی آزادی بھی چاہیے ۔انصاف پر مبنی ایک سماج دیکھنا ان کا خواب ہے مگر اب تک کسی بھی حکومت نے ان کی امنگوں کا خیال نہیں کیا ان کو دبانے کی ہی کوشش کی گئی انہیں بیوقوف بنا کر اقتدار حاصل کرنا ان کی ترجیح رہی ہے سب سے اہم یہ کہ انہوں نے ہمیشہ واشنگٹن کو راضی رکھنا ضروری سمجھا مگر پھر بھی حالات متزلزل ہی رہے ۔لوگوں کے مسائل کو محسوس کرنا گویا اپنی توہین تصور کیا گیا لہذا اب جب پانی سر کے اوپر سے بہہ نکلا ہے تو آنکھ کھلی ہے چلیں اب بھی اگر سب اکٹھے ہو جاتے ہیں اور اس کا بھر پور مظاہرہ کرتے ہیں تو صورت حال بہتر ہو سکتی ہے مگر اگر پی ٹی آئی کے بغیر کوئی پرواز کی جاتی ہے تو ملک میں سرمایہ آئے گا نہ ہی قرضوں میں کمی آئے گی لہذا اہم بات یہ ہے کہ خان سے گفتگو کی جائے انہیں قومی حکومت میں شمولیت کی باضابطہ دعوت دی جائے اور ایسی وزارتیں دی جائیں جو معیشت کو مستحکم و مضبوط بنا سکیں۔اس طرح پی ٹی آئی کی بھی آزمائشں ہو جائے گی کامیاب رہتی ہے تو پہلے سے بھی زیادہ مقبول ہو جائے گی ناکام رہتی ہے تو اس کی مقبولیت کی عمارت دھڑم سے نیچے آ جائے گی خیر یہ جو مسلم لیگ نون کے بارے میں بعض وی لاگرز کہہ رہے ہیں کہ بس جی اب اس کی شامت آگئی ہے وہ بہت جلد سیاسی منظر سے ہٹ جائے گی ہمیں یقین نہیں آرہا۔ اس میں سے کچھ چیدہ چیدہ بندے پس منظر میں جا سکتے ہیں باقی سب اپنی اپنی نشستوں اور وزارتوں پر موجود ہوں گے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب بھی فی الحال کہیں نہیں جارہیں البتہ کچھ لوگ اِدھر سے اُدھر ہو سکتے ہیں کیونکہ مکمل سیٹ اپ بدلنے کی صورت میں کوئی بڑا سیاسی بحران بھی جنم لے سکتا ہے یہ سچ ہے کہ بر سر اقتدار سیاسی جماعتیں اپنے پیچھے عوام کی بہت زیادہ تعداد نہیں رکھتیں مگر پھر بھی وہ ایک ہیجانی کیفیت پیدا کر سکتی ہیں لہذا وہ موجود ہوں گی مگر ان میں سے کچھ چہرے ضرور بدل جائیں گے جو قومی حکومت کے لئے ضروری ہے لہذا یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ یہ جو باہمی ناراضگیاں نظر آتی ہیں ان کے ذاتی مسائل حل ہونے کے بعد ختم ہو سکتی ہیں کہ جس حکومت کو عوام کی مرضی کے برعکس اقتدار کے تخت پر بٹھایا گیا اب اسے اس لئے الودع کہہ دیا جائے کہ وہ عوام کی خدمت نہیں کر سکی لہذا اب وہ سیر و تفریح کرے یہ درست ہے کہ وہ معاشی حالات کو ٹھیک نہیں کر سکی شروع میں بھی یہی عرض کیا گیا ہے مگر اس بنیاد پر اگر واقعی اس کے اہم ترین کرداروں کو ایک طرف کیا جاتا ہے تو یہ مثبت تبدیلی ہو گی اور اس کا مطلب ہو گا کہ نظام سیاست و معیشت بھی تبدیل ہو گا جو کہ دل کو نہیں لگتی کہ یہاں واقعتاً عوامی خواہشات کا احترام کیا جانے لگا ہے مگر حالت موجود کو بھی جوں کا توں نہیں رکھا جا سکتا۔ چلیے دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے کیونکہ یہاں کی سیاست کے بارے میں قطعی کچھ نہیں کہا جا سکتا؟


