پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

حکومت کے ساتھ مذاکرات بے نتیجہ، پی ٹی آئی کا اسلام آباد مارچ شروع

رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

پاکستان تحریک انصاف  نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کر دیا ہے۔

پی ٹی آئی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات بے نتیجہ رہنے کے بعد اپنا پہلے سے اعلان کردہ مارچ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ مارچ کا پہلا مرحلہ خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت سے شروع ہوا، جہاں سے قافلہ دیگر اضلاع کے کارکنوں کے ساتھ آگے بڑھے گا۔ پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے علاوہ انہیں ہسپتال منتقل کرنے اور اہل خانہ کو ان سے ملاقات کی اجازت دینے کا بھی مطالبہ کر رہی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں عسکریت پسندوں کے بڑھتے حملوں کے باعث سکیورٹی صورتحال تشویش ناک ہے اور اسی بنیاد پر مارچ مؤخر کرنے پر زور دیا گیا تھا۔ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مارچ روکنے کے لیے دو ادوار میں مذاکرات ہوئے، تاہم فریقین کسی معاہدے پر نہ پہنچ سکے۔

دوسری جانب اسلام آباد کی جانب جانے والے بعض اہم راستوں پر کنٹینرز اور دیگر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔ وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

پی ٹی آئی کے مطابق عمران خان 2023 سے جیل میں ہیں اور ان کے خلاف مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں، جبکہ حکومت اس الزام کو مسترد کرتی ہے۔

عمران خان اپریل 2022 میں پارلیمانی عدم اعتماد کے ووٹ کے نتیجے میں وزارتِ عظمیٰ سے ہٹائے گئے تھے۔ فروری 2024 کے انتخابات کے بارے میں بھی پی ٹی آئی نے دھاندلی کے الزامات عائد کیے تھے، جنہیں حکومت مسترد کرتی ہے۔
ماضی میں عمران خان کے حامیوں کے احتجاج کے دوران پرتشدد واقعات بھی پیش آ چکے ہیں، جس کے باعث اس مارچ کے دوران سکیورٹی صورتحال پر بھی توجہ مرکوز ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button