یورپتازہ ترین

یوکرین مذاکرات کا تعلق کئی بلین ڈالر کی آئل ڈیل سے؟ کریملن کا رپورٹ پر تبصرے سے انکار

اس مجوزہ ڈیل سے مشرق وسطیٰ کے خطے کی ان مبینہ لیکن سرکردہ کاروباری شخصیات کو فائدہ پہنچے گا

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

روس میں کریملن کی طرف سے پیر پانچ اکتوبر کے روز امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی اس حالیہ رپورٹ پر کسی بھی تبصرے سے انکار کر دیا گیا جس کے مطابق امریکہ اور روس کے مابین روسی یوکرینی جنگ کے خاتمے سے متعلق مذاکرات کو وسعت دیتے ہوئے ان میں کئی بلین ڈالر مالیت کے تیل کی فروخت کے ایک ممکنہ سمجھوتے کو بھی شامل کر دیا گیا ہے۔

روسی دارالحکومت ماسکو سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق اس بارے میں ایک سوال کے جواب میں کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے تاہم کہا کہ روس اور امریکہ کے مذاکرات کاروں کے مابین ہونے والی بات چیت میں توانائی کے شعبے میں تعاون بھی کئی موضوعات میں سے ایک تھا۔

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے گزشتہ ویک اینڈ پر اس بارے میں اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ اس مجوزہ ڈیل سے مشرق وسطیٰ کے خطے کی ان مبینہ لیکن سرکردہ کاروباری شخصیات کو فائدہ پہنچے گا، جن کے امریکی مذاکرات کاروں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔

امریکی خصوصی مندوبین اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر (بائیں) کریملن میں روسی صدر پوٹن (دائیں طرف سے تیسرے) کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے، گزشتہ برس دسمبر میں لی گئی ایک تصویر
امریکی خصوصی مندوبین اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر (بائیں) کریملن میں روسی صدر پوٹن (دائیں طرف سے تیسرے) کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے، گزشتہ برس دسمبر میں لی گئی ایک تصویرتصویر: Kristina Kormilitsyna/Sputnik/AP Photo/picture alliance

روسی یوکرینی جنگ کے خاتمے کی کوششوں کے لیے یہ دونوں امریکی مندوبین، جن میں سے جیرڈ کشنر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد بھی ہیں، روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ مذاکرات کے لیے کئی مرتبہ ماسکو کے دورے کر چکے ہیں۔

یوکرین میں ماسکو کی فوجی مداخلت کے ساتھ شروع ہونے والی روسی یوکرینی جنگ کو اب ساڑھے چار سال سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے اور اس دوران اس تنازعے میں دونوں طرف سے مجموعی طور پر لاکھوں فوجی اور عام شہری ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button