
روس میں کریملن کی طرف سے پیر پانچ اکتوبر کے روز امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی اس حالیہ رپورٹ پر کسی بھی تبصرے سے انکار کر دیا گیا جس کے مطابق امریکہ اور روس کے مابین روسی یوکرینی جنگ کے خاتمے سے متعلق مذاکرات کو وسعت دیتے ہوئے ان میں کئی بلین ڈالر مالیت کے تیل کی فروخت کے ایک ممکنہ سمجھوتے کو بھی شامل کر دیا گیا ہے۔
روسی دارالحکومت ماسکو سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق اس بارے میں ایک سوال کے جواب میں کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے تاہم کہا کہ روس اور امریکہ کے مذاکرات کاروں کے مابین ہونے والی بات چیت میں توانائی کے شعبے میں تعاون بھی کئی موضوعات میں سے ایک تھا۔
امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے گزشتہ ویک اینڈ پر اس بارے میں اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ اس مجوزہ ڈیل سے مشرق وسطیٰ کے خطے کی ان مبینہ لیکن سرکردہ کاروباری شخصیات کو فائدہ پہنچے گا، جن کے امریکی مذاکرات کاروں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔

روسی یوکرینی جنگ کے خاتمے کی کوششوں کے لیے یہ دونوں امریکی مندوبین، جن میں سے جیرڈ کشنر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد بھی ہیں، روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ مذاکرات کے لیے کئی مرتبہ ماسکو کے دورے کر چکے ہیں۔
یوکرین میں ماسکو کی فوجی مداخلت کے ساتھ شروع ہونے والی روسی یوکرینی جنگ کو اب ساڑھے چار سال سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے اور اس دوران اس تنازعے میں دونوں طرف سے مجموعی طور پر لاکھوں فوجی اور عام شہری ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔



