
امریکہ نے برطانیہ میں فیئر فورڈ کے فضائی اڈے سے اپنے تمام بی ون بمبار طیارے واپس بلا لیے
اس واقعے کے بعد برطانیہ میں انسداد دہشت گردی کا نگران ادارہ بھی حرکت میں آ گیا تھا اور اس نے اس واقعے کی چھان بین بھی کی تھی۔
امریکہ نے اس امر کی تصدیق کر دی ہے کہ اس نے مبینہ ’’نئے خطرات‘‘ کے پیش نظر برطانیہ میں فیئر فورڈ کی رائل ایئر بیس پر تعینات اپنے تمام بی ون طرز کے بمبار طیارے واپس بلا لیے ہیں۔
پینٹاگون نے امریکی جنگی طیاروں کی اس واپسی اور دوبارہ امریکی فضائی اڈوں پر تعیناتی کی تصدیق کر دی ہے۔ قبل ازیں لندن میں برطانوی حکومت کی طرف سے اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ فیئر فورڈ کا برطانوی فضائی اڈہ ہر حوالے سے محفوظ ہے۔
واشنگٹن سے پیر پانچ اکتوبر کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق پینٹاگون کی طرف سے اتوار کی رات جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ’’ ہم اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ برطانیہ میں رائل ایئر فورس بیس فیئر فورڈ پر تعینات تمام امریکی بمبار طیاروں کو وہاں سے ہٹا کر واپس امریکہ میں ان کی ہوم بیسز پر تعینات کر دیا گیا ہے۔‘‘

ساتھ ہی اس بیان میں کہا گیا، ’’آپریشنل سکیورٹی سے متعلق وجوہات کی بنا پر یہ تصدیق اس وقت نہیں کی گئی تھی، جب یہ عسکری اثاثے اور اس سے منسلک ملٹری مین پاور کو وہاں سے منتقل کیا جا رہا تھا۔‘‘
اسی دوران ایک امریکی اہلکار نے، جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو بتایا کہ ان بمبار طیاروں کی برطانیہ سے واپس امریکہ منتقلی ایک ’’نئے لیکن غیر تخصیص شدہ خطرے‘‘ کے بعد عمل میں آئی۔ اس اہلکار نے اس خطرے کو ’’حقیقی دنیا میں پیش آنے والا واقعہ‘‘ قرار دیا۔
اس امریکی اہلکار نے یہ بھی کہا کہ یہ ایک غیر معمولی پیش رفت تھی کہ برطانیہ میں فیر فورڈ ایئر بیس سے ان امریکی بمبار طیاروں کو خطے میں ہی کسی دوسرے فضائی اڈے پر منتقل کرنے کے بجائے واپس امریکہ میں ان کی ہوم بیسز پر منتقل کر دیا گیا۔
جنوب مغربی انگلینڈ میں 27 ستمبر کو فیئر فورڈ ایئر بیس کے قریب ایک گاؤں میں مشتبہ سرگرمیوں کا ایک ایسا واقعہ پیش آیا تھا، جب وہاں کئی نقاب پوش افراد کی متعدد گاڑیوں میں موجودگی اور مشکوک سرگرمیوں کی خبریں ملی تھیں۔

اس واقعے کے بعد برطانیہ میں انسداد دہشت گردی کا نگران ادارہ بھی حرکت میں آ گیا تھا اور اس نے اس واقعے کی چھان بین بھی کی تھی۔
برطانیہ میں فیئر فورڈ ایئر بیس ایک ایسا فضائی اڈہ ہے، جسے امریکی فضائیہ ایران جنگ میں ایران پر حملوں کے لیے استعمال کرتی رہی ہے۔



