
سید عاطف ندیم-ادارت
پاکستان نے مقامی طور پر تیار کردہ فتح-4 (Fatah-4) گراؤنڈ لانچڈ کروز میزائل (GLCM) کے توسیعی فاصلے والے ورژن کا کامیاب تجربہ کر لیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق جدید ایویونکس اور جدید ترین نیوی گیشنل آلات سے لیس اس ہتھیاروں کے نظام نے تجربے کے دوران مطلوبہ تکنیکی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فتح-4 کا توسیعی ورژن زیادہ فاصلے پر موجود اہداف کو اعلیٰ درستگی اور مؤثر حملہ آور صلاحیت کے ساتھ نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ حالیہ تجربے کے دوران میزائل کے مختلف ذیلی نظاموں کے اضافی تکنیکی پیرامیٹرز کی بھی تصدیق کی گئی، خصوصاً وہ نظام جو درستگی میں بہتری اور میزائل کی بقا کی صلاحیت (survivability) بڑھانے سے متعلق ہیں۔
مقامی دفاعی ٹیکنالوجی میں اہم پیش رفت
پاک فوج کے مطابق فتح-4 کا توسیعی ورژن پاکستان کی مقامی دفاعی ٹیکنالوجی اور طویل فاصلے تک درست حملے کی صلاحیتوں میں مزید بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔
میزائل میں جدید ایویونکس اور جدید نیوی گیشنل آلات شامل کیے گئے ہیں، جن کا مقصد پرواز کے دوران میزائل کی رہنمائی اور ہدف تک پہنچنے کی درستگی کو بہتر بنانا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق حالیہ تجربے میں انہی تکنیکی خصوصیات اور مختلف ذیلی نظاموں کی کارکردگی کی مزید توثیق کی گئی۔
یہ تجربہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان اپنی مقامی دفاعی پیداوار اور جدید روایتی ہتھیاروں کی صلاحیتوں کو مسلسل بہتر بنانے پر توجہ دے رہا ہے۔
گزشتہ تجربات کے بعد اہم پیش رفت
فتح-4 نظام کے حوالے سے پاکستان پہلے بھی کامیاب تجربات کر چکا ہے۔ ستمبر 2025 میں پاک فوج نے فتح-4 کروز میزائل کا تربیتی تجربہ 750 کلومیٹر کی رینج پر کیا تھا۔ اس وقت آئی ایس پی آر نے میزائل کو جدید ایویونکس اور نیوی گیشنل نظام سے لیس قرار دیا تھا۔
رواں سال مئی میں بھی آرمی راکٹ فورس کمانڈ نے فتح-4 گراؤنڈ لانچڈ کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔ اس کے بعد موجودہ توسیعی ورژن کا تجربہ اس نظام کی مزید تکنیکی ترقی اور اس کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی جانب ایک اور قدم ہے۔
درستگی اور بقا کی صلاحیت پر خصوصی توجہ
آئی ایس پی آر کے مطابق حالیہ تجربے میں محض میزائل کے کامیاب لانچ تک محدود نہیں رہا بلکہ مختلف ذیلی نظاموں کے اضافی تکنیکی پیرامیٹرز کو بھی جانچا گیا۔
ان میں ایسے نظام شامل ہیں جنہیں بہتر درستگی اور enhanced survivability کے لیے شامل کیا گیا ہے۔ اس طرح تجربے کا مقصد میزائل نظام کی مجموعی کارکردگی اور اس کے مختلف تکنیکی اجزا کے باہمی انضمام کی توثیق کرنا بھی تھا۔
دفاعی امور کے حوالے سے رپورٹس میں فتح-4 کے پرواز کے ایسے پروفائل کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو کم بلندی پر پرواز اور زمینی ساخت کے مطابق راستہ اختیار کرنے کی صلاحیت سے متعلق ہے، تاہم موجودہ تجربے کے حوالے سے آئی ایس پی آر نے بنیادی طور پر جدید ایویونکس، نیوی گیشنل آلات، درستگی اور بقا کی صلاحیت میں بہتری کی تصدیق کی ہے۔
پاک فوج کے اعلیٰ افسران اور سائنسدانوں نے تجربہ دیکھا
آئی ایس پی آر کے مطابق فتح-4 کے توسیعی ورژن کا تجربہ پاک فوج کے سینئر افسران کے ساتھ ساتھ میزائل تیار کرنے والے ادارے کے سائنسدانوں اور انجینئرز نے بھی دیکھا۔
اس موقع پر میزائل نظام سے متعلق تکنیکی کارکردگی، مختلف ذیلی نظاموں اور تجربے کے نتائج کا جائزہ لیا گیا۔
آئی ایس پی آر نے تجربے کی مکمل جگہ، لانچ کے مخصوص تکنیکی پیرامیٹرز یا توسیعی ورژن کی نئی زیادہ سے زیادہ رینج سمیت تمام تفصیلات جاری نہیں کیں۔ دستیاب سرکاری معلومات کے مطابق توجہ اس تجربے میں نظام کی بہتر درستگی، طویل فاصلے تک مؤثر ہدف گیری اور بقا کی صلاحیت کی توثیق پر رہی۔
قومی قیادت کی جانب سے سائنسدانوں اور انجینئرز کو مبارکباد
فتح-4 کے توسیعی ورژن کے کامیاب تجربے پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور سروسز چیفس نے کامیابی پر اطمینان کا اظہار کیا۔
قومی قیادت نے اس اہم سنگِ میل کے حصول میں کردار ادا کرنے والے سائنسدانوں، انجینئرز اور دیگر متعلقہ اہلکاروں کی تکنیکی مہارت، محنت، لگن اور عزم کو سراہا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی فتح-4 کے توسیعی ورژن کے کامیاب تجربے کو دفاعی شعبے میں اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے سائنسدانوں اور انجینئرز کو مبارکباد دی۔
آرمی راکٹ فورس کمانڈ کی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ
فتح-4 کا تازہ تجربہ پاکستان کی آرمی راکٹ فورس کمانڈ سے متعلق حالیہ سرگرمیوں کے سلسلے کی ایک کڑی بھی ہے۔ اس کمانڈ کے تحت روایتی میزائل اور راکٹ صلاحیتوں کو مزید منظم اور مؤثر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
رواں سال اپریل میں آرمی راکٹ فورس کمانڈ نے فتح-II میزائل نظام کا کامیاب تربیتی لانچ بھی کیا تھا، جبکہ مئی میں فتح-4 کا تجربہ کیا گیا۔
ان تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اپنی روایتی دفاعی صلاحیتوں میں جدید ٹیکنالوجی، درست ہدف گیری اور مقامی طور پر تیار کردہ نظاموں کے استعمال کو مزید وسعت دے رہا ہے۔
دفاعی خود انحصاری کی جانب پیش رفت
فتح-4 کے توسیعی ورژن کا تجربہ پاکستان کی دفاعی پیداوار میں مقامی صلاحیتوں کے فروغ کے تناظر میں بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ مقامی سطح پر میزائل نظاموں کی تیاری، ان کے نیوی گیشنل اور ایویونکس نظاموں میں بہتری اور مختلف ذیلی نظاموں کی مربوط کارکردگی کی جانچ سے پاکستان کے دفاعی تحقیق و ترقی کے شعبے میں جاری پیش رفت کی عکاسی ہوتی ہے۔
تجربے کے بعد جاری کیے گئے سرکاری بیان میں خاص طور پر سائنسدانوں اور انجینئرز کی تکنیکی مہارت اور عزم کو سراہا گیا، جو اس نظام کی تیاری اور بہتری میں ان کے کردار کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
اہم دفاعی سنگِ میل
فتح-4 کے توسیعی ورژن کا کامیاب تجربہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان کی مسلح افواج مختلف مقامی طور پر تیار کردہ میزائل اور دفاعی نظاموں کے تجربات اور تربیتی لانچز کر رہی ہیں۔
حالیہ تجربے میں جدید ایویونکس، نیوی گیشنل نظام، طویل فاصلے پر ہدف گیری، بہتر درستگی اور بقا کی صلاحیت سے متعلق مختلف تکنیکی پہلوؤں کی توثیق کی گئی۔ قومی قیادت کی جانب سے سائنسدانوں، انجینئرز اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی کو سراہا گیا، جبکہ آئی ایس پی آر نے اسے پاکستان کی دفاعی ٹیکنالوجی میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا ہے۔



