پاکستاناہم خبریں

روس پاکستان مشترکہ فوجی مشقیں ’دروژبا‘ اختتام پذیر، انسداد دہشت گردی میں باہمی تعاون اور عسکری ہم آہنگی کا عملی مظاہرہ

چیراٹ میں نویں مشترکہ فوجی مشقوں کی اختتامی تقریب، روسی سفیر البرٹ پی خورےف کی شرکت

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

چیراٹ، خیبر پختونخوا: روس اور پاکستان کے درمیان مشترکہ فوجی تعاون اور انسداد دہشت گردی کے شعبے میں عملی رابطوں کو مزید فروغ دینے والی نویں مشترکہ فوجی مشقیں ’دروژبا‘ (Druzhba) اختتام پذیر ہوگئیں۔ خیبر پختونخوا کے علاقے چیراٹ میں منعقد ہونے والی مشقوں کی اختتامی تقریب میں پاکستان میں تعینات روسی سفیر البرٹ پی خورےف (Albert P. Khorev) نے خصوصی شرکت کی۔

مشترکہ مشقوں میں تاجکستان میں تعینات روسی فوج کے 201 ویں ملٹری بیس، جو روسی سینٹرل ملٹری ڈسٹرکٹ کا حصہ ہے، کے اہلکاروں اور پاکستان کی اسپیشل فورسز نے حصہ لیا۔ مشقوں کے دوران دونوں ممالک کی افواج نے مشکل اور دشوار گزار علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف مربوط کارروائیوں، باہمی رابطہ کاری اور مختلف عسکری صلاحیتوں کے عملی مظاہرے کیے۔

مشکل علاقوں میں انسداد دہشت گردی کی مشترکہ کارروائیوں کا مظاہرہ

مشقوں کے دوران روسی اور پاکستانی فوجی دستوں نے ایسے حالات میں مشترکہ کارروائیوں کی تربیت حاصل کی جن میں دشوار گزار جغرافیائی علاقوں، محدود نقل و حرکت اور مختلف نوعیت کے سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔

شرکاء نے جدید ہتھیاروں اور ٹیکنالوجیز کا استعمال کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے مختلف پہلوؤں کا عملی مظاہرہ کیا۔ مشقوں میں بغیر پائلٹ فضائی نظام (UAVs) اور ڈرونز سمیت جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا گیا، جس کا مقصد دونوں ممالک کے خصوصی دستوں کے درمیان آپریشنل ہم آہنگی اور جدید جنگی ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق تجربات کا تبادلہ تھا۔

مشقوں کے دوران روسی اور پاکستانی اہلکاروں نے مشترکہ منصوبہ بندی، کارروائیوں کے دوران باہمی رابطے، ہدف تک رسائی اور مشکل حالات میں مربوط انداز میں کام کرنے کی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کی۔

روسی اور پاکستانی فوجی قیادت کی نگرانی میں مشقیں

’دروژبا‘ مشقوں میں شریک دونوں ممالک کے فوجی دستوں کی قیادت اور نگرانی اعلیٰ سطح کے عسکری افسران نے کی۔

روسی جانب سے کرنل اولیگ سٹیٹسوک، نائب چیف آف اسٹاف روسی سینٹرل ملٹری ڈسٹرکٹ، نے شرکت کی، جبکہ پاکستان کی جانب سے لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر نجم، انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ ایویلیوایشن، میجر جنرل احمد جواد، کمانڈر اسپیشل آپریشنز فورسز، اور بریگیڈیئر جنرل محمد عمران اسلم، کمانڈر 22 ویں اسپیشل فورسز بریگیڈ، پاک فوج نے مشقوں کی نگرانی کی۔

اعلیٰ عسکری قیادت کی موجودگی نے مشقوں کے دوران دونوں افواج کے درمیان تربیتی اور پیشہ ورانہ روابط کو مزید اہمیت دی اور مشترکہ کارروائیوں کے مختلف مراحل کا جائزہ لینے کا موقع فراہم کیا۔

روسی سفیر البرٹ پی خورےف کا شرکاء سے خطاب

یکم اکتوبر کو ٹیکٹیکل مظاہروں کے اختتام پر روسی سفیر البرٹ پی خورےف نے مشقوں میں شریک روسی اور پاکستانی فوجی اہلکاروں سے خطاب کیا۔

انہوں نے کامیاب مشقوں کی تکمیل پر دونوں ممالک کے فوجی اہلکاروں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ مشترکہ تربیتی سرگرمیوں کے ذریعے روسی اور پاکستانی فوجی یونٹس کے درمیان باہمی تعاون اور ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے کا موقع ملا ہے۔

روسی سفیر نے دونوں ممالک کے فوجی اہلکاروں کے درمیان تجربات، پیشہ ورانہ مہارت اور عسکری روایات کے تبادلے کو بھی اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق اس نوعیت کی مشترکہ مشقیں دونوں ممالک کے فوجیوں کو ایک دوسرے کے طریقہ کار، تربیتی تجربات اور آپریشنل صلاحیتوں کو سمجھنے کا عملی موقع فراہم کرتی ہیں۔

عسکری روایات اور تجربات کے تبادلے پر زور

’دروژبا‘ مشقوں کا ایک اہم پہلو روسی اور پاکستانی فوجی اہلکاروں کے درمیان پیشہ ورانہ تجربات اور عسکری روایات کا تبادلہ بھی رہا۔

دونوں ممالک کے خصوصی دستوں نے مشترکہ سرگرمیوں کے دوران ایک دوسرے کے تربیتی طریقہ کار اور مختلف حالات میں کارروائیوں کے تجربات سے استفادہ کیا۔ اس عمل کو مستقبل میں دونوں افواج کے درمیان باہمی سمجھ بوجھ اور تعاون میں اضافے کے لیے اہم قرار دیا گیا۔

مشقوں میں جدید ہتھیاروں اور ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جدید سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے روایتی فوجی تربیت کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی اور بغیر پائلٹ نظاموں کے استعمال پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔

روس پاکستان دفاعی تعاون میں اہم پیش رفت

روسی سفیر البرٹ پی خورےف نے اپنے خطاب میں اس امر پر بھی زور دیا کہ ’دروژبا‘ جیسی مشترکہ فوجی مشقیں صرف فوجی تربیت تک محدود نہیں بلکہ روس اور پاکستان کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سکیورٹی تعاون گزشتہ برسوں کے دوران مختلف شعبوں میں آگے بڑھا ہے۔ مشترکہ فوجی مشقیں اس تعاون کا ایک اہم حصہ ہیں، جہاں دونوں ممالک کی افواج کو عملی تربیت، تجربات کے تبادلے اور باہمی رابطہ کاری بہتر بنانے کا موقع ملتا ہے۔

انسداد دہشت گردی میں مشترکہ تجربات کا تبادلہ

پاکستان اور روس دونوں دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے اپنے اپنے تجربات رکھتے ہیں۔ ’دروژبا‘ مشقوں کے ذریعے دونوں ممالک کی اسپیشل فورسز کو مشترکہ ماحول میں تربیت حاصل کرنے اور انسداد دہشت گردی کے مختلف طریقہ کار پر کام کرنے کا موقع ملا۔

خصوصاً دشوار گزار علاقوں میں کارروائیوں کے عملی مظاہرے نے فوجی اہلکاروں کو ایسے حالات میں باہمی تعاون اور فوری رابطے کی تربیت فراہم کی، جہاں کامیاب کارروائی کے لیے درست منصوبہ بندی، معلومات کا بروقت تبادلہ اور مختلف یونٹس کے درمیان مؤثر ہم آہنگی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

چیراٹ میں مشقوں کا انعقاد

خیبر پختونخوا کا علاقہ چیراٹ پاکستان کی فوجی تربیت کے حوالے سے ایک اہم مقام سمجھا جاتا ہے، جہاں خصوصی نوعیت کی تربیتی سرگرمیاں اور فوجی مشقیں منعقد ہوتی رہی ہیں۔ اسی ماحول میں ’دروژبا‘ کی نویں مشق کا انعقاد روسی اور پاکستانی اہلکاروں کو مشترکہ تربیتی سرگرمیوں کے لیے ایک موزوں ماحول فراہم کرتا ہے۔

اختتامی مرحلے میں پیش کیے جانے والے ٹیکٹیکل مظاہروں نے مشقوں کے دوران حاصل کی گئی تربیت، مربوط کارروائیوں اور جدید عسکری ٹیکنالوجی کے استعمال کی عملی عکاسی کی۔

’دروژبا‘ مشقوں سے مستقبل کے تعاون کی راہ ہموار

نویں روس پاکستان مشترکہ فوجی مشقوں کے کامیاب اختتام کو دونوں ممالک کے دفاعی اور عسکری روابط کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مشقوں کے دوران روسی اور پاکستانی فوجی اہلکاروں کے درمیان پیشہ ورانہ روابط، باہمی اعتماد اور تعاون کو مزید فروغ ملا۔

روسی سفیر کی اختتامی تقریب میں شرکت اور دونوں ممالک کے اعلیٰ فوجی افسران کی موجودگی نے بھی اس امر کو اجاگر کیا کہ ماسکو اور اسلام آباد کے درمیان دفاعی تعاون کو باہمی رابطوں اور مشترکہ تربیتی سرگرمیوں کے ذریعے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

مشقوں کے اختتام پر روسی اور پاکستانی اہلکاروں نے مشترکہ تربیتی سرگرمیوں کے ذریعے حاصل ہونے والے تجربات کو مستقبل کی مشقوں اور دفاعی تعاون کے لیے مفید قرار دیا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان انسداد دہشت گردی، عسکری تربیت اور پیشہ ورانہ روابط کے مزید فروغ کی راہ بھی ہموار ہوئی۔

یوں ’دروژبا‘ 2026 نے روس اور پاکستان کی افواج کے درمیان عملی تعاون، مشترکہ تربیت، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور انسداد دہشت گردی کی صلاحیتوں میں باہمی تجربات کے تبادلے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کا کردار ادا کیا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button