
پنجاب یونیورسٹی نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے الزامات مسترد کر دیے، انتظامیہ کا حقائق اور ریکارڈ کی بنیاد پر جواب
ترجمان نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی حالیہ سرگرمیوں اور مطالبات کو یونیورسٹی میں جاری انکوائریوں اور انتظامی کارروائیوں سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔
سید عاطف ندیم-ادارت
پنجاب یونیورسٹی کے ترجمان نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے یونیورسٹی انتظامیہ پر عائد کیے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ ہر الزام کا جواب ریکارڈ، دستیاب حقائق اور یونیورسٹی کی مجموعی کارکردگی کی بنیاد پر دے گی۔ ترجمان کے مطابق یونیورسٹی کو شخصیات یا کسی مخصوص گروہ کے مفادات کے بجائے قانون، قواعد و ضوابط اور ادارہ جاتی نظام کے مطابق چلایا جا رہا ہے۔
پنجاب یونیورسٹی کے ترجمان نے ہنگامی پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بعض سرکردہ رہنما اپنے خلاف جاری انکوائریوں اور ٹاؤن تھری سے متعلق مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات رکوانے کے لیے انتظامیہ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ترجمان نے الزام عائد کیا کہ جاری تحقیقات اور فیکٹ فائنڈنگ کے مراحل کے دوران جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی تشکیل اور اس کی حالیہ سرگرمیوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے مطابق مختلف معاملات میں جاری تحقیقات کے تناظر میں کمیٹی کے مطالبات اور احتجاج کا جائزہ بھی اسی پس منظر میں لیا جانا چاہیے۔
ٹاؤن تھری معاملے کی تحقیقات اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی
پنجاب یونیورسٹی ترجمان نے کہا کہ ٹاؤن تھری سمیت مختلف معاملات میں حقائق جاننے کے لیے تحقیقات اور انکوائریاں جاری ہیں۔
ان کے مطابق ٹاؤن تھری کے معاملے میں فیکٹ فائنڈنگ کے بعد انکوائری کا عمل آگے بڑھایا گیا، جبکہ اسی عرصے میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا سامنے آنا اور اس کی جانب سے مختلف مطالبات پیش کیا جانا ایک قابلِ غور امر ہے۔
ترجمان نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی حالیہ سرگرمیوں اور مطالبات کو یونیورسٹی میں جاری انکوائریوں اور انتظامی کارروائیوں سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی معاملے میں حتمی فیصلہ احتجاج، دباؤ یا الزام تراشی کی بنیاد پر نہیں بلکہ دستیاب شواہد، یونیورسٹی قواعد اور متعلقہ قانونی طریقہ کار کے مطابق کیا جائے گا۔
بعض افراد سے متعلق معاملات زیرِ جانچ ہیں
ترجمان کے مطابق جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بعض سرکردہ افراد سے متعلق تقرریوں، انتظامی معاملات اور دیگر شکایات قانون اور یونیورسٹی کے قواعد و ضوابط کے مطابق زیرِ جانچ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان معاملات کی تحقیقات کا مقصد کسی فرد یا گروہ کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ حقائق سامنے لانا اور ادارہ جاتی نظام کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نہ کسی کے خلاف انتقامی کارروائی کرے گی اور نہ ہی کسی دباؤ کے تحت قانونی کارروائی روکے گی۔ تمام معاملات کا فیصلہ شواہد، قواعد و ضوابط اور مجاز قانونی فورمز کے ذریعے کیا جائے گا۔
سرکاری وسائل کے مبینہ ذاتی استعمال کی شکایات بھی زیرِ غور
پنجاب یونیورسٹی ترجمان نے کہا کہ یونیورسٹی کی عمارتوں، سرکاری وسائل اور دیگر سہولیات کے مبینہ ذاتی استعمال سے متعلق شکایات کو بھی قواعد و ضوابط کے مطابق دیکھا جائے گا۔
انہوں نے مبینہ طور پر سرکاری جگہ کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے، حتیٰ کہ سرکاری جگہ پر ذاتی مقاصد کے لیے دیسی مرغیاں پالنے سے متعلق شکایت کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ایسے معاملات کی جانچ بھی متعلقہ قواعد کے تحت کی جائے گی۔
ترجمان نے واضح کیا کہ کسی بھی شکایت کو محض احتجاج یا تنظیمی دباؤ کی بنیاد پر ختم نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی احتسابی کارروائیوں کو روکنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔
شفافیت اور احتساب کے خواہاں افراد کو تحقیقات کا سامنا کرنا چاہیے
ترجمان نے کہا کہ اگر جوائنٹ ایکشن کمیٹی واقعی شفافیت اور احتساب کی خواہاں ہے تو اسے جاری تحقیقات کے آزادانہ، غیر جانب دارانہ اور منطقی انجام کی حمایت کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج یا دباؤ کے ذریعے انکوائریاں رکوانے کے بجائے تمام فریقین کو چاہیے کہ وہ تحقیقات مکمل ہونے دیں تاکہ حقائق سامنے آسکیں اور قانون کے مطابق فیصلہ کیا جاسکے۔
ترجمان کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ کا مؤقف واضح ہے کہ کسی بھی معاملے میں نہ انتقامی کارروائی ہوگی اور نہ کسی فرد یا گروہ کو غیر ضروری رعایت دی جائے گی۔
مالی معاملات کے لیے باقاعدہ ادارہ جاتی نظام موجود ہے
پنجاب یونیورسٹی ترجمان نے یونیورسٹی کے مالی معاملات سے متعلق الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ادارے کے مالی اور انتظامی امور کے لیے باقاعدہ قانونی و ادارہ جاتی نظام موجود ہے۔
انہوں نے بتایا کہ فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی، سنڈیکیٹ اور دیگر مجاز ادارے یونیورسٹی کے مالی و انتظامی معاملات کی نگرانی اور منظوری کے لیے فعال ہیں۔
ترجمان کے مطابق یونیورسٹی کے متعدد اہم فیصلے انہی مجاز اداروں سے منظوری حاصل کرنے کے بعد نافذ کیے گئے ہیں، اس لیے مالی معاملات کو کسی ایک فرد یا انتظامیہ کے صوابدیدی فیصلوں کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔
بجٹ، آمدن اور اخراجات کا ریکارڈ موجود ہے
ترجمان نے کہا کہ یونیورسٹی کا بجٹ، آمدن، اخراجات، سرمایہ کاری اور دیگر مالی معاملات باقاعدہ ادارہ جاتی منظوری، آڈٹ اور متعلقہ قانونی فورمز کی منظوری کے بعد ہی انجام پاتے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بجٹ کے مختلف اعداد و شمار کو سیاق و سباق سے الگ کرکے پیش کیا گیا اور اس بنیاد پر یونیورسٹی کے بارے میں ایک منفی تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔
ترجمان کے مطابق مکمل مالی اعداد و شمار اور یونیورسٹی کی مجموعی مالی کارکردگی کو دیکھا جائے تو صورتحال مختلف تصویر پیش کرتی ہے۔
یونیورسٹی کی آمدن 7 ارب سے بڑھ کر ساڑھے 12 ارب روپے تک پہنچ گئی
پنجاب یونیورسٹی ترجمان کے مطابق گزشتہ دو برسوں کے دوران یونیورسٹی کی مالی پوزیشن میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کی آمدن تقریباً 7 ارب روپے سے بڑھ کر ساڑھے 12 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اخراجات پر مؤثر کنٹرول، مالی نظم و ضبط اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کے نتیجے میں بجٹ خسارے میں بھی کمی آئی ہے۔
ان کے مطابق یونیورسٹی کا بجٹ خسارہ تقریباً 2 ارب 86 کروڑ روپے سے کم ہوکر 1 ارب 60 کروڑ روپے رہ گیا ہے۔
ترجمان نے ان اعداد و شمار کو یونیورسٹی کی مالی کارکردگی میں بہتری کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال اس بیانیے کی نفی کرتی ہے کہ پنجاب یونیورسٹی مالی طور پر مفلوج ہو رہی ہے۔
محدود سرکاری وسائل کے باوجود مالی بہتری
ترجمان نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی محدود سرکاری وسائل کے باوجود اپنے ذرائع آمدن بڑھانے، مالی نظم و ضبط بہتر بنانے اور غیر ضروری اخراجات کم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی توجہ صرف بجٹ میں اضافہ کرنے پر نہیں بلکہ موجودہ وسائل کے بہتر استعمال اور مالی استحکام پیدا کرنے پر بھی مرکوز ہے۔
ان کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں آمدن میں اضافہ اور بجٹ خسارے میں کمی انتظامیہ کی جانب سے مالی نظم و ضبط کے لیے کیے گئے اقدامات کے نتائج ہیں۔
بجلی کے استعمال میں لاکھوں یونٹس کی بچت
ترجمان نے توانائی کے شعبے میں کیے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ یونیورسٹی میں تقریباً 50 لاکھ یونٹس بجلی کی بچت کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کے اخراجات میں کمی کے لیے عملی اقدامات کیے گئے، جس سے یونیورسٹی کے مجموعی اخراجات کو کنٹرول کرنے میں مدد ملی۔
ترجمان کے مطابق توانائی کے مؤثر استعمال، اخراجات میں کمی اور دستیاب وسائل کے بہتر انتظام کو مالی استحکام کی حکمت عملی کا حصہ بنایا گیا ہے۔
پنجاب یونیورسٹی میں پہلی مرتبہ 15 ہزار سے زائد داخلے
ترجمان نے یونیورسٹی کی تعلیمی کارکردگی اور طلبہ کے اعتماد کو بھی انتظامیہ کی کارکردگی کا اہم پیمانہ قرار دیا۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب یونیورسٹی میں پہلی مرتبہ 15 ہزار سے زائد داخلے ہوئے ہیں، جبکہ نئے داخلوں میں 40 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق طلبہ اور والدین کا بڑھتا ہوا اعتماد کسی بھی تعلیمی ادارے کی کارکردگی جانچنے کا اہم پیمانہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی واقعی تعلیمی اور انتظامی زوال کا شکار ہوتی تو نئے داخلوں میں اس سطح کا نمایاں اضافہ ممکن نہ ہوتا۔
انتظامی اصلاحات اور تعلیمی ترقی ترجیح ہے
ترجمان نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ کا اصل مقصد تعلیم و تحقیق کو فروغ دینا، مالی استحکام پیدا کرنا، شفافیت یقینی بنانا، میرٹ کو مضبوط کرنا، احتساب کو مؤثر بنانا اور ادارہ جاتی اصلاحات کو آگے بڑھانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے انتظامی اور مالی شعبوں میں بہتری کا عمل جاری ہے، جبکہ تعلیمی سرگرمیوں اور تحقیق کے فروغ پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
یونیورسٹی شخصیات نہیں، ادارہ جاتی نظام کے تحت چلائی جائے گی
پنجاب یونیورسٹی ترجمان نے واضح کیا کہ یونیورسٹی کسی شخصیت، گروہ یا تنظیم کے مفادات کے مطابق نہیں بلکہ قانون، قواعد و ضوابط اور ادارہ جاتی نظام کے مطابق چلائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کے لیے تمام افراد اور گروہ یکساں ہیں اور کسی بھی معاملے میں فیصلہ شواہد اور متعلقہ قواعد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
ان کے مطابق یونیورسٹی کے ادارہ جاتی فورمز موجود ہیں اور انتظامی و مالی معاملات کو انہی فورمز کے ذریعے آگے بڑھایا جاتا ہے۔
احتسابی عمل پر دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا
ترجمان نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ احتساب اور تحقیقات کے عمل کو کسی احتجاج یا دباؤ کے نتیجے میں متاثر نہیں ہونے دے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی فرد کے خلاف شکایت یا انکوائری موجود ہے تو اس کا فیصلہ متعلقہ فورم کرے گا اور کسی بھی فریق کو احتجاج کے ذریعے قانونی یا انتظامی کارروائی رکوانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
ترجمان نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ انتظامیہ نہ کسی کے خلاف انتقامی کارروائی کرے گی اور نہ ہی کسی دباؤ کے تحت قانونی کارروائی روکے گی۔
یونیورسٹی کا مؤقف: فیصلہ شواہد اور قانون کی بنیاد پر ہوگا
پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق تمام جاری معاملات میں حتمی فیصلہ دستیاب شواہد، متعلقہ قواعد و ضوابط اور مجاز قانونی و ادارہ جاتی فورمز کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ انتظامیہ کے لیے ادارے کی ساکھ، تعلیمی معیار، مالی استحکام اور شفاف انتظامی نظام بنیادی ترجیحات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی اپنے تمام قانونی اور آئینی اداروں کے سامنے جواب دہ ہے اور انتظامیہ یونیورسٹی کو تعلیمی، مالی اور انتظامی اعتبار سے مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔
ترجمان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یونیورسٹی میں تعلیم و تحقیق کا فروغ، میرٹ، شفافیت، مالی نظم و ضبط، احتساب اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل جاری رکھا جائے گا اور کسی بھی معاملے میں قانون و ضابطے سے انحراف نہیں کیا جائے گا۔



