
پنجاب اسمبلی کی کمیٹی کا بجلی کے نظام پر اظہارِ تشویش، اوور بلنگ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف سخت اقدامات کی ہدایت
کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ لوڈشیڈنگ کے شیڈول، پیشگی اطلاع اور بجلی کی بحالی کے حوالے سے واضح اور قابلِ عمل نظام یقینی بنایا جائے۔
سید عاطف ندیم-ادارت
لاہور: پنجاب اسمبلی کی کمیٹی برائے قانون اصلاحات و تفویض شدہ قانون سازی اور خصوصی کمیٹی نمبر 16 کا مشترکہ اجلاس سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی زیرِ صدارت پنجاب اسمبلی میں منعقد ہوا، جس میں صوبے میں بجلی کے نظام، صارفین کو درپیش مشکلات، اوور بلنگ، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، بجلی کی فراہمی منقطع کیے جانے، لائن لاسز اور بجلی کے ترسیلی نظام کی مخدوش صورتحال سمیت متعدد اہم معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں دونوں کمیٹیوں کے ارکان کے علاوہ محکمہ توانائی، محکمہ قانون و پارلیمانی امور اور وفاقی بجلی کے شعبے سے متعلق اداروں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔ کمیٹی ارکان نے عوام کی جانب سے محکمہ توانائی اور بجلی کی فراہمی سے متعلق اداروں کے خلاف موصول ہونے والی متعدد شکایات پر حکام سے تفصیلی بریفنگ لی اور صارفین کو درپیش مسائل کے مستقل حل کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا۔
عوامی شکایات اور حفاظتی اقدامات کا جائزہ
اجلاس کے دوران بجلی کے نظام سے متعلق عوامی شکایات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے خاص طور پر بجلی کے ترسیلی نظام کی حفاظت، حادثات کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات، شہریوں کے خلاف مقدمات کے اندراج اور بجلی کے کنکشن منقطع کیے جانے کے معاملات پر متعلقہ حکام سے وضاحت طلب کی۔
کمیٹی ارکان نے اس امر کا بھی جائزہ لیا کہ بجلی کے حادثات کی صورت میں رپورٹنگ، انکوائری اور معائنہ کس قانونی طریقہ کار کے تحت کیا جاتا ہے اور اس حوالے سے محکمہ توانائی اور الیکٹرک انسپکٹرز کا قانونی کردار کیا ہے۔
اجلاس میں شہریوں کی شکایات کے ازالے میں پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے کردار پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی اور اس بات پر زور دیا گیا کہ عوامی شکایات کو محض انتظامی کارروائی تک محدود رکھنے کے بجائے ان کے شفاف اور غیر جانب دارانہ ازالے کے لیے مؤثر نظام وضع کیا جانا چاہیے۔
اوور بلنگ پر کمیٹی کا سخت اظہارِ تشویش
کمیٹی ارکان نے بجلی کے بلوں میں مبینہ اوور بلنگ پر شدید تشویش کا اظہار کیا، بالخصوص سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے صارفین کو موصول ہونے والے زائد بلوں کا معاملہ اجلاس میں خصوصی طور پر زیرِ بحث آیا۔
ارکان نے کہا کہ ایسے صارفین جو پہلے ہی قدرتی آفات کے باعث مشکلات کا شکار رہے ہیں، ان پر بجلی کے غیر معمولی یا زائد بلوں کا بوجھ ڈالنا مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ بلنگ کے پورے طریقہ کار کا جائزہ لیا جائے اور اوور بلنگ سے متعلق شکایات کی حقیقت جاننے کے لیے فرانزک آڈٹ کرایا جائے۔
کمیٹی نے واضح کیا کہ بجلی کے بلوں میں کسی بھی قسم کی غلطی یا بے ضابطگی کی صورت میں صارفین کو مؤثر اور فوری ریلیف فراہم کیا جانا چاہیے، جبکہ ذمہ داری کا تعین بھی شفاف طریقے سے کیا جائے۔
48 گھنٹے قبل اطلاع کے بغیر لوڈشیڈنگ پر سوالات
اجلاس میں نیپرا کی ہدایات کے مطابق لوڈشیڈنگ سے قبل صارفین کو کم از کم 48 گھنٹے پہلے اطلاع دینے کی شرط پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔
کمیٹی ارکان نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ بعض علاقوں میں صارفین کو مناسب پیشگی اطلاع کے بغیر بجلی کی بندش کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ارکان نے کہا کہ بجلی کی بندش کے حوالے سے مقررہ قواعد اور نیپرا کی ہدایات پر سختی سے عملدرآمد ہونا چاہیے تاکہ شہریوں، کاروباری مراکز اور صنعتی سرگرمیوں کو غیر ضروری مشکلات سے بچایا جا سکے۔
کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ لوڈشیڈنگ کے شیڈول، پیشگی اطلاع اور بجلی کی بحالی کے حوالے سے واضح اور قابلِ عمل نظام یقینی بنایا جائے۔
پوری آبادیوں کی بجلی منقطع کرنے پر تشویش
کمیٹی اجلاس میں بعض علاقوں میں پوری پوری آبادیوں کی بجلی منقطع کیے جانے کے معاملات بھی زیرِ بحث آئے۔ ارکان نے سوال اٹھایا کہ اگر بجلی کے چند کنکشنز یا صارفین سے متعلق کوئی مسئلہ موجود ہو تو اس کے نتیجے میں پوری آبادی کو بجلی سے محروم کرنا کس حد تک مناسب ہے۔
ارکان نے اس بات پر زور دیا کہ بجلی کی چوری یا غیر قانونی کنکشنز کے خلاف کارروائی ضرور کی جائے، تاہم اس عمل میں باقاعدگی سے بل ادا کرنے والے صارفین کو سزا نہیں ملنی چاہیے۔
لائن لاسز کا بوجھ بل ادا کرنے والے صارفین پر نہ ڈالا جائے
اجلاس میں بجلی کے نظام میں لائن لاسز کے مسئلے پر بھی ارکان نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ کمیٹی ارکان نے کہا کہ بجلی کے ترسیلی نظام میں ہونے والے نقصانات کا بوجھ ان صارفین پر نہیں ڈالا جانا چاہیے جو باقاعدگی سے اپنے بجلی کے بل ادا کرتے ہیں۔
ارکان نے اس بات پر زور دیا کہ لائن لاسز کو کم کرنے کے لیے مؤثر تکنیکی اور انتظامی اقدامات کیے جائیں اور اس مقصد کے لیے صارفین پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے کے بجائے نظام کی خامیوں کو دور کیا جائے۔
مخدوش بجلی کا نظام انسانی جانوں اور املاک کے لیے خطرہ
کمیٹی ارکان نے بجلی کے ترسیلی نظام کی مخدوش حالت پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ بجلی کی تاروں، کھمبوں اور دیگر تنصیبات کی خراب حالت انسانی جانوں اور املاک کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
کمیٹی نے حادثات کی مؤثر رپورٹنگ، بروقت معائنہ اور ذمہ داری کے تعین کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بجلی کے نظام کی حفاظت کو محض انتظامی معاملہ نہیں بلکہ عوامی تحفظ کا اہم مسئلہ سمجھا جانا چاہیے۔
شکایت اور انکوائری کے نظام کو آزاد بنانے پر زور
اجلاس میں ایک اہم سوال یہ بھی اٹھایا گیا کہ اگر کسی ادارے یا محکمے کے خلاف شکایت ہو تو اسی ادارے کے ذریعے شکایت کی انکوائری کس حد تک غیر جانب دارانہ رہ سکتی ہے۔
کمیٹی ارکان نے اس حوالے سے صارفین کی شکایات کے ازالے کے لیے ایک آزاد اور غیر جانب دار فورم کے قیام پر زور دیا۔ ارکان کا کہنا تھا کہ عوام کو ایسا پلیٹ فارم میسر ہونا چاہیے جہاں وہ بجلی کے بل، کنکشن، لوڈشیڈنگ، بجلی کی بندش، حادثات یا دیگر متعلقہ معاملات کے بارے میں بلاخوف اپنی شکایت درج کرا سکیں اور اس پر شفاف طریقے سے کارروائی ہو۔
غیر قانونی کنکشنز اور بجلی چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث
اجلاس میں غیر قانونی بجلی کنکشنز اور بجلی چوری کے معاملات پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ کمیٹی نے بجلی چوری کی روک تھام کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کی ضرورت پر زور دیا، تاہم اس کے ساتھ ساتھ ان غیر قانونی کنکشنز کو قانونی نظام میں لانے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا جو مقررہ قانونی اور انتظامی تقاضے پورے کر سکتے ہیں۔
کمیٹی نے اس امر پر زور دیا کہ بجلی کے غیر قانونی استعمال کی روک تھام کے لیے ایسی پالیسی تشکیل دی جائے جو ایک طرف بجلی چوری کے خلاف مؤثر کارروائی کرے اور دوسری طرف جائز صارفین کے حقوق کا بھی تحفظ یقینی بنائے۔
صوبائی سطح پر حل نہ ہونے والے معاملات وفاقی حکومت کے سامنے اٹھانے کا فیصلہ
اجلاس میں یہ بھی طے کیا گیا کہ ایسے معاملات جو صوبائی سطح پر حل نہیں ہو سکتے یا جن کا تعلق وفاقی اداروں اور پالیسیوں سے ہے، انہیں وفاقی حکومت، وزیراعظم پاکستان اور قومی اسمبلی کے سامنے اٹھایا جائے گا۔
کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ بجلی کے شعبے سے متعلق عوامی مسائل کے حل کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان بہتر رابطہ اور مؤثر تعاون ضروری ہے تاکہ شکایات کو ایک ادارے سے دوسرے ادارے تک منتقل کرنے کے بجائے عملی بنیادوں پر حل کیا جا سکے۔
بلنگ نظام کا فرانزک آڈٹ کرانے کی ہدایت
کمیٹی نے بلنگ کے طریقہ کار، بالخصوص اوور بلنگ سے متعلق شکایات کا فرانزک آڈٹ کرانے کی ہدایت کی۔ اس اقدام کا مقصد بجلی کے بلوں کی تیاری، ریڈنگ، یونٹس کے اندراج، اضافی چارجز اور دیگر متعلقہ مراحل میں ممکنہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرنا ہے۔
کمیٹی نے ہدایت کی کہ فرانزک آڈٹ کے ذریعے سامنے آنے والے نتائج کی بنیاد پر ذمہ داری کا تعین کیا جائے اور اگر کسی مرحلے پر غلطی یا بے ضابطگی ثابت ہو تو اس کے ازالے کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
صارفین کو معاوضے اور بجلی کی بحالی کے لیے مؤثر طریقہ کار کی ہدایت
کمیٹی نے شہریوں کی شکایات کے ازالے کے لیے ایک مؤثر اور قابلِ عمل طریقہ کار وضع کرنے کی بھی ہدایت کی۔ اس نظام میں بجلی کی بحالی، صارفین کو ممکنہ معاوضے اور شکایات کے فوری حل سے متعلق معاملات کو شامل کرنے کی ہدایت کی گئی۔
اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ عوامی نمائندوں کو بھی اس طریقہ کار میں مناسب کردار دیا جائے تاکہ ان کے حلقوں سے موصول ہونے والی شکایات متعلقہ اداروں تک بروقت پہنچ سکیں اور ان پر پیش رفت کی نگرانی ممکن ہو۔
جامع پالیسی آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت
کمیٹی نے وزارت اور محکمہ توانائی کو عوامی شکایات اور غیر قانونی بجلی کنکشنز سے متعلق ایک جامع پالیسی تیار کرنے کی ہدایت بھی کی۔ یہ پالیسی آئندہ کمیٹی اجلاس میں پیش کی جائے گی تاکہ اس کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔
کمیٹی نے واضح کیا کہ بجلی کے شعبے میں عوامی شکایات کے مستقل حل، صارفین کے حقوق کے تحفظ، بجلی چوری کی روک تھام، اوور بلنگ کے خاتمے اور بجلی کے ترسیلی نظام کی بہتری کے لیے جامع اور مربوط اقدامات کی ضرورت ہے۔
عوام کو ریلیف اور نظام میں شفافیت بنیادی ترجیح قرار
اجلاس کے مجموعی مباحث میں اس امر پر زور دیا گیا کہ بجلی کے شعبے میں اصلاحات کا بنیادی مقصد صارفین کو ریلیف فراہم کرنا، نظام میں شفافیت پیدا کرنا، بجلی کی فراہمی کو زیادہ قابلِ اعتماد بنانا اور انسانی جانوں و املاک کو بجلی کے ترسیلی نظام سے لاحق خطرات کو کم کرنا ہونا چاہیے۔
کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ نیپرا کی ہدایات اور دیگر قانونی تقاضوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے، عوامی شکایات کے ازالے کے لیے مؤثر فورم قائم کیا جائے اور اوور بلنگ، غیر قانونی کنکشنز، لائن لاسز اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ جیسے مسائل کے حل کے لیے قابلِ عمل اقدامات آئندہ اجلاس میں پیش کیے جائیں۔



