
پی ٹی آئی کا احتجاج، انتشاری یا جمہوری جدوجہد؟ ……پیر مشتاق رضوی
جب تک اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ "ایک پیج" پر ہونے کا بیانیہ تھا تو حکومت قائم تھی، لیکن جب تعلقات میں دراڑ آئی تو بیانیہ یکسر بدل کر "میر جعفر و میر صادق اور نیوٹرل" کا ہو گیا
پاکستان کی موجودہ سیاست کو سمجھنا ہو تو عمران خان کی سیاست کے ارتقاء کو سمجھنا ناگزیر ہے۔ یہ تاریخ کا اھم ترین سوال ہے کہ "عمران خان نے اپنی سیاست کا آغاز نظام کی تبدیلی کے لیے کیا تھا یا محض اقتدار کے حصول کے لیے”؟۔ 1996ء سے 2018ء تک کا سفر اسی سوال کے گرد گھومتا ہے۔ تبدیلی، انصاف اور کرپشن سے پاک پاکستان کا نعرہ عوام کے دلوں میں گھر کر گیا، لیکن جب 2018ء میں اقتدار ملا تو عملی طور پر نظام کی تبدیلی کے بجائے اقتدار کو مستحکم کرنے کی سیاست کی گئی۔اقتدار میں آنے کے بعد عمران خان نے آمرانہ طرز حکومت اختیار کیا۔ سیاسی اداروں کو پامال کیا گیا، پارلیمنٹ کو بے توقیر کیا گیا اور ریاستی خفیہ اداروں کو مضبوط کرنے کی بجائے انہیں اپنی سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرنے کا تاثر ابھرا۔ اپنی کرسی کو مضبوط بنانے کے لیے اپوزیشن کو قید و بند میں ڈالا گیا، نیب کو سیاسی انتقام کا ہتھیار بنایا گیا اور مخالفین کی سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کے ذریعے کردار کشی کی گئی، جس نے ملک میں عدم برداشت کی سیاست کو فروغ دیا اور اداروں پر حملے کا کلچر متعارف کرایا۔عمران خان کی سیاست کی ایک اور خصوصیت "نیوٹرل اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ اسٹریٹجی” ہے، وہ ان کی "سیاسی فطرت "کا حصہ رہی ہے۔جب تک اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ "ایک پیج” پر ہونے کا بیانیہ تھا تو حکومت قائم تھی، لیکن جب تعلقات میں دراڑ آئی تو بیانیہ یکسر بدل کر "میر جعفر و میر صادق اور نیوٹرل” کا ہو گیا۔ انہوں نے کبھی دفاعی حکمت عملی اختیار نہیں کی بلکہ ہمیشہ فرنٹ فٹ پر جارحانہ کھیل کھیلا، حقیقی احتجاجوں کو دبایا اور اپوزیشن کے خلاف جارحانہ پالیسی اختیار کی۔ اس دوران جمہوری اور آئینی اداروں مثلاً پارلیمنٹ، عدلیہ اور الیکشن کمیشن کو مضبوط کرنے کی بجائے ان پر عدم اعتماد کا اظہار کر کے انہیں کمزور کیا گیا۔ یہی وہ طرز عمل تھا جس نے آگے چل کر سیاسی محاذ آرائی کو جنم دیا۔اقتدار سے باہر آنے کے بعد عمران خان نے مکمل طور پر اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ اختیار کر لیا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس اسٹیبلشمنٹ کی حمایت سے اقتدار حاصل کیا گیا تھا، اقتدار سے نکلتے ہی اسی کے خلاف محاذ آرائی شروع کر دی گئی۔ اس اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست کا مقصد پاک افواج کو بدنام کرنا اور ملکی حالات کی تمام تر ذمہ داری افواج پر ڈال کر انہیں مورد الزام ٹھہرانا بن گیا۔ جمہوری قوتوں سے مذاکرات کی بجائے ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات پر زور دیا گیا، جمہوری قوتوں سے مفاہمت کی راہ نہیں اپنائی گئی۔ اسی فوج کو دیوار سے لگانے اور دباؤ ڈالنے کی کوشش کا انتہائی افسوسناک نتیجہ 9 مئی 2023ء کے واقعات کی صورت میں نکلا،جب ریاستی املاک، جی ایچ کیو اور شہداء کی یادگاروں پر حملہ کیا گیا۔ وہ واقعہ اس بات کا ثبوت تھا کہ احتجاج اور انتشار میں فرق ختم ہو چکا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ پر دباؤ ڈالنے کا مقصد دوبارہ اقتدار میں آنا ہے یا واقعی نظام کی تبدیلی، کیونکہ دونوں مقاصد کا راستہ الگ ہے۔
اس تمام پس منظر میں پی ٹی آئی کا حالیہ لانگ مارچ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ مارچ اصل میں 27 ستمبر 2026ء کو ہونا تھا لیکن حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش پر اسے 4 اکتوبر تک موخر کیا گیا۔ مذاکرات کے دو ادوار قومی اسمبلی اسپیکر ایاز صادق کے چیمبر میں ہوئے لیکن ناکام ہو گئے۔ حکومت کا موقف تھا کہ پہلے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا جائے پھر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا فیصلہ ہوگا، جبکہ پی ٹی آئی کا مطالبہ تھا کہ پہلے عمران خان سے ملاقات اور ان کے ذاتی معالج تک رسائی دی جائے۔ اس ڈیڈ لاک کے بعد خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے 4 اکتوبر کو لکی مروت کے گنڈی چوک سے مارچ کا آغاز کر دیا۔ ان کے مطابق یہ مارچ آئین و قانون کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کی بحالی اور بانی کی رہائی تک جاری رہے گا۔ شیڈول کے مطابق قافلہ 4 اکتوبر کو لکی مروت سے کرک، 5 اکتوبر کو کوہاٹ، 6 اکتوبر کو کوہاٹ سے متنی اور پشاور کے نواح، 7 اکتوبر کو پشاور سے چارسدہ اور 8 اکتوبر کو خیبر پختونخوا اور پنجاب کے سنگم خیرآباد پہنچے گا جہاں اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ سہیل آفریدی خود ہیلی کاپٹر پر جلسہ گاہوں میں پہنچ رہے ہیں اور کارکنان کو "ٹیسٹ میچ” کی طرح صبر سے کھیلنے کی تلقین کر رہے ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ پی ٹی آئی فوری تصادم کی بجائے "سلو برن” حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے۔
وفاقی حکومت نے اس مارچ کو روکنے کے لیے تاریخ کا سب سے بڑا سیکیورٹی آپریشن شروع کر رکھا ہے۔ دارالحکومت اسلام آباد کو عملاً "کنٹینرستان” میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2000ء سے زائد کنٹینرز، جن میں سے کئی میں خار دار تاریں اور کیلیں لگائی گئی ہیں، اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک اور پنجاب کے داخلی راستوں پر لگائے گئے ہیں۔ ڈی آئی خان-میانوالی سی پیک ہائی وے پر ریت سے بھرے کنٹینرز اور جگہ جگہ خندقیں کھودنے کی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں۔ دفعہ 144 دو ماہ کے لیے نافذ کر دی گئی ہے جس کے تحت پانچ سے زائد افراد کے جمع ہونے، جلوس اور ریلیوں پر پابندی ہے اور خلاف ورزی پر پبلک آرڈر ایکٹ کے تحت تین سال قید کی سزا مقرر ہے۔ اسلام آباد میں 22 ہزار پولیس اور پیرا ملٹری اہلکار، پنجاب اور سندھ سے 18 ہزار اضافی نفری، رینجرز اور فرنٹیئر کانسٹیبلری تعینات کی گئی ہے، تاہم حکومت نے فوج طلب نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت داخلہ نے سیف سٹی کیمروں کے تحفظ کے لیے خصوصی آرڈیننس بھی نافذ کیا ہے کیونکہ 2024ء کے احتجاج میں 441 کیمرے توڑے گئے تھے۔ اٹک پل پر خار دار رکاوٹیں لگائی گئی ہیں جو خیبر پختونخوا اور پنجاب کے درمیان مرکزی گزرگاہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق صرف کنٹینرز کے کرائے کی مد میں یومیہ ساڑھے چار کروڑ روپے سے زائد خرچ ہو رہا ہے اور سیکیورٹی اخراجات ایک ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے مشیر رانا ثناء اللہ نے واضح اعلان کیا ہے کہ کسی کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور معیشت کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ اگر مظاہرین نے قانون ہاتھ میں لیا تو طاقت کا استعمال کیا جائے گا۔اس ساری صورتحال پر جمہوری قوتوں اور دیگر سیاسی جماعتوں کا موقف منقسم ہے۔ حکومت اور اس کی اتحادی جماعتیں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی اس احتجاج کو معیشت دشمن اور انتشار کی سیاست قرار دے رہی ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اڑھائی سال کی محنت سے معیشت میں میکرو اکنامک استحکام آیا ہے، آئی ٹی برآمدات اور ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے، ایسے میں لانگ مارچ ملکی معیشت پر حملے کے مترادف ہے۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا کے اندر سے بھی اس مارچ کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ پشاور میں تاجروں، دکانداروں اور طلباء نے صوبائی اسمبلی کے باہر احتجاج کر کے کہا ہے کہ صوبہ پہلے ہی دہشت گردی، بے روزگاری اور مہنگائی کا شکار ہے، وزیر اعلیٰ کو احتجاج کی بجائے امن و امان اور روزگار پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ سڑکیں بند ہونے سے کاروبار تباہ ہو رہا ہے۔ پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ پرامن احتجاج ان کا آئینی حق ہے اور وہ آئین کی بالادستی کے لیے نکلے ہیں۔عوام کی توقعات اور خدشات دونوں انتہا پر ہیں۔ عام آدمی مہنگائی، بجلی کے بلوں اور روزگار کی فکر میں ہے، وہ مزید کنٹینرز، سڑکوں کی بندش اور انٹرنیٹ کی بندش سے تنگ ہے۔ عوام کا ایک بڑا طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے مسائل حل ہونے چاہئیں، محاذ آرائی سے ملک مزید عدم استحکام کا شکار ہوگا۔ دوسری طرف ایک طبقہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ احتجاج جمہوریت کا حسن ہے اور اگر اسے طاقت سے روکا گیا تو نفرتیں مزید بڑھیں گی۔ اصل خدشہ یہ ہے کہ اگر 8 اکتوبر کو خیرآباد کے مقام پر تصادم ہوا تو 2024ء کی طرح جانی نقصان کا اندیشہ ہے، جس کا متحمل نہ ریاست ہے نہ عوام۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں فریق ٹیسٹ میچ کی بجائے ٹیبل ٹاک کی طرف آئیں، کیونکہ پاکستان کو اس وقت لانگ مارچ نہیں بلکہ لانگ ٹرم معاشی اور سیاسی استحکام کی ضرورت ہے۔
آج کے حالات میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ، احتجاجی سیاست اور انتشار پھیلانے کا مقصد کیا ہے؟ کیا یہ صرف عمران خان کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی ہے یا واقعی نظام کی تبدیلی مقصود ہے؟حالات حاضرہ یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان اس وقت معاشی چیلنجز، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور سفارتی محاذ آرائی جیسے بڑے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے میں انتشار کی سیاست ملک کو مزید عدم استحکام کی طرف لے جا سکتی ہے۔جمہوریت میں احتجاج ہر جماعت کا آئینی حق ہے، لیکن وہ احتجاج آئین کے دائرے میں رہ کر پرامن ہونا چاہیے۔ اداروں پر حملہ، 9 مئی جیسے واقعات اور افواج کو بدنام کرنے کی مہم جمہوری حق نہیں بلکہ انتشار ہے۔ پی ٹی آئی کو سوچنا ہوگا کہ اسے اینٹی اسٹیبلشمنٹ کی سیاست کرنی ہے یا حقیقی جمہوری قوتوں کے ساتھ بیٹھ کر جمہوری نظام کو مضبوط کرنا ہے۔ نظام کی تبدیلی بندوق یا گالی سے نہیں، بلکہ پارلیمنٹ کے اندر رہ کر قانون سازی اور اصلاحات سے آتی ہے۔
اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔!! آمین ثم آمین


