
انعام کشمیری-پاکستان
لاہور: کشمیر سنٹر لاہور (جموں و کشمیر لبریشن سیل) کے زیرِ اہتمام ’’مقبوضہ جموں و کشمیر کے لیے ہماری آواز‘‘ کے عنوان سے منعقدہ خصوصی سیمینار کے مقررین نے مسئلہ جموں و کشمیر کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کے لیے سیاسی، سفارتی، قانونی، صحافتی اور عوامی سطح پر مربوط کوششوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت، ان کی خواہشات اور بنیادی حقوق سے متعلق معاملات کو دنیا کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے لاہور سے نومنتخب اراکین قانون ساز اسمبلی آزاد جموں و کشمیر ناصر حسین ڈار، حلقہ جموں، اور محمد عامر شاہ، حلقہ وادی، نے کشمیر سنٹر لاہور کی مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے جاری سرگرمیوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر سنٹر لاہور اس قومی اور انسانی مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے اور اس کی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ضروری وسائل کی فراہمی اور انتظامی مسائل کے حل پر توجہ دی جانی چاہیے۔
مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کشمیر سنٹر لاہور کو درپیش مسائل، بالخصوص اس کے پلاٹ پر دفتر اور عمارت کی تعمیر میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے متعلقہ حکومتی اداروں سے رابطے اور ضروری اقدامات کی کوشش کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت آزاد کشمیر، حکومت پاکستان اور حکومت پنجاب کے ذریعے فنڈز کے حصول کے لیے بھی کوششیں کی جائیں گی، تاکہ کشمیری کمیونٹی کو اپنی سماجی اور فلاحی سرگرمیوں کے لیے ایک مناسب کمیونٹی سنٹر میسر آسکے اور تحریکِ آزادی کشمیر کے حوالے سے بڑے پیمانے پر پروگراموں کا انعقاد ممکن بنایا جا سکے۔
مسئلہ کشمیر کو قومی اور عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی ضرورت
سیمینار کے مقررین نے کہا کہ مسئلہ جموں و کشمیر محض ایک سیاسی معاملہ نہیں بلکہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت، بنیادی حقوق اور ان کی سیاسی و سماجی خواہشات سے بھی وابستہ ہے۔ اس مسئلے کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ قومی سطح پر مختلف سیاسی جماعتیں، سفارتی حلقے، قانونی ماہرین، صحافی، دانشور اور سول سوسائٹی مشترکہ کوششیں کریں۔
مقررین کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حوالے سے قومی بیانیے کو مؤثر بنانے کے لیے مسلسل مکالمہ، مستند معلومات کی فراہمی، قانونی پہلوؤں کی وضاحت اور عالمی اداروں تک مؤثر رسائی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے ایسے پروگراموں کا انعقاد ضروری ہے جو مسئلہ کشمیر کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے ساتھ نئی نسل کو بھی اس کی تاریخی، سیاسی اور انسانی اہمیت سے آگاہ کریں۔
شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے حالات اور ان کے بنیادی حقوق سے متعلق معاملات کو قومی اور عالمی فورمز پر مسلسل اٹھایا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق مسئلے کے پُرامن حل کے لیے متعلقہ بین الاقوامی ذمہ داریوں، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
حقِ خودارادیت اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی اہمیت
مباحثے کے دوران مقررین نے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو مسئلہ کشمیر کا ایک اہم بین الاقوامی حوالہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلے کے حل کے لیے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اصولوں، متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کو اہمیت دی جانی چاہیے۔
مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ عالمی برادری اور متعلقہ بین الاقوامی اداروں تک مسئلہ کشمیر کے قانونی اور انسانی پہلوؤں کو مؤثر انداز میں پہنچانے کے لیے سفارتی اور صحافتی کوششوں میں تسلسل ضروری ہے۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر آگاہی بڑھانے کے لیے تحقیق، مکالمے، سیمینارز اور میڈیا کے ذریعے مربوط انداز میں کام کیا جانا چاہیے۔
شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے قومی اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والی گفتگو میں کشمیری عوام کے مؤقف اور ان کی خواہشات کو مرکزی اہمیت دی جائے، تاکہ مسئلے کے پُرامن اور منصفانہ حل کے لیے مؤثر ماحول پیدا کرنے میں مدد مل سکے۔
کشمیر سنٹر لاہور کی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے کا عزم
نومنتخب اراکین آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی ناصر حسین ڈار اور محمد عامر شاہ نے کشمیر سنٹر لاہور کی جانب سے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے منعقد کی جانے والی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے ادارے قومی اور بین الاقوامی سطح پر کشمیر کاز کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر سنٹر لاہور کو درپیش وسائل اور انتظامی مشکلات کے حل کے لیے متعلقہ حکومتی سطحوں پر رابطوں اور اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ادارے کو مطلوبہ وسائل فراہم کیے جائیں اور اس کی سرگرمیوں میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں تو وہ مزید بہتر انداز میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکتا ہے۔
مقررین نے بالخصوص کشمیر سنٹر لاہور کے پلاٹ پر دفتر کی عمارت کی تعمیر میں حائل رکاوٹوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو حل کرنے کے لیے کوششیں کی جائیں گی۔ اس مقصد کے لیے حکومت آزاد کشمیر، حکومت پاکستان اور حکومت پنجاب کے ذریعے مالی وسائل حاصل کرنے کے امکانات پر کام کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ عمارت کی تعمیر سے کشمیر سنٹر کو ایک مستقل جگہ میسر آسکے گی، جہاں کشمیری کمیونٹی کے لیے سماجی، فلاحی اور آگاہی سے متعلق سرگرمیاں منظم انداز میں انجام دی جا سکیں گی۔ اس کے علاوہ تحریکِ آزادی کشمیر کے حوالے سے بڑے سیمینارز، کانفرنسوں اور دیگر پروگراموں کے انعقاد میں بھی سہولت پیدا ہوگی۔
کشمیری کمیونٹی کے لیے کمیونٹی سنٹر کی ضرورت
سیمینار میں کشمیر سنٹر لاہور کی عمارت اور کمیونٹی سنٹر کی ضرورت کو بھی اہم موضوع کے طور پر اجاگر کیا گیا۔ مقررین کے مطابق کشمیری کمیونٹی کو ایک ایسا مرکز میسر ہونا چاہیے جہاں وہ اپنے سماجی اور فلاحی امور انجام دینے کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے آگاہی پروگرام بھی منعقد کر سکے۔
انہوں نے کہا کہ کمیونٹی سنٹر کی دستیابی سے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو ایک جگہ جمع ہونے، باہمی رابطوں کو مضبوط بنانے اور قومی و بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سرگرمیاں منظم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
شرکاء کے مطابق کسی بھی ادارے کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مناسب عمارت، مالی وسائل اور انتظامی سہولتیں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ اسی لیے کشمیر سنٹر لاہور کے مسائل کے حل اور اسے درکار وسائل کی فراہمی کے لیے متعلقہ اداروں کی توجہ ضروری ہے۔
سیاسی قیادت، میڈیا اور سول سوسائٹی کے مشترکہ کردار پر زور
سیمینار سے خطاب کرنے والے دیگر مقررین نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کے لیے آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت، پاکستان کے سیاسی حلقوں، میڈیا، دانشوروں، قانونی ماہرین اور سول سوسائٹی کو مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت کام کرنا چاہیے۔
ان کے مطابق مسئلہ کشمیر کے مختلف پہلوؤں کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لیے سیاسی اور سفارتی کوششوں کے ساتھ صحافت اور عوامی آگاہی کا کردار بھی اہم ہے۔ میڈیا اس حوالے سے مستند معلومات کی فراہمی، عالمی رائے عامہ تک مؤثر رسائی اور انسانی حقوق سے متعلق معاملات کو اجاگر کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
مقررین نے کہا کہ علمی اور فکری حلقوں کو بھی اس موضوع پر تحقیق، مکالمے اور تجزیے کو فروغ دینا چاہیے، تاکہ مسئلہ کشمیر سے متعلق معلومات کو منظم انداز میں پیش کیا جا سکے اور نئی نسل کو اس کی اہمیت سے آگاہ کیا جا سکے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سرگرمیاں محض مخصوص مواقع یا تقریبات تک محدود نہیں رہنی چاہئیں، بلکہ اس مقصد کے لیے مستقل اور مربوط کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔
سیمینار سے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کا خطاب
کشمیر سنٹر لاہور میں منعقدہ اس خصوصی سیمینار سے سابق رکن آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی مولانا شفیع جوش، سابق پارلیمانی سیکرٹری پنجاب اسمبلی ڈاکٹر فرازانہ نذیر، کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما انجینئر مشتاق محمود، کشمیر سنٹر لاہور کے انچارج انعام الحسن، سینئر قانون دان منظور حسین گیلانی ایڈووکیٹ اور پروفیسر اسماء حسن نے خطاب کیا۔
اس موقع پر مسلم لیگ (ن) لاہور ڈویژن آزاد کشمیر کے صدر راجہ شہزاد احمد، معراج دین شاہین، فاروق جرال، چوہدری صدیق، محاذِ رائے شماری کے رہنما آفتاب نازکی، مقبول اعوان، معروف ادیب نذر بھنڈر، امجد راٹھور، علامہ مشتاق قادری، معروف صحافی اقبال شاکر، شیخ امجد اور دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔
مقررین نے اپنے خطابات میں مسئلہ کشمیر کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے، کشمیری عوام کے بنیادی حقوق سے متعلق معاملات کو سامنے لانے اور اس حوالے سے مختلف طبقات کے درمیان تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
سیمینار میں شریک افراد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق اور ان کے حقِ خودارادیت سے متعلق معاملات کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل کے لیے سیاسی، سفارتی، قانونی اور عوامی سطح پر مسلسل کوششیں ناگزیر ہیں۔
شہدائے کشمیر کے لیے دعا کے ساتھ سیمینار اختتام پذیر
سیمینار کے اختتام پر شہدائے کشمیر کے درجات کی بلندی، مقبوضہ جموں و کشمیر کی جلد آزادی اور کشمیری عوام کی مشکلات کے خاتمے کے لیے خصوصی دعا کروائی گئی۔
شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے، کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے اور قومی و بین الاقوامی سطح پر مؤثر آواز بلند کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
کشمیر سنٹر لاہور کے زیرِ اہتمام منعقدہ یہ سیمینار اس امر کی یاد دہانی تھا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے مؤثر آگاہی، سیاسی و سفارتی رابطوں، قانونی نکات کی وضاحت اور صحافتی و عوامی سطح پر مسلسل کوششوں کی اہمیت برقرار ہے، جبکہ کشمیر سنٹر لاہور جیسے اداروں کی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے وسائل اور انتظامی مسائل کا حل بھی اہمیت رکھتا ہے۔



