مشرق وسطیٰ

پاکستان میں ملتان کے قریب رحمان بابا ایکسپریس حادثے کا شکار، 5 مسافر جاں بحق، 36 سے زائد زخمی؛ وزیراعظم شہباز شریف کا نوٹس، رپورٹ طلب

امدادی اہلکاروں نے متاثرہ بوگیوں میں پھنسے اور زخمی مسافروں کو نکالنے کے لیے کارروائیاں شروع کیں اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد نشتر ہسپتال ملتان منتقل کیا گیا۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

ملتان: کراچی سے پشاور جانے والی رحمان بابا ایکسپریس شیر شاہ ریلوے اسٹیشن کے قریب حادثے کا شکار ہو گئی، حادثے کے نتیجے میں پانچ مسافر جاں بحق جبکہ 36 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ ریسکیو ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے زخمیوں کو نشتر ہسپتال ملتان منتقل کر دیا، جبکہ جائے حادثہ پر امدادی سرگرمیاں اور ریلوے ٹریک کو بحال کرنے کا آپریشن جاری ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو زخمیوں کی بہترین طبی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کراچی سے پشاور جانے والی مسافر ٹرین رحمان بابا ایکسپریس منگل کی صبح ملتان کے قریب شیر شاہ ریلوے اسٹیشن کے علاقے میں حادثے کا شکار ہو گئی۔ ریسکیو 1122 کے مطابق حادثہ صبح تقریباً چار بجے پیش آیا، جب ٹرین کی بعض بوگیاں چلتی ٹرین سے پٹری سے اتر گئیں۔ حادثے کے نتیجے میں متعدد مسافر زخمی ہوئے، جبکہ پانچ افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔

حادثے کے فوری بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور ٹرین میں سوار مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122، متعلقہ ریلوے حکام اور دیگر امدادی ٹیمیں جائے حادثہ کی جانب روانہ کر دی گئیں۔ امدادی اہلکاروں نے متاثرہ بوگیوں میں پھنسے اور زخمی مسافروں کو نکالنے کے لیے کارروائیاں شروع کیں اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد نشتر ہسپتال ملتان منتقل کیا گیا۔

ریسکیو حکام کے مطابق حادثے میں 36 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، جنہیں طبی امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ زخمیوں کی تعداد اور ان کی حالت سے متعلق مزید تفصیلات متعلقہ حکام کی جانب سے سامنے آنے کی توقع ہے۔ حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے باعث متاثرہ خاندانوں اور مسافروں میں تشویش کی فضا پائی جاتی ہے۔

ریلوے آپریشن معطل، ٹریک کی بحالی کے لیے امدادی کارروائیاں جاری

ریلوے حکام کے مطابق حادثے کے بعد متاثرہ ریلوے ٹریک پر ٹرینوں کی آمدورفت معطل کر دی گئی ہے، جبکہ ٹریک کو کلیئر کرنے اور پٹری سے اترنے والی بوگیوں سے متعلق امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ حکام نے جائے حادثہ پر متعلقہ عملے کو فوری طور پر پہنچنے اور صورتحال کا جائزہ لینے کی ہدایات جاری کیں۔

حادثے کے باعث ریلوے نظام الاوقات بھی متاثر ہوا ہے اور تھل ایکسپریس کی روانگی روک دی گئی ہے۔ ریلوے حکام کے مطابق متاثرہ ٹریک کو محفوظ بنانے اور اسے دوبارہ ٹرینوں کی آمدورفت کے قابل بنانے کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔ ٹریک کی کلیئرنس اور ضروری تکنیکی اقدامات مکمل ہونے کے بعد ریلوے آپریشن بحال کرنے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے حادثات کے بعد سب سے اہم ترجیح متاثرہ مسافروں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنا، زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنا اور ریلوے ٹریک کو محفوظ بنانا ہوتی ہے۔ اسی سلسلے میں متعلقہ ادارے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کی جائیں گی

ریلوے حکام کے مطابق ابتدائی طور پر حادثے کے مقام پر امدادی سرگرمیوں اور ٹریک کی بحالی پر توجہ دی جا رہی ہے۔ ٹریک کلیئر ہونے اور جائے حادثہ کی صورت حال کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد حادثے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے تحقیقات شروع کی جائیں گی۔

تحقیقات میں یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ ٹرین کی بوگیاں پٹری سے کیوں اتریں اور آیا حادثے کے پیچھے تکنیکی خرابی، ٹریک کی حالت، سگنلنگ نظام یا کوئی اور وجہ کارفرما تھی۔ تاہم، حادثے کی اصل وجہ کے بارے میں حتمی رائے متعلقہ حکام کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی قائم کی جا سکے گی۔

حادثے کی تحقیقات اس لیے بھی اہم ہیں کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کیے جا سکیں اور ریلوے نظام میں موجود ممکنہ خامیوں کی نشاندہی کی جا سکے۔ متعلقہ حکام کی جانب سے واقعے کی مکمل تفصیلات سامنے آنے کے بعد مزید معلومات جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا حادثے کا نوٹس، رپورٹ طلب

وزیراعظم شہباز شریف نے رحمان بابا ایکسپریس کے حادثے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیراعظم نے حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ حادثے میں زخمی ہونے والے تمام افراد کو فوری اور بہترین طبی سہولتیں فراہم کی جائیں اور ان کے علاج معالجے میں کسی قسم کی غفلت نہ برتی جائے۔ انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ زخمیوں کی دیکھ بھال اور امدادی کارروائیوں کو مؤثر انداز میں جاری رکھا جائے تاکہ متاثرہ افراد کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جا سکے۔

وزیراعظم کی جانب سے رپورٹ طلب کیے جانے کے بعد متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ حادثے کی صورت حال، امدادی کارروائیوں اور ابتدائی معلومات سے آگاہ کریں۔ حادثے کی وجوہات سامنے آنے کے بعد ریلوے نظام میں حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے حوالے سے بھی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا اظہار افسوس، زخمیوں کے علاج کی ہدایت

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بھی رحمان بابا ایکسپریس کے حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعلیٰ نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں اور دعاؤں کا اظہار کیا۔

بیان کے مطابق مریم نواز شریف کی ہدایت پر متعلقہ انتظامی افسران، جن میں کمشنر ملتان عامر کریم اور دیگر افسران شامل ہیں، جائے حادثہ پر پہنچے تاکہ صورت حال کا جائزہ لیا جا سکے اور امدادی سرگرمیوں میں متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ قائم رکھا جا سکے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حادثے میں زخمی ہونے والے افراد کے علاج معالجے میں کوئی کمی نہ آنے دی جائے اور انہیں بہترین طبی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ ایسے افسوس ناک واقعات میں متاثرین کو فوری مدد فراہم کرنا اور زخمیوں کی مناسب دیکھ بھال یقینی بنانا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

متاثرہ مسافروں کی مدد اور ریلوے سروس کی بحالی اہم چیلنج

رحمان بابا ایکسپریس کا حادثہ ایک بار پھر ریلوے کے محفوظ سفر، ٹریک کی دیکھ بھال اور حفاظتی انتظامات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ ٹرین کے ذریعے روزانہ ہزاروں مسافر ملک کے مختلف شہروں کے درمیان سفر کرتے ہیں، اس لیے ریلوے ٹریک، بوگیوں، سگنلنگ نظام اور دیگر تکنیکی آلات کی باقاعدہ جانچ پڑتال مسافروں کی حفاظت کے لیے نہایت ضروری ہے۔

حادثے کے بعد فوری امدادی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ زخمیوں کے علاج، جاں بحق افراد کے اہل خانہ کی معاونت اور متاثرہ مسافروں کو درپیش مشکلات کے ازالے پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ دوسری جانب ٹریک کی بحالی اور ریلوے آپریشن کی محفوظ بحالی کے لیے تکنیکی جانچ پڑتال اہم ہوگی۔

واقعے کے بعد اب متعلقہ حکام کی توجہ امدادی کارروائیوں کی تکمیل، ریلوے ٹریک کی بحالی اور حادثے کی وجوہات کی تحقیقات پر مرکوز ہے۔ تحقیقات کے نتائج سامنے آنے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ حادثہ کن عوامل کے باعث پیش آیا اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کن اقدامات کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ حادثے کی اصل وجہ تاحال تحقیقات سے مشروط ہے۔ حکام کی جانب سے مزید تفصیلات سامنے آنے کے بعد جاں بحق اور زخمی مسافروں کی تعداد، حادثے کے محرکات اور ریلوے سروس کی بحالی سے متعلق صورت حال مزید واضح ہو سکے گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button