
پسنی میں اے این ایف کا بڑا آپریشن، 72 کلوگرام آئس برآمد؛ سمندری راستے سے بیرونِ ملک اسمگلنگ کی کوشش ناکام
مبینہ اسمگلنگ میں استعمال ہونے والی تین انجنوں کی حامل اسپیڈ بوٹ اور ٹویوٹا پک اَپ بھی قبضے میں لے لی گئی
قیصر مغل-ادارت
پسنی:اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے بلوچستان کے ساحلی علاقے پسنی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 72 کلوگرام آئس (میتھ ایمفیٹامین) برآمد کر لی ہے۔ حکام کے مطابق برآمد ہونے والی منشیات کی مالیت تقریباً 2 کروڑ روپے ہے۔ منشیات کو سمندری راستے کے ذریعے بیرونِ ملک اسمگل کرنے کے لیے ایک غیرآباد علاقے میں زمین کے اندر بنائے گئے گڑھوں میں چھپایا گیا تھا۔ کارروائی کے دوران مبینہ اسمگلنگ میں استعمال ہونے والی تین انجنوں کی حامل ایک اسپیڈ بوٹ اور ایک ٹویوٹا پک اَپ بھی قبضے میں لے لی گئی ہے۔
اے این ایف کی اس کارروائی کو مکران کے ساحلی علاقے میں منشیات کی بین الاقوامی اسمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق اسمگلروں نے منشیات کو پسنی کے ساحل سے اسپیڈ بوٹ کے ذریعے بین الاقوامی پانیوں کی طرف منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم بروقت کارروائی کے باعث ان کی مبینہ کوشش ناکام بنا دی گئی۔
انٹیلی جنس معلومات پر کارروائی، زمین میں چھپائی گئی منشیات برآمد
تفصیلات کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس کو منشیات کی ممکنہ اسمگلنگ سے متعلق خفیہ معلومات موصول ہوئی تھیں، جن کی بنیاد پر مکران کے ساحلی علاقے پسنی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا۔ کارروائی کے دوران اے این ایف کے اہلکاروں نے ایک غیرآباد مقام کی تلاشی لی، جہاں زمین کے اندر گڑھے بنا کر منشیات چھپائی گئی تھی۔
تلاشی کے نتیجے میں مجموعی طور پر 72 کلوگرام آئس برآمد ہوئی، جسے مبینہ طور پر سمندری راستے سے بیرونِ ملک منتقل کرنے کے لیے محفوظ مقام پر چھپایا گیا تھا۔ حکام کے مطابق برآمد شدہ منشیات کی تخمینی مالیت تقریباً 2 کروڑ روپے ہے۔
منشیات کو اس انداز میں چھپانے کا مقصد بظاہر اسے فوری طور پر منظرِ عام پر آنے سے محفوظ رکھنا اور مناسب وقت پر ساحل تک منتقل کرنا تھا۔ تاہم، اس حوالے سے حتمی تفصیلات تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آ سکیں گی۔
تین انجنوں والی اسپیڈ بوٹ اور ٹویوٹا پک اَپ بھی قبضے میں
اے این ایف نے کارروائی کے دوران منشیات کی مبینہ نقل و حمل اور اسمگلنگ کے منصوبے سے منسلک ایک اسپیڈ بوٹ بھی قبضے میں لے لی، جس پر تین انجن نصب تھے۔ اس کے علاوہ ایک ٹویوٹا پک اَپ گاڑی بھی تحویل میں لی گئی ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق سمگلروں نے اسپیڈ بوٹ کے ذریعے منشیات کو پسنی کے ساحل سے بین الاقوامی پانیوں کی جانب منتقل کرنا تھا۔ اس مقصد کے لیے ساحلی علاقے میں منشیات چھپانے اور اسے مناسب وقت پر سمندری راستے سے روانہ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔
اسپیڈ بوٹ اور پک اَپ کی تحویل میں لیے جانے سے تفتیشی حکام کو مبینہ اسمگلنگ کے طریقۂ کار، نقل و حمل کے ذرائع اور اس نیٹ ورک سے منسلک دیگر افراد کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ حکام اب قبضے میں لیے گئے سامان اور گاڑی سے متعلق شواہد کی جانچ پڑتال کے ذریعے معاملے کی مزید تہہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
افغانستان سے منشیات لائے جانے کا ابتدائی انکشاف
ابتدائی تحقیقات کے مطابق برآمد ہونے والی منشیات افغانستان سے اسمگل کی گئی تھی اور اسے بلوچستان کے ساحلی علاقے پسنی کے ذریعے بیرونِ ملک منتقل کرنے کا مبینہ منصوبہ بنایا گیا تھا۔
تحقیقات کے اس ابتدائی پہلو سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسمگلروں نے زمینی اور سمندری راستوں کو استعمال کرتے ہوئے منشیات کی نقل و حمل کی کوشش کی۔ تاہم، منشیات کے اصل ماخذ، اسے پسنی تک پہنچانے والے افراد، مقامی سہولت کاروں اور بین الاقوامی سطح پر اس کے ممکنہ خریداروں یا وصول کنندگان سے متعلق تفصیلات ابھی تفتیش کا حصہ ہیں۔
حکام کے مطابق بروقت انٹیلی جنس معلومات اور کارروائی کے نتیجے میں منشیات کی سمندری راستے سے مبینہ ترسیل کو روک دیا گیا۔ اس کارروائی کے بعد متعلقہ نیٹ ورک سے منسلک افراد کی شناخت اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔
اسمگلنگ نیٹ ورک کے خلاف گھیرا تنگ، گرفتاریوں کے لیے کارروائیاں جاری
اینٹی نارکوٹکس فورس نے برآمد ہونے والی منشیات کو قبضے میں لے کر واقعے سے متعلق تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ممکنہ عناصر، سہولت کاروں اور دیگر متعلقہ افراد کی شناخت کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
تفتیشی ٹیمیں اس بات کا پتا لگانے کی کوشش کریں گی کہ منشیات کس ذریعے سے پسنی پہنچی، اسے زمین کے اندر کن افراد نے چھپایا، اسپیڈ بوٹ اور پک اَپ کس کی ملکیت ہیں اور بیرونِ ملک ترسیل کے منصوبے میں مزید کون سے افراد یا گروہ ملوث ہو سکتے ہیں۔
اس نوعیت کے معاملات میں اسمگلنگ کے پورے نیٹ ورک کی نشاندہی اہم ہوتی ہے، کیونکہ صرف منشیات کی برآمدگی سے کارروائی مکمل نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے موجود مالی معاونت، ترسیل کے ذرائع، مقامی سہولت کاری اور بین الاقوامی روابط کا سراغ لگانا بھی ضروری ہوتا ہے۔
تاحال کسی ملزم کی گرفتاری سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، تاہم حکام کے مطابق نیٹ ورک اور سہولت کاروں کے خلاف گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے اور گرفتاریوں کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
آئس منشیات کے خلاف کارروائیاں کیوں اہم ہیں؟
آئس، جسے میتھ ایمفیٹامین بھی کہا جاتا ہے، ایک طاقتور محرک نشہ آور مادہ ہے جو انسانی دماغ اور اعصابی نظام پر شدید اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ اس کے استعمال سے بے خوابی، بے چینی، دل کی دھڑکن میں تیزی، نفسیاتی مسائل، انحصار اور دیگر سنگین طبی پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔
منشیات کی غیرقانونی تجارت نہ صرف افراد اور خاندانوں کو متاثر کرتی ہے بلکہ معاشرتی سلامتی، نوجوان نسل کے مستقبل اور صحت عامہ کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ اسی لیے منشیات کی تیاری، ترسیل اور بین الاقوامی اسمگلنگ میں ملوث نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں انسدادِ منشیات کی پالیسی کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہیں۔
پسنی میں 72 کلوگرام آئس کی برآمدگی اس تناظر میں اہم ہے کہ اگر یہ منشیات اسمگلروں کے منصوبے کے مطابق آگے منتقل ہو جاتی تو اسے غیرقانونی منڈیوں تک پہنچانے کی کوشش کی جا سکتی تھی۔ تاہم، اس کے ممکنہ خریداروں، منزل یا حتمی استعمال سے متعلق کوئی مصدقہ تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔
پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع اور سمندری اسمگلنگ کا چیلنج
پاکستان کا محلِ وقوع اسے جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور بحیرۂ عرب کے خطے میں ایک اہم جغرافیائی حیثیت دیتا ہے۔ بلوچستان کا وسیع ساحلی علاقہ اور بحیرۂ عرب تک رسائی تجارت اور علاقائی روابط کے لیے اہم ہیں، تاہم انہی راستوں کو بعض غیرقانونی عناصر منشیات کی نقل و حمل کے لیے استعمال کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔
حکام کے مطابق پاکستان کی سرزمین اور سمندری راستوں کو دیگر ممالک تک منشیات پہنچانے کے لیے بطور راہداری استعمال کرنے کی کوششیں ایک مسلسل چیلنج ہیں۔ ایسے حالات میں ساحلی علاقوں کی نگرانی، انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ، متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کاری اور مشتبہ نقل و حرکت پر نظر رکھنا انسدادِ منشیات کی کارروائیوں میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
پسنی میں ہونے والا حالیہ آپریشن بھی اسی سلسلے کی ایک کارروائی ہے، جس میں منشیات کی مبینہ ترسیل کے لیے استعمال ہونے والے ذرائع کو قبضے میں لے کر اسمگلنگ کی کوشش کو ناکام بنایا گیا۔
منشیات سے پاک پاکستان کے لیے کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم
اینٹی نارکوٹکس فورس ملک بھر میں منشیات کی اسمگلنگ اور غیرقانونی تجارت کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کارروائیوں کا مقصد منشیات کی سپلائی چین کو متاثر کرنا، اسمگلنگ نیٹ ورکس کی نشاندہی کرنا، متعلقہ افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانا اور معاشرے کو منشیات کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنے کی کوششوں کو مؤثر بنانا ہے۔
پسنی میں 72 کلوگرام آئس کی برآمدگی، اسپیڈ بوٹ اور ٹویوٹا پک اَپ کی ضبطی کے بعد اب اس کارروائی کا اہم مرحلہ مبینہ اسمگلنگ نیٹ ورک کے دیگر کرداروں تک پہنچنا ہے۔ اگر تحقیقات کے ذریعے مقامی اور بین الاقوامی روابط کی نشاندہی ہوتی ہے تو اس سے مستقبل میں ایسے راستوں کے ذریعے منشیات کی ترسیل روکنے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
اینٹی نارکوٹکس فورس کے مطابق منشیات کے خلاف کارروائیاں پوری قوت اور عزم کے ساتھ جاری رہیں گی تاکہ منشیات کی غیرقانونی تجارت کی حوصلہ شکنی کی جا سکے اور ’’منشیات سے پاک پاکستان‘‘ کے ہدف کے حصول کے لیے عملی اقدامات کو آگے بڑھایا جا سکے۔



