پاکستاناہم خبریں

صدر آصف علی زرداری کا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت علاقائی امن و استحکام کے عزم کا اعادہ

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دفاعی تعاون اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے مطابق علاقائی استحکام کو مضبوط بنائے گا

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

صدر مملکت آصف علی زرداری نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت علاقائی امن و استحکام کے فروغ، دفاعی تعاون میں اضافے اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پانے والا مکہ دفاعی معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے، یہ کسی ملک کے خلاف نہیں اور نہ ہی اس کا مقصد کسی نئے عالمی یا علاقائی بلاک کی تشکیل ہے۔

صدر مملکت نے یہ بات منگل کو ایوانِ صدر اسلام آباد میں مکہ دفاعی معاہدے کے پہلے سیکرٹری جنرل لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود سے ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات میں وزیر داخلہ محسن نقوی بھی موجود تھے۔ ایوانِ صدر کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان کے مطابق، صدر زرداری نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے مطابق دفاعی تعاون کے ذریعے خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔

صدر مملکت نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان تنازعات کے پرامن حل، باہمی احترام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی حالات میں سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دفاعی تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی مکالمے، کثیرالجہتی روابط اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا بھی ضروری ہے۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دفاعی و تزویراتی تعاون کو ایک منظم ادارہ جاتی فریم ورک کے تحت آگے بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے درمیان رابطوں، دفاعی مشاورت اور مشترکہ سکیورٹی ترجیحات پر تعاون کو مربوط بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مکہ دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں، صدر زرداری

صدر آصف علی زرداری نے ملاقات کے دوران مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی نوعیت واضح کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتظام مکمل طور پر دفاعی مقاصد کے لیے ہے اور اسے کسی دوسرے ملک کے خلاف اقدام کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

صدر کے مطابق، اس معاہدے کا مقصد خطے میں امن و استحکام کو مضبوط بنانا، دفاعی تعاون کو منظم کرنا اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تینوں ممالک کے درمیان روابط کو مؤثر بنانا ہے۔ انہوں نے اس تاثر کی بھی نفی کی کہ یہ معاہدہ کسی نئے علاقائی یا عالمی بلاک کی تشکیل کا پیش خیمہ ہے۔

صدر مملکت کا یہ مؤقف اس اعتبار سے اہم ہے کہ خطے میں سکیورٹی کے بدلتے ہوئے حالات، علاقائی تنازعات اور بڑی طاقتوں کے درمیان مسابقت کے تناظر میں دفاعی معاہدوں کی نوعیت اور مقاصد کو خصوصی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ پاکستان کی جانب سے معاہدے کو دفاعی اور غیر جارحانہ قرار دینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسلام آباد اپنے دفاعی تعلقات کو علاقائی استحکام اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ رکھنے کا خواہاں ہے۔

پاکستان کے لیے سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ دفاعی تعاون تاریخی، سیاسی اور تزویراتی اہمیت رکھتا ہے۔ تینوں ممالک کے درمیان اس نوعیت کے تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے سے دفاعی رابطوں، پالیسی مشاورت اور مشترکہ ترجیحات پر تبادلہ خیال کے لیے ایک مستقل فریم ورک قائم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

تاہم، معاہدے کے عملی اثرات کا انحصار اس کے طے شدہ ضوابط، ادارہ جاتی طریقہ کار اور متعلقہ ممالک کے فیصلوں پر ہوگا۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان 7 اگست کو معاہدے پر دستخط

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے 7 اگست 2026 کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کرکے اپنے دیرینہ تزویراتی تعلقات کو ایک سہ فریقی دفاعی فریم ورک کے تحت منظم کرنے کی جانب اہم قدم اٹھایا۔

اس معاہدے کو تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، مشترکہ ڈیٹرنس کی صلاحیت اور علاقائی استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم انتظام کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس کے حامیوں کے مطابق، اس نوعیت کا فریم ورک دفاعی رابطوں کو مربوط بنانے اور مشترکہ سکیورٹی چیلنجز کے حوالے سے مشاورت کے مواقع بڑھانے میں معاون ہو سکتا ہے۔

معاہدے کے ذریعے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان موجود دفاعی اور تزویراتی روابط کو مزید منظم بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ تینوں ممالک کے درمیان سیاسی مشاورت، دفاعی تربیت اور عسکری تعاون کے مختلف شعبوں میں روابط پہلے سے موجود رہے ہیں، جبکہ نئے فریم ورک کا مقصد ان تعلقات کو ایک واضح ادارہ جاتی نظام کے تحت آگے بڑھانا ہے۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف یہ ہے کہ علاقائی امن کا تحفظ صرف عسکری صلاحیتوں میں اضافے سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے سیاسی مکالمے، سفارتی روابط، تنازعات کے پرامن حل اور بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری بھی ضروری ہے۔

صدر زرداری نے اسی تناظر میں اس بات پر زور دیا کہ معاہدہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے مطابق علاقائی امن و استحکام کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کرے گا۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود مکہ دفاعی معاہدے کے پہلے سیکرٹری جنرل مقرر

حکومت پاکستان نے 23 ستمبر 2026 کو لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا پہلا سیکرٹری جنرل مقرر کیا تھا۔ یہ تقرری معاہدے پر دستخط کے بعد اس کے ادارہ جاتی ڈھانچے کی تشکیل کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دی گئی۔

سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے نعمان محمود کی ذمہ داریوں میں معاہدے کے تحت قائم ہونے والے جنرل سیکرٹریٹ کی قیادت اور طے شدہ فیصلوں پر عمل درآمد کی نگرانی شامل ہے۔ اس تقرری کے ذریعے پاکستان کو معاہدے کے ابتدائی مرحلے میں ادارہ جاتی رابطوں اور انتظامی امور میں اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، ان کی تقرری مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت اسٹریٹجک، سیاسی و دفاعی کمیٹی کے افتتاحی اجلاس میں طے پانے والے انتظامات سے متعلق تھی۔ یہ اجلاس 31 اگست 2026 کو استنبول میں منعقد ہوا، جس میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور عسکری قیادت نے شرکت کی۔

اس اجلاس کا مقصد معاہدے کے تحت تعاون کو آگے بڑھانے، ادارہ جاتی ڈھانچے کو فعال بنانے اور دفاعی و سیاسی رابطوں کے لیے منظم طریقہ کار پر پیش رفت کرنا تھا۔

مکہ دفاعی معاہدے کے جنرل سیکرٹریٹ کے سعودی دارالحکومت ریاض میں قائم ہونے کے انتظام کا ذکر بھی سامنے آیا ہے۔ اس سیکرٹریٹ کا بنیادی کام متعلقہ فیصلوں کے نفاذ کی نگرانی اور معاہدے کے تحت ادارہ جاتی رابطوں کو مربوط بنانا ہے۔

ادارہ جاتی ڈھانچے کی تشکیل اور آئندہ کا کردار

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے پہلے سیکرٹری جنرل کی تقرری کو اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ تینوں ممالک معاہدے کو محض ایک سیاسی اعلان تک محدود رکھنے کے بجائے اس کے لیے مستقل ادارہ جاتی ڈھانچہ تشکیل دینے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

کسی بھی سہ فریقی دفاعی فریم ورک کی کامیابی کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ اس کے مقاصد، فیصلہ سازی کے طریقہ کار، رکن ممالک کے کردار اور مشترکہ اقدامات کی حدود واضح ہوں۔ اسی طرح دفاعی مشاورت، اطلاعات کے تبادلے، مشترکہ تربیتی سرگرمیوں اور علاقائی سکیورٹی کے معاملات پر تعاون کے لیے بھی ایک منظم نظام درکار ہوتا ہے۔

جنرل سیکرٹریٹ کا قیام ان امور کو مربوط کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے ذریعے تینوں ممالک کے متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے برقرار رکھنے، اجلاسوں کے فیصلوں پر عمل درآمد کا جائزہ لینے اور طے شدہ ترجیحات کو آگے بڑھانے کے لیے انتظامی بنیاد فراہم کی جا سکتی ہے۔

تاہم، اس ادارے کے اختیارات، عملی ذمہ داریوں اور معاہدے کے تحت طے شدہ طریقہ کار کی مکمل تفصیلات کو حتمی طور پر سمجھنے کے لیے متعلقہ سرکاری دستاویزات اور باضابطہ اعلامیوں کی اہمیت برقرار رہے گی۔

لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کا عسکری کیریئر

لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود پاکستان آرمی کے سابق سینئر افسر ہیں، جنہوں نے اپنے عسکری کیریئر کے دوران کمانڈ، انٹیلی جنس، عسکری تعلیم اور تزویراتی امور سے متعلق مختلف اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں۔

ان کا تعلق بلوچ رجمنٹ سے ہے اور وہ 11 ستمبر 1987 کو پاکستان آرمی میں کمیشنڈ ہوئے۔ اپنے طویل عسکری کیریئر کے دوران انہوں نے مختلف کمانڈ اور تدریسی ذمہ داریاں ادا کیں، جن میں انفنٹری فارمیشنز اور کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج سے وابستہ عہدے شامل ہیں۔

بطور میجر جنرل، انہوں نے شمالی وزیرستان میں انفنٹری ڈویژن کی کمان سنبھالی۔ یہ علاقہ پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں اور سرحدی سلامتی کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے، جہاں عسکری قیادت کو مختلف سکیورٹی چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔

ان کے عسکری تجربے میں انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) میں خدمات بھی شامل ہیں۔ وہ ادارے کے شعبۂ تجزیہ کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں، جہاں علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت کا تجزیہ کرنا اہم ذمہ داریوں میں شامل تھا۔

ان تجربات نے انہیں عسکری آپریشنز، سکیورٹی امور اور علاقائی حالات کے تجزیے سے متعلق عملی اور ادارہ جاتی تجربہ فراہم کیا۔

جی ایچ کیو اور پشاور کور میں اہم ذمہ داریاں

لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کو اپریل 2019 میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی۔ بعد ازاں اسی سال دسمبر میں انہیں الیون کور، جسے عام طور پر پشاور کور کہا جاتا ہے، کا کمانڈر مقرر کیا گیا۔

انہوں نے نومبر 2021 تک اس کور کی کمان سنبھالی۔ ان کا دور ایسے وقت پر محیط تھا جب افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد وہاں سیاسی اور سکیورٹی صورتِ حال میں بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں۔ افغانستان میں اقتدار کی تبدیلی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی علاقائی صورتِ حال نے پاکستان کی سرحدی سلامتی اور علاقائی پالیسی کو بھی متاثر کیا۔

اس سے قبل انہوں نے جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں انسپکٹر جنرل کمیونیکیشنز اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اس عہدے میں عسکری مواصلاتی نظام اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی سے متعلق امور اہمیت رکھتے ہیں۔

ان کی مختلف ذمہ داریوں میں آپریشنل کمانڈ کے ساتھ ساتھ عسکری اداروں کے انتظامی، تکنیکی اور پیشہ ورانہ شعبوں کا تجربہ بھی شامل رہا۔

نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے صدر کی حیثیت سے خدمات

پشاور کور کی کمان کے بعد لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کو نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (این ڈی یو)، اسلام آباد کا صدر مقرر کیا گیا۔ وہ اس ادارے کے 35ویں صدر بنے اور اپریل 2023 تک اس عہدے پر خدمات انجام دیتے رہے، جس کے بعد وہ فوج سے ریٹائر ہو گئے۔

نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی پاکستان کا ایک اہم اعلیٰ سطحی ادارہ ہے، جہاں قومی سلامتی، دفاعی پالیسی، تزویراتی امور اور قیادت سے متعلق تعلیم و تحقیق پر توجہ دی جاتی ہے۔ اس ادارے میں خدمات انجام دینے سے ان کے پیشہ ورانہ تجربے میں عسکری تعلیم، پالیسی مباحث اور قومی سلامتی سے متعلق علمی و ادارہ جاتی پہلو بھی شامل ہوئے۔

انہوں نے پاکستان اور بیرونِ ملک پیشہ ورانہ عسکری کورسز میں شرکت کی، جن میں مصر کے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کا کورس بھی شامل ہے۔ وہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے گریجویٹ بھی ہیں۔

ان کے کیریئر میں عسکری آپریشنز، انٹیلی جنس، کمانڈ اور اعلیٰ سطحی عسکری تعلیم کا امتزاج پایا جاتا ہے، جسے مکہ دفاعی معاہدے کے سیکرٹری جنرل کے طور پر ان کی ذمہ داریوں کے تناظر میں اہم سمجھا جا سکتا ہے۔

دفاعی تعاون، علاقائی امن اور سفارت کاری

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے کو مختلف سیاسی، دفاعی اور سکیورٹی چیلنجز درپیش ہیں۔ اس تناظر میں تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو منظم کرنے کی کوشش علاقائی رابطوں اور مشترکہ مشاورت کے لیے ایک نیا ادارہ جاتی راستہ فراہم کر سکتی ہے۔

پاکستان کے لیے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات مذہبی، معاشی، سیاسی اور دفاعی پہلوؤں سے اہم ہیں، جبکہ ترکی کے ساتھ بھی دفاعی تعاون، سفارتی روابط اور مختلف شعبوں میں شراکت داری موجود ہے۔ ان تعلقات کو سہ فریقی فریم ورک میں آگے بڑھانے سے دفاعی مشاورت اور مشترکہ ترجیحات پر تبادلہ خیال کے مواقع بڑھ سکتے ہیں۔

تاہم، علاقائی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ دفاعی تعاون کے ساتھ سفارتی رابطوں اور سیاسی مکالمے کو بھی اہمیت دی جائے۔ صدر زرداری نے اپنے بیان میں تنازعات کے پرامن حل اور کثیرالجہتی تعاون کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اسی اصول کو نمایاں کیا۔

معاہدے کی عملی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ تینوں ممالک اپنے طے شدہ مقاصد کو کس طرح نافذ کرتے ہیں، ادارہ جاتی روابط کو کس حد تک مؤثر بناتے ہیں اور علاقائی مسائل کے حل کے لیے بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے مطابق کس طرح آگے بڑھتے ہیں۔

پاکستان کا مؤقف: دفاعی شراکت داری کے ساتھ امن کا فروغ

صدر آصف علی زرداری اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے پہلے سیکرٹری جنرل لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود کے درمیان ملاقات نے معاہدے کے مقاصد اور پاکستان کے علاقائی مؤقف کو دوبارہ اجاگر کیا ہے۔

صدر مملکت کے مطابق، معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ دفاعی تعاون کے ذریعے امن و استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے ہے۔ پاکستان تنازعات کے پرامن حل، بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور علاقائی و کثیرالجہتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔

معاہدے کے تحت پہلے سیکرٹری جنرل کی تقرری اور جنرل سیکرٹریٹ کے ادارہ جاتی کردار کی تشکیل اس فریم ورک کو عملی شکل دینے کے لیے اہم پیش رفت ہے۔ آئندہ مرحلے میں تینوں ممالک کے درمیان دفاعی مشاورت، فیصلوں پر عمل درآمد اور مشترکہ ترجیحات کے تعین کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت پر توجہ مرکوز رہے گی۔

مجموعی طور پر، پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مابین مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ تینوں ممالک کے دفاعی تعلقات کو منظم بنانے کی ایک کوشش ہے۔ صدر زرداری کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان اس شراکت داری کو دفاعی مقاصد، علاقائی امن اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے تناظر میں آگے بڑھانے کا خواہاں ہے۔ تاہم، اس کے حقیقی علاقائی اثرات کا تعین معاہدے کے عملی نفاذ اور مستقبل میں تینوں ممالک کے اقدامات سے ہوگا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button