مشرق وسطیٰتازہ ترین

فلسطین کے مستقبل کا فیصلہ فلسطینی عوام کا حق ہے، ایران کو مداخلت کا اختیار نہیں: سابق ایرانی صدر محمد خاتمی

تہران کی فلسطین پالیسی پر خاتمی کی تنقید، ایرانی عوام کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑی، آزادی کی جدوجہد کرنے والوں کی اخلاقی حمایت ممکن مگر ان کی جگہ فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، سابق صدر کا مؤقف

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

تہران (وائس آف جرمنی اردو نیوز) ایران کے سابق صدر اور اصلاح پسند سیاسی دھارے کی نمایاں شخصیت محمد خاتمی نے فلسطین کے معاملے میں ایران کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ فلسطینی عوام کی جگہ لے کر ان کے مستقبل کا فیصلہ کرے یا ان کے لیے کسی مخصوص سیاسی راستے کا تعین کرے۔ ان کے مطابق فلسطینی عوام کو اپنے مستقبل، سیاسی ترجیحات اور قومی جدوجہد کی سمت منتخب کرنے کا مکمل حق حاصل ہے، جبکہ ایران کا کردار اخلاقی حمایت تک محدود ہونا چاہیے، نہ کہ ان کی جانب سے فیصلے کرنے یا ان کے اختیارات پر اثرانداز ہونے تک۔

سابق ایرانی صدر کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران کی علاقائی پالیسی، فلسطینی مسئلے میں اس کے کردار اور نام نہاد ’’محورِ مزاحمت‘‘ سے وابستہ تنظیموں اور گروہوں کی حمایت کے حوالے سے مختلف حلقوں میں بحث جاری ہے۔ ایران کو معاشی دباؤ، عوامی ضروریات، خارجہ پالیسی کی ترجیحات اور علاقائی کشیدگی جیسے متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں خاتمی کا یہ مؤقف ایران کی داخلی سیاسی بحث میں ایک اہم آواز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق محمد خاتمی نے یہ باتیں 13 اکتوبر کو منعقدہ ایک تقریب کے موقع پر ریکارڈ کیے گئے ویڈیو کلپ میں کہیں، جسے ایران انٹرنیشنل نے نشر کیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ کسی قوم کی آزادی کی حمایت کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی دوسرا ملک اس قوم کی جگہ فیصلے کرنے کا اختیار حاصل کر لے۔

فلسطینی عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں

محمد خاتمی نے اپنے بیان میں اس اصول کو بنیادی اہمیت دی کہ فلسطین کے مستقبل کا فیصلہ خود فلسطینی عوام کو کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ایران آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والے لوگوں کی اخلاقی حمایت کر سکتا ہے، تاہم اسے یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ ان کی جگہ لے یا ان کی جانب سے یہ طے کرے کہ انہیں کون سا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

خاتمی کے مؤقف کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ فلسطینی عوام اپنے حالات، سیاسی ضروریات، قومی مفادات اور مستقبل کے بارے میں خود فیصلے کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ کسی بیرونی ریاست کو اپنی سیاسی ترجیحات فلسطینی عوام پر مسلط نہیں کرنی چاہییں، خواہ وہ ریاست فلسطینیوں کی حمایت ہی کیوں نہ کرتی ہو۔

ان کے مطابق، کسی بڑی طاقت کے مقابلے میں آزادی کی جدوجہد کرنے والے عوام کو اخلاقی حمایت فراہم کرنا ایک الگ معاملہ ہے، جبکہ ان کی سیاسی خودمختاری اور فیصلوں کے اختیار میں مداخلت کرنا ایک مختلف عمل ہے۔ اس فرق کو نظرانداز کرنے سے ایسے نتائج پیدا ہو سکتے ہیں جو متعلقہ عوام کے لیے مزید مشکلات اور مصائب کا سبب بن جائیں۔

خاتمی کے اس بیان کو ایران کی خارجہ پالیسی میں قومی خودمختاری، عوامی اختیار اور علاقائی معاملات میں مداخلت کی حدود سے متعلق ایک اہم بحث کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کا مؤقف اس سوال کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ کسی ملک کی جانب سے دوسرے ملک یا قوم کی حمایت کرتے ہوئے اس کے سیاسی فیصلوں اور ترجیحات کا احترام کس حد تک ضروری ہے۔

اسرائیلی قبضے کی مخالفت، مگر فلسطینی اختیار کی حمایت

سابق ایرانی صدر نے اسرائیلی قبضے اور طاقت کے ذریعے قائم کیے گئے تسلط کے حوالے سے بھی اپنا مؤقف بیان کیا۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ قبضے کو محض طاقت کے استعمال کی بنیاد پر قانونی جواز نہیں دیا جا سکتا۔ تاہم، اس کے ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ فلسطینی عوام کے مستقبل کا تعین کرنے کا حق بھی انہی کے پاس ہے۔

اس بیان میں دو بنیادی پہلو نمایاں ہیں۔ ایک جانب اسرائیلی قبضے اور طاقت کے استعمال پر تنقید ہے، جبکہ دوسری جانب فلسطینی عوام کی سیاسی خودمختاری اور فیصلہ سازی کے اختیار کی حمایت کی گئی ہے۔

خاتمی کے مطابق فلسطینی عوام کی آزادی اور حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ان کی جانب سے سیاسی فیصلے کوئی دوسری ریاست کرے۔ ان کے نزدیک آزادی کی حمایت اسی وقت اپنے اصولی مفہوم میں برقرار رہ سکتی ہے جب متعلقہ عوام کے اختیار اور ان کی مرضی کو تسلیم کیا جائے۔

فلسطین کا مسئلہ طویل عرصے سے علاقائی اور عالمی سیاست کا اہم موضوع رہا ہے۔ اس معاملے پر مختلف ریاستوں کے مؤقف، سفارتی حکمت عملیوں اور سیاسی ترجیحات میں فرق پایا جاتا ہے۔ ایران نے طویل عرصے سے فلسطینی کاز کی حمایت کو اپنی علاقائی پالیسی کا اہم حصہ قرار دیا ہے، جبکہ خاتمی کا حالیہ بیان اس حمایت کے طریقۂ کار اور حدود پر بحث کو نمایاں کرتا ہے۔

یہاں اہم سوال یہ ہے کہ فلسطینی عوام کی حمایت اور ان کی جانب سے فیصلے کرنے کے درمیان واضح حد کیسے برقرار رکھی جائے۔ خاتمی کے بیان کے مطابق، اس حد کا احترام ضروری ہے تاکہ فلسطینی عوام کی اپنی سیاسی آواز اور مستقبل کے انتخاب کا اختیار برقرار رہے۔

ایران کی مداخلت اور ایرانی عوام کو ادا کی جانے والی قیمت

محمد خاتمی نے فلسطین کے معاملے میں ایران کی پالیسیوں کے ممکنہ داخلی اثرات پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کے مطابق ان پالیسیوں کے باعث ایرانی عوام کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے، جسے وہ قابلِ قبول نہیں سمجھتے۔

ان کے بیان میں اس پہلو کو خاص اہمیت حاصل ہے کہ خارجہ پالیسی کے فیصلے صرف سفارتی تعلقات یا علاقائی اثرورسوخ تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے اثرات کسی ملک کی معیشت، عوامی زندگی اور داخلی ترجیحات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

ایران کو کئی برسوں سے معاشی مشکلات، مہنگائی، پابندیوں، سرمایہ کاری سے متعلق مسائل اور عوامی ضروریات جیسے چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں خارجہ پالیسی پر ہونے والی بحث میں یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ علاقائی معاملات میں ملک کے کردار اور بیرونی اتحادیوں کی حمایت کے لیے مختص وسائل کا عوامی فلاح و بہبود سے کیا تعلق ہے۔

خاتمی نے اپنے بیان میں ان پالیسیوں کی وجہ سے ایرانی عوام کو پہنچنے والے نقصان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو فلسطینی عوام کے فیصلوں کا احترام کرنا چاہیے اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو ایرانی عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کریں۔

تاہم، فراہم کردہ رپورٹ میں اس مالی یا معاشی قیمت کے تعین کے لیے مخصوص اعدادوشمار یا تفصیلی شواہد شامل نہیں ہیں۔ اس لیے خاتمی کے بیان کو ان کی سیاسی رائے اور پالیسی پر تنقید کے طور پر بیان کرنا مناسب ہے، جبکہ اس کے حقیقی معاشی اثرات کا تعین کرنے کے لیے الگ شواہد اور اعدادوشمار درکار ہوں گے۔

’’محورِ مزاحمت‘‘ سے متعلق پالیسیوں پر بحث

ایران کی علاقائی حکمت عملی میں فلسطینی تنظیموں اور دیگر ایسے گروہوں کی حمایت اہم موضوع رہی ہے جنہیں ایرانی حکام عموماً ’’محورِ مزاحمت‘‘ سے وابستہ قرار دیتے ہیں۔ اس پالیسی کے حامی اسے اسرائیلی اقدامات کے مقابلے، علاقائی اثرورسوخ اور اپنے اتحادیوں کی حمایت سے جوڑتے ہیں، جبکہ ناقدین اس کے سیاسی، معاشی اور سکیورٹی اثرات پر سوال اٹھاتے رہے

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button