کاروبارتازہ ترین

پاکستان 2027 کے لیے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے بورڈ آف گورنرز کی صدارت سنبھالے گا

احد خان چیمہ 2027 کے لیے نامزد چیئرمین، پاکستان 1953 کے بعد پہلی مرتبہ اس اہم عالمی منصب پر فائز ہوگا؛ ترقی پذیر ممالک کی آواز مضبوط بنانے، ترقیاتی فنانسنگ میں بہتری اور عالمی مالیاتی اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے پر توجہ دینے کا عزم

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
بینکاک / اسلام آباد (وائس آف جرمنی اردو نیوز، پاکستان چیپٹر) پاکستان کو عالمی اقتصادی اور مالیاتی سفارت کاری میں ایک اہم موقع حاصل ہونے جا رہا ہے، کیونکہ وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور اور ورلڈ بینک گروپ میں پاکستان کے گورنر احد خان چیمہ کو 2027 کے لیے ورلڈ بینک گروپ (WBG) اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (IMF) کے بورڈ آف گورنرز کا آئندہ چیئرمین نامزد کیا گیا ہے۔ یہ اعلان بینکاک میں منعقدہ 2026 کے ورلڈ بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے مکمل اجلاس کے دوران کیا گیا۔

فراہم کردہ سرکاری اعلامیے کے مطابق پاکستان 1953 کے بعد پہلی مرتبہ اس اہم عالمی صدارت پر فائز ہونے جا رہا ہے۔ اس پیش رفت کو پاکستان کے لیے عالمی اقتصادی امور میں اپنی موجودگی مؤثر بنانے، ترقی پذیر ممالک کے مسائل اجاگر کرنے اور کثیرالجہتی مالیاتی نظام میں تعمیری مکالمے کو فروغ دینے کے ایک اہم موقع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

احد خان چیمہ کی نامزدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی معیشت کو معاشی غیر یقینی، ترقیاتی مالی وسائل کی ضروریات، قرضوں کے دباؤ، موسمیاتی تبدیلیوں اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول جیسے متعدد چیلنجز درپیش ہیں۔ ترقی پذیر ممالک کے لیے مالی وسائل تک قابلِ اعتماد رسائی، سرمایہ کاری کے فروغ اور ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر تکمیل کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ایسے حالات میں بورڈ آف گورنرز کی صدارت پاکستان کو عالمی اقتصادی ترجیحات سے متعلق مباحث میں فعال کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔

بینکاک میں اہم اعلان، پاکستان کے لیے تاریخی پیش رفت

بینکاک میں 16 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ معلومات کے مطابق، 2026 کے ورلڈ بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے مکمل اجلاس کے دوران احد خان چیمہ کو 2027 کے لیے آئندہ چیئرمین نامزد کیے جانے کا اعلان کیا گیا۔

ورلڈ بینک گروپ اور آئی ایم ایف عالمی مالیاتی نظام کے دو اہم ادارے ہیں، جو مختلف طریقوں سے عالمی معیشت، مالی استحکام، ترقیاتی ضروریات اور رکن ممالک کی معاشی پالیسیوں سے متعلق معاملات میں کردار ادا کرتے ہیں۔ دونوں اداروں کے بورڈ آف گورنرز میں رکن ممالک کے نمائندے شامل ہوتے ہیں، جو اداروں کی اعلیٰ سطح کی حکمرانی اور اہم پالیسی امور سے متعلق ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں۔

پاکستان کے لیے اس صدارت کی اہمیت اس وجہ سے بھی نمایاں ہے کہ یہ عالمی سطح پر اقتصادی تعاون اور ترقیاتی ترجیحات سے متعلق گفتگو میں ملک کو ایک اہم نمائندہ کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرے گی۔ تاہم، اس منصب کی اصل افادیت اس بات سے بھی وابستہ ہوگی کہ پاکستان اپنی مدتِ صدارت کے دوران ترقی پذیر ممالک کے مشترکہ مسائل کو کس حد تک مؤثر انداز میں اجاگر کر پاتا ہے اور عالمی اداروں کے ساتھ تعاون کو کس طرح آگے بڑھاتا ہے۔

اعلامیے کے مطابق، پاکستان کی یہ نامزدگی 1953 کے بعد اس منصب پر ملک کی واپسی کی علامت ہے۔ اس حوالے سے آئندہ سال پاکستان کے لیے عالمی اقتصادی سفارت کاری میں اپنی ترجیحات پیش کرنے اور رکن ممالک کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوششوں میں حصہ لینے کا ایک اہم موقع ہوگا۔

احد خان چیمہ کو صدارت کی ذمہ داریوں پر بریفنگ

سالانہ اجلاس کے بعد وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور اور ورلڈ بینک گروپ میں پاکستان کے گورنر احد خان چیمہ کو ورلڈ بینک گروپ کے کارپوریٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے آئندہ صدارت کی ذمہ داریوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

اس بریفنگ کا مقصد صدارت سے متعلق ادارہ جاتی طریقۂ کار، ذمہ داریوں اور آئندہ سال کے دوران درپیش امور سے آگاہی فراہم کرنا تھا، تاکہ پاکستان اپنی مدتِ صدارت کے لیے مؤثر تیاری کر سکے۔

اس موقع پر احد خان چیمہ نے ورلڈ بینک گروپ کی نائب صدر اور کارپوریٹ سیکرٹری ارادھنا کمار-کپور سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان کی آئندہ مدتِ صدارت کے دوران ادارہ جاتی تعاون، باہمی ہم آہنگی اور ذمہ داریوں کی مؤثر انجام دہی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس ملاقات کو اس لحاظ سے اہم قرار دیا جا سکتا ہے کہ کسی بھی بین الاقوامی ادارے کی صدارت سنبھالنے کے لیے متعلقہ ادارے کے طریقۂ کار، انتظامی تقاضوں اور رکن ممالک کے ساتھ رابطوں کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ مؤثر تیاری کے ذریعے صدارت کے دوران اجلاسوں کے انتظام، ترجیحات کی نشاندہی اور مختلف ممالک کے درمیان مکالمے کو بہتر انداز میں آگے بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔

پاکستان کے لیے بھی یہ مرحلہ اہم ہوگا، کیونکہ 2027 میں صدارت کی ذمہ داریوں کو مؤثر انداز میں نبھانے کے لیے عالمی اقتصادی مسائل، ترقیاتی ضروریات اور رکن ممالک کے مختلف نقطۂ نظر کو سمجھنا ضروری ہوگا۔

سبکدوش ہونے والے چیئرمین کارلوس سپالڈنگ سے ملاقات

احد خان چیمہ نے پیراگوئے کے مرکزی بینک کے گورنر اور بورڈ آف گورنرز کے سبکدوش ہونے والے چیئرمین کارلوس کاروالو سپالڈنگ سے بھی ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران وفاقی وزیر نے کارلوس سپالڈنگ کو ان کی مدتِ صدارت کی کامیاب تکمیل پر مبارکباد دی اور ان کی قیادت کو سراہا۔ دونوں رہنماؤں نے صدارت سے متعلق ذمہ داریوں اور آنے والے سال کی ترجیحات پر تبادلہ خیال کیا۔

اس ملاقات کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ پاکستان کو سبکدوش ہونے والے چیئرمین کے تجربات اور مشاہدات سے استفادہ کرنے کا موقع ملا۔ عالمی مالیاتی اداروں میں اعلیٰ سطح کی صدارت کے لیے ادارہ جاتی طریقۂ کار، مختلف رکن ممالک کے مفادات اور عالمی اقتصادی ترجیحات کے درمیان توازن قائم کرنا اہم سمجھا جاتا ہے۔

سابق چیئرمین کے تجربے سے استفادہ کرتے ہوئے پاکستان آئندہ سال کی ذمہ داریوں کے لیے اپنی تیاری بہتر بنا سکتا ہے۔ اسی طرح، گزشتہ مدت کے تجربات اور حاصل ہونے والے نتائج کا جائزہ آئندہ ترجیحات طے کرنے اور ادارہ جاتی تسلسل برقرار رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

ترقی پذیر ممالک کی آواز مضبوط بنانے کا عزم

ملاقاتوں کے دوران احد خان چیمہ نے ترقی پذیر ممالک کی آواز کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے عزم کو اجاگر کیا۔ ان کے مطابق، عالمی اقتصادی اور ترقیاتی اداروں میں ایسے ماحول کو فروغ دینا اہم ہے جہاں ترقی پذیر ممالک کے مسائل، ضروریات اور ترجیحات کو مؤثر انداز میں زیرِ بحث لایا جا سکے۔

ترقی پذیر ممالک کو عموماً بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، تعلیم، صحت، توانائی، روزگار، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے بڑے مالی وسائل درکار ہوتے ہیں۔ ان ممالک کو بعض اوقات محدود مالی گنجائش، قرضوں کی ادائیگی کے دباؤ اور عالمی معاشی حالات میں تبدیلیوں کے باعث ترقیاتی منصوبوں کے لیے درکار وسائل حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پاکستان نے اپنی آئندہ صدارت کے حوالے سے اس بات پر زور دیا ہے کہ عالمی مالیاتی اور ترقیاتی نظام میں ترقی پذیر ممالک کے مؤقف کو اہمیت دی جانی چاہیے۔ اس مقصد کے لیے رکن ممالک کے درمیان تعمیری مکالمہ، مشترکہ ترجیحات کی نشاندہی اور قابلِ عمل تجاویز پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا اہم ہوگا۔

تاہم، بورڈ آف گورنرز کی صدارت بذاتِ خود کسی ملک کو عالمی مالیاتی اداروں کے تمام فیصلوں پر یکطرفہ اختیار نہیں دیتی۔ اس منصب کے ذریعے پاکستان کو مکالمے اور رابطوں میں کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا، جبکہ بڑے پالیسی فیصلے متعلقہ اداروں کے قواعد، حکمرانی کے نظام اور رکن ممالک کے طے شدہ طریقۂ کار کے مطابق کیے جائیں گے۔

مؤثر اور قابلِ پیش گوئی ترقیاتی فنانسنگ پر توجہ

احد خان چیمہ نے مؤثر اور قابلِ پیش گوئی ترقیاتی فنانسنگ کو بھی پاکستان کی اہم ترجیحات میں شامل قرار دیا۔

ترقیاتی فنانسنگ سے مراد ایسے مالی وسائل اور انتظامات ہیں جن کے ذریعے ممالک معاشی ترقی، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، سماجی خدمات اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق منصوبوں کو آگے بڑھاتے ہیں۔ ان وسائل کی بروقت دستیابی اور تسلسل ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔

اگر مالی وسائل کی فراہمی میں غیر یقینی ہو، منصوبوں کے لیے فنڈز بروقت دستیاب نہ ہوں یا مالی شرائط میں اچانک تبدیلیاں آئیں تو حکومتوں کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی مشکل ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر، اخراجات میں اضافہ اور ترقیاتی اہداف کے حصول میں رکاوٹیں پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔

پاکستان کی جانب سے ترقیاتی فنانسنگ میں بہتری پر زور اس ضرورت کو ظاہر کرتا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو ایسے مالی انتظامات میسر ہوں جن کے ذریعے وہ اپنے منصوبوں کی بہتر منصوبہ بندی کر سکیں اور وسائل کے استعمال میں مؤثریت پیدا کر سکیں۔

اس مقصد کے لیے عالمی مالیاتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں اور رکن ممالک کے درمیان رابطوں کو بہتر بنانا ضروری ہوگا۔ پاکستان کی صدارت کے دوران یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ اس ترجیح کو عالمی سطح پر ہونے والے مکالمے میں کس طرح آگے بڑھایا جاتا ہے۔

کثیرالجہتی ترقیاتی اداروں کے درمیان ہم آہنگی

پاکستان نے کثیرالجہتی ترقیاتی اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کو بھی اپنی ترجیحات کا حصہ بنایا ہے۔

کثیرالجہتی ادارے وہ بین الاقوامی تنظیمیں ہیں جن میں متعدد ممالک مشترکہ مقاصد کے لیے تعاون کرتے ہیں۔ عالمی ترقیاتی نظام میں مختلف ادارے مالی معاونت، تکنیکی مشاورت، پالیسی اصلاحات اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل فراہم کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

اگر ان اداروں کی سرگرمیوں میں مؤثر رابطہ اور ہم آہنگی موجود ہو تو ترقیاتی وسائل کو زیادہ بہتر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے، منصوبوں میں غیر ضروری تکرار کم ہو سکتی ہے اور رکن ممالک کی ضروریات کے مطابق ترجیحات مرتب کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

اس کے برعکس، اداروں کے درمیان رابطوں کی کمی، طریقۂ کار میں پیچیدگی یا مالی معاونت کے مختلف تقاضے ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد کو مشکل بنا سکتے ہیں۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ عالمی ترقیاتی اداروں کے درمیان تعاون کو بہتر بنا کر ترقی پذیر ممالک کے لیے زیادہ مؤثر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اس تناظر میں ورلڈ بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے ساتھ رابطے اہمیت رکھتے ہیں، اگرچہ دونوں اداروں کے مقاصد، اختیارات اور کام کرنے کے طریقے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔

ورلڈ بینک گروپ بنیادی طور پر ترقیاتی مالی معاونت اور غربت میں کمی سمیت طویل مدتی ترقیاتی اہداف پر کام کرتا ہے، جبکہ آئی ایم ایف کا بنیادی کردار عالمی مالیاتی استحکام، ادائیگیوں کے توازن اور رکن ممالک کی معاشی و مالی پالیسیوں سے متعلق معاونت سے وابستہ ہے۔ ان مختلف ذمہ داریوں کے باوجود، عالمی اقتصادی استحکام اور ترقی کے بعض مسائل پر دونوں اداروں کے درمیان تعاون اہم ہو سکتا ہے۔

پائیدار اور سب کو شامل کرنے والی ترقی کے لیے نجی سرمایہ کاری

احد خان چیمہ نے پائیدار اور سب کو شامل کرنے والی ترقی کے لیے نجی سرمایہ کاری کو متحرک کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

نجی سرمایہ کاری کسی بھی ملک کی معیشت میں کاروباری سرگرمیوں، روزگار کے مواقع، صنعتی ترقی، ٹیکنالوجی کے فروغ اور پیداوار میں اضافے کے لیے اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ تاہم، ترقی پذیر ممالک میں نجی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے مستحکم پالیسی ماحول، مناسب بنیادی ڈھانچے، شفاف ضابطہ جاتی نظام اور مالی وسائل تک رسائی ضروری ہوتی ہے۔

پاکستان سمیت متعدد ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ چیلنج اہم ہے کہ وہ مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو ایسے مواقع فراہم کریں جن سے معاشی ترقی کے فوائد معاشرے کے مختلف طبقات تک پہنچ سکیں۔

سب کو شامل کرنے والی ترقی کا تصور اس بات پر زور دیتا ہے کہ معاشی ترقی کے ثمرات صرف مخصوص شعبوں یا طبقات تک محدود نہ رہیں، بلکہ روزگار، تعلیم، صحت، کاروباری مواقع اور بنیادی سہولتوں کے ذریعے وسیع تر آبادی تک پہنچیں۔

پاکستان نے اپنی آئندہ صدارت کے حوالے سے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ نجی سرمایہ کاری کو متحرک کرنے کے لیے عالمی ترقیاتی اداروں اور رکن ممالک کے ساتھ تعاون کیا جائے گا۔ اس ضمن میں مالیاتی وسائل کے بہتر استعمال، سرمایہ کاروں کے اعتماد اور ترقیاتی ترجیحات کے درمیان توازن پیدا کرنا اہم ہوگا۔

پاکستان کے لیے عالمی اقتصادی سفارت کاری کا موقع

ورلڈ بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے بورڈ آف گورنرز کی آئندہ صدارت پاکستان کو عالمی اقتصادی سفارت کاری میں اپنا کردار مزید مؤثر بنانے کا موقع فراہم کرے گی۔

پاکستان کو اپنی معیشت میں ترقی، سرمایہ کاری، برآمدات، روزگار اور مالی استحکام کے حوالے سے مختلف چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ ایسے میں عالمی مالیاتی اور ترقیاتی اداروں کے ساتھ مؤثر روابط ملک کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔ تاہم، صدارت کے منصب سے پاکستان کو حاصل ہونے والے مواقع اور اس کے عملی نتائج میں فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔

اس منصب کے ذریعے پاکستان عالمی سطح پر ترقیاتی فنانسنگ، ترقی پذیر ممالک کے مسائل اور کثیرالجہتی تعاون سے متعلق مکالمے میں حصہ لے سکے گا۔ لیکن اس سے پاکستان کے لیے خودکار طور پر اضافی قرضوں، مالی امداد یا کسی مخصوص ترقیاتی پیکیج کی منظوری یقینی نہیں ہو جاتی۔

اس لیے صدارت کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جائے گا کہ پاکستان رکن ممالک کے درمیان تعمیری مکالمے کو کس حد تک فروغ دیتا ہے، مختلف نقطۂ نظر کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں کیا کردار ادا کرتا ہے اور عالمی ترقیاتی نظام کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے کس نوعیت کی تجاویز کو آگے بڑھاتا ہے۔

کثیرالجہتی نظام کے لیے پاکستان کا عزم

احد خان چیمہ نے ورلڈ بینک گروپ، آئی ایم ایف اور رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے ایسے کثیرالجہتی ترقیاتی اور مالیاتی نظام کی حمایت کی جو زیادہ مؤثر، جوابدہ اور رکن ممالک کی ضروریات کے مطابق کام کر سکے۔

کثیرالجہتی نظام کی اہمیت اس وجہ سے بڑھ جاتی ہے کہ عالمی معاشی مسائل اکثر کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتے۔ مالیاتی عدم استحکام، قرضوں کے بحران، موسمیاتی تبدیلی، توانائی کی ضروریات اور عالمی تجارت میں اتار چڑھاؤ جیسے معاملات سے متعدد ممالک بیک وقت متاثر ہو سکتے ہیں۔

ایسے مسائل سے نمٹنے کے لیے ممالک کے درمیان تعاون، مشترکہ حکمت عملی اور عالمی اداروں کی مؤثر کارکردگی اہم ہوتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک کے لیے اس نظام میں اپنی ضروریات اور ترجیحات کو مؤثر انداز میں پیش کرنا بھی ضروری ہے، تاکہ عالمی فیصلوں میں ان کے مسائل کو مناسب اہمیت مل سکے۔

پاکستان نے اپنی آئندہ صدارت کے حوالے سے تعمیری مکالمے، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور مشترکہ اقدامات کو اہم قرار دیا ہے۔ اس مؤقف کے مطابق، عالمی مالیاتی اور ترقیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے رکن ممالک اور متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون کو مزید بہتر بنانا ہوگا۔

آئندہ سال کی ترجیحات اور توقعات

2027 کے دوران پاکستان کے سامنے ایک اہم ذمہ داری یہ ہوگی کہ وہ بورڈ آف گورنرز کی صدارت کو مؤثر انداز میں انجام دے اور رکن ممالک کے درمیان رابطوں اور مکالمے کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

ترقی پذیر ممالک کی آواز کو مضبوط بنانا، ترقیاتی فنانسنگ میں پیش گوئی کے قابل انتظامات کو فروغ دینا، ترقیاتی اداروں کے درمیان ہم آہنگی بڑھانا اور نجی سرمایہ کاری کے ذریعے پائیدار ترقی کی حمایت کرنا وہ ترجیحات ہیں جن کا ذکر پاکستان کی جانب سے کیا گیا ہے۔

ان ترجیحات کو عملی شکل دینے کے لیے مسلسل سفارتی رابطے، ادارہ جاتی تیاری اور رکن ممالک کے مختلف مفادات کو سمجھنا ضروری ہوگا۔ اسی طرح، عالمی مالیاتی اداروں کے قواعد اور فیصلہ سازی کے طریقۂ کار کے مطابق کام کرنا بھی صدارت کی ذمہ داریوں کا اہم حصہ ہوگا۔

پاکستان کے لیے یہ منصب ایک موقع ضرور ہے، لیکن اس کے حقیقی فوائد کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ملک اس موقع کو عالمی سطح پر تعمیری تعاون، ترقیاتی ترجیحات اور مشترکہ اقتصادی مسائل پر مکالمے کے فروغ کے لیے کس طرح استعمال کرتا ہے۔

مجموعی طور پر 2027 کے لیے ورلڈ بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے بورڈ آف گورنرز کی صدارت کے لیے احد خان چیمہ کی نامزدگی پاکستان کی عالمی اقتصادی سفارت کاری میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ پاکستان 1953 کے بعد پہلی مرتبہ اس منصب پر فائز ہونے جا رہا ہے، جس سے اسے ترقی پذیر ممالک کے مسائل اجاگر کرنے اور عالمی مالیاتی و ترقیاتی نظام میں تعاون کو فروغ دینے کا موقع ملے گا۔ تاہم، اس پیش رفت کے عملی نتائج کا اندازہ آئندہ سال کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں، ادارہ جاتی تعاون اور مشترکہ ترجیحات پر ہونے والی پیش رفت سے لگایا جا سکے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button