
پاکستان میں 5G انقلاب کی جانب اہم پیش رفت، 24 بڑے شہروں میں سروسز کا آغاز، ڈیجیٹل رابطوں کے فروغ کے لیے نئی حکمت عملی تیار
وفاقی وزیر آئی ٹی شازہ فاطمہ خواجہ کا گلوبل ڈیجیٹل اینڈ اے آئی سمٹ سے خطاب، مصنوعی ذہانت کے دور میں یونیورسل کنیکٹیویٹی کو بنیادی ضرورت قرار دے دیا، پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت، فائبر نیٹ ورک، سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے منسلک کرنے کے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ
سید عاطف ندیم-ادارت
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شازہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے دور میں ہر فرد کو معیاری اور قابل اعتماد انٹرنیٹ کی فراہمی محض تکنیکی ضرورت نہیں بلکہ ڈیجیٹل ترقی، معاشی مواقع اور سماجی شمولیت کی بنیادی شرط ہے۔ پاکستان وزیراعظم کے ڈیجیٹل نیشن پاکستان ویژن کے تحت مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے لیے رابطوں کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دے رہا ہے، تاکہ شہری اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے افراد یکساں طور پر ڈیجیٹل معیشت سے مستفید ہو سکیں۔
وفاقی وزیر نے جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں منعقدہ گلوبل ڈیجیٹل اینڈ اے آئی سمٹ کے دوسرے روز ’’آخری 2.6 ارب افراد: کیا مصنوعی ذہانت کے دور میں سب کے لیے رابطے کی سہولت ایک ٹوٹا ہوا وعدہ ہے؟‘‘ کے عنوان سے اعلیٰ سطحی پینل سیشن میں کلیدی مقرر کی حیثیت سے شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے پاکستان کی ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت سے متعلق حکمت عملی، ٹیلی کمیونیکیشن کے بنیادی ڈھانچے میں توسیع، فائیو جی ٹیکنالوجی، آپٹیکل فائبر، سیٹلائٹ رابطوں اور ڈیجیٹل شمولیت کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
شازہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ پاکستان مصنوعی ذہانت کو صرف جدید سافٹ ویئر یا کمپیوٹنگ کی ٹیکنالوجی کے طور پر نہیں دیکھتا بلکہ اسے ایک بنیادی نیٹ ورک چیلنج بھی سمجھتا ہے۔ ان کے مطابق، مصنوعی ذہانت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کو تیز رفتار انٹرنیٹ، قابل اعتماد ڈیجیٹل رابطوں اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہو۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی تقریباً 70 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے، جو ملک کے لیے ایک بڑی انسانی اور معاشی قوت ہے۔ اسی طرح ملک میں ٹیلی کام صارفین کی تعداد 20 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ اعداد و شمار ڈیجیٹل خدمات، تیز رفتار انٹرنیٹ اور جدید مواصلاتی نظام کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو ظاہر کرتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے منسلک کرکے تعلیم، روزگار، کاروبار، تحقیق اور اختراع کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم، اس مقصد کے حصول کے لیے انٹرنیٹ کی دستیابی کے ساتھ اس کے معیار، رفتار، استطاعت اور دور دراز علاقوں تک رسائی کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔
پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی اسپیکٹرم نیلامی
وفاقی وزیر شازہ فاطمہ خواجہ نے سمٹ کے شرکا کو بتایا کہ پاکستان نے مارچ 2026 میں اپنی تاریخ کی سب سے بڑی اسپیکٹرم نیلامی منعقد کی، جس کے ذریعے 480 میگاہرٹز اسپیکٹرم حاصل کیا گیا اور 509 ملین امریکی ڈالر کی آمدنی ہوئی۔
ان کے مطابق، اس نیلامی کے نتیجے میں ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس موجود اسپیکٹرم کی مقدار 274 میگاہرٹز سے بڑھ کر 754 میگاہرٹز ہو گئی۔ اسپیکٹرم میں اضافے سے موبائل نیٹ ورکس کی گنجائش بڑھانے، صارفین کو بہتر سروس فراہم کرنے اور جدید مواصلاتی ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے بنیاد فراہم ہوئی۔
شازہ فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ اسپیکٹرم نیلامی کے تقریباً چھ ماہ کے اندر پاکستان کے 24 بڑے شہروں میں 1,700 سے زائد مقامات پر فائیو جی سروسز کا آغاز کیا گیا۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ان سروسز پر اوسط رفتار 130 میگابٹس فی سیکنڈ بتائی گئی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ دو برس کے دوران ملک بھر میں ڈاؤن لوڈ کی رفتار میں 68.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق، موبائل نیٹ ورکس کی استعداد بڑھانے اور جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے اقدامات پاکستان کے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
فائیو جی ٹیکنالوجی تیز رفتار ڈیٹا ٹرانسمیشن، کم تاخیر اور بیک وقت بڑی تعداد میں آلات کو نیٹ ورک سے منسلک کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ اس سے صنعتی خودکاری، ٹیلی میڈیسن، آن لائن تعلیم، اسمارٹ سٹی منصوبوں اور مصنوعی ذہانت پر مبنی خدمات کے فروغ کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔
تاہم، ان فوائد کو وسیع پیمانے پر عوام تک پہنچانے کے لیے نیٹ ورک کی مسلسل بہتری، مناسب قیمتوں پر انٹرنیٹ، جدید آلات کی دستیابی اور ڈیجیٹل مہارتوں میں اضافے کی ضرورت برقرار رہے گی۔
2 لاکھ 34 ہزار کلومیٹر سے زائد آپٹیکل فائبر کیبل بچھانے کا دعویٰ
وفاقی وزیر نے پاکستان میں آپٹیکل فائبر نیٹ ورک کی توسیع کے حوالے سے بتایا کہ ملک بھر میں 234,000 کلومیٹر سے زیادہ آپٹیکل فائبر کیبل بچھائی جا چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل رابطوں کے معیار کو بہتر بنانے اور فائبر نیٹ ورک کی تنصیب پر آنے والی لاگت کم کرنے کے لیے صوبائی حکومتوں سے مشاورت کے بعد ملک بھر میں رائٹ آف وے (Right of Way) چارجز ختم کر دیے گئے ہیں۔
رائٹ آف وے سے مراد وہ اجازت یا قانونی حق ہے جس کے تحت ٹیلی کام کمپنیوں کو سڑکوں، سرکاری اراضی یا دیگر مقامات پر کیبل بچھانے کے لیے راستہ استعمال کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ اس مد میں اخراجات کم ہونے سے نیٹ ورک کی توسیع نسبتاً آسان ہو سکتی ہے، جبکہ کمپنیوں کو مزید علاقوں تک فائبر پہنچانے کے لیے سرمایہ کاری کی ترغیب مل سکتی ہے۔
شازہ فاطمہ خواجہ کے مطابق، اس اقدام کا مقصد اجازت ناموں اور متعلقہ چارجز کی مد میں ہونے والے اخراجات کو کم کرکے فائبر نیٹ ورک کی تنصیب پر زیادہ وسائل خرچ کرنے کے مواقع پیدا کرنا ہے۔
آپٹیکل فائبر جدید ڈیجیٹل معیشت کی بنیادی ضرورت ہے، کیونکہ یہ موبائل ٹاورز، براڈبینڈ نیٹ ورکس، ڈیٹا سینٹرز اور مختلف ڈیجیٹل خدمات کے درمیان تیز رفتار رابطے فراہم کرتا ہے۔ فائیو جی سمیت جدید موبائل نیٹ ورکس کی کارکردگی بہتر بنانے میں بھی فائبر نیٹ ورک اہم کردار ادا کرتا ہے۔
پاکستان کو عالمی ڈیجیٹل نیٹ ورکس سے منسلک کرنے کی کوششیں
وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان چھ سب میرین کیبلز کے ذریعے عالمی مواصلاتی نظام سے منسلک ہے، جن کی مجموعی صلاحیت 17 ٹیرا بِٹس فی سیکنڈ سے زیادہ بتائی گئی ہے۔
سمندر کے نیچے بچھائی جانے والی یہ کیبلز بین الاقوامی انٹرنیٹ ٹریفک، ڈیٹا کی منتقلی اور عالمی ڈیجیٹل خدمات کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ ان کے ذریعے پاکستان کو بین الاقوامی نیٹ ورکس سے رابطہ ملتا ہے، جس پر ملکی کاروباری اداروں، مالیاتی خدمات، آن لائن پلیٹ فارمز اور ڈیجیٹل معیشت کا انحصار ہے۔
شازہ فاطمہ خواجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان وسطی ایشیا اور باقی دنیا کے درمیان ڈیجیٹل رابطوں کو فروغ دینے کے لیے کیئرک ڈیجیٹل کوریڈور (CAREC Digital Corridor) پر کام کر رہا ہے۔
اس منصوبے کا مقصد علاقائی ڈیجیٹل رابطوں کو بہتر بنانا اور پاکستان کے جغرافیائی محل وقوع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے بین الاقوامی ڈیجیٹل روابط کے لیے ایک ممکنہ پل کے طور پر ترقی دینا ہے۔
علاقائی ڈیجیٹل رابطوں میں بہتری سے ڈیٹا کی ترسیل، سرحد پار ڈیجیٹل خدمات، کاروباری سرگرمیوں اور ٹیکنالوجی پر مبنی تعاون کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ تاہم، اس طرح کے منصوبوں کی عملی افادیت کا انحصار بنیادی ڈھانچے کی تکمیل، علاقائی تعاون، تکنیکی معیار اور تجارتی ضروریات پر ہوگا۔
دور دراز علاقوں کے لیے سیٹلائٹ ٹیکنالوجی پر توجہ
وفاقی وزیر نے بلوچستان کے صحرائی علاقوں اور شمالی پاکستان کے دشوار گزار پہاڑی خطوں میں انٹرنیٹ اور مواصلاتی رابطوں کی فراہمی کے لیے سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کی اہمیت اجاگر کی۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان اسپیس ایکٹیویٹیز ریگولیٹری بورڈ (PSARB) اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) سیٹلائٹ مواصلاتی خدمات اور ان کی لائسنسنگ کے لیے ضابطہ جاتی فریم ورک کو حتمی شکل دینے پر کام کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق، ڈائریکٹ ٹو ڈیوائس (Direct-to-Device) جیسی ٹیکنالوجیز ان علاقوں میں رابطوں کے فروغ میں مدد دے سکتی ہیں جہاں روایتی موبائل نیٹ ورک یا زمینی بنیادی ڈھانچے کی تنصیب مشکل اور مہنگی ہو۔
سیٹلائٹ پر مبنی رابطے دشوار گزار علاقوں میں مواصلاتی سہولتوں کی فراہمی، ہنگامی حالات میں رابطوں کو برقرار رکھنے اور ان علاقوں میں ڈیجیٹل خدمات کی رسائی بہتر بنانے کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں جہاں فائبر کیبل یا موبائل ٹاورز پہنچانا آسان نہیں۔
شازہ فاطمہ خواجہ نے واضح کیا کہ سیٹلائٹ خدمات زمینی مواصلاتی نیٹ ورکس کا متبادل نہیں ہوں گی بلکہ ان کی معاونت کریں گی۔ اس حکمت عملی کا مقصد مختلف ٹیکنالوجیز کو یکجا کرکے ملک کے ان حصوں تک رابطے پہنچانا ہے جہاں روایتی نیٹ ورک کی رسائی محدود ہے۔
انہوں نے سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے نئے موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹر (MVNO) فریم ورک اور انفراسٹرکچر شیئرنگ پالیسی کا بھی ذکر کیا۔
ایم وی این او ماڈل کے تحت کمپنیاں اپنا علیحدہ موبائل ریڈیو نیٹ ورک قائم کیے بغیر موجودہ ٹیلی کام آپریٹرز کے بنیادی ڈھانچے کو استعمال کرتے ہوئے خدمات فراہم کر سکتی ہیں، جبکہ انفراسٹرکچر شیئرنگ سے نیٹ ورک کی تنصیب کے اخراجات کم کرنے اور وسائل کے بہتر استعمال میں مدد مل سکتی ہے۔
3 کروڑ 80 لاکھ سے زائد افراد کو مواصلاتی سہولت فراہم کرنے کا دعویٰ
ڈیجیٹل شمولیت کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ یونیورسل سروس فنڈ (USF) کے ذریعے 110 سے زائد اضلاع میں 22,100 مواضعات اور بستیوں کے 38 ملین سے زیادہ افراد کو مواصلاتی رابطوں کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔
یونیورسل سروس فنڈ کا بنیادی مقصد ایسے علاقوں میں ٹیلی کام اور انٹرنیٹ خدمات کی رسائی بڑھانا ہے جہاں تجارتی بنیادوں پر نیٹ ورک کی تنصیب کمپنیوں کے لیے کم منافع بخش یا مشکل ہوتی ہے۔
پاکستان جیسے ملک میں دیہی علاقوں، دور دراز بستیوں اور دشوار گزار خطوں تک مواصلاتی سہولتیں پہنچانا ڈیجیٹل ترقی کے لیے اہم ہے۔ انٹرنیٹ تک رسائی سے طلبہ کو آن لائن تعلیمی وسائل، کاروباری افراد کو ڈیجیٹل مارکیٹوں اور شہریوں کو مختلف آن لائن خدمات تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق، پاکستان میں اسمارٹ فونز کی مقامی اسمبلنگ بھی ڈیجیٹل شمولیت کے فروغ میں کردار ادا کر رہی ہے۔ سال 2025 کے دوران ملک میں 17.6 ملین، یعنی ایک کروڑ 76 لاکھ اسمارٹ فونز مقامی طور پر اسمبل کیے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ اسمارٹ فونز کی خریداری کو آسان بنانے کے لیے اقساط پر مبنی منصوبے بھی متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو جدید موبائل آلات تک رسائی فراہم کرنا ہے۔
اسمارٹ فونز کی دستیابی ڈیجیٹل خدمات کے استعمال میں اہم کردار ادا کرتی ہے، تاہم حقیقی ڈیجیٹل شمولیت کے لیے مناسب قیمت پر انٹرنیٹ، قابل اعتماد بجلی، ڈیجیٹل خواندگی اور صارفین کے تحفظ جیسے عوامل بھی ضروری ہیں۔
موبائل رابطوں میں صنفی فرق کم ہونے کا دعویٰ
شازہ فاطمہ خواجہ نے خواتین اور مردوں کے درمیان موبائل رابطوں تک رسائی کے فرق میں کمی کو بھی اہم پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے عالمی بینک کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں موبائل رابطوں کے حوالے سے صنفی فرق 25 فیصد سے کم ہو کر 8 فیصد رہ گیا ہے۔
موبائل رابطوں میں صنفی فرق سے مراد خواتین اور مردوں کے درمیان موبائل فون یا متعلقہ مواصلاتی سہولتوں کے استعمال اور رسائی میں پایا جانے والا فرق ہے۔ اس فرق میں کمی خواتین کے لیے تعلیم، صحت، مالیاتی خدمات، کاروبار اور روزگار کے ڈیجیٹل مواقع تک رسائی بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔
وفاقی وزیر نے آئی ٹی یو کے آئی سی ٹی ڈیولپمنٹ انڈیکس 2026 میں پاکستان کی درجہ بندی میں 27 درجے بہتری آنے کا بھی ذکر کیا۔
ان کے مطابق، پاکستان میں ڈیجیٹل رابطوں کے فروغ، نیٹ ورک کی توسیع اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ اس حوالے سے انڈیکس میں بہتری کو ڈیجیٹل شعبے میں ہونے والی پیش رفت کے تناظر میں پیش کیا گیا۔
تاہم، ڈیجیٹل شمولیت کا جائزہ لیتے ہوئے صرف موبائل صارفین یا نیٹ ورک کی دستیابی کو کافی نہیں سمجھا جا سکتا۔ انٹرنیٹ کے استعمال کی استطاعت، خواتین کی ڈیجیٹل مہارتوں، آلات کی دستیابی اور آن لائن خدمات کے محفوظ استعمال جیسے پہلو بھی اہمیت رکھتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کے لیے بنیادی شرط قابل اعتماد رابطے
گلوبل ڈیجیٹل اینڈ اے آئی سمٹ کے پینل سیشن میں وفاقی وزیر نے اس وسیع تر سوال پر بھی گفتگو کی کہ دنیا کی وہ 2.6 ارب آبادی جو اب تک انٹرنیٹ سے منسلک نہیں، اسے مصنوعی ذہانت کے دور میں کس طرح ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانے کے لیے صرف جدید ٹیکنالوجی تیار کرنا کافی نہیں بلکہ اسے استعمال کرنے کے لیے درکار بنیادی سہولتیں بھی فراہم کرنا ہوں گی۔ اگر آبادی کے بڑے حصے کو انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل آلات تک رسائی حاصل نہیں ہوگی تو وہ تعلیم، کاروبار، روزگار اور جدید ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والے مواقع سے محروم رہ سکتا ہے۔
ان کے مطابق، پاکستان کی نوجوان آبادی ایک بڑی قوت ہے، جسے مناسب ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے اور تربیت کے ذریعے مصنوعی ذہانت، سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، فری لانسنگ، ڈیجیٹل کاروبار اور تحقیق کے شعبوں میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے زور دیا کہ حکومتوں، ٹیلی کام کمپنیوں، سرمایہ کاروں اور ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ اداروں کو رابطوں کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ ان کے مطابق، خاص طور پر ان علاقوں میں سرمایہ کاری کے خطرات کو تقسیم کرنے اور شراکت داری کے نئے ماڈل اپنانے کی ضرورت ہے جہاں نیٹ ورک کی تنصیب کے اخراجات زیادہ اور تجارتی منافع محدود ہوتا ہے۔
’’یونیورسل کنیکٹیویٹی ٹوٹا ہوا وعدہ نہیں، ابھی مکمل ہونا باقی ہے‘‘
پینل سیشن کے اختتام پر وفاقی وزیر شازہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ سب کے لیے مواصلاتی رابطے کی سہولت کوئی ٹوٹا ہوا وعدہ نہیں بلکہ ایسا وعدہ ہے جس کی تکمیل ابھی باقی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے امکانات موجود ہیں، تاہم اصل ضرورت اس عزم کی ہے کہ حکومتیں، نجی شعبہ اور سرمایہ کار رابطوں کی سہولت سے محروم آبادی تک رسائی کے لیے سرمایہ کاری کے خطرات میں شراکت داری کریں۔
وفاقی وزیر نے اس امید کا اظہار کیا کہ اگر مواصلاتی رابطوں کو مصنوعی ذہانت کی ترقی کی بنیاد تسلیم کیا جائے تو آج انٹرنیٹ سے محروم 2.6 ارب افراد مستقبل میں ڈیجیٹل خدمات کے صارفین بننے کے ساتھ تخلیق کار، کاروباری افراد اور جدت پسند بھی بن سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس مقصد کے لیے شراکت داری اور تعاون کے لیے تیار ہے۔
گلوبل ڈیجیٹل اینڈ اے آئی سمٹ میں پاکستان کی نمائندگی کے دوران پیش کیے گئے مؤقف کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ مصنوعی ذہانت کے فوائد اسی وقت وسیع پیمانے پر حاصل کیے جا سکتے ہیں جب معیاری انٹرنیٹ، جدید مواصلاتی بنیادی ڈھانچے اور ڈیجیٹل آلات تک رسائی کو عام کیا جائے۔
پاکستان میں فائیو جی سروسز کا آغاز، آپٹیکل فائبر نیٹ ورک کی توسیع، سیٹلائٹ مواصلات کے لیے ضابطہ جاتی فریم ورک، مقامی اسمارٹ فون اسمبلنگ اور یونیورسل سروس فنڈ کے منصوبے اسی وسیع تر ڈیجیٹل حکمت عملی کے مختلف اجزا ہیں۔
آئندہ مرحلے میں ان اقدامات کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ تیز رفتار رابطوں کی سہولت بڑے شہروں سے نکل کر دیہی اور دور دراز علاقوں تک کس حد تک پہنچتی ہے، انٹرنیٹ عام صارفین کی استطاعت میں رہتا ہے یا نہیں، اور نوجوانوں سمیت معاشرے کے تمام طبقات ان سہولتوں کو تعلیم، روزگار اور معاشی ترقی کے لیے کس حد تک استعمال کر پاتے ہیں۔



