صحت

سورائسس جلد کی بیماری ہی نہیں، جسم کے دیگر نظاموں کو بھی متاثر کر سکتی ہے، پروفیسر ڈاکٹر نادیہ علی اظفر

موٹاپے، ذیابیطس اور کولیسٹرول کی زیادتی سمیت دیگر طبی مسائل سے بھی تعلق ہو سکتا ہے، مریضوں کی آگاہی کے لیے جناح ہسپتال لاہور میں واک کا اہتمام

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
قاسم بخا ری نمایندہ وایس آف جرمنی

لاہور (قاسم بخاری): پروفیسر ڈاکٹر نادیہ علی اظفر نے کہا ہے کہ سورائسس (Psoriasis) ایک دائمی خودکار مدافعتی بیماری ہے، جس کی بروقت تشخیص، مناسب طبی نگہداشت اور باقاعدہ علاج کے ذریعے علامات کو مؤثر طور پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بیماری کو محض جلد کا مسئلہ سمجھنا درست نہیں، کیونکہ بعض مریضوں میں یہ جوڑوں سمیت جسم کے دیگر نظاموں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ سورائسس کی علامات ظاہر ہونے پر مستند ماہرِ امراضِ جلد سے رجوع کیا جائے اور طبی مشورے کے بغیر ادویات استعمال کرنے سے گریز کیا جائے۔

عالمی یومِ سورائسس کے موقع پر قاسم بخاری کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر نادیہ علی اظفر نے کہا کہ سورائسس کے بارے میں عوامی آگاہی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بیماری سے متعلق درست معلومات کی کمی کے باعث بعض اوقات مریض اپنی علامات کو معمولی جلدی مسئلہ سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں یا مستند طبی مشورے کے بغیر مختلف ادویات اور علاج کے طریقے اختیار کر لیتے ہیں، جس سے مناسب تشخیص اور مؤثر علاج میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سورائسس مردوں، خواتین اور بچوں سمیت کسی بھی عمر کے افراد کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس بیماری میں جلد پر سرخ دھبے، موٹی تہہ اور سفید یا چاندی جیسے چھلکے نمودار ہو سکتے ہیں۔ بعض مریضوں کو شدید خارش، جلن، جلد میں درد اور متاثرہ حصوں میں تکلیف کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ علامات کی شدت ہر مریض میں مختلف ہو سکتی ہے، جبکہ بعض اوقات بیماری کی علامات وقفے وقفے سے بڑھتی اور کم ہوتی رہتی ہیں۔

سورائسس کیا ہے اور یہ بیماری کیوں ہوتی ہے؟

پروفیسر ڈاکٹر نادیہ علی اظفر کے مطابق سورائسس ایک خودکار مدافعتی بیماری ہے، جس میں جسم کا مدافعتی نظام جلد کے خلیات کی معمول کی نشوونما اور تجدید کے عمل کو متاثر کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جلد کے خلیات معمول سے زیادہ تیزی سے جمع ہونے لگتے ہیں، جس سے جلد پر موٹی تہیں، سرخی اور چھلکے بن سکتے ہیں۔

عام حالات میں جلد کے خلیات ایک مخصوص دورانیے میں بنتے اور جھڑتے رہتے ہیں، لیکن سورائسس میں یہ عمل تیز ہو جاتا ہے۔ اس وجہ سے جلد کی سطح پر خلیات جمع ہونے لگتے ہیں اور متاثرہ حصوں پر نمایاں دھبے بن سکتے ہیں۔

یہ بیماری ہر مریض میں ایک جیسی نہیں ہوتی۔ بعض افراد میں اس کی علامات جسم کے محدود حصوں، مثلاً کہنیوں، گھٹنوں، سر کی جلد یا کمر پر ظاہر ہوتی ہیں، جبکہ بعض مریضوں میں جسم کے زیادہ حصے متاثر ہو سکتے ہیں۔ ناخن بھی اس بیماری سے متاثر ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں ناخنوں پر گڑھے پڑنے، رنگت تبدیل ہونے یا ناخن کے بستر سے الگ ہونے جیسی علامات سامنے آ سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سورائسس کے بارے میں بنیادی معلومات حاصل کرنا اور علامات کو پہچاننا مریضوں کو بروقت طبی مدد فراہم کرنے کے لیے اہم ہے۔

کسی بھی عمر میں ظاہر ہونے والی بیماری

پروفیسر ڈاکٹر نادیہ علی اظفر نے کہا کہ سورائسس صرف بالغ افراد تک محدود نہیں بلکہ بچے بھی اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس لیے جلد پر غیر معمولی تبدیلیوں کو عمر کی بنیاد پر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

بچوں میں جلد کی بیماریوں کی درست تشخیص خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ مختلف جلدی مسائل کی علامات بظاہر ایک جیسی ہو سکتی ہیں، لیکن ان کے اسباب اور علاج مختلف ہوتے ہیں۔ اسی طرح بالغ افراد میں بھی جلد پر سرخ دھبے یا چھلکے نمودار ہونے کی صورت میں خود سے بیماری کی تشخیص کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے معائنہ کرانا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ سورائسس کی علامات بعض اوقات طویل عرصے تک برقرار رہ سکتی ہیں اور ان کی شدت میں اتار چڑھاؤ بھی آ سکتا ہے۔ مناسب علاج نہ ہونے کی صورت میں خارش، درد اور جلد پر نمایاں تبدیلیاں مریض کی روزمرہ زندگی کو متاثر کر سکتی ہیں۔

اس بیماری سے متعلق آگاہی کا مقصد صرف علامات کی شناخت نہیں، بلکہ مریضوں کو یہ سمجھانا بھی ہے کہ مناسب طبی نگہداشت کے ذریعے بیماری کو کنٹرول کرنے اور معیارِ زندگی بہتر بنانے کے امکانات موجود ہیں۔

جلد تک محدود نہیں، جوڑ بھی متاثر ہو سکتے ہیں

پروفیسر ڈاکٹر نادیہ علی اظفر نے خصوصی طور پر اس امر کی نشاندہی کی کہ سورائسس کو صرف جلد کی بیماری سمجھنا درست نہیں۔ بعض مریضوں میں اس کا تعلق جوڑوں کی سوزش سے بھی ہو سکتا ہے، جسے سورائٹک آرتھرائٹس (Psoriatic Arthritis) کہا جاتا ہے۔

اس کیفیت میں جوڑوں میں درد، سوجن اور اکڑن جیسی علامات سامنے آ سکتی ہیں۔ بعض افراد کو صبح کے وقت جوڑوں میں زیادہ اکڑن محسوس ہوتی ہے، جبکہ بعض مریضوں میں انگلیوں یا پاؤں کی انگلیوں میں سوجن بھی پیدا ہو سکتی ہے۔

اگر کسی مریض کو سورائسس کے ساتھ جوڑوں میں مسلسل درد، سوجن یا اکڑن کا سامنا ہو تو اسے اس بارے میں اپنے معالج کو ضرور آگاہ کرنا چاہیے۔ بروقت تشخیص سے جوڑوں کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کو کم کرنے اور مناسب علاج شروع کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کو بیماری کی علامات پر توجہ دینی چاہیے اور جلد کے مسائل کے ساتھ جسم میں پیدا ہونے والی دوسری غیر معمولی تبدیلیوں کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

موٹاپا، ذیابیطس اور کولیسٹرول سے تعلق

پروفیسر ڈاکٹر نادیہ علی اظفر کے مطابق سورائسس کا تعلق بعض دیگر طبی مسائل سے بھی ہو سکتا ہے، جن میں موٹاپا، ذیابیطس اور خون میں کولیسٹرول کی زیادتی شامل ہیں۔

طبی تحقیق کے مطابق سورائسس کے مریضوں میں بعض قلبی اور میٹابولک مسائل کا خطرہ بھی نسبتاً زیادہ پایا جا سکتا ہے۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مریض لازماً ان بیماریوں کا شکار ہو گا۔ ہر فرد کی طبی کیفیت، خاندانی تاریخ، طرزِ زندگی اور دیگر عوامل مختلف ہوتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سورائسس کے مریضوں کے لیے مجموعی صحت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اس ضمن میں متوازن غذا، جسمانی سرگرمی، مناسب وزن برقرار رکھنے اور ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق ضروری طبی معائنے کرانے سے فائدہ ہو سکتا ہے۔

اگر کسی مریض کو پہلے سے ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول کی زیادتی یا کوئی اور دائمی بیماری لاحق ہو تو اسے اپنے معالج کو اس بارے میں مکمل معلومات فراہم کرنی چاہییں تاکہ علاج کے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھا جا سکے۔

بروقت تشخیص کیوں ضروری ہے؟

پروفیسر ڈاکٹر نادیہ علی اظفر نے کہا کہ سورائسس کی علامات کو نظرانداز کرنے کے بجائے بروقت مستند طبی رائے حاصل کرنا ضروری ہے۔ جلد پر مسلسل سرخی، موٹے چھلکے، خارش یا بار بار پیدا ہونے والی سوزش کی صورت میں ماہرِ امراضِ جلد سے رجوع کیا جانا چاہیے۔

سورائسس کی تشخیص عموماً جلد کے معائنے اور مریض کی طبی تاریخ کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ بعض صورتوں میں ڈاکٹر دوسری جلدی بیماریوں سے فرق واضح کرنے کے لیے اضافی معائنہ یا جلد کے نمونے کی جانچ تجویز کر سکتے ہیں۔

بروقت تشخیص سے بیماری کی نوعیت اور شدت کا اندازہ لگانے میں مدد ملتی ہے، جس کے مطابق مریض کے لیے مناسب علاج کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر مریض کے لیے ایک ہی علاج موزوں نہیں ہوتا۔ علاج کا انتخاب متاثرہ جلد کے رقبے، علامات کی شدت، جسم کے متاثرہ حصوں، مریض کی عمر اور دیگر طبی عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔

علاج کے مختلف طریقے اور طبی نگرانی کی اہمیت

سورائسس کے علاج کے لیے مختلف طریقے موجود ہیں، جن میں جلد پر لگائی جانے والی مخصوص ادویات، فوٹو تھراپی اور بعض مریضوں کے لیے جسم کے اندر اثر کرنے والی ادویات شامل ہو سکتی ہیں۔

ہلکی علامات کی صورت میں ڈاکٹر مخصوص کریم یا مرہم تجویز کر سکتے ہیں، جبکہ زیادہ شدید یا وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی بیماری میں فوٹو تھراپی یا دیگر علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ بعض مریضوں کے لیے جدید حیاتیاتی ادویات (Biologics) بھی زیرِ غور آ سکتی ہیں۔

تاہم، ان طریقوں میں سے کسی ایک کا انتخاب مریض کی طبی کیفیت اور ڈاکٹر کی تشخیص کے مطابق ہونا چاہیے۔ بعض ادویات کے مضر اثرات ہو سکتے ہیں اور ان کے استعمال کے دوران طبی نگرانی یا مخصوص ٹیسٹوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر نادیہ علی اظفر نے خود علاجی سے گریز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مریضوں کو غیر مصدقہ نسخوں، غیر ضروری ادویات اور ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر علاج میں تبدیلی سے اجتناب کرنا چاہیے۔

مریضوں کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ سورائسس ایک دائمی بیماری ہے، جس میں علامات کو قابو میں رکھنے کے لیے بعض اوقات طویل عرصے تک علاج اور باقاعدہ طبی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔

خود سے ادویات کا استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے

جلد کی بیماریوں کے لیے بازار میں دستیاب مختلف کریموں اور مرہموں کا غیر محتاط استعمال بعض اوقات مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ خصوصاً سٹیرائڈز پر مشتمل ادویات کو ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر استعمال کرنا مناسب نہیں، کیونکہ ان کا غلط استعمال جلد کو نقصان پہنچا سکتا ہے یا بعض علامات کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

اسی طرح کسی دوسرے مریض کے لیے تجویز کردہ دوا کو اپنی علامات کے لیے استعمال کرنا بھی درست نہیں، کیونکہ بظاہر ملتی جلتی علامات کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر نادیہ علی اظفر نے اس بات پر زور دیا کہ مستند ماہرِ امراضِ جلد سے رجوع کرنے سے بیماری کی درست تشخیص اور موزوں علاج کے انتخاب میں مدد ملتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے غیر مصدقہ طبی دعووں پر انحصار کرنے کے بجائے مستند طبی ذرائع سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔

سورائسس اور ذہنی و سماجی صحت

سورائسس کے اثرات صرف جسمانی تکلیف تک محدود نہیں رہتے۔ جلد پر نمایاں دھبوں اور چھلکوں کی وجہ سے بعض مریضوں کو معاشرتی رویوں، احساسِ کمتری، ذہنی دباؤ یا دوسروں کے سامنے آنے میں جھجھک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

بعض افراد غلط فہمی کی بنیاد پر سورائسس کو متعدی بیماری سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ یہ بیماری عام جسمانی رابطے، ہاتھ ملانے یا ساتھ بیٹھنے سے دوسرے شخص کو منتقل نہیں ہوتی۔

اس بارے میں درست آگاہی پیدا کرنا ضروری ہے تاکہ مریضوں کو غیر ضروری سماجی فاصلے، امتیازی رویوں یا شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

مریضوں کے اہلِ خانہ، دوستوں اور معاشرے کو چاہیے کہ وہ بیماری کو سمجھیں، مریضوں کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اختیار کریں اور انہیں مناسب علاج حاصل کرنے کی ترغیب دیں۔

اگر بیماری کے باعث مریض ذہنی دباؤ یا سماجی تنہائی محسوس کرے تو اسے اس پہلو پر بھی اپنے معالج سے بات کرنی چاہیے۔ جسمانی علاج کے ساتھ جذباتی اور سماجی معاونت مریض کی مجموعی صحت اور معیارِ زندگی بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلیوں کی اہمیت

سورائسس کے مریضوں کے لیے علاج کے ساتھ صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرنا بھی اہم ہے۔ متوازن غذا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی، مناسب نیند اور وزن کو صحت مند حدود میں رکھنے سے مجموعی صحت بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

جلد کی خشکی سے بچنے کے لیے مناسب موئسچرائزر کا استعمال بھی مفید ہو سکتا ہے۔ بعض مریضوں میں ذہنی دباؤ، جلد پر چوٹ یا مخصوص عوامل علامات کو بڑھا سکتے ہیں، تاہم ہر مریض میں محرکات ایک جیسے نہیں ہوتے۔

مریضوں کو چاہیے کہ وہ اپنی علامات پر توجہ دیں اور اگر کسی مخصوص عامل کے بعد بیماری میں اضافہ محسوس ہو تو اس بارے میں ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ طرزِ زندگی میں تبدیلیاں طبی علاج کا متبادل نہیں بلکہ اس کے ساتھ معاون کردار ادا کر سکتی ہیں۔ مریض کو اپنی دوا یا علاج کا طریقہ تبدیل کرنے سے پہلے اپنے معالج سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔

اردو زبان میں آگاہی کا مواد تیار

پروفیسر ڈاکٹر نادیہ علی اظفر نے بتایا کہ سورائسس کے بارے میں عوامی شعور اجاگر کرنے اور مریضوں کی رہنمائی کے لیے اردو زبان میں آگاہی کا مواد بھی تیار کیا گیا ہے۔

اردو میں مستند طبی معلومات کی فراہمی اس لیے اہم ہے کہ ہر فرد کے لیے انگریزی زبان میں موجود طبی مواد کو سمجھنا آسان نہیں ہوتا۔ اپنی زبان میں بیماری کی علامات، تشخیص، علاج اور احتیاطی تدابیر کے بارے میں معلومات ملنے سے مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کو بہتر فیصلے کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو سورائسس سے متعلق درست معلومات فراہم کرنا، بیماری کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنا اور مریضوں کو مستند طبی سہولیات تک رسائی کی ترغیب دینا ضروری ہے۔

آگاہی کے مواد کے ذریعے یہ پیغام بھی عام کیا جا سکتا ہے کہ سورائسس قابلِ علاج اور قابلِ کنٹرول علامات رکھنے والی ایک دائمی بیماری ہے، اور اس میں مبتلا افراد کو معاشرتی تعاون اور مناسب طبی نگہداشت فراہم کی جانی چاہیے۔

عالمی یومِ سورائسس پر جناح ہسپتال لاہور میں آگاہی واک

عالمی یومِ سورائسس کے موقع پر بیماری کے بارے میں شعور اجاگر کرنے اور عوام کو اس کی علامات، تشخیص اور علاج سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے لیے جناح ہسپتال لاہور میں آگاہی واک کا اہتمام بھی کیا گیا۔

اس سرگرمی کا بنیادی مقصد سورائسس کے بارے میں عوامی آگاہی کو فروغ دینا، مریضوں کو بروقت طبی مشورہ حاصل کرنے کی ترغیب دینا اور اس بیماری سے متعلق غلط فہمیوں کو دور کرنا ہے۔

ایسی آگاہی سرگرمیاں طبی ماہرین اور عوام کے درمیان رابطے کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہیں۔ ان کے ذریعے لوگوں کو یہ سمجھنے کا موقع ملتا ہے کہ جلد کی مسلسل یا غیر معمولی علامات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور بیماری کی درست تشخیص کے لیے مستند طبی ماہر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

جناح ہسپتال لاہور میں منعقدہ واک کو اسی سلسلے کی ایک کوشش قرار دیا جا سکتا ہے، جس کا مقصد مریضوں کی رہنمائی اور معاشرے میں بیماری کے بارے میں مثبت اور درست شعور پیدا کرنا ہے۔

عوام کے لیے اہم پیغام

پروفیسر ڈاکٹر نادیہ علی اظفر کے انٹرویو سے یہ پیغام سامنے آتا ہے کہ سورائسس کو محض جلد پر نمودار ہونے والے دھبوں تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس کی بروقت تشخیص، مناسب علاج اور مریض کی مجموعی صحت پر توجہ دینا ضروری ہے۔

جلد پر سرخ دھبوں، سفید چھلکوں، مسلسل خارش یا دیگر غیر معمولی علامات کی صورت میں مستند ماہرِ امراضِ جلد سے رجوع کیا جائے۔ اگر جلد کی علامات کے ساتھ جوڑوں میں درد، سوجن یا اکڑن بھی ہو تو اس بارے میں بھی ڈاکٹر کو آگاہ کیا جائے۔

مریضوں کو خود سے ادویات استعمال کرنے، غیر مصدقہ علاج آزمانے اور طبی مشورے کے بغیر تجویز کردہ ادویات بند کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

مجموعی طور پر درست معلومات، بروقت طبی مشورے، مناسب علاج اور معاشرتی تعاون کے ذریعے سورائسس کے مریضوں کی زندگی بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ عالمی یومِ سورائسس کے موقع پر آگاہی سرگرمیوں کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ اس بیماری کو سمجھا جائے، مریضوں کے ساتھ مثبت رویہ اختیار کیا جائے اور انہیں معیاری طبی نگہداشت کے حصول میں مدد فراہم کی جائے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button