کالمزناصف اعوان

دہائیوں کے بگاڑ کو‘ کون ٹھیک کرے ؟……..ناصف اعوان

اگر چہ وہ ازاں بعد اس جیسا منصوبہ خود شروع کرکے عوام کی ہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش کرتی ہے مگر باشعور عوام کو مطمئن نہیں کر پاتی۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

کسی بھی حکومت کی سنجیدگی اور عوام سے ہمدردی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب وہ اقتدار میں آتی ہے تو پہلے والی حکومت کے زیادہ تر منصوبوں پر پانی پھیر دیتی ہے تاکہ اس کو کوئی سیاسی فائدہ حاصل نہ ہونے پائے جبکہ اگر وہ انہیں پایہ تکمیل تک پہنچاتی ہے تو عوام کی نظروں میں اس کا قد بڑھتا ہے کم نہیں ہوتا مگر جب وہ منصوبوں کی تکمیل کے عمل کو روکتی ہے تو اس کی سیاسی ساکھ سخت متاثر ہوتی ہے۔ اگر چہ وہ ازاں بعد اس جیسا منصوبہ خود شروع کرکے عوام کی ہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش کرتی ہے مگر باشعور عوام کو مطمئن نہیں کر پاتی۔ اس روایتی سیاسی سوچ نے اب تک ملک کو بے حد و حساب نقصان پہنچایا ہے جس سے لوگوں کی کثیر تعداد غربت کی لکیر کے نیچے تیزی سےآچکی ہے عالمی بینک نے باقاعدہ اس حوالے سے رپورٹ شائع کی ہے ۔ اِس وقت پیدا ہونے والا ہر بچہ قریباً تین لاکھ سے اوپر کا مقروض ہے اور اس میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ ملکی نظم و نسق چلانے کے لئے ملک کے اندر سے مطلوبہ رقوم حاصل نہیں ہو رہی لہذا عالمی مالیاتی اداروں سے قرضہ لینا پڑ رہا ہے ۔
کہا جاتا ہے کہ طالع آزماؤں کی حکومتوں میں کافی ترقی ہوئی عوام کو بہت سے ریلیف ملے۔ یہ بات کسی حد تک ٹھیک بھی ہے مگر سوال یہ ہے کہ ان حکومتوں نے وہ منصوبے پایہ تکمیل کو نہیں پہنچائے جو ملک کو خود کفالت کی منزل تک لے جاتے۔ ان کے ادوار میں جو بھی کام ہوا وہ سطحی و عارضی تھا۔ اسی طرح کا منتخب حکومتوں کا بھی طریقہ کار رہا۔ انہیں تو سب سے زیادہ اپنی کُرسی کی فکر ہوتی کہ کہیں وہ چِھن نہ جائے لہذا آج صورت حال انتہائی تکلیف دہ نظر آتی ہے ۔ معاشی و سماجی دونوں طرح سے مگر اقتدار والوں کی حالت بہتر ہی نہیں بہترین دکھائی دیتی ہے وہ کروڑ پتی تھے تو اب کھرب پتی بن گئے ہیں ۔ باوجود اس کے کہ ملک کا بال بال قرضوں میں جکڑا ہوا ہے اور لوگ دہائی دے رہے ہیں۔ یہ لوگ بے دریغ عوامی سرمایے کا استعمال کر رہے ہیں۔ بدعنوانی کے نئے ریکارڈز قائم ہو رہے ہیں مگر انہیں کوئی خوف نہیں کوئی احساس نہیں اگر ایسا ہوتا تو ملک کے معاشی حالات افسوسناک اور تشویشناک نہ ہوتے۔ حکمرانوں نے عوام کا ہمدرد و غم خوار ہونے کا کبھی بھی ثبوت پیش نہیں کیا۔ بس ان نے ہمیشہ مداریاں ہی پیش کی ہیں کہ ٹیکس اکٹھا کرنے کے لئے طرح طرح کے حربے اختیار کیے جاتے ہیں۔ عوام کی کبھی بھی نہیں مانی گئی مگر آئی ایم نے جو کہا اس کو خندہ پیشانی سے تسلیم کیا گیا۔
بہرحال آج معاشی بحران خوفناک صورت اختیار کر چکا ہے اس طرح سیاسی بحران بھی‘ مگر مجال ہے حکمرانوں کے دل میں کوئی ہمدردانہ لہر ابھری ہو وہ اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں ۔ملکوں ملکوں گھوم پھر رہے ہیں اور کہہ یہ رہے ہیں کہ وہ عوام کی بہتری کے لئے دورے کر رہے ہیں مگر جب واپس لوٹتے ہیں تو ہاتھ خالی ہوتے ہیں کیونکہ کوئی بھی ملک امداد یا فنڈز دینے کو تیار نہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ یہ لوگ امدادی اور فنڈز کا زیادہ استعمال اپنی ذات پر کرتے ہیں اہل اقتدار کو جان لینا چاہیے کہ جب عام آدمی ان سے متعلق آگاہی رکھتا ہے تو دوسرے ملکوں کے حکمران کیوں نہیں جانتے ہوں گے کہ ان کی بھیجی گئیں رقوم کا استعمال متعلقہ منصوبوں پر نہیں ہوتا‘ جو ہوتا بھی ہے وہ معمولی اور پھر اس میں کمیشن خوری بھی ہوتی ہے۔
اس صورت میں حکومتی عہدیدار جتنے مرضی یورپی یا مغربی ملکوں کے دورے کریں ان کا کوئی فائدہ نہیں الٹا خزانے پر بوجھ پڑتا ہے کیونکہ خصوصی جہازوں سے جب جایا جاتا ہے تو بہت خرچ آتا ہے پھر جو لوگ کثیر تعداد میں ہمراہ ہوتے ہیں ان کے اخراجات بھی کافی ہوتے ہیں انہوں نے خریدو فروخت بھی کرنا ہوتی ہے جو مہنگائی کے مارے لوگوں کے ٹیکسوں سے کی جاتی ہے لہذا دورہ تب کیا جائے جب کچھ حاصل ہونے کی امید ہو اور کسی دورے میں چند افراد ہونے چائیں مگر بچت پالیسی پر کہاں عمل کیا جاتا ہےکیونکہ عوام کی خدمت کا جذبہ ہی جب سرد پڑ گیا ہو تو بچت پالیسی کیسی ؟
ایسے اللوں تللوں کی وجہ سے ہی معیشت گہری کھائی میں گری ہوئی ہے۔ اس حوالے سے ہماری حزب اختلاف کی جو جماعتیں ہیں بہت کم اپنی آواز بلند کرتی ہیں۔ ان کا مقصد صرف حکومتوں کو اقتدار سے الگ کرنا ہوتا ہے لہذا وہ اس کے لئے کانفرنسیں کرتی ہیں میٹنگیں کرتی ہیں اور جلسے کرتی ہیں مگر ان سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ موجودہ حزب اختلاف بھی حکومت کو محروم اقتدار کرنا چاہتی ہے لہذا اس نے دوڑ دھوپ شروع کر رکھی ہے پچھلے دنوں بھی ایک لانگ مارچ بھی کیا نتیجہ یہ نکلا کہ اس کی کے پی کے کی حکومت ہاتھ سے چلی گئی۔ جبکہ اسے چاہیے کہ اب وہ عوامی مسائل کے لئے شور مچائے تاکہ حکومت کو مجبور کیا جا سکے کہ وہ ٹیکسوں کی بھر مار سے ہاتھ پیچھے کھینچ لے۔ مہنگائی کو قابو کرنے کی کوشش کرے۔ اصل میں جب کسی جماعت کے دماغ میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ اس کی حق تلفی ہوئی ہے تو وہ دوسرے پہلوؤں کو ایک طرف رکھ دیتی ہے اب بھی یہی کچھ دیکھنے کو ملتا ہے۔
اسی چکر میں اناسی برس بیت گئے ہیں کہ حکومتیں اور حزب اختلاف کی جماعتیں کبھی بھی مل کر نہیں بیٹھیں لہذا معاشی و سیاسی حالات تبدیل نہیں ہو سکے اور اس وقت صورت حال بڑی پریشان کُن نظر آتی ہے اور لوگ کہنے لگے ہیں کہ اب یہ حکومت گھر چلی جائے کیونکہ وہ ان کی زندگی کو پُر آسائش نہیں بنا سکی مگر جو آئے گی وہ بھی ایسی ہی ہو گی وہی چہرے وہی سوچ ہو گی کیونکہ دونوں طرف کی جماعتیں ایک جیسی ہی ہوتی ہیں‘ جو رائج نظام زندگی کے خلاف نہیں ہوتیں۔ وہ عوام کو دھوکا دیتی ہیں بیوقوف بناتی ہیں اور اندھیرے میں رکھتی ہیں۔ عوام کو اپنے پیچھے لگا کر اصل مقصد سے دور کرتی ہیں۔ اس وقت جو جماعتیں بر سر اقتدار ہیں اور جو ان کے سامنے دوسری جانب کھڑی ہیں سب ہی عوام کو فریب دے رہی ہیں کیونکہ ان میں سے آئندہ جو بھی اقتدار میں آئیں گی وہ ویرانوں میں بہار نہیں لا سکیں گی کیونکہ یہ نظام جس کے تحت آئیں گی وہ انہیں اِدھر سے اُدھر ہلنے نہیں دے گا دیکھ لیجئے اب تک وہ ترقی نہیں ہو سکی جس کی عوام نے خواہش کی ۔ وجہ یہی ہے کہ اُنہوں نے حالات کو تبدیل نہیں کرنا ہوتا ‘ اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنا ہوتی ہے لہذا اناسی برس سے وہ کھیل جاری ہے۔جو تب ختم ہو گا جب لوگوں میں یہ احساس گہرا ہو جائے گا کہ اب انہیں کھرب پتی بننے والی جماعتوں سے یہ امید نہیں رکھنی چاہیے کہ وہ آٹھ دہائیوں کے بگاڑ کو ٹھیک کر سکیں گی۔ اب تو چاہیے نیا جذبہ اور نئی سوچ جو امید کا دامن تھامے لوگوں کے لئے آسائشوں کے در کھول دے !

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button