
امریکہ ایران مذاکرات کی بحالی کے لیے قطر کی سفارتی کوششیں تیز، تہران میں اعلیٰ سطحی رابطے
قطر، پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کی حمایت سے سفارتی پیش رفت کی کوششیں؛ ایران نے امریکی بحری حصار ختم کرنے اور منجمد اثاثے واپس کرنے کا مطالبہ کر دیا
تہران: ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی کوششوں میں تیزی آ گئی ہے، جبکہ قطر نے دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کو آگے بڑھانے کے لیے اپنا کردار مزید فعال کر دیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق جمعے کے روز ایک اعلیٰ سطحی قطری وفد تہران پہنچا، جہاں ایرانی حکام کے ساتھ دوطرفہ تعلقات، خطے کی صورتِ حال اور امریکہ کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کی بحالی پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایک طرف ثالث ممالک ایران اور امریکہ کے درمیان کسی قابلِ عمل مفاہمت تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں، تو دوسری جانب واشنگٹن کی جانب سے ایران پر دباؤ برقرار رکھنے اور ممکنہ نئے عسکری اقدامات کی تیاریوں سے متعلق اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔
سفارتی کوششوں کا بنیادی مقصد جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کرنا، جوہری تنازع پر مذاکرات کی راہ ہموار کرنا اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی کے لیے ایسا طریقۂ کار تلاش کرنا ہے جسے دونوں فریق قبول کر سکیں۔ تاہم، جوہری سرگرمیوں، اقتصادی پابندیوں، منجمد ایرانی اثاثوں اور امریکی بحری حصار کے معاملے پر دونوں ممالک کے مؤقف میں نمایاں اختلافات برقرار ہیں۔
قطری وفد کی تہران آمد، اعلیٰ ایرانی حکام سے ملاقاتیں متوقع
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق قطری وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے ایک سینئر مشیر کی سربراہی میں وفد تہران پہنچا ہے۔ وفد ایرانی اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کرے گا، جن میں ایران اور قطر کے دوطرفہ تعلقات اور علاقائی پیش رفت زیرِ بحث آنے کی توقع ہے۔
قطر پہلے بھی خطے میں سفارتی رابطوں اور تنازعات کے حل کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ موجودہ صورتِ حال میں اس کی کوششیں ایران اور امریکہ کے درمیان رابطوں کو برقرار رکھنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے مشترکہ بنیاد تلاش کرنے پر مرکوز دکھائی دیتی ہیں۔
قطری وفد کا دورہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں صرف جوہری پروگرام تک محدود نہیں رہیں بلکہ ان میں بحری راستوں کی سلامتی، تیل کی عالمی تجارت، اقتصادی پابندیوں اور علاقائی جنگ بندی جیسے معاملات بھی شامل ہو گئے ہیں۔
تاہم، تہران میں ہونے والی ملاقاتوں کے بارے میں فراہم کردہ معلومات میں کسی حتمی معاہدے، طے شدہ مذاکراتی تاریخ یا فریقین کی جانب سے قبول کردہ کسی نئی شرط کا اعلان شامل نہیں۔ اس لیے اس دورے کو فی الحال سفارتی رابطوں کی بحالی کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ کسی حتمی پیش رفت کے طور پر۔
جے ڈی وینس کا پیغام اور ممکنہ مذاکراتی فریم ورک
ایرانی ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق قطری وفد کی آمد سے ایک روز قبل تہران کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا ایک پیغام موصول ہوا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ یہ پیغام قطری ثالثوں کے ذریعے ایرانی قیادت تک پہنچایا گیا۔
روزنامہ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق پیغام میں کسی مخصوص امن معاہدے کی حتمی شرائط کے بجائے ممکنہ مذاکراتی فریم ورک پر توجہ دی گئی تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارتی کوششوں کا ایک اہم مرحلہ یہ طے کرنا ہو سکتا ہے کہ مذاکرات کن اصولوں، موضوعات اور شرائط کے تحت آگے بڑھائے جائیں۔
مذاکراتی فریم ورک طے کرنے کا مقصد عموماً فریقین کے درمیان زیرِ بحث آنے والے معاملات، مذاکرات کی ترتیب اور ممکنہ سمجھوتوں کی حدود واضح کرنا ہوتا ہے۔ ایران اور امریکہ کے معاملے میں اس میں جوہری پروگرام، افزودہ یورینیم کے ذخیرے، اقتصادی پابندیوں، منجمد اثاثوں اور بحری راستوں کی صورتِ حال جیسے موضوعات شامل ہو سکتے ہیں۔
تاہم، پیغام کی تفصیلات اور اس پر ایران کے باضابطہ ردعمل کے بارے میں مکمل معلومات سامنے نہیں آئیں۔ اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تہران نے امریکی تجویز قبول کر لی ہے یا دونوں ممالک کسی حتمی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
قطر، پاکستان اور دیگر ممالک کی سفارتی کوششیں
امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق قطر، سعودی عرب، پاکستان، مصر اور ترکیہ کی حمایت سے ایران اور امریکہ کے درمیان ایسی تفہیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس کے ذریعے مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا سکیں اور مستقبل میں جنگ دوبارہ بھڑکنے کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔
ان ممالک کی سفارتی کوششیں ایسے وقت میں اہمیت اختیار کر گئی ہیں جب جنگ بندی کے باوجود بنیادی تنازعات حل نہیں ہو سکے۔ اگر مذاکرات بحال نہ ہوئے تو خطے میں دوبارہ فوجی کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ برقرار رہ سکتا ہے، جس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بحری تجارت اور علاقائی سلامتی پر پڑ سکتے ہیں۔
قطر کی کوششوں میں دونوں فریقوں کے مؤقف کے درمیان مشترکہ بنیاد تلاش کرنا شامل ہے، جبکہ پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کی حمایت سفارتی رابطوں کو وسیع تر علاقائی تناظر فراہم کر سکتی ہے۔
رپورٹ میں امریکی وسط مدتی انتخابات، جن کی تاریخ 3 نومبر بتائی گئی ہے، سے پہلے سفارتی پیش رفت کی اہمیت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس تناظر میں ثالث ممالک کی کوشش ہے کہ موجودہ جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور مستقبل میں کشیدگی دوبارہ بڑھنے کے خدشات کم کرنے کے لیے مذاکراتی راستہ کھولا جائے۔
تاہم، ان کوششوں کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ایران اور امریکہ اپنے بنیادی مطالبات میں کس حد تک لچک دکھانے کے لیے تیار ہوتے ہیں اور آیا وہ ایک دوسرے کے اقدامات کو قابلِ اعتماد ضمانتوں کے ساتھ جوڑنے پر اتفاق کر سکتے ہیں۔
جوہری تنصیبات کے معائنے کے بدلے امریکی پابندیوں میں نرمی کی تجویز
مذاکرات کی بحالی کے لیے زیرِ غور تجاویز میں ایک اہم نکتہ ایرانی جوہری تنصیبات تک بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے معائنہ کاروں کی رسائی ہے۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق مجوزہ مفاہمت کے تحت ایران ان جوہری تنصیبات کے دوروں کی اجازت دے سکتا ہے جنہیں بمباری کا نشانہ بنایا گیا تھا، جبکہ اس کے بدلے امریکہ بعض پابندیوں میں نرمی پر غور کر سکتا ہے۔
یہ تجویز اس لیے اہم ہے کہ جوہری تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان، وہاں موجود مواد کی صورتِ حال اور ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں قابلِ اعتماد معلومات کا حصول کسی بھی ممکنہ معاہدے میں مرکزی حیثیت اختیار کر سکتا ہے۔
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی جوہری مواد کے استعمال اور متعلقہ تنصیبات کی نگرانی کے حوالے سے اہم بین الاقوامی ادارہ ہے۔ اس کے معائنہ کاروں کی رسائی سے جوہری سرگرمیوں کے بارے میں معلومات کی تصدیق اور نگرانی کے طریقۂ کار کو واضح کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تاہم، بمباری سے متاثرہ تنصیبات کے معائنے کے لیے صرف دورے کی اجازت کافی نہیں ہوگی۔ معائنہ کاروں کی رسائی کی حدود، حفاظتی انتظامات، متعلقہ معلومات کی دستیابی اور نگرانی کے طریقۂ کار جیسے معاملات بھی طے کرنا پڑ سکتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی پابندیوں میں نرمی کی نوعیت بھی اہم سوال ہوگی۔ یہ واضح ہونا ضروری ہوگا کہ کون سی پابندیاں نرم کی جائیں گی، ان پر عمل درآمد کب ہوگا اور آیا یہ نرمی مستقل ہوگی یا ایران کی جانب سے مخصوص اقدامات سے مشروط رہے گی۔
فراہم کردہ معلومات میں ان تجاویز کو ممکنہ مذاکراتی راستے کے طور پر بیان کیا گیا ہے؛ انہیں کسی طے شدہ یا باضابطہ طور پر منظور شدہ معاہدے کی شرائط نہیں سمجھنا چاہیے۔
افزودہ یورینیم کا ذخیرہ مذاکرات میں اہم رکاوٹ
ایکسیوس کے مطابق ایک باخبر علاقائی ذریعے نے بتایا ہے کہ واشنگٹن ایران سے اپنے افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے دست بردار ہونے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ دوسری جانب ایران کسی بھی رعایت سے پہلے امریکی بحری حصار کے خاتمے اور بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی واگزاری پر اصرار کر رہا ہے۔
یہ اختلاف مذاکرات کے سب سے پیچیدہ پہلوؤں میں سے ایک ہو سکتا ہے، کیونکہ دونوں ممالک بنیادی معاملات میں مختلف ترجیحات رکھتے ہیں۔
امریکہ کی جانب سے افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر مطالبہ جوہری پروگرام سے متعلق خدشات کو محدود کرنے کی کوشش کے طور پر سامنے آتا ہے۔ تاہم، ایران اس معاملے پر کسی بھی ممکنہ سمجھوتے کو اقتصادی دباؤ میں کمی اور اپنے مالی وسائل تک رسائی جیسے مطالبات سے جوڑ رہا ہے۔
یہ صورتِ حال مذاکرات میں ایک بنیادی سوال پیدا کرتی ہے: کیا دونوں فریق پہلے اعتماد سازی کے اقدامات کریں گے، یا ہر جانب سے رعایت اسی وقت دی جائے گی جب دوسرا فریق اپنے وعدوں پر عمل درآمد شروع کرے؟
اگر جوہری نگرانی، پابندیوں میں نرمی، منجمد اثاثوں اور بحری حصار کے معاملات کو کسی مشترکہ مرحلہ وار منصوبے میں شامل کیا جا سکے تو مذاکرات کے لیے گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس اگر ہر فریق دوسرے سے پہلے مکمل رعایت کا مطالبہ کرتا رہا تو سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہو سکتی ہیں۔
جنگ بندی کے باوجود مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار
فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جنگ 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی۔ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جبکہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بھی محدود ہو گئی۔
اس تنازع کے اثرات خطے کی سلامتی سے آگے بڑھ کر عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل تک پھیل گئے۔ آبنائے ہرمز خلیج سے عالمی منڈیوں تک تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے۔ یہاں جہاز رانی میں رکاوٹ یا غیر یقینی صورتِ حال عالمی توانائی منڈیوں اور تجارتی سرگرمیوں پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اپریل میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا، جس کے بعد قطر اور پاکستان امن مذاکرات کی بحالی کے لیے ثالثی کر رہے ہیں۔ تاہم، جنگ بندی کے باوجود اب تک کوئی مستقل امن معاہدہ سامنے نہیں آیا۔
یہ فرق اہم ہے کہ جنگ بندی کا مقصد فوری طور پر لڑائی روکنا یا اس میں کمی لانا ہو سکتا ہے، جبکہ مستقل معاہدے کے لیے تنازع کی بنیادی وجوہات، سکیورٹی ضمانتوں اور اختلافات کے حل کے طریقۂ کار پر اتفاق درکار ہوتا ہے۔
موجودہ صورتِ حال میں سفارتی کوششوں کا امتحان یہ ہوگا کہ آیا جنگ بندی کو پائیدار سیاسی سمجھوتے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔
عباس عراقچی کا بیان: جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز پر غور
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کے روز بتایا کہ تہران قطر اور پاکستان کے ساتھ جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے منصوبے پر غور کر رہا ہے۔
یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ ایران کی سفارتی ترجیحات میں جنگ کے خاتمے کے ساتھ بحری راستے کی بحالی بھی شامل ہے۔ آبنائے ہرمز کی صورتِ حال ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے لیے محض ایک ضمنی معاملہ نہیں بلکہ اس کا براہِ راست تعلق علاقائی سلامتی، اقتصادی دباؤ اور عالمی توانائی کی ترسیل سے ہے۔
اگر بحری راستے کی بحالی کے لیے کوئی قابلِ عمل انتظام طے پاتا ہے تو اس سے تجارتی جہاز رانی میں بہتری اور خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، اس کے لیے فریقین کو جہازوں کی محفوظ آمدورفت، فوجی سرگرمیوں اور ممکنہ خلاف ورزیوں سے متعلق معاملات پر بھی اتفاق کرنا ہوگا۔
عراقچی کے بیان سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایران مذاکراتی عمل میں قطر اور پاکستان کے کردار کو اہمیت دے رہا ہے۔ تاہم، ان ممالک کی ثالثی کی کوششیں اسی وقت نتیجہ خیز ہو سکتی ہیں جب امریکہ اور ایران دونوں کسی مشترکہ منصوبے پر عملی طور پر آگے بڑھنے پر آمادہ ہوں۔
امریکی بحری حصار اور ایرانی اقتصادی دباؤ
مذاکراتی کوششوں کے باوجود امریکہ ایرانی بندرگاہوں کا بحری حصار جاری رکھے ہوئے ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق اس اقدام سے ایران کی تیل برآمد کرنے اور تجارتی سرگرمیاں انجام دینے کی صلاحیت مزید محدود ہو رہی ہے۔
ایران کے لیے بندرگاہوں اور بحری تجارت پر پابندیوں کا خاتمہ ایک اہم مطالبہ ہے، کیونکہ اس کا تعلق نہ صرف تیل کی برآمدات بلکہ مجموعی اقتصادی سرگرمیوں سے بھی ہے۔
دوسری جانب امریکہ کی جانب سے دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملی مذاکرات میں ایران سے رعایتیں حاصل کرنے کے مقصد سے منسلک ہو سکتی ہے۔ تاہم، اس حکمت عملی کے اثرات صرف مذاکراتی میز تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کا تعلق علاقائی تجارت، توانائی کی ترسیل اور ممکنہ جوابی اقدامات سے بھی ہو سکتا ہے۔
اس طرح دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں ایک بنیادی اختلاف یہ ہے کہ ایران کسی بھی بڑی رعایت سے پہلے اقتصادی اور بحری دباؤ ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ امریکہ جوہری پروگرام سے متعلق اقدامات کو ترجیح دیتا دکھائی دیتا ہے۔
یہی اختلاف کسی ممکنہ معاہدے کی ترتیب اور اس پر عمل درآمد کے طریقۂ کار کو اہم بنا دیتا ہے۔
ایران کے سات مطالبات، جنگ بندی اور منجمد اثاثوں کی واگزاری شامل
فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق تہران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے واشنگٹن کے سامنے سات شرائط تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان میں پورے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی، بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی واگزاری، ایرانی تیل کے شعبے سے پابندیوں کا خاتمہ اور امریکی بحری حصار ختم کرنا شامل ہیں۔
ان مطالبات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران موجودہ تنازع کو صرف جوہری پروگرام تک محدود نہیں سمجھتا بلکہ اسے علاقائی سلامتی، اقتصادی خودمختاری اور اپنے مالی وسائل تک رسائی کے وسیع تر تناظر میں دیکھ رہا ہے۔
پورے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کا مطالبہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ایران کسی ایسے انتظام کو ترجیح دے سکتا ہے جس میں صرف ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے بجائے خطے کے دوسرے محاذوں کو بھی شامل کیا جائے۔
منجمد اثاثوں کی واگزاری اور تیل کے شعبے پر پابندیوں کا خاتمہ ایران کے اقتصادی مطالبات کا حصہ ہیں، جبکہ بحری حصار ختم کرنے کا مطالبہ تجارت اور سمندری راستوں تک رسائی سے متعلق ہے۔
تاہم، فراہم کردہ متن میں ان سات شرائط کی مکمل فہرست شامل نہیں۔ اس لیے مذکورہ نکات کو ایران کے بیان کردہ اہم مطالبات کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے، لیکن تمام سات شرائط کی تفصیلات کے بارے میں مزید تصدیق درکار ہوگی۔
مذاکرات کی کامیابی کے امکانات اور اہم چیلنجز
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی کوششیں ایک ایسے مرحلے پر ہو رہی ہیں جہاں دونوں فریقوں کو سکیورٹی اور اقتصادی معاملات میں اہم فیصلے کرنا ہوں گے۔ قطر کی میزبانی یا ثالثی، پاکستان سمیت دیگر ممالک کی سفارتی حمایت اور ممکنہ مذاکراتی فریم ورک اس عمل کو آگے بڑھانے میں مدد دے سکتے ہیں۔
تاہم، سفارتی رابطوں میں پیش رفت اور کسی حتمی معاہدے کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔ تہران میں قطری وفد کی آمد، امریکی نائب صدر کے مبینہ پیغام اور ثالث ممالک کی کوششیں مذاکراتی سرگرمی کی نشانیاں ہیں، لیکن ان سے خودبخود کسی معاہدے کی ضمانت نہیں ملتی۔
کسی بھی ممکنہ سمجھوتے کے لیے کم از کم تین بنیادی سوالات کا حل ضروری ہوگا:
- جوہری نگرانی: ایران کی جوہری تنصیبات تک بین الاقوامی معائنہ کاروں کی رسائی کس حد تک ہوگی اور اس کی شرائط کیا ہوں گی؟
- اقتصادی رعایتیں: امریکہ کن پابندیوں میں نرمی کرے گا، اور ایران کو منجمد اثاثوں تک رسائی یا تیل کی برآمدات میں سہولت کب ملے گی؟
- علاقائی سلامتی: جنگ بندی، بحری راستوں کی بحالی اور مستقبل میں دوبارہ فوجی کشیدگی روکنے کے لیے کون سی ضمانتیں فراہم کی جائیں گی؟
ان سوالات پر اتفاق کے بغیر کسی مستقل معاہدے تک پہنچنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر فریقین مرحلہ وار اقدامات، قابلِ تصدیق وعدوں اور واضح نگرانی کے طریقۂ کار پر متفق ہو جائیں تو سفارتی عمل کے لیے زیادہ مستحکم بنیاد پیدا ہو سکتی ہے۔
نتیجہ: سفارتی رابطے تیز، مگر مستقل امن ابھی دور
قطری وفد کی تہران آمد اور ایران و امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکراتی فریم ورک سے متعلق اطلاعات نے سفارتی کوششوں کو نئی اہمیت دے دی ہے۔ قطر، پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کی حمایت سے ہونے والی کوششوں کا مقصد مذاکرات کی بحالی، جنگ بندی کو برقرار رکھنا اور خطے میں دوبارہ جنگ کے خدشات کم کرنا ہے۔
تاہم، جوہری تنصیبات کے معائنے، افزودہ یورینیم کے ذخیرے، امریکی پابندیوں، منجمد ایرانی اثاثوں اور بحری حصار کے معاملات پر اختلافات اب بھی نمایاں ہیں۔ ایران اپنی اقتصادی اور علاقائی شرائط پر زور دے رہا ہے، جبکہ واشنگٹن جوہری پروگرام سے متعلق اقدامات کو اہمیت دیتا دکھائی دیتا ہے۔
آبنائے ہرمز کی بحالی بھی اس سفارتی عمل کا اہم حصہ ہے، کیونکہ اس راستے کی صورتِ حال عالمی توانائی کی ترسیل اور تجارت پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔
فی الحال، قطری وفد کی آمد اور ثالث ممالک کے رابطوں کو مذاکرات کی بحالی کی کوششوں کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کوششوں کی حقیقی کامیابی کا تعین اس وقت ہوگا جب فریقین کسی قابلِ تصدیق، باہمی طور پر قابلِ قبول اور مستقل معاہدے کی جانب عملی پیش رفت کریں گے۔



