
سید عاطف ندیم -ادارت
اسلام آباد (وائس آف جرمنی اردو نیوز، پاکستان): پاک فوج نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے اور امن مذاکرات کی بحالی کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں پر محتاط امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد سعودی عرب اور حرمین شریفین کے دفاع کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے، تاہم پاکستان یمن کے اندرونی تنازع کا حصہ نہیں بنے گا۔ فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطے جاری ہیں اور ایران کے حالیہ دورے بھی اسی سلسلے کی اہم کڑی ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کو دیے گئے انٹرویو اور دیگر گفتگو کے دوران ترجمان پاک فوج نے ایران امریکا ثالثی، سعودی عرب کے دفاع، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے، یمن میں بڑھتی ہوئی لڑائی اور پاکستان کی داخلی سلامتی سے متعلق مختلف سوالات کے جواب دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع کے حل کی کوششوں کے حوالے سے پاکستان پُرامید ضرور ہے، لیکن موجودہ حالات میں کسی حتمی نتیجے کے بارے میں قبل از وقت کوئی دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔
ایران امریکا مذاکرات: پاکستان کو مثبت پیش رفت کی امید
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع ختم کرانے کی کوششوں کے حوالے سے ’’محتاط طور پر پُرامید‘‘ ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے رواں ماہ تہران کے دو دورے اس بات کی علامت ہیں کہ سفارتی کوششیں جاری ہیں اور تنازع کے حل کے لیے رابطوں کو اہمیت دی جا رہی ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آرمی چیف کے بار بار ایران جانے کو مثبت پیش رفت سمجھا جا سکتا ہے تو انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مثبت پہلو موجود نہ ہوتا تو فیلڈ مارشل عاصم منیر دو مرتبہ تہران کا دورہ کیوں کرتے؟ ان کا کہنا تھا کہ ان دوروں کو مثبت پیش رفت کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے، تاہم پاکستان اس معاملے میں محتاط امید ہی کا اظہار کرے گا۔
ترجمان نے واضح کیا کہ وہ تہران میں ہونے والی ملاقاتوں کی تفصیلات سامنے نہیں لا سکتے۔ انہوں نے یہ بھی بتانے سے گریز کیا کہ آیا امریکہ نے ان رابطوں یا حالیہ دورے کی حمایت کی تھی یا نہیں۔
احمد شریف چوہدری نے کسی ملک یا شخصیت کا نام لیے بغیر کہا کہ خطے میں ایسے طاقتور عناصر اب بھی موجود ہیں جو حالات کو خراب کرنے اور سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق بعض عناصر سمجھتے ہیں کہ جاری تنازع ان کے مفادات کے لیے فائدہ مند ہے۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کی کوششیں جاری ہیں، جبکہ خطے میں وسیع تر تصادم اور اس کے اقتصادی و سلامتی سے متعلق اثرات کے خدشات بھی برقرار ہیں۔
عاصم منیر کے تہران دورے اور علاقائی سفارت کاری
پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق وہ رواں ماہ دو مرتبہ تہران جا چکے ہیں، جبکہ ان کے حالیہ دورے کے دوران سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام کی شرکت نے علاقائی سفارتی رابطوں کی اہمیت کو مزید نمایاں کیا۔
پیر کے روز تہران میں ہونے والی ملاقات میں سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکیہ کے انٹیلی جنس سربراہ ابراہیم قالن بھی شریک تھے۔ اس ملاقات کو خطے کے اہم ممالک کے درمیان مشاورت اور جاری کشیدگی کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کی کوششوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
سعودی عرب اور ترکیہ کی اعلیٰ سطح پر شرکت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران امریکا تنازع اب صرف دو ممالک کے تعلقات تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ کی سلامتی، علاقائی اتحادوں اور معاشی استحکام تک پھیل سکتے ہیں۔
تاہم، تہران میں ہونے والی بات چیت کے ایجنڈے، شرکا کے درمیان طے پانے والے ممکنہ نکات اور آئندہ مذاکرات کے حوالے سے کوئی تفصیلی سرکاری معلومات سامنے نہیں آئیں۔ اس لیے ان ملاقاتوں کے نتائج کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔
سعودی عرب کے دفاع کے لیے پاکستان کا غیر متزلزل عزم
ترجمان پاک فوج نے سعودی عرب کے دفاع سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے معاہدوں، باہمی تعلقات اور مشترکہ مفادات کے مطابق مملکت سعودی عرب اور حرمین شریفین کے دفاع کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے۔
ان کے مطابق پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات کو اہمیت دیتا ہے اور ضرورت پڑنے پر کسی بھی اضافی اقدام کا فیصلہ متعلقہ حالات اور دونوں ممالک کی سیاسی قیادت کی مشاورت سے کیا جائے گا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا موجودہ علاقائی کشیدگی کے پیش نظر مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت مزید پاکستانی فوجی سعودی عرب بھیجے جا سکتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ اس کا انحصار صورتِ حال اور دونوں ممالک کی سیاسی قیادت کے فیصلے پر ہوگا۔
اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی سے متعلق اپنے عزم کا اعادہ کر رہا ہے، تاہم اضافی فوجی تعیناتی یا کسی نئی عسکری ذمہ داری کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ ظاہر نہیں کیا گیا۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان فوجی تربیت، دفاعی مشاورت اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون کو دوطرفہ تعلقات کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔ موجودہ علاقائی صورتِ حال میں اس تعاون کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب ایران امریکا کشیدگی کے اثرات خلیجی ممالک کی سلامتی پر بھی مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
پاکستان یمن کی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا: ترجمان پاک فوج
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سعودی عرب کے دفاع کے لیے پاکستان کے عزم اور یمن کے تنازع میں براہِ راست شرکت کے درمیان واضح فرق بیان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان یمن کی اندرونی جنگ کا حصہ نہیں ہے۔
ان کے الفاظ میں پاکستان کا کردار سعودی عرب کی مملکت کے دفاع تک محدود ہے اور یمن کا تنازع اس ملک کا اپنا اندرونی معاملہ ہے۔
یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یمن میں ایران نواز حوثی تحریک اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت کرنے والی فورسز کے درمیان لڑائی ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کرنے کے خدشات پیدا کر رہی ہے۔ اس صورتِ حال کے ساتھ سعودی عرب کی سلامتی کے حوالے سے بھی تشویش بڑھ رہی ہے۔
پاکستانی مؤقف کی اہمیت اس لیے بھی نمایاں ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعلقات کے باوجود اسلام آباد علاقائی تنازعات میں اپنی شمولیت کے دائرے کو واضح رکھنا چاہتا ہے۔ ترجمان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب کے دفاع سے متعلق ذمہ داریوں کو یمن کے اندر جاری لڑائی میں براہِ راست شرکت کے مترادف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
تاہم، اگر مستقبل میں سعودی عرب کی سلامتی کے لیے اضافی اقدامات کی ضرورت پیش آتی ہے تو ان کا تعین موجودہ معاہدوں، زمینی حالات اور متعلقہ سیاسی قیادت کے فیصلوں کی روشنی میں کیا جائے گا۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اور بدلتی علاقائی صورتِ حال
ایران امریکا کشیدگی اور خلیجی خطے میں بڑھتے ہوئے سلامتی کے خدشات کے باعث پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ستمبر 2025 میں دوطرفہ دفاعی معاہدے پر دستخط ہوئے تھے، جبکہ اگست 2026 میں ترکیہ کی شمولیت کے ساتھ ایک سہ فریقی دفاعی معاہدہ بھی طے پایا، جسے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کہا گیا ہے۔
اس معاہدے کے حوالے سے بیان کردہ بنیادی اصول یہ ہے کہ معاہدے میں شامل کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو تمام متعلقہ فریقوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس نوعیت کے انتظامات کا بنیادی مقصد دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا، سلامتی کے معاملات میں مشاورت کو فروغ دینا اور ممکنہ خطرات کے مقابلے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی تشکیل دینا ہے۔
تاہم، اس معاہدے کے عملی اطلاق، کسی مخصوص صورتِ حال میں فوجی ردعمل اور اضافی عسکری تعیناتی کے طریقۂ کار کے بارے میں مزید تفصیلات کے بغیر اس کے تحت کسی ممکنہ کارروائی کی نوعیت کا حتمی تعین نہیں کیا جا سکتا۔
تجزیہ کاروں کے نزدیک مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی علاقائی ممالک کو اپنے دفاعی تعلقات اور سلامتی کی ترجیحات پر نظرثانی کرنے کی طرف مائل کر سکتی ہے۔ تاہم، علاقائی اتحادوں کی مستقبل کی سمت کا انحصار سفارتی مذاکرات، باہمی اعتماد اور عملی حالات پر ہوگا۔
ایران کی قومی سلامتی سے متعلق قیادت کی جانب سے بھی یہ مؤقف سامنے آ چکا ہے کہ خطے کے ممالک کو بیرونی مداخلت کے بغیر اپنی سلامتی یقینی بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس تناظر میں علاقائی دفاعی تعاون اور ایران کے ساتھ سفارتی روابط کے درمیان توازن قائم رکھنا پاکستان سمیت دیگر ممالک کے لیے ایک اہم چیلنج بن سکتا ہے۔
سعودی عرب پر حوثی حملوں کے خدشات
یمن کی جنگ اور سعودی عرب کی سلامتی سے متعلق خدشات ایک بار پھر بڑھ رہے ہیں۔ فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق ایران نواز حوثی گروہ کی جانب سے سعودی عرب کے شہروں، ہوائی اڈوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے حوالے سے حملوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔
اسی سلسلے میں اتحادی فورسز نے جمعے کے روز دعویٰ کیا کہ سعودی عرب کے جنوبی علاقے کی جانب داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل اور ریاض کے اوپر ایک ڈرون کو فضا میں تباہ کر دیا گیا۔ یہ دعویٰ خطے میں فضائی خطرات اور دفاعی نظام کی سرگرمیوں کے تناظر میں اہمیت رکھتا ہے۔
تاہم، ان واقعات کی مکمل تفصیلات، حملوں کے ذمہ داروں اور ان کے ممکنہ نتائج کا جائزہ لینے کے لیے متعلقہ حکام کی تصدیق اور آزاد ذرائع سے معلومات کی ضرورت ہے۔
حوثی تحریک طویل عرصے سے یمن کے تنازع کا ایک اہم فریق ہے۔ یمن میں جاری لڑائی کے علاقائی اثرات سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کی سلامتی تک پھیلتے رہے ہیں، جس کے باعث اس تنازع کو صرف یمن کا داخلی معاملہ سمجھ کر نظرانداز کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
اس کے باوجود پاکستان کی جانب سے یمن کی جنگ میں براہِ راست شرکت سے لاتعلقی کا اعلان ظاہر کرتا ہے کہ اسلام آباد سعودی عرب کے دفاعی تعاون اور یمن میں جاری فوجی تنازع کے درمیان ایک واضح حد برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔
یمن میں انسانی بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ
یمن میں جاری لڑائی کے اثرات صرف فوجی اور سیاسی صورتِ حال تک محدود نہیں بلکہ شہری آبادی بھی اس سے شدید متاثر ہو رہی ہے۔
فراہم کردہ اقوام متحدہ سے منسوب اعداد و شمار کے مطابق اگست سے اب تک یمن میں دو لاکھ 81 ہزار سے زائد افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ اگر یہ اعداد و شمار درست ہیں تو یہ صورتِ حال انسانی بحران کی سنگینی اور شہری آبادی کو درپیش مشکلات کی عکاسی کرتی ہے۔
تعز اور ملک کے مغربی ساحلی علاقوں میں لڑائی اور رسد کے راستوں میں رکاوٹوں کے باعث خوراک، ایندھن، پینے کے پانی اور طبی سامان تک رسائی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ضروری اشیا کی فراہمی میں تعطل سے متاثرہ خاندانوں، مریضوں، بچوں اور دیگر کمزور طبقات کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
یمن میں انسانی بحران کی شدت اس بات کی متقاضی ہے کہ تنازع کے تمام فریق شہری آبادی کے تحفظ، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور ضروری رسد کے راستوں کو کھلا رکھنے کے لیے اقدامات کریں۔
پاکستان کی جانب سے یمن کے تنازع میں براہِ راست شرکت سے انکار کے باوجود علاقائی سفارت کاری، کشیدگی میں کمی اور انسانی امداد کی حمایت جیسے اقدامات خطے میں استحکام کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔
ایران کی ممکنہ شمولیت پر پاکستان کا مؤقف
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تناظر میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ کیا مستقبل میں ایران اس نوعیت کے کسی علاقائی دفاعی انتظام کا حصہ بن سکتا ہے۔
اس سوال کے جواب میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ اگر کوئی ملک اجتماعی دفاع اور علاقائی امن کے حوالے سے مشترکہ نظریہ رکھتا ہے تو اس کی شمولیت کے امکان پر غور کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصولی طور پر ایسے ممالک کا خیرمقدم کیا جا سکتا ہے جو ان مقاصد سے اتفاق رکھتے ہوں۔
تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے کا فیصلہ کرنا معاہدے کے تینوں مرکزی فریقوں کی سیاسی قیادت کا اختیار ہے۔
یہ بیان ایک اہم سفارتی پہلو کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایک جانب پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعاون کو اہمیت دیتا ہے، تو دوسری جانب ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
ایسے حالات میں پاکستان کے لیے یہ ضروری ہوگا کہ وہ اپنے دفاعی وعدوں، علاقائی شراکت داریوں اور سفارتی کوششوں کے درمیان توازن برقرار رکھے۔ ایران کی ممکنہ شمولیت سے متعلق ترجمان کا بیان ایک اصولی جواب ہے؛ اسے ایران کی معاہدے میں شمولیت کے کسی باقاعدہ فیصلے یا پیش رفت کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
پاکستان کی داخلی سلامتی اور خیبر پختونخوا کی صورتِ حال
انٹرویو کے دوران پاکستان کی داخلی سلامتی اور خیبر پختونخوا میں انسدادِ دہشت گردی کی حکمتِ عملی سے متعلق سوالات بھی اٹھائے گئے۔
فراہم کردہ متن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت معطل کی اور پاکستان تحریک انصاف کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کو حراست میں لیا۔ متن کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبائی انتظامیہ پر دہشت گردی سے مؤثر طور پر نمٹنے میں ناکامی کا الزام لگایا، جبکہ پی ٹی آئی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کی حکومت انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں میں حصہ لیتی رہی ہے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں نے اس اقدام کو احتجاجی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوشش قرار دیا، تاہم ان الزامات اور جوابی مؤقف کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
اس معاملے پر سوال کے جواب میں ترجمان پاک فوج نے کہا کہ فوج کی انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں عمومی نوعیت کی وسیع فوجی مہمات کے بجائے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی جاتی ہیں۔
انہوں نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، یعنی آئی بی اوز، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں دستیاب معلومات کی بنیاد پر اہداف کا تعین کیا جاتا ہے اور ضرورت کے مطابق کارروائی کی جاتی ہے۔
ان کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران عمل کرنے کی آزادی اور صلاحیت میں مزید اضافہ ہوگا۔ ان کے بیان کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ انسدادِ دہشت گردی کے لیے کارروائیوں کا طریقۂ کار انٹیلی جنس معلومات پر مبنی ہوگا۔
اس مؤقف کے مطابق فوج کی حکمتِ عملی کا مرکز دہشت گردوں سے متعلق معلومات کی بنیاد پر کارروائی کرنا ہے۔ تاہم، خیبر پختونخوا میں کسی وسیع تر فوجی مہم کے آغاز یا اس کے دائرۂ کار کے بارے میں ترجمان نے کوئی حتمی اعلان نہیں کیا۔
ایران امریکا تنازع کے پاکستان پر ممکنہ اثرات
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی پاکستان کے لیے کئی حوالوں سے اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان کے ایران کے ساتھ جغرافیائی، تجارتی اور سرحدی تعلقات ہیں، جبکہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی، اقتصادی اور سفارتی روابط بھی گہرے ہیں۔
اس صورتِ حال میں کسی وسیع علاقائی جنگ کے اثرات پاکستان کی سلامتی، توانائی کی ضروریات، تجارت اور معیشت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ خلیج اور آبنائے ہرمز کے اطراف کشیدگی میں اضافہ عالمی تیل کی ترسیل اور توانائی کی قیمتوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے، جس کے اثرات توانائی درآمد کرنے والے ممالک تک پہنچ سکتے ہیں۔
پاکستان کے لیے ایک اہم چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنے علاقائی تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے۔ سعودی عرب کے دفاع سے متعلق عزم اور ایران امریکا تنازع میں ثالثی کی کوششیں اسی پیچیدہ علاقائی صورتِ حال کے دو اہم پہلو ہیں۔
پاکستانی حکام کی جانب سے محتاط امید کا اظہار بھی اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ سفارتی رابطے جاری ہونے کے باوجود تنازع کے خاتمے کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کی رضامندی، باہمی اعتماد اور قابلِ عمل معاہدے ضروری ہوں گے۔
پاکستان کی ثالثی کے مستقبل کا انحصار مذاکراتی پیش رفت پر
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع کے حل کے لیے پاکستان کی کوششیں اس وقت ایک اہم مرحلے میں داخل دکھائی دیتی ہیں، تاہم مذاکرات کی کامیابی کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ اخذ کرنا ابھی ممکن نہیں۔
آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے تہران کے دورے اور سعودی و ترک حکام کے ساتھ ان کی ملاقاتیں سفارتی رابطوں کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہیں۔ دوسری جانب پاک فوج کے ترجمان کی جانب سے مذاکراتی تفصیلات سامنے لانے سے گریز اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حساس معاملات پر گفتگو ابھی محتاط انداز میں جاری ہے۔
پاکستان کے لیے ثالثی کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ایران اور امریکہ کشیدگی کم کرنے، اختلافی معاملات پر بات چیت کرنے اور کسی قابلِ قبول سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے کس حد تک آمادہ ہوتے ہیں۔
اسی طرح سعودی عرب کے دفاع سے متعلق آئندہ اقدامات بھی زمینی حالات، معاہدوں کی شرائط اور سیاسی قیادت کے فیصلوں سے مشروط رہیں گے۔
مجموعی طور پر پاک فوج کا بیان تین اہم پیغامات پر مشتمل ہے: ایران امریکا تنازع کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری ہیں؛ سعودی عرب اور حرمین شریفین کے دفاع کے لیے پاکستان اپنے عزم پر قائم ہے؛ اور پاکستان یمن کے اندرونی تنازع میں براہِ راست شرکت نہیں کرے گا۔
ترجمان کے الفاظ میں پاکستان اس پورے عمل کے حوالے سے ’’محتاط طور پر پُرامید‘‘ ہے۔ یہی محتاط امید اس وقت اسلام آباد کی سفارتی حکمتِ عملی کی بنیادی عکاس ہے، جس کے نتائج کا انحصار آئندہ مذاکرات اور خطے میں بدلتی ہوئی صورتِ حال پر ہوگا۔



