
سید عاطف ندیم-ادارت پاکستان
اسلام آباد (وائس آف جرمنی اردو نیوز، پاکستان): پاکستان نے یمن کے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں، بحیرہ احمر اور باب المندب میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات علاقائی کشیدگی میں اضافے، عالمی تجارتی جہاز رانی کو خطرات اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کی صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے نمائندے عثمان جدون نے جمعرات کے روز سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تجارتی جہازوں پر حملے بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور ان کے نتیجے میں خطے میں امن و استحکام بھی متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان تجارتی جہازوں کی سلامتی کو نقصان پہنچانے والی کارروائیوں اور بالخصوص سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت کرتا ہے۔
پاکستان کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے باعث علاقائی سلامتی کو متعدد چیلنجز درپیش ہیں۔ بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی جہاز رانی کے مستقبل کے حوالے سے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
باب المندب میں حملے عالمی جہاز رانی کے لیے خطرہ قرار
اقوام متحدہ میں پاکستانی نمائندے عثمان جدون نے اپنے خطاب میں تجارتی جہازوں پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان کارروائیوں سے نہ صرف بحری آمدورفت کو خطرات لاحق ہو رہے ہیں بلکہ خطے میں بے چینی اور کشیدگی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانا عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور ایسے حملوں کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔
باب المندب آبنائے جغرافیائی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ یہ بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملانے والے اہم بحری راستے کا حصہ ہے۔ اس راستے سے گزرنے والے جہاز نہر سویز کے ذریعے یورپ اور ایشیا کے درمیان تجارت کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے باب المندب میں عدم تحفظ پیدا ہونے کے اثرات محض خطے تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی سپلائی چین، مال برداری کے اخراجات اور اشیا کی ترسیل پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
پاکستانی نمائندے کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام آباد تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کو علاقائی امن کے ساتھ ساتھ عالمی اقتصادی استحکام کے لیے بھی اہم سمجھتا ہے۔
سعودی عرب کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو لاحق خطرات
پاکستان نے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے سعودی عرب کو نشانہ بنانے والی کارروائیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق حوثیوں نے حالیہ ہفتوں کے دوران سعودی عرب کے شہری بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے مراکز کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کی ہیں۔ ان کارروائیوں کے باعث سعودی عرب کی سلامتی اور خطے میں مزید کشیدگی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی کوششیں خاص طور پر اہمیت رکھتی ہیں، کیونکہ سعودی عرب عالمی تیل کی پیداوار اور برآمدات میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ اس نوعیت کے مراکز کو نقصان پہنچنے سے نہ صرف متعلقہ ملک کی توانائی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے بلکہ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں اور توانائی کی ترسیل پر بھی اثر پڑنے کا خدشہ رہتا ہے۔
پاکستانی نمائندے نے سعودی عرب پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ تجارتی جہاز رانی اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والی کارروائیاں خطے میں امن کے امکانات کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
تاہم، کسی مخصوص حملے کے ذمہ داروں، نقصان کی نوعیت اور اس کے نتائج سے متعلق تفصیلات کو متعلقہ حکام کی تصدیق کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب کی اہمیت کیوں بڑھ گئی؟
بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین تجارتی بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایشیا سے یورپ جانے والے متعدد تجارتی جہاز ان راستوں سے گزرتے ہیں، جس کے باعث عالمی تجارت میں ان کی اہمیت بنیادی نوعیت کی ہے۔
باب المندب سے گزرنے والے جہاز بحیرہ احمر اور نہر سویز کے ذریعے بحیرہ روم تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس راستے کی بندش یا عدم تحفظ کی صورت میں جہازوں کو متبادل راستے اختیار کرنا پڑ سکتے ہیں، جن میں افریقہ کے جنوبی سرے پر واقع کیپ آف گڈ ہوپ کے گرد طویل سفر بھی شامل ہے۔
متبادل راستوں کے استعمال سے جہازوں کے سفر کا دورانیہ بڑھ سکتا ہے، ایندھن کے اخراجات میں اضافہ ہو سکتا ہے اور مال برداری کے نظام الاوقات متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں درآمد کنندگان، برآمد کنندگان اور صارفین تک اشیا پہنچنے میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اگر بحیرہ احمر اور باب المندب میں حملوں کا خطرہ برقرار رہتا ہے تو عالمی تجارتی کمپنیوں اور جہاز رانی کی صنعت کو اپنی نقل و حمل کی حکمت عملی تبدیل کرنا پڑ سکتی ہے۔ ایسے حالات میں انشورنس پریمیم، جہازوں کی آپریٹنگ لاگت اور تجارتی سامان کی ترسیل کے اخراجات میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
پاکستان کی جانب سے ان حملوں کی مذمت اس وسیع تر تشویش کی عکاسی کرتی ہے کہ اہم تجارتی راستوں میں عدم تحفظ عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز کی صورتِ حال نے بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیا
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز بھی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ یہ آبنائے خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحر ہند سے ملاتی ہے اور عالمی سطح پر تیل اور دیگر توانائی کی مصنوعات کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ سمجھی جاتی ہے۔
فراہم کردہ متن کے مطابق امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹوں کے باعث عالمی تجارت کو پہلے ہی مشکلات کا سامنا ہے۔
ایسی صورتِ حال میں بحیرہ احمر اور باب المندب کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ تجارتی ادارے اور جہاز رانی کی کمپنیاں متبادل راستوں کے امکانات کا جائزہ لیتی ہیں۔ تاہم، اگر ان متبادل راستوں پر بھی حملوں کا خطرہ برقرار رہے تو عالمی تجارت کے لیے مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔
آبنائے ہرمز اور باب المندب کی جغرافیائی اہمیت مختلف ہے، لیکن دونوں راستے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ کسی ایک راستے میں رکاوٹ دوسرے راستے پر انحصار بڑھا سکتی ہے، جبکہ متعدد اہم بحری راستوں پر بیک وقت خطرات پیدا ہونے سے عالمی سپلائی چین پر زیادہ دباؤ پڑ سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بحیرہ احمر اور باب المندب میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی اطلاعات کو عالمی معیشت اور بین الاقوامی سلامتی کے وسیع تر تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
ایران، امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے علاقائی اثرات
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ نے پہلے ہی علاقائی تعلقات اور سلامتی کے معاملات کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
اس تنازع کے اثرات ایران اور اس کے مخالفین تک محدود نہیں رہے بلکہ خلیجی ممالک، بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل سے متعلق خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔
یمن کے حوثی جنگجوؤں کی کارروائیاں اس صورتِ حال میں ایک اضافی خطرے کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ حوثی تحریک کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات کے باعث ان کی کارروائیوں کو خطے میں وسیع تر جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، تاہم کسی مخصوص حملے کی ہدایات، منصوبہ بندی یا براہِ راست سرپرستی کے بارے میں نتیجہ اخذ کرنے کے لیے ٹھوس شواہد ضروری ہیں۔
اگر مختلف محاذوں پر لڑائی اور بحری راستوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں جاری رہتی ہیں تو تنازع کے دائرے میں مزید وسعت کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس سے علاقائی ممالک کے لیے سفارتی رابطوں، دفاعی تیاریوں اور تجارتی مفادات کے تحفظ کے درمیان توازن برقرار رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
امریکی وسط مدتی انتخابات اور کشیدگی میں اضافے کے خدشات
فراہم کردہ متن میں یہ اطلاعات بھی شامل ہیں کہ امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں شدت لانے کے امکان پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔ متن کے مطابق امریکی وسط مدتی انتخابات 3 نومبر کو متوقع ہیں۔
تاہم، انتخابات کے بعد کسی نئی فوجی کارروائی یا جنگ میں شدت پیدا کرنے کے بارے میں اطلاعات کو مصدقہ سرکاری فیصلے کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا، جب تک متعلقہ حکام کی جانب سے اس کی تصدیق نہ ہو۔
اس کے باوجود ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی، بحری راستوں کی سلامتی اور حوثی حملوں سے متعلق خدشات نے عالمی برادری کی توجہ خطے کی صورتِ حال پر مرکوز کر رکھی ہے۔
اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف فوجی محاذ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی قیمتوں، سمندری نقل و حمل اور علاقائی سفارت کاری پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
پاکستان کا مؤقف: علاقائی امن اور عالمی تجارت کا تحفظ ضروری
پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اپنے مؤقف کے ذریعے واضح کیا ہے کہ وہ تجارتی جہازوں پر حملوں اور سعودی عرب کو نشانہ بنانے والی کارروائیوں کی مخالفت کرتا ہے۔
عثمان جدون کے بیان میں اس امر پر زور دیا گیا کہ بحری جہازوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات علاقائی امن و استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔ پاکستان اس سے قبل بھی حوثی جنگجوؤں کی ایسی کارروائیوں کی مذمت کرتا رہا ہے۔
اسلام آباد کے لیے اس معاملے کی اہمیت متعدد پہلوؤں سے ہے۔ پاکستان کے خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی اقتصادی اور سفارتی تعلقات ہیں، جبکہ عالمی تجارت اور توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ براہِ راست پاکستانی معیشت کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
پاکستان تیل اور دیگر توانائی کی مصنوعات کی درآمدات پر انحصار کرتا ہے، اس لیے عالمی منڈیوں میں قیمتوں میں اضافے یا مال برداری کے اخراجات بڑھنے کی صورت میں ملکی معیشت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح سمندری راستوں میں عدم تحفظ برآمدات اور درآمدات کے نظام الاوقات کو متاثر کر سکتا ہے۔
اس تناظر میں تجارتی جہاز رانی کے تحفظ اور اہم بحری راستوں کو تنازعات سے محفوظ رکھنے کی ضرورت پاکستان کے اقتصادی اور سفارتی مفادات سے بھی جڑی ہوئی ہے۔
عالمی برادری کے لیے سفارتی کوششوں کی اہمیت
بحیرہ احمر اور باب المندب میں بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر عالمی برادری کے لیے ضروری ہے کہ وہ تجارتی جہازوں کی حفاظت، شہری بنیادی ڈھانچے کے تحفظ اور کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششوں کو ترجیح دے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کا مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسلام آباد اہم بحری راستوں میں عدم تحفظ کو محض علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی تجارت اور بین الاقوامی استحکام سے متعلق معاملہ سمجھتا ہے۔
تاہم، پائیدار حل کے لیے صرف مذمت کافی نہیں ہوگی۔ متعلقہ فریقوں کے درمیان مؤثر سفارتی رابطے، حملوں کی روک تھام، شہریوں کے تحفظ اور بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کے لیے محفوظ ماحول کی فراہمی بھی ضروری ہوگی۔
عالمی تجارت کے تحفظ کے لیے یہ بھی اہم ہے کہ تمام متعلقہ فریق بحری جہازوں اور شہری تنصیبات کو تنازعات کا نشانہ بنانے سے گریز کریں اور ایسے اقدامات سے بچیں جو کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔
نتیجہ: اہم بحری راستوں کا تحفظ عالمی ترجیح بن گیا
پاکستان کی جانب سے حوثی جنگجوؤں کے حملوں کی مذمت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور علاقائی کشیدگی نے عالمی تجارتی جہاز رانی کے لیے متعدد خطرات پیدا کر دیے ہیں۔
باب المندب، بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں عدم تحفظ کے خدشات نے عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور سمندری نقل و حمل کے نظام کو دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ اگر ان راستوں پر خطرات برقرار رہتے ہیں تو جہاز رانی کے اخراجات، سپلائی چین اور عالمی منڈیوں پر مزید منفی اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستانی نمائندے عثمان جدون کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے خلاف حملوں اور تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کو علاقائی امن کے لیے نقصان دہ سمجھتا ہے۔
موجودہ حالات میں عالمی برادری کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو مزید پھیلنے سے روکا جائے، اہم بحری تجارتی راستوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور سفارتی کوششوں کے ذریعے خطے کو ایک وسیع تر تصادم کی طرف بڑھنے سے بچایا جائے۔


