اہم خبریںبین الاقوامی

چین کے مقابل بھارتی دفاعی حکمتِ عملی پر سوالات، سرحدی ناکامیوں نے مودی حکومت کے دعوؤں کو چیلنج کر دیا

چینی فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور سرحدی علاقوں میں اس کی مبینہ پیش قدمی نے بھارتی سکیورٹی انتظامات کی کمزوریوں کو نمایاں کر دیا، ماضی کی جھڑپوں اور سیٹلائٹ تصاویر نے بھی نئی دہلی کی دفاعی پالیسی پر بحث کو جنم دے دیا۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
رپورٹ وائس آف جرمنی اردو نیوز

چین کے ساتھ سرحدی تنازعات کے تناظر میں بھارتی فوج کی حکمتِ عملی اور مودی حکومت کے دفاعی دعوؤں پر ایک مرتبہ پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ عالمی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹس اور سرحدی علاقوں سے متعلق سامنے آنے والی معلومات نے بھارت کی دفاعی تیاریوں، نگرانی کے نظام اور متنازع سرحدی علاقوں میں عملی کنٹرول کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ان رپورٹس کے مطابق چین کی فوجی پیشہ ورانہ صلاحیت، سرحدی علاقوں میں اس کی سرگرمیوں اور مبینہ پیش قدمی نے بھارتی سکیورٹی انتظامات کی خامیوں کو نمایاں کیا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے حوالے سے سامنے آنے والے مؤقف میں کہا گیا ہے کہ چین کے ساتھ سرحدی محاذ پر بھارت کو درپیش مشکلات مودی حکومت کی دفاعی حکمتِ عملی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ رپورٹ کے مطابق چینی فوج کی بہتر منصوبہ بندی اور سرحدی علاقوں میں مؤثر حکمتِ عملی نے بھارتی فوج کی نگرانی، دفاعی تیاریوں اور ردعمل کی صلاحیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔

چینی فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور بھارتی دفاعی نظام پر سوالات

چین اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازع کئی دہائیوں سے جاری ہے، تاہم حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی نے خطے کے امن و استحکام کو متاثر کیا ہے۔ سرحدی علاقوں میں فوجی نقل و حرکت، انفراسٹرکچر کی تعمیر اور متنازع مقامات پر کنٹرول کے معاملات دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں۔

رپورٹ میں پیش کیے گئے تجزیے کے مطابق چینی فوج نے سرحدی علاقوں میں اپنی موجودگی، نگرانی اور دفاعی انتظامات کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔ اس کے برعکس بھارتی فوج کو بعض مقامات پر جغرافیائی اور تزویراتی مشکلات کا سامنا رہا ہے، جس کے باعث نئی دہلی کی سرحدی پالیسی اور فوجی تیاریوں پر بحث میں اضافہ ہوا ہے۔

دفاعی ماہرین کے نزدیک کسی بھی ملک کی عسکری طاقت کا اندازہ صرف جدید ہتھیاروں یا فوجی بجٹ سے نہیں لگایا جا سکتا بلکہ اس میں عملی منصوبہ بندی، انٹیلی جنس نظام، زمینی حقائق سے آگاہی، رسد کی فراہمی اور مشکل حالات میں فوری فیصلہ سازی بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

وادی گلوان کی جھڑپ اور بھارتی فوج کو پہنچنے والا نقصان

چین اور بھارت کے درمیان جون 2020 میں وادی گلوان میں ہونے والی خونریز جھڑپ دونوں ملکوں کے تعلقات میں ایک اہم موڑ ثابت ہوئی تھی۔ اس واقعے میں 20 بھارتی فوجی اہلکار ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد بھارتی فوج کی سرحدی تیاریوں اور چین کے ساتھ ممکنہ فوجی تصادم سے نمٹنے کی صلاحیت پر ملک کے اندر بھی سوالات اٹھائے گئے۔

گلوان واقعے نے واضح کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازع محض سفارتی اختلاف نہیں بلکہ ایک ایسا حساس معاملہ ہے جو کسی بھی وقت فوجی تصادم کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ اس واقعے کے بعد بھارت نے سرحدی علاقوں میں فوجی موجودگی بڑھانے، بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور نگرانی کے نظام کو جدید بنانے کے اقدامات کیے، تاہم چین کے ساتھ سرحدی کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکی۔

سیٹلائٹ تصاویر اور متنازع علاقوں میں کنٹرول کا معاملہ

سرحدی تنازع کے دوران سیٹلائٹ تصاویر بھی اہمیت اختیار کر چکی ہیں۔ مختلف اوقات میں سامنے آنے والی تصاویر کے ذریعے سرحدی علاقوں میں فوجی تنصیبات، سڑکوں، عارضی ڈھانچوں اور فوجی نقل و حرکت کا جائزہ لیا جاتا رہا ہے۔

زیرِ بحث رپورٹ کے مطابق بعض سیٹلائٹ تصاویر نے متنازع علاقوں میں چین کی سرگرمیوں اور تزویراتی موجودگی کے حوالے سے بھارت کے لیے مشکلات کو نمایاں کیا ہے۔ تاہم سیٹلائٹ تصاویر کی بنیاد پر کسی علاقے کے حتمی کنٹرول یا سرحدی حیثیت کے بارے میں نتیجہ اخذ کرنے کے لیے مستند جغرافیائی معلومات، زمینی شواہد اور دونوں ممالک کے سرکاری مؤقف کا جائزہ ضروری ہوتا ہے۔

سرحدی علاقوں میں چینی پیش قدمی کے دعوے

برطانوی خبر رساں ادارے سے منسوب رپورٹ کے مطابق چینی افواج کی جانب سے بھارتی سرحد کے قریب یا متنازع علاقوں میں کئی کلومیٹر تک پیش قدمی اور خیمے نصب کرنے کے واقعات نے بھارتی فوج کے سرحدی نگرانی کے نظام پر سوالات اٹھائے ہیں۔

اس نوعیت کے دعوے بھارت کے لیے خاص طور پر حساس ہیں، کیونکہ سرحدی علاقوں میں فوجی موجودگی اور زمینی کنٹرول دونوں ممالک کے لیے قومی سلامتی اور علاقائی خودمختاری سے جڑے معاملات ہیں۔ اگر کسی متنازع مقام پر مخالف فوج اپنی پوزیشن مضبوط کر لے تو اس کے اثرات صرف فوجی سطح تک محدود نہیں رہتے بلکہ سفارتی مذاکرات اور مستقبل کے سرحدی معاہدوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

تاہم ان مبینہ پیش قدمیوں کی درست نوعیت، مقامات اور موجودہ صورتِ حال کے تعین کے لیے متعلقہ برطانوی رپورٹ اور دیگر مستند ذرائع کی تفصیلات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

مودی حکومت کی دفاعی پالیسی پر داخلی اور خارجی دباؤ

بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کی حکومت نے گزشتہ برسوں کے دوران دفاعی شعبے کی جدید کاری، مقامی اسلحہ سازی اور فوجی صلاحیت میں اضافے کو اپنی اہم ترجیحات میں شامل رکھا ہے۔ بھارت نے دفاعی بجٹ میں اضافہ کیا، جدید جنگی طیاروں، میزائل نظام اور دیگر عسکری سازوسامان کے حصول پر توجہ دی اور دفاعی پیداوار میں خود انحصاری کے منصوبے بھی آگے بڑھائے ہیں۔

اس کے باوجود چین کے ساتھ سرحدی تنازع نے یہ سوال برقرار رکھا ہے کہ کیا دفاعی اخراجات اور جدید ہتھیاروں میں اضافہ زمینی سطح پر مؤثر دفاعی حکمتِ عملی میں بھی تبدیل ہو رہا ہے؟ ناقدین کے مطابق بھارت کو صرف عسکری سازوسامان کی خریداری کے بجائے سرحدی نگرانی، انٹیلی جنس، رسد، فوجی رابطہ کاری اور عملی منصوبہ بندی کے شعبوں میں بھی اپنی صلاحیت بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

ہمسایہ ممالک کے ساتھ تنازعات اور علاقائی پالیسی

سکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کو اپنے متعدد ہمسایہ ممالک کے ساتھ مختلف نوعیت کے سیاسی، سفارتی اور سرحدی چیلنجز کا سامنا ہے۔ چین کے ساتھ طویل سرحدی تنازع، پاکستان کے ساتھ کشیدہ تعلقات اور خطے میں بدلتی ہوئی تزویراتی صورتِ حال نے بھارتی خارجہ اور دفاعی پالیسی کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی بڑی علاقائی طاقت کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تنازعات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوشش کرے، کیونکہ مسلسل کشیدگی دفاعی وسائل پر دباؤ بڑھانے کے ساتھ علاقائی تجارت، سرمایہ کاری اور امن و استحکام کو بھی متاثر کرتی ہے۔

بھارت کے لیے چین کے ساتھ تعلقات میں توازن قائم رکھنا ایک اہم چیلنج ہے۔ دونوں ممالک اقتصادی طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہونے کے باوجود سرحدی تنازع اور علاقائی اثرورسوخ کے معاملے پر اختلافات رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سرحدی کشیدگی میں معمولی اضافہ بھی پورے خطے کی سیاسی اور عسکری صورتِ حال پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

دفاعی طاقت کے دعوؤں کا اصل امتحان

چین اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازع نے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت اجاگر کی ہے کہ دفاعی طاقت کا اصل امتحان میدانِ عمل میں ہوتا ہے۔ جدید ہتھیاروں، دفاعی بجٹ اور عسکری بیانات کے باوجود کسی بھی فوج کی کامیابی کا انحصار درست معلومات، مؤثر قیادت، مربوط حکمتِ عملی اور زمینی حالات سے مطابقت رکھنے والی تیاریوں پر ہوتا ہے۔

چین کے ساتھ سرحدی معاملات میں بھارت کو درپیش مشکلات مودی حکومت کے لیے دفاعی اور سفارتی دونوں محاذوں پر ایک اہم آزمائش ہیں۔ اگرچہ نئی دہلی اپنی عسکری صلاحیت میں اضافے کے لیے اقدامات کر رہا ہے، تاہم سرحدی تنازعات اور ماضی کے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ محض دفاعی اخراجات میں اضافہ کافی نہیں، بلکہ مؤثر حکمتِ عملی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی ناگزیر ہیں۔

مجموعی طور پر چین کے ساتھ سرحدی تنازع بھارت کی دفاعی پالیسی کے لیے ایک مستقل چیلنج بن چکا ہے۔ اس معاملے میں مودی حکومت کی کامیابی کا انحصار صرف فوجی طاقت کے مظاہرے پر نہیں بلکہ سرحدی تحفظ، حقیقت پسندانہ دفاعی منصوبہ بندی اور خطے میں پائیدار امن کے لیے مؤثر سفارت کاری پر بھی ہوگا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button