تازہ ترینیورپ

جرمنی: ہیلوین کے تہوار پر جین زی کے پُر تشدد احتجاج کا خطرہ

'تمام تر خطرات سے نمٹنے کی تیاریاں یقینی طور پر پولیس اور انتظامیہ کے لیے بہت ضروری ہیں۔‘‘

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
ژینز تھوراؤ، گاسیا

اب جرمنی کے نوجوان بھی تعلیم اور ماحولیات کے حق میں احتجاج کی تیاری کر رہے ہیں۔ اگرچہ بعض سیاست دان فرانس کی طرز کے پرتشدد مظاہروں کا خدشہ ظاہر کرتے ہیں تاہم ماہرین کے مطابق جرمنی اور فرانس کی صورتحال ایک جیسی نہیں۔

جرمنی  میں سیاسی حلقوں کو خدشہ ہے کہ آنے والے ویک اینڈ پر فرانس کی حالیہ احتجاجی لہر کی  طرح نوجوان بڑے پیمانے پر مظاہروں کے لیے سڑکوں پر نکل سکتے ہیں۔ "Gen-Z regelt”  نامی آن لائن مہم نے ملک کے 23 شہروں میں بیک وقت احتجاجی مظاہروں کی اپیل کی ہے۔

"جنریشن زی” یا "Gen Z” سے مراد 1995 سے 2010 کے درمیان پیدا ہونے والے نوجوان ہیں۔ اس نسل کا مؤقف ہے کہ سابقہ نسلیں موسمیاتی تبدیلیوں کا مؤثر مقابلہ کرنے اور معاشی عدم مساوات کو کم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ ساتھ ہی، وہ عمر رسیدہ مغربی معاشروں میں تعلیم، روزگار اور اپنے مستقبل کے مواقع کے حوالے سے بڑھتی ہوئی بے یقینی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔

سی ڈی یو جرمنی کو فرانس جیسے حالات سے بچانا چاہتی ہے

فرانس میں، حال ہی میں پُرتشدد جھڑپیں شروع ہوئیں جو کہ ابتدا میں بنیادی طور پر پرامن  احتجاج تھے۔ کئی مقامات پر کاروں کو آگ لگا دی گئی اور لل، لیون اور تولوز شہر میں ٹاؤن ہال کو نذر آتش کر دیا گیا۔ پولیس نے پُرتشدد کارروائیوں کو روکنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا اور متعدد افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

فرانس میں ہونے والے نوجوانوں کے مظاہروں میں کئی مقامات پر کاروں کو آگ لگا دی گئی اور لل، لیون اور تولوز شہر میں ٹاؤن ہال کو نذر آتش کر دیا گیاتصویر: Camilla Baronetto/LiveMedia/ipa-agency/picture alliance

جرمنی کے متعدد سیاستدان، خاص طور پر چانسلر فریڈرش میرس کی قدامت پسند CDU پارٹی سے  تعلق رکھنے والے ، اس ویک اینڈ پر ممکنہ طور پر ایسے ہی مناظر کے بارے میں خبردار کر رہے ہیں۔ Bundestag یعنی وفاقی پارلمیان میں CDU/CSU کے داخلہ پالیسی کے پارلیمانی گروپ کے ماہر، الیکسزانڈر تھروم نے اخبار ہانڈلزبلاٹ کو ایک بیان دیتے ہوئے کہا، ”فرانس جیسے حالات کو ہر قیمت پر روکا جانا چاہیے۔‘‘

بین الاقوامی سطح پر سرگرم بائیں بازو کے انتہا پسندوں کا خوف

تھروم کے مطابق بائیں بازو کے انتہا پسند عناصر اور جرائم پیشہ گروہ احتجاجی مظاہروں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ ان کے بقول، خاص طور پر برلن میں ایک ”خطرناک اتحاد‘‘ بنتا دکھائی دے رہا ہے۔

دوسری جانب  سی ڈی یو سے تعلق رکھنے والے جرمن پارلیمان کی انٹیلی جنس نگرانی کمیٹی کے چیئرمین مارک ہینریش مان (سی ڈی یو) نے خبردار کیا ہے کہ بائیں بازو کے انتہا پسند نیٹ ورکس بین الاقوامی  سطح پر ایک دوسرے سے منسلک ہیں اور مل کر منظم اور مربوط طریقے سے کام کر رہے ہیں۔ اخبار ہانڈلزبلاٹ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ پرتشدد بائیں بازو کے گروہ لوٹ مار اور تشدد کی کارروائیوں کے لیے قومی سرحدوں سے ماورا سرگرمیوں میں بھی ملوث ہیں۔

جرمنی کے تعلیمی نظام کے بارے میں بھی جرمن نوجوانوں میں خاصی مایوسی پائی جاتی ہےتصویر: Martin Möller/Funke Foto Services/IMAGO

جرمن شہر کونسٹانس کی یونیورسٹی کے ماہر عمرانیات سیباستیان کووس جرمنی میں نوجوانوں اور احتجاجی تحریکوں پر تحقیق کرتے ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے  کہ فرانس  جیسے فسادات جرمنی میں بھی ہو سکتے ہیں، حالانکہ پڑوسی ملک میں ہونے والے واقعات نے بھی ان مظاہروں کی منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کیا ہے جن کا اعلان اب جرمنی میں کیا گیا ہے۔

’فرانس جیسا غصہ جرمنی میں نہیں پایا جاتا‘

سماجی امور کے جرمن ماہر کووس دونوں ممالک کے نوجوانوں کے رجحان کے درمیان اہم فرق دیکھتے ہیں۔ ان کے بقول،”یہ فرانس کی طرح غصے کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ یہ تیار، رجسٹرڈ اور منظم احتجاجی مہم ہے اور خاص طور پر اس ویب سائٹ پر، پرامن احتجاج کی کال دی گئی ہے اور اس پر  بہت زور دیا گیا ہے۔‘‘

تاہم  سماجیات کے ماہر کرووس اس امکان کو مسترد نہیں کرتے کہ انتہا پسند قوتیں اس احتجاج  مہم کو حکام کو مصیبت  میں ڈالنے کے لیے استعمال کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا،”تمام تر خطرات سے نمٹنے کی تیاریاں یقینی طور پر پولیس اور انتظامیہ کے لیے بہت ضروری ہیں۔‘‘

19 سالہ کوئنٹین گیٹنر جرمن شہر ہائیڈلبرگ میں بائیو ٹیکنالوجی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ایک طالبعلم ہیں اور  گزشتہ نومبر فیڈرل اسٹوڈنٹ کانفرنس کے سیکرٹری جنرل تھے، جو جرمنی میں تقریباً 7.5 ملین  طلبہ کی نمائندگی کرتی ہے۔ وہ کہتے ہیں ، ”جو چیز ہم سب کو متحد کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ہم تعلیمی نظام کے حوالے سے اپنے صبر کی انتہا کو پہنچ چکے ہیں۔ بہت سے لوگ بہت مایوس ہیں۔‘‘ ڈی ڈبلیو کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ”جرمن طلبہ کی کارکردگی میں مسلسل کمی آ رہی ہے، اور تدریسی عملے میں مسلسل کٹوتیاں ہو رہی ہیں۔ اکثر اسکولوں کی عمارتوں کی مرمت کے لیے سالوں سے کچھ نہیں کیا گیا۔‘‘

جرمنی میں اپوزیشن جماعتیں بھی نوجوان نسل کے تحفظات کو تسلیم کرتی ہیںتصویر: Volodymyr Sindieiev/Anadolu/picture alliance

 

جرمنی کی گرین پارٹی جین زی احتجاج سے متفق

کوئنٹین گیٹنر کے لیے، اس کا تعلق جرمنی اور بہت سے دوسرے مغربی ممالک میں پارلیمانی جمہوریت کے ایک عمومی مسئلے سے ہے۔ وہ کہتے ہیں، ”سیاستدان انتخابات جیتنا چاہتے ہیں۔  وہ مستقبل اور اپنی پالیسیوں کی پائیداری کے بارے میں کم اور ان گروپوں کے بارے میں زیادہ سوچتے ہیں جو  ان کے لیے اہم ہیں۔ جبکہ ہمارے عمر رسیدہ معاشرے میں بوڑھے افراد اور ‘بے بی بومرز‘ یا دوسری عالمی جنگ کے بعد پیدا ہونے والی نسل سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل گروپس ہی سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔‘‘

جرمنی میں اپوزیشن جماعتیں بھی نوجوان نسل کے تحفظات کو تسلیم کرتی ہیں۔ گرین پارٹی کے سربراہ فیلکس بناسزاک کے مطابق پرانا سوشل کانٹریکٹ ناکام ہو چکا ہے، موسمیاتی تبدیلیاں، سماجی بہبود اور رہائش کے مسائل سنگین صورت اختیار کر چکے ہیں، جبکہ ریاست نوجوانوں کو بہتر مستقبل کے مواقع دینے کے بجائے 18 سال کی عمر کے نوجوانوں کو لازمی فوجی سروس سے متعلق خطوط بھیجنے جیسے معاملات تک  محدود نظر آتی ہے۔

منگل تک، "Gen-Z regelt”  ویب سائٹ پر آئندہ ہفتے کے روز کے لیے کی گئی احتجاج کی اپیل پر تقریباً 134,000 افراد  نے اندراج کرا چُکے تھے۔ اس تعداد میں مزید اضافے کے قوی امکانات ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button