
سید عاطف ندیم-ادارت پاکستان
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کو بین الحکومتی گروپ آف ٹوئنٹی فور (G-24) کی چیئرمین شپ ملنے پر دلی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملک کے لیے ایک اہم سفارتی سنگِ میل قرار دیا ہے۔ وزیراعظم کے مطابق یہ کامیابی عالمی اقتصادی منظرنامے پر پاکستان کے مؤثر کردار، سفارتی صلاحیتوں اور ترقی پذیر ممالک کے اقتصادی مفادات کے لیے آواز بلند کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس پیش رفت پر وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب اور وزارت خزانہ کی پوری ٹیم کو مبارک باد دیتے ہوئے ان کی انتھک محنت، مؤثر سفارت کاری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ روابط کو مؤثر بنانے اور بین الاقوامی اقتصادی مباحث میں پاکستان کو نمایاں مقام دلانے کے لیے وزیر خزانہ اور ان کی ٹیم کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں۔
وزیراعظم نے عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سالانہ اجلاسوں کے دوران پاکستان کے کردار کو بھی سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اہم عالمی فورمز پر پاکستان کی مؤثر نمائندگی اور ترقی پذیر ممالک کے اقتصادی مسائل کو اجاگر کرنے کی کوششیں ملک کی سفارتی پوزیشن کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔
G-24 کی چیئرمین شپ پاکستان کے لیے کیوں اہم ہے؟
پاکستان کو G-24 کی چیئرمین شپ ملنے کی اہمیت محض ایک بین الاقوامی عہدے تک محدود نہیں، بلکہ یہ عالمی اقتصادی پالیسی سازی میں ترقی پذیر ممالک کے نقطۂ نظر کو زیادہ مؤثر انداز میں پیش کرنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔ عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات، ترقی پذیر معیشتوں کو درپیش مالی مشکلات، قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور پائیدار ترقی کے لیے وسائل کی فراہمی جیسے معاملات اس تناظر میں خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔
ترقی پذیر ممالک کو اکثر ایسے اقتصادی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں محدود مالی وسائل، بیرونی قرضوں کی ادائیگی، عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتِ حال، توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سرمایہ کاری کی ضروریات شامل ہیں۔ ایسے حالات میں بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ مؤثر مذاکرات اور مشترکہ حکمتِ عملی کی تشکیل ان ممالک کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔
G-24 کی چیئرمین شپ پاکستان کو ان مسائل پر مشترکہ مؤقف کی تشکیل، رکن ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے اور عالمی اقتصادی اداروں کے سامنے ترقی پذیر معیشتوں کی ترجیحات پیش کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کر سکتی ہے۔
عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات پاکستان کی ترجیح
وزیراعظم شہباز شریف نے اس توقع کا اظہار کیا کہ G-24 کی قیادت پاکستان کو عالمی مالیاتی نظام میں ضروری اصلاحات کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع دے گی۔
عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات کا معاملہ ترقی پذیر ممالک کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ عالمی مالیاتی اداروں کی پالیسیوں، قرضوں کی شرائط، مالی معاونت کی دستیابی اور سرمایہ کاری کے مواقع کا براہِ راست اثر ان ممالک کی اقتصادی ترقی پر پڑتا ہے۔
پاکستان کے لیے بھی یہ ایک اہم موقع ہو سکتا ہے کہ وہ عالمی مالیاتی فورمز پر ایسے اقدامات کی حمایت کرے جن سے ترقی پذیر معیشتوں کو مالی وسائل تک بہتر رسائی حاصل ہو، قرضوں کے دباؤ سے نمٹنے کے لیے مؤثر طریقے وضع کیے جائیں اور معاشی استحکام کے ساتھ طویل مدتی ترقی کے امکانات کو فروغ دیا جا سکے۔
تاہم، ان ترجیحات کو عملی شکل دینے کے لیے مختلف ممالک کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنا، عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھنا اور ٹھوس تجاویز پیش کرنا ضروری ہوگا۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے منصفانہ مالی معاونت
وزیراعظم نے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے منصفانہ مالی معاونت کی ضرورت کو بھی اہم قرار دیا۔ پاکستان سمیت متعدد ترقی پذیر ممالک کو سیلاب، شدید بارشوں، خشک سالی، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور دیگر موسمیاتی خطرات کے باعث معاشی و سماجی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے بنیادی ڈھانچے کی بہتری، زرعی شعبے کے تحفظ، پانی کے وسائل کے بہتر انتظام، قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافے اور متاثرہ آبادیوں کی بحالی پر خطیر وسائل درکار ہوتے ہیں۔
ایسے میں موسمیاتی مالی معاونت کی منصفانہ اور قابلِ رسائی فراہمی ترقی پذیر ممالک کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان اگر G-24 کی قیادت کے دوران اس معاملے کو مؤثر انداز میں اجاگر کرتا ہے تو وہ موسمیاتی خطرات سے دوچار ممالک کے مشترکہ مفادات کی نمائندگی میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔
اس ضمن میں اہم چیلنج یہ ہوگا کہ عالمی سطح پر پیش کیے جانے والے مطالبات کو ایسے عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے جن کے ذریعے مالی معاونت کی دستیابی، شفاف تقسیم اور منصوبوں پر عمل درآمد کو بہتر بنایا جا سکے۔
ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے پائیدار ترقی کے مواقع
وزیراعظم شہباز شریف نے ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے پائیدار ترقی کے مواقع کو فروغ دینے پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق G-24 کی چیئرمین شپ پاکستان کو اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم مہیا کرے گی۔
پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع، جدید ٹیکنالوجی تک رسائی، صنعتی پیداوار میں اضافہ، تجارت کا فروغ اور مالیاتی استحکام بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ عالمی اقتصادی تبدیلیوں کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کریں اور اپنی معیشتوں کو زیادہ مسابقتی بنانے کے لیے اصلاحات متعارف کرائیں۔
پاکستان کے لیے G-24 کی قیادت کے دوران رکن ممالک کے تجربات سے استفادہ کرنے، مشترکہ اقتصادی ترجیحات کو آگے بڑھانے اور ترقیاتی تعاون کے امکانات تلاش کرنے کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ، پاکستان کی اپنی اقتصادی پالیسیوں، سرمایہ کاری کے ماحول، برآمدات میں اضافے اور مالیاتی نظم و ضبط سے متعلق اقدامات بھی اس کی بین الاقوامی ساکھ اور مؤثر نمائندگی کے لیے اہم رہیں گے۔
وزیر خزانہ اور وزارت خزانہ کی ٹیم کی کاوشوں کو خراجِ تحسین
وزیراعظم نے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب اور وزارت خزانہ کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے دوران پاکستان کی مؤثر نمائندگی اور ترقی پذیر ممالک کی اقتصادی قیادت میں نمایاں مقام حاصل کرنے کے لیے کی جانے والی کوششیں قابلِ قدر ہیں۔
عالمی مالیاتی اداروں کے سالانہ اجلاسوں میں رکن ممالک کے اقتصادی مسائل، مالیاتی پالیسیوں، ترقیاتی ضروریات اور عالمی معیشت سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جاتا ہے۔ ایسے فورمز پر کسی ملک کی مؤثر شرکت کے لیے معاشی ترجیحات کی وضاحت، سفارتی رابطوں، تکنیکی تیاری اور دوسرے ممالک کے ساتھ تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔
پاکستان کے لیے G-24 کی چیئرمین شپ کا حصول اس امر کا موقع بھی ہے کہ وہ عالمی اقتصادی مباحث میں اپنی ترجیحات کو منظم انداز میں پیش کرے اور ترقی پذیر ممالک کے مشترکہ مفادات کے لیے تعاون کو فروغ دے۔
پاکستان کے لیے آگے کا راستہ
پاکستان کو G-24 کی چیئرمین شپ ملنے کے بعد اب توجہ اس بات پر مرکوز ہوگی کہ اس سفارتی موقع کو کس طرح ٹھوس اقتصادی اور ترقیاتی نتائج میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے رکن ممالک کے ساتھ مشاورت، مشترکہ ترجیحات کا تعین اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ مسلسل روابط اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات، موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے منصفانہ مالی معاونت اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے پائیدار ترقی کے مواقع ایسے موضوعات ہیں جن پر پیش رفت کے لیے طویل مدتی حکمتِ عملی اور بین الاقوامی تعاون درکار ہوگا۔
پاکستان کے لیے یہ موقع اپنی سفارتی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے ساتھ ساتھ عالمی اقتصادی مباحث میں ترقی پذیر ممالک کے مسائل کو اجاگر کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ تاہم، اس قیادت کے عملی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ پاکستان اپنے ایجنڈے کو کس حد تک آگے بڑھاتا ہے اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے کتنے قابلِ پیمائش نتائج حاصل کیے جاتے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کو G-24 کی چیئرمین شپ ملنے کو ملک کے لیے اہم سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے عالمی اقتصادی امور میں پاکستان کا کردار مزید مضبوط ہوگا اور ترقی پذیر ممالک کے مفادات کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کی راہ ہموار ہوگی۔
وائس آف جرمنی اردو نیوز (پاکستان)



