علی عباس کاظمیکالمز

عوام کو ریلیف چاہیے، سیاسی تماشے نہیں…..علی عباس کاظمی

ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کے لیے مقامی عمائدین کی شمولیت مفید ہے، مگر عوامی خزانے کی نگرانی محض سماجی اثرورسوخ کی بنیاد پر نہیں چھوڑی جا سکتی۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

سیاسی وعدوں کی چمک کتنی ہی دل کش کیوں نہ ہو، ان کی حقیقت عوام کی روزمرہ زندگی میں ہی کھلتی ہے۔جس شہری کو پینے کا صاف پانی میسر نہ ہو، جس کے لیے گھر کا چولہا جلانا مشکل ہو اور جو اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں پریشان ہو، اس کے لیے اربوں روپے کے دعوے اس وقت تک بے معنی ہیں جب تک ان کے نتائج اس کی دہلیز تک نہ پہنچیں۔ ہماری سیاست کا المیہ یہی ہے کہ حکمران ترقی کے اعداد و شمار پیش کرتے ہیں، جبکہ عوام اپنی روزمرہ مشکلات کے ذریعے ان دعووں کی حقیقت جانچتے ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقوں میں ترقیاتی کاموں کے لیے 160 ارب روپے مختص کرنے کا اعلان ایک اہم پیش رفت بن سکتا ہے، بشرطیکہ یہ رقم واقعی عوامی ضروریات پر خرچ ہو۔ لیکن رقم کا اعلان کرنا اور اسے درست جگہ استعمال کرنا دو مختلف باتیں ہیں۔ اصل امتحان منصوبوں کے انتخاب، شفاف اخراجات اور مقررہ وقت میں ان کی تکمیل کا ہے۔ عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ کون سا منصوبہ کہاں شروع ہوگا، اس پر کتنی رقم خرچ ہوگی اور اس سے کتنے لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔ بصورت دیگر، بڑے بجٹ کے اعداد و شمار تو خبروں کی زینت بن جائیں گے، مگر محروم آبادی کی زندگی شاید پہلے جیسی ہی رہے گی۔
ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کے لیے مقامی عمائدین کی شمولیت مفید ہے، مگر عوامی خزانے کی نگرانی محض سماجی اثرورسوخ کی بنیاد پر نہیں چھوڑی جا سکتی۔ دیانت داری کا معیار شہرت نہیں، کردار اور جواب دہی ہے۔ نگرانی کا نظام شخصیات کے بجائے شفاف قواعد اور قابلِ تصدیق ریکارڈ پر قائم ہونا چاہیے۔ کونسل کے فیصلوں کا حساب کون لے گا؟ اخراجات کی تفصیلات عوام تک کیسے پہنچیں گی؟ بے ضابطگی سامنے آنے پر کارروائی کون کرے گا؟ ان سوالات کے جواب دیے بغیر شفافیت کا وعدہ محض ایک رسمی یقین دہانی رہ جائے گا۔سرکاری وسائل میں بدعنوانی صرف خزانے کو نقصان نہیں پہنچاتی، بلکہ غریب شہری کے بنیادی حقوق بھی چھین لیتی ہے۔ اگر پانی کی فراہمی کے لیے رقم مختص ہو، کاغذوں میں منصوبہ مکمل دکھا دیا جائے، لیکن مقامی آبادی بدستور پانی کو ترستی رہے تو سرکاری ریکارڈ اور زمینی حقیقت کے درمیان موجود فاصلہ پورے نظام پر سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ ایسے معاملات میں صرف مالی آڈٹ کافی نہیں، منصوبے کے حقیقی نتائج کی آزادانہ جانچ بھی ضروری ہے۔
احتساب کے معاملے میں سیاسی پسند اور ناپسند کو الگ رکھنا بھی ناگزیر ہے۔ خیبر پختونخوا کی سابقہ حکومت سے یہ پوچھنا جائز ہے کہ طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے کے باوجود بنیادی مسائل کیوں حل نہ ہوئے۔ لیکن یہی معیار وفاقی حکومت اور دوسرے صوبوں پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔ اگر احتساب صرف مخالف سیاسی جماعت کے لیے ہو تو وہ انصاف نہیں، سیاسی مقابلے کا ایک ہتھیار بن جاتا ہے۔ قانون کی ساکھ اسی وقت قائم ہوتی ہے جب ایک ہی نوعیت کی بدعنوانی پر کارروائی کا معیار سب کے لیے یکساں ہو۔ کسی جماعت کی حمایت یا مخالفت عوامی وسائل کے حساب سے فرار کا جواز نہیں بن سکتی۔قبائلی علاقوں میں صاف پانی کی عدم دستیابی ایک بنیادی انسانی ضرورت پوری کرنے میں ناکامی ہے۔ اس لیے ایسے علاقوں میں صاف پانی کے منصوبے کسی اضافی سہولت کے بجائے بنیادی ضرورت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ حکومت کو یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ یہ مسئلہ برسوں تک حل طلب کیوں رہا اور اب اس کی تکمیل یقینی بنانے کے لیے کیا عملی اقدامات کیے جائیں گے۔گندم اور آٹے کی قلت بھی حکومتی انتظام کا امتحان ہے۔ سستے آٹے کا اعلان اپنی جگہ، لیکن اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب یہ مناسب مقدار میں دستیاب ہو اور اس کا فائدہ واقعی مستحق لوگوں تک پہنچے۔ ذخیرہ اندوزی کی روک تھام، منصفانہ تقسیم اور قیمتوں کی مؤثر نگرانی کے بغیر سرکاری رعایت بھی بدانتظامی کی نذر ہو سکتی ہے۔ عوام کو اعلانات نہیں، بازار میں قابلِ برداشت قیمت پر ضروری اشیا کی دستیابی درکار ہے۔
امن و امان کے معاملے میں بھی محض سخت بیانات کافی نہیں۔ دہشت گردی اور جرائم کی روک تھام کے لیے مؤثر تفتیش، قابلِ اعتماد ادارے، بروقت انصاف اور مقامی آبادی کا تعاون ضروری ہے۔ سی سی ٹی وی کیمرے اور جدید نگرانی مددگار ہو سکتے ہیں، مگر ان کے ساتھ تربیت یافتہ عملہ اور جواب دہ انتظامیہ بھی درکار ہے۔ قبائلی عمائدین کی شمولیت مفید ہے، لیکن ریاست اپنی بنیادی ذمہ داریاں مقامی لوگوں پر منتقل نہیں کر سکتی۔ پائیدار امن طاقت کے استعمال کے ساتھ قانون کی بالادستی، شہری حقوق کے تحفظ اور عوامی اعتماد سے قائم ہوتا ہے۔اس بحث کا ایک اہم پہلو خود عوام کا سیاسی رویہ بھی ہے۔ ہم اکثر اپنی پسندیدہ جماعت کی ناکامیوں کا دفاع کرتے ہیں اور مخالف جماعت کی کامیابیوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس اندھی وابستگی سے فائدہ سیاسی قیادت کو پہنچتا ہے، جبکہ نقصان شہریوں کا ہوتا ہے۔ جب ووٹر کارکردگی کے بجائے جماعتی وفاداری کو ترجیح دے تو حکمرانوں کے لیے جواب دہی کی اہمیت کم ہو جاتی ہے۔ جمہوریت کا تقاضا ہے کہ شہری اپنے نمائندوں سے سوال کریں، منصوبوں کی پیش رفت پر نظر رکھیں اور وعدوں کو نتائج کی کسوٹی پر پرکھیں۔ خاموش تماشائی بن کر کسی بھی حکومت سے اچھی حکمرانی کی توقع رکھنا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔
160 ارب روپے کا اعلان تبھی قابلِ تحسین ہوگا جب اس کے نتائج واضح اور قابلِ تصدیق ہوں۔ منصوبوں کے اخراجات اور پیش رفت کی تفصیلات عوام کے سامنے آنی چاہییں، تاخیر کی وجوہات بتائی جائیں اور غفلت یا بدعنوانی ثابت ہونے پر ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔ عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ان کے نام پر مختص رقم کہاں خرچ ہوئی اور اس سے ان کی زندگی میں کیا بہتری آئی۔حکومتوں کی اصل کامیابی اس وقت سامنے آتی ہے جب شہری بنیادی سہولتوں کے لیے دربدر نہ ہوں اور اپنے حقوق کو کسی سیاسی رہنما کا احسان نہ سمجھیں۔ عوامی وسائل حکمرانوں کی ذاتی ملکیت نہیں، شہریوں کی امانت ہیں۔ جب تک ووٹر نعروں کے بجائے نتائج کا مطالبہ نہیں کرے گا اور حکومتیں اپنے فیصلوں کا حساب نہیں دیں گی، ترقی کے دعوے محرومیوں پر پردہ ڈالنے کا ذریعہ بنتے رہیں گے۔ تبدیلی کا آغاز اسی شعور سے ہوتا ہے کہ حکمرانوں سے سوال کرنا مخالفت نہیں۔۔۔اپنے حق کی حفاظت ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button