اہم خبریںپاکستان

پاکستان نے G-24 کی سربراہی سنبھال لی، عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات اور ترقی پذیر ممالک کی مضبوط نمائندگی کا مطالبہ،محمد اورنگزیب

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تین اہم ترجیحات کا اعلان کر دیا؛ اقتصادی ترقی کو عالمی پالیسی سازی کا مرکز بنانے، کثیرالجہتی اداروں میں منصفانہ نمائندگی اور ترقیاتی مالی معاونت میں اضافے پر زور

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت پاکستان

پاکستان نے بین الحکومتی گروپ آف ٹوئنٹی فور (G-24) کی چیئرمین شپ سنبھال لی ہے، جس کے بعد ملک کو عالمی اقتصادی امور میں ترقی پذیر معیشتوں کے مشترکہ مفادات کی نمائندگی اور بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اصلاحات کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا اہم موقع میسر آیا ہے۔ پاکستان نے اپنی سربراہی کے دوران ایک مضبوط، زیادہ جامع، منصفانہ اور ترقی پر مبنی عالمی مالیاتی نظام کے فروغ کو ترجیحات میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے G-24 کی چیئرمین شپ سنبھالنے کو ایک اہم ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کی اجتماعی آواز کو مؤثر بنانے، کثیرالجہتی اداروں کو مضبوط کرنے اور عالمی اقتصادی نظام کو بدلتے ہوئے حالات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

وزیر خزانہ نے اس موقع پر عالمی معیشت کو درپیش اہم چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پیدا ہونے والے معاشی خطرات، ترقیاتی مالی وسائل کی کمی، قرضوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور مختلف خطوں کے درمیان اقتصادی تفاوت کو دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ترقی پذیر معیشتوں کا مستقبل عالمی معیشت کے مستقبل سے الگ نہیں، بلکہ یہ ممالک عالمی اقتصادی ترقی، سرمایہ کاری، اختراع، صنعت کاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں بنیادی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

وزیر خزانہ کے مطابق، ترقی پذیر ممالک کو عالمی اقتصادی نظام میں ان کی حقیقی صلاحیت اور اہمیت کے مطابق مواقع فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ وہ نہ صرف اپنے عوام کا معیارِ زندگی بہتر بنا سکیں بلکہ عالمی ترقی میں بھی زیادہ مؤثر کردار ادا کریں۔

پاکستان کی چیئرمین شپ کے لیے تین اہم ترجیحات

سینیٹر محمد اورنگزیب نے پاکستان کی سربراہی کے لیے تین بنیادی اسٹریٹجک ترجیحات کا خاکہ پیش کیا ہے۔ ان میں اقتصادی ترقی کو عالمی پالیسی سازی کے مرکز میں لانا، کثیرالجہتی مالیاتی اداروں میں ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی مضبوط بنانا اور ترقی پر مبنی بین الاقوامی مالیاتی ڈھانچے کو فروغ دینا شامل ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق ان ترجیحات کا مقصد ترقی پذیر معیشتوں کو درپیش ساختی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی تیار کرنا اور عالمی مالیاتی نظام کو زیادہ جوابدہ، مؤثر اور جامع بنانا ہے۔

پاکستان کی چیئرمین شپ کے دوران ان شعبوں میں پیش رفت کے لیے رکن ممالک، عالمی مالیاتی اداروں اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مشاورت اور تعاون کو اہمیت دی جائے گی۔

پہلی ترجیح: اقتصادی ترقی کو عالمی پالیسی سازی کا مرکز بنانا

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنی پہلی ترجیح کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اقتصادی ترقی کو عالمی معاشی پالیسیوں کی تشکیل میں مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔

ان کے مطابق، معاشی استحکام ضروری ہے، لیکن اس کا اصل مقصد ایسی بنیاد فراہم کرنا ہونا چاہیے جس پر سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت، روزگار کے مواقع اور مشترکہ خوشحالی کی عمارت تعمیر کی جا سکے۔

ترقی پذیر ممالک کو اکثر محدود مالی وسائل، بیرونی قرضوں کی ادائیگی، سرمایہ کاری میں کمی، عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتِ حال اور معاشی بحرانوں جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں صرف مالیاتی استحکام حاصل کرنا کافی نہیں، بلکہ ضروری ہے کہ اقتصادی پالیسیوں کے ذریعے پیداواری سرگرمیوں میں اضافہ اور عوام کے لیے روزگار کے پائیدار مواقع پیدا کیے جائیں۔

پاکستان کی جانب سے G-24 کی سربراہی کے دوران اس امر پر زور دیا جائے گا کہ ترقی پذیر اور کم آمدنی والی معیشتوں کو ایسے معاشی مواقع میسر آئیں جن کے ذریعے وہ بحرانوں سے نکل کر طویل مدتی اور پائیدار ترقی کی جانب بڑھ سکیں۔

وزیر خزانہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا، پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور روزگار کے مواقع بڑھانا عالمی اقتصادی حکمتِ عملی کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔

اس ترجیح کے تحت معاشی استحکام اور ترقیاتی اہداف کے درمیان توازن پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ اقتصادی اصلاحات کے فوائد وسیع تر آبادی تک پہنچ سکیں۔

دوسری ترجیح: عالمی مالیاتی اداروں میں ترقی پذیر ممالک کی مؤثر نمائندگی

پاکستان کی دوسری اہم ترجیح کثیرالجہتی مالیاتی اداروں میں ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی اور فیصلہ سازی میں ان کی شرکت کو مضبوط بنانا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ عالمی مالیاتی اداروں کے انتظامی اور فیصلہ سازی کے ڈھانچوں کو زیادہ جامع، منصفانہ اور رکن ممالک کی بدلتی ہوئی ضروریات سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک جیسے ادارے عالمی مالیاتی استحکام، ترقیاتی منصوبوں کی مالی معاونت اور معاشی اصلاحات کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان اداروں کے فیصلوں اور پالیسیوں کے ترقی پذیر معیشتوں پر دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ ان اداروں میں ترقی پذیر ممالک کو مؤثر نمائندگی اور فیصلہ سازی میں بامعنی شرکت کے مواقع ملنے چاہییں، تاکہ عالمی اقتصادی پالیسیوں میں ان کی ضروریات، مسائل اور ترجیحات کو بہتر طور پر شامل کیا جا سکے۔

وزیر خزانہ کے مطابق، بریٹن ووڈز اداروں، بالخصوص آئی ایم ایف اور عالمی بینک، کی حکمرانی کے نظام میں ایسی بہتری کی ضرورت ہے جس سے ان کی کارکردگی اور جوابدہی مضبوط ہو اور وہ رکن ممالک کے بدلتے ہوئے اقتصادی حالات کا زیادہ مؤثر جواب دے سکیں۔

پاکستان کی سربراہی میں G-24 کے رکن ممالک کے درمیان مشاورت کے ذریعے مشترکہ مؤقف تیار کرنے اور عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے ترقی پذیر معیشتوں کے مفادات کو مؤثر انداز میں پیش کرنے پر توجہ دی جائے گی۔

تیسری ترجیح: ترقی پر مبنی عالمی مالیاتی ڈھانچے کی تشکیل

پاکستان کی تیسری اسٹریٹجک ترجیح بین الاقوامی مالیاتی نظام کو ترقی پذیر ممالک کی ضروریات کے مطابق زیادہ مؤثر اور ترقی پر مبنی بنانا ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس ضمن میں سستی اور بروقت ترقیاتی مالی معاونت، قرضوں کے پائیدار حل، عالمی مالیاتی تحفظ کے مضبوط نظام، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت اور سرکاری و نجی سرمایہ کاری میں اضافے کو اہم قرار دیا۔

ترقی پذیر ممالک کو بنیادی ڈھانچے، توانائی، تعلیم، صحت، ٹیکنالوجی اور صنعتی ترقی کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم، مالی وسائل کی محدود دستیابی اور قرضوں کی بلند لاگت اکثر ان کی ترقی کی رفتار کو متاثر کرتی ہے۔

ایسے میں کم لاگت پر مالی وسائل کی دستیابی، ترقیاتی منصوبوں کے لیے بروقت فنڈنگ اور سرمایہ کاری کے مواقع میں اضافہ معاشی ترقی کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔

پاکستان کی چیئرمین شپ کے دوران اس بات پر توجہ دی جائے گی کہ ترقی پذیر معیشتوں کو مالی وسائل تک بہتر رسائی حاصل ہو اور عالمی مالیاتی ڈھانچہ ان کی طویل مدتی ترقی میں رکاوٹ بننے کے بجائے معاون کردار ادا کرے۔

قرضوں کا دباؤ اور مالی وسائل کی دستیابی

ترقی پذیر معیشتوں کے لیے قرضوں کی ادائیگی ایک اہم اقتصادی چیلنج ہے۔ جب کسی ملک کے بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی اور سود پر خرچ ہوتا ہے تو تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے اور سماجی ترقی کے منصوبوں کے لیے دستیاب وسائل محدود ہو سکتے ہیں۔

وزیر خزانہ نے ترقیاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے قرضوں کے پائیدار حل اور مالی معاونت کے بہتر انتظام کی اہمیت پر زور دیا۔

اس تناظر میں عالمی مالیاتی اداروں اور قرض دہندگان کے ساتھ تعاون، مالیاتی پالیسیوں میں بہتری اور ایسے انتظامات کی ضرورت اہمیت اختیار کر جاتی ہے جو ممالک کو اپنے قرضوں کی ذمہ داریاں پوری کرنے کے ساتھ ترقیاتی اہداف حاصل کرنے میں بھی مدد فراہم کریں۔

پاکستان کی جانب سے اس موضوع کو G-24 کے ایجنڈے میں اہمیت دینا ترقی پذیر ممالک کے مشترکہ اقتصادی مفادات کے لیے مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

تاہم، قرضوں کے مسائل کا پائیدار حل ہر ملک کے مالی حالات، قرضوں کی ساخت اور اقتصادی صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی ممکن ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مالی معاونت پر زور

وزیر خزانہ نے موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پیدا ہونے والے اقتصادی خطرات کا ذکر کرتے ہوئے ترقی پذیر ممالک کو مناسب مالی وسائل فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کئی ممالک میں زرعی پیداوار، آبی وسائل، توانائی کے نظام، بنیادی ڈھانچے اور عوامی صحت کو متاثر کر رہے ہیں۔ سیلاب، خشک سالی، شدید گرمی اور دیگر قدرتی آفات کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات سے نمٹنے کے لیے بڑی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے۔

پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ معاملہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے، جہاں قدرتی آفات کے معاشی اور سماجی اثرات ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری وسائل پر اضافی دباؤ ڈال سکتے ہیں۔

موسمیاتی مالی معاونت کے مؤثر نظام سے ترقی پذیر ممالک کو آفات سے نمٹنے، بنیادی ڈھانچے کو زیادہ مضبوط بنانے اور ماحول دوست اقتصادی ترقی کی جانب بڑھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

پاکستان کی چیئرمین شپ کے دوران موسمیاتی لچک کو مضبوط بنانے اور ترقیاتی مالی وسائل کی دستیابی بہتر کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی حمایت کی جائے گی۔

سرکاری اور نجی سرمایہ کاری میں اضافے کی ضرورت

پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی ترجیحات میں سرکاری اور نجی سرمائے کو زیادہ مؤثر انداز میں متحرک کرنا بھی شامل ہے۔

ترقی پذیر معیشتوں میں سڑکوں، توانائی، مواصلات، صنعتی مراکز، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور دیگر بنیادی سہولتوں کی تعمیر کے لیے بھاری سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے۔ صرف سرکاری وسائل سے تمام ضروریات پوری کرنا اکثر مشکل ہوتا ہے، اس لیے نجی شعبے کی سرمایہ کاری بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

نجی سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے کاروباری ماحول بہتر بنانا، پالیسیوں میں تسلسل، شفاف ضابطہ کاری، سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط کرنا اور مالیاتی وسائل تک رسائی میں بہتری ضروری ہے۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ عالمی مالیاتی نظام کو ایسے مواقع فراہم کرنے چاہییں جن سے ترقی پذیر ممالک میں پیداواری سرمایہ کاری بڑھے، روزگار پیدا ہو اور اقتصادی ترقی کے فوائد زیادہ وسیع پیمانے پر عوام تک پہنچیں۔

پاکستان کا معاشی استحکام اور اصلاحات کا تجربہ

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان کے اپنے معاشی استحکام، اصلاحات اور مشکلات سے نمٹنے کی صلاحیت کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مالیاتی استحکام کو طویل مدتی ترقیاتی اہداف سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔

ان کے مطابق، اقتصادی اصلاحات کے عمل سے گزرنے والے ممالک کے پاس پائیدار ترقی کے لیے ضروری مالی وسائل اور پالیسی سازی کی مناسب گنجائش موجود ہونی چاہیے۔

اس مؤقف کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ معاشی اصلاحات کے دوران حکومتوں کو مالیاتی نظم و ضبط، مہنگائی پر قابو پانے، محصولات میں اضافے اور اخراجات کے انتظام جیسے معاملات پر توجہ دینا پڑتی ہے۔ دوسری جانب ترقیاتی ضروریات اور عوامی فلاح کے منصوبوں کے لیے وسائل کی فراہمی بھی ضروری رہتی ہے۔

ایسے حالات میں پالیسی سازوں کے لیے یہ توازن قائم کرنا اہم ہوتا ہے کہ معاشی استحکام کے اقدامات ترقی، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع کو غیر ضروری طور پر محدود نہ کریں۔

پاکستان اپنی چیئرمین شپ کے دوران اس وسیع تر مسئلے پر ترقی پذیر ممالک کے ساتھ تبادلۂ خیال اور مشترکہ ترجیحات کے فروغ کے لیے کام کرے گا۔

افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ کے ممالک کے ساتھ تعاون

سینیٹر محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ پاکستان کی سربراہی G-24 کے دیرینہ اصولوں، یعنی مشاورت، اتفاقِ رائے اور اجتماعی وکالت، کے مطابق ہوگی۔

اس سلسلے میں افریقہ، ایشیا، لاطینی امریکہ اور کیریبین کے رکن ممالک کے ساتھ قریبی تعاون کو اہمیت دی جائے گی۔ اس کے علاوہ آئی ایم ایف، عالمی بینک اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ رابطوں کے ذریعے مشترکہ ترجیحات کو عملی نتائج میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

G-24 ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک اہم فورم ہے، جہاں رکن ممالک عالمی مالیاتی اور ترقیاتی امور پر اپنے مؤقف کا تبادلہ کرتے ہیں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے سامنے مشترکہ ترجیحات پیش کرنے کے امکانات تلاش کرتے ہیں۔

پاکستان کی چیئرمین شپ کے دوران مختلف خطوں کے ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینا اس لیے اہم ہوگا کہ ترقی پذیر معیشتوں کے مسائل اگرچہ مختلف ہو سکتے ہیں، تاہم مالی وسائل کی کمی، قرضوں کا دباؤ، موسمیاتی خطرات اور ترقیاتی ضروریات جیسے کئی چیلنجز مشترک ہیں۔

مشترکہ حکمتِ عملی اور مسلسل مذاکرات کے ذریعے ان مسائل کے حل کے لیے عالمی سطح پر مؤثر اقدامات کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔

سبکدوش ہونے والی نائجیریا کی قیادت کو خراجِ تحسین

وزیر خزانہ نے G-24 کی سبکدوش ہونے والی چیئرمین شپ کے دوران نائجیریا کی قیادت کو سراہتے ہوئے گروپ کی سابقہ پیش رفت کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مشاورت اور اتفاقِ رائے کے ذریعے گروپ کے مشن کو مزید مؤثر بنانے کے لیے کام کرے گا۔

چیئرمین شپ کی تبدیلی کے بعد پاکستان کے لیے اہم ہوگا کہ وہ سابقہ کوششوں سے استفادہ کرتے ہوئے رکن ممالک کے درمیان تعاون کو برقرار رکھے اور ترقی پذیر معیشتوں کے مشترکہ مفادات کے لیے عملی پیش رفت کو فروغ دے۔

اجتماعی آواز سے عملی نتائج تک کا سفر

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس بات پر زور دیا کہ اجتماعی قیادت کی کامیابی کا اندازہ صرف بیانات یا عالمی فورمز پر آواز بلند کرنے سے نہیں، بلکہ ان کے نتیجے میں سامنے آنے والی ٹھوس تبدیلیوں سے لگایا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اجتماعی قیادت کا حقیقی پیمانہ وہ تبدیلی ہے جو مشترکہ آواز کے ذریعے رونما ہوتی ہے۔

وزیر خزانہ نے G-24 کے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مقصد اجتماعی آواز کو اجتماعی اثر و رسوخ اور پھر بامعنی پیش رفت میں تبدیل کرنا ہے۔

یہ مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان اپنی سربراہی کے دوران محض مشترکہ مسائل کی نشاندہی تک محدود رہنے کے بجائے ان کے حل کے لیے عالمی مالیاتی اداروں اور رکن ممالک کے ساتھ عملی تعاون کو اہمیت دینا چاہتا ہے۔

پاکستان کی سربراہی کے لیے اہم چیلنجز اور توقعات

G-24 کی چیئرمین شپ پاکستان کو ترقی پذیر ممالک کے اقتصادی مفادات کی نمائندگی کا اہم موقع فراہم کرتی ہے، تاہم اس کے ایجنڈے پر پیش رفت کے لیے متعدد چیلنجز بھی موجود رہیں گے۔

عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات کے لیے مختلف ممالک کے مفادات میں ہم آہنگی پیدا کرنا، ترقیاتی مالی وسائل کی دستیابی بہتر بنانا، قرضوں کے مسائل کے پائیدار حل تلاش کرنا اور موسمیاتی مالی معاونت سے متعلق وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا مسلسل سفارتی اور اقتصادی کوششوں کا تقاضا کرتا ہے۔

پاکستان کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ رکن ممالک کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے ساتھ ایسے قابلِ عمل اقدامات کی حمایت کرے جن سے ترقی پذیر معیشتوں کو حقیقی فائدہ پہنچ سکے۔

اس کے علاوہ عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ مؤثر رابطے، اقتصادی اعداد و شمار پر مبنی تجاویز اور مشترکہ ترجیحات کی مسلسل پیروی بھی اہم ہوگی۔

اگر پاکستان اپنی چیئرمین شپ کے دوران ان ترجیحات پر مؤثر انداز میں کام کرتا ہے تو یہ نہ صرف ترقی پذیر ممالک کے مشترکہ مفادات کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے بلکہ عالمی اقتصادی مباحث میں پاکستان کے کردار کو بھی مضبوط بنا سکتا ہے۔

پاکستان کی جانب سے G-24 کی چیئرمین شپ سنبھالنا عالمی اقتصادی امور میں ملک کے لیے ایک اہم سفارتی موقع ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے پیش کی گئی تین بنیادی ترجیحات—اقتصادی ترقی کو عالمی پالیسی سازی کا مرکز بنانا، ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی مضبوط کرنا اور ترقی پر مبنی بین الاقوامی مالیاتی ڈھانچے کو فروغ دینا—پاکستان کے مجوزہ ایجنڈے کی سمت واضح کرتی ہیں۔

عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات، سستی ترقیاتی مالی معاونت، قرضوں کے پائیدار حل، موسمیاتی لچک اور سرمایہ کاری میں اضافے جیسے معاملات ترقی پذیر ممالک کے مستقبل کے لیے اہم ہیں۔

پاکستان کی سربراہی کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ان ترجیحات کو کس حد تک عملی اقدامات، مشترکہ پالیسی تجاویز اور قابلِ پیمائش ترقیاتی نتائج میں تبدیل کیا جاتا ہے۔

پاکستان کا پیغام واضح ہے: ترقی پذیر معیشتوں کی مضبوط آواز، منصفانہ عالمی مالیاتی نظام اور ایسی اقتصادی ترقی جو تمام ممالک کے لیے بہتر مستقبل کے مواقع پیدا کرے۔

وائس آف جرمنی اردو نیوز (پاکستان)

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button