اہم خبریںپاکستان

پاکستان کاؤنٹر ٹیرارزم فورس کی دہشت گردی سے نمٹنے کی صلاحیت؟

سی ٹی ڈی کو بکتر بند گاڑیوں، بلٹ پروف جیپوں اور جدید ہتھیاروں کی بھی کمی کا سامنا ہے، حالانکہ ان وسائل کی ضرورت ایسے دہشت گردوں سے لڑنے کے لیے ہے

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
عثمان چیمہ

خیبر پختونخوا میں دہشت گرد حملوں کے دوران پولیس کی ہلاکتیں بڑھ رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق پولیس فورس نہ تو بہتر تربیت یافتہ ہے اور نہ ہی مناسب اسلحے سے لیس، اسے دہشت گردی کے خلاف اگلے محاذ پر نہیں بھیجا جانا چاہیئے۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال پولیس پر حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے اور جان سے ہاتھ دھونے والے اہلکاروں کی تعداد بھی نمایاں طور پر بڑھی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے پہلے چھ ماہ میں خیبر پختونخوا پولیس کے 122 اہلکار ہلاک ہوئے، جو گزشتہ سال اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً دوگنی تعداد ہے۔

پاکستان میں ایسے حساس حالات سے نمٹنے کے لیے پولیس کی صلاحیت پر طویل عرصے سے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قائم کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) میں تقریباً 3 ہزار 844 اہلکار ہیں، جن میں سے زیادہ تر باقاعدہ پولیس سے تعینات کیے گئے ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ باقاعدہ پولیس سے اہلکار لے کر سی ٹی ڈی میں تعینات کرنا ہی اسے کم مؤثر بناتا ہے، کیونکہ عام پولیس اہلکاروں کو دہشت گردی سے مؤثر انداز میں نمٹنے اور اپنی جان بچانے کے لیے درکار تربیت حاصل نہیں ہوتی۔

سی ٹی ڈی کو بکتر بند گاڑیوں، بلٹ پروف جیپوں اور جدید ہتھیاروں کی بھی کمی کا سامنا ہے، حالانکہ ان وسائل کی ضرورت ایسے دہشت گردوں سے لڑنے کے لیے ہے جنہیں حکومت خود بھاری ہتھیاروں سے لیس اور بیرونی فنڈنگ حاصل کرنے والا قرار دیتی ہے۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسی صورتِ حال میں کیا دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کرنے یا حساس مقامات پر دہشت گردی روکنے کے لیے پولیس کو اگلے محاذ پر رکھنا ٹھیک پالیسی ہے؟

گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال پولیس پر حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے اور جان سے ہاتھ دھونے والے اہلکاروں کی تعداد بھی نمایاں طور پر بڑھی ہے۔تصویر: Mohsin Raza/REUTERS

دہشت گردی کا مقابلہ کس فورس کو کرنا چاہیئے؟

لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعیم خالد لودھی نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی پولیس میں دہشت گردی سے لڑنے کی صلاحیت نہیں ہے اور ایسے حالات میں اسے کسی صورت اگلے محاذ پر تعینات نہیں کیا جانا چاہیے اور دوسری ٹرینڈ فورسز کو یہ کام کرنا چاہئے۔

انہوں نے کہا، "پولیس کی تربیت اور اسے فراہم کیا جانے والا سازوسامان بنیادی طور پر اندرونی امن و امان کے مسائل سے نمٹنے کے لیے ہے، جبکہ جس صورتِ حال کا ہم سامنا کر رہے ہیں، اسے اب محض اندرونی مسئلہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ ریاست خود کہتی ہے کہ یہ دہشت گرد بیرونی فنڈنگ حاصل کرتے ہیں اور بھاری ہتھیاروں سے لیس ہیں، اس لیے ان سے نمٹنے کے لیے مناسب فورس اور تربیت یافتہ اہلکاروں کی ضرورت ہے، اور پولیس وہ فورس نہیں ہے۔”

لودھی کے نزدیک معاملہ یہ بھی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی کی ذمہ داری کس پر ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی محض اندرونی مسئلہ نہیں اور نہ ہی اس سے نمٹنے کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر ڈالنے کی کوئی توضیح ہے۔ ان کے مطابق بیرونِ ملک سے مبینہ مدد حاصل کرنے والے منظم عسکریت پسندوں سے نمٹنے کے لیے وسیع تر کارروائی اور ردعمل کی ضرورت ہے۔

جہاں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ پولیس دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لیے موزوں اگلی صف کی فورس نہیں اور اسے ایسی حساس صورتِ حال میں آگے رکھنا اہلکاروں کی جانیں خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے، وہیں بعض کے نزدیک کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ ایک مقصد کے تحت قائم کیا گیا تھا اور اسے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، تاہم اس کے لیے اسے مناسب وسائل اور سہولتیں فراہم کرنا ضروری ہے۔

ایک سابق اعلیٰ پولیس افسر کے مطابق پولیس کے صرف تقریباً 10 فیصد اہلکار ایلیٹ تربیت یافتہ ہیں۔تصویر: Fayaz Aziz/REUTERS

تربیت کی کمی سب سے بڑا مسئلہ

اس شعبے کے ماہرین سب سے بڑا مسئلہ تربیت کو قرار دیتے ہیں۔ اسلام آباد کے سابق آئی جی طاہر عالم کے اندازے کے مطابق پولیس کے صرف تقریباً 10 فیصد اہلکار ایلیٹ تربیت یافتہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سے اہلکاروں کو صرف ایک ماہ کے قریب دورانیے کے کورسز کروائے جاتے ہیں، جبکہ فوج کی طرح انہیں باقاعدہ اور جامع تربیت نہیں دی جاتی۔ ان کے بقول، پولیس سے براہ راست سی ایس ایس سے ذریعے آنے والے افسران کی تربیت تو بلکل بھی نہ ہونے کے برابر ہے لہذا وہ تو ایسے آپریشنز کو لیڈ ہی نہیں کر سکتے جو کہ ایک بڑی کمی ہے۔”

طاہر عالم کے مطابق پولیس کو درپیش مسائل صرف تربیت تک محدود نہیں، بلکہ سازوسامان اور انٹیلی جنس کے شعبوں میں بھی اسے وسائل کی کمی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا ہے، "پولیس کے پاس نہ تو ضرورت کے مطابق بکتر بند اور بلٹ پروف گاڑیاں ہیں، نہ ہی مناسب طور پر محفوظ تھانے اور نہ ہی انٹیلی جنس کا مؤثر نظام بنانے کے لیے وسائل۔”

طاہر عالم نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ علاقے میں تربیت یافتہ اور بھاری سازوسامان سے لیس مسلح فورسز کی موجودگی کے باوجود عسکریت پسند چیک پوسٹیں کیسے قائم کر لیتے ہیں اور انہیں ختم کیوں نہیں کیا جاتا۔ ان کے مطابق، اگر پولیس میں عسکریت پسندوں کو ختم کرنے کی صلاحیت نہیں تو دوسری فورسز کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے اور انہیں کارروائی کرنی چاہیے، جبکہ پولیس کو بھی ایسی کارروائیوں میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے مزید تربیت اور سازوسامان فراہم کیا جانا چاہیے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button