
سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی اصولوں کے منافی ہے، پاکستان اپنے آبی حقوق کا تحفظ قانونی اور سفارتی ذرائع سے کرے گا: اسپیکر پنجاب اسمبلی
پاکستان کے آبی مسائل کے حل کے لیے قومی اتفاقِ رائے، مؤثر سفارت کاری اور بہتر آبی انتظام ناگزیر قرار؛ دی یونیورسٹی آف لاہور میں قومی مکالمے کے دوران سیاسی، پارلیمانی، قانونی اور آبی ماہرین کا اظہارِ خیال
سید عاطف ندیم-ادارت پاکستان
دی یونیورسٹی آف لاہور میں ’’سندھ طاس معاہدہ اور پاکستان کی قومی سلامتی‘‘ کے موضوع پر ایک اہم قومی مکالمے کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملک کی ممتاز سیاسی، پارلیمانی، صحافتی، قانونی اور علمی شخصیات نے شرکت کی۔ مکالمے کے دوران سندھ طاس معاہدے کے تاریخی پس منظر، بین الاقوامی قانونی حیثیت، بھارت کے یکطرفہ اقدامات، پاکستان کے آبی حقوق، سفارتی حکمتِ عملی، ماحولیاتی تبدیلیوں اور مستقبل کی آبی ضروریات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
مقررین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ پاکستان کو درپیش آبی چیلنجز محض دوطرفہ تنازع نہیں بلکہ قومی سلامتی، زرعی معیشت، غذائی تحفظ، صوبائی ہم آہنگی اور مستقبل کی معاشی ترقی سے براہِ راست جڑے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں، پارلیمان، متعلقہ اداروں، آبی ماہرین اور دیگر تمام فریقوں کو اعتماد میں لے کر ایک جامع اور متفقہ قومی حکمتِ عملی تشکیل دینا ناگزیر ہے۔
مکالمے میں اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان، پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر اور سینیٹر نثار احمد کھوڑو، اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور اعوان، سابق چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین، پاکستان کے انڈس واٹرز کمشنر سید مہر علی شاہ، سینیٹر محسن لغاری، ممبر ارسا پنجاب امجد سعید، سینئر صحافی سہیل وڑائچ، سندھ کے صوبائی وزیر برائے جامعات و بورڈز محمد اسماعیل راہو، سابق وفاقی سیکریٹری برائے پانی و توانائی عرفان علی، واپڈا کے مشیر شاہد حمید، حسن عباس، سکندر شاہ اور بین الاقوامی ماہر راس مسعود سمیت دیگر شخصیات نے شرکت کی۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی: پاکستان کے آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا
اس موقع پر اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے اہم قومی معاملات پر سنجیدہ مکالمے کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرنے پر دی یونیورسٹی آف لاہور کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ سندھ طاس معاہدے اور پاکستان کے آبی مستقبل جیسے حساس موضوعات پر بحث پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں بھی ہونی چاہیے۔ تاہم جامعات کی جانب سے ایسے قومی مباحث کا انعقاد پارلیمانی سطح پر موجود خلا کو پُر کرنے اور مختلف نقطہ ہائے نظر کو ایک جگہ جمع کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے یکطرفہ اقدام کو خطے کی آبی صورتحال میں ایک بنیادی تبدیلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو محض سیاسی بیان بازی تک محدود رکھنے کے بجائے اس کے قانونی، سفارتی اور قومی سلامتی سے متعلق پہلوؤں کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ضروری ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی بین الاقوامی معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات بین الاقوامی اصولوں اور معاہداتی ذمہ داریوں کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا کرتے ہیں۔

ملک محمد احمد خان نے کہا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی اور سفارتی ذرائع اختیار کرے گا، تاہم اس کے ساتھ ملک کے اندر پانی سے متعلق مسائل کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پنجاب اور سندھ دونوں کو پانی کے حوالے سے اپنے اپنے خدشات اور تحفظات لاحق ہیں۔ سندھ کو خدشہ ہے کہ زیریں علاقوں تک پانی کی مناسب مقدار نہیں پہنچے گی، جبکہ پنجاب کو بھی پانی کی دستیابی اور ضروریات کے حوالے سے مسائل کا سامنا ہے۔
انہوں نے دونوں صوبوں کے قانون سازوں پر زور دیا کہ وہ ایک دوسرے کے مؤقف کو سمجھنے، غلط فہمیوں کو دور کرنے اور آبی وسائل کے حوالے سے مشترکہ حکمتِ عملی مرتب کرنے کے لیے مکالمے کا راستہ اختیار کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کا مسئلہ کسی ایک صوبے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا معاملہ ہے، اس لیے اسے باہمی اعتماد، مشاورت اور قومی مفاد کو سامنے رکھ کر حل کیا جانا چاہیے۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے امن کے قیام اور تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کی سالمیت، خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق آبی حقوق کا تحفظ اور قومی سلامتی کا دفاع ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
اٹارنی جنرل منصور اعوان: موجودہ صورتحال میں مستقبل کی حکمتِ عملی اہم
اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور اعوان نے سندھ طاس معاہدے کی قانونی اور تاریخی حیثیت کی وضاحت کرتے ہوئے پاکستان کو درپیش موجودہ صورتحال کے تناظر میں مستقبل کی حکمتِ عملی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس امر کی اہمیت اجاگر کی کہ پاکستان کو اپنے آبی مفادات کے تحفظ کے لیے قانونی پہلوؤں کا جامع جائزہ لینا اور متعلقہ بین الاقوامی فورمز پر مؤثر انداز میں اپنا مؤقف پیش کرنا ہوگا۔
انہوں نے معاہدے کے تحت پاکستان کے حقوق اور ذمہ داریوں کو سمجھنے، دستیاب قانونی راستوں کا جائزہ لینے اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کی گفتگو میں اس امر کی اہمیت نمایاں رہی کہ پاکستان کو اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے قانونی تیاری، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور سفارتی سرگرمیوں کو مربوط بنانا ہوگا۔
نثار کھوڑو: زیریں علاقوں کے آبی مفادات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا
پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر اور سینیٹر نثار احمد کھوڑو نے قومی معاملات پر مکالمے کے فروغ کے لیے دی یونیورسٹی آف لاہور کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک زیریں دریائی ملک ہے، جبکہ سندھ پاکستان کا زیریں دریائی صوبہ ہونے کے باعث پانی کی تقسیم کے معاملے میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔
ان کے مطابق آبی وسائل کی تقسیم کے دوران زیریں علاقوں کے مفادات، ضروریات اور خدشات کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کا مسئلہ کوئی نیا معاملہ نہیں بلکہ گزشتہ تقریباً ایک صدی سے اس پر بحث جاری ہے، اس لیے اس کے حل کے لیے تاریخی پس منظر، صوبائی ضروریات اور زمینی حقائق کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔
نثار کھوڑو نے ماضی میں سندھ کی جانب سے بارش کے پانی کو سمندر کی پیش قدمی روکنے کے لیے استعمال کرنے کی ضرورت پر اٹھائے گئے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس تجویز کو اس وقت سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، حالانکہ اس کا مقصد ساحلی علاقوں کو سمندری اثرات سے محفوظ رکھنا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سندھ کو پانی کی ایک مخصوص مقدار فراہم کرنے سے متعلق کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ پانی کے مسئلے کا حل ممکن ہے اور اس سلسلے میں قومی قیادت کو مضبوط مؤقف اختیار کرتے ہوئے تمام صوبوں کے درمیان اعتماد اور اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا۔
انڈس واٹرز کمشنر: بھارت کے اقدام کا سفارتی اور قانونی جواب ضروری
پاکستان کے انڈس واٹرز کمشنر سید مہر علی شاہ نے خطے میں بدلتے ہوئے ماحولیاتی حالات اور سندھ طاس معاہدے سے متعلق موجودہ صورتحال پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کے حوالے سے یکطرفہ اقدام نے پاکستان کے لیے ایک نئی سفارتی اور سیاسی صورتحال پیدا کر دی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے ٹھوس اور مربوط حکمتِ عملی اختیار کرنا ضروری ہے۔
ان کے مطابق سندھ طاس معاہدہ خطے میں پانی کی تقسیم کے ایک مستحکم نظام کی بنیاد فراہم کرتا رہا ہے، اس لیے اس نظام کو یکطرفہ طور پر متاثر کرنے کی کوشش نہ صرف پاکستان کے آبی مفادات بلکہ خطے کے مجموعی آبی نظم و نسق کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔
مہر علی شاہ نے زور دیا کہ بھارت کو اپنے فیصلے پر نظرثانی کے لیے آمادہ کرنے کی خاطر پاکستان کو مؤثر سفارتی رابطوں اور قانونی اقدامات سے کام لینا چاہیے۔ انہوں نے پاکستان میں آبپاشی کے زیرِ انتظام رقبے میں اضافے کے بنیادی فیصلے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے آبی وسائل کی منصوبہ بندی اور بہتر استعمال پر توجہ دینا ہوگی۔
سابق چیئرمین واپڈا: پانی ذخیرہ کرنے اور بہتر استعمال کی ضرورت
سابق چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین نے کہا کہ بھارت 2025 میں سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے یکطرفہ اقدام سے پہلے بھی مختلف طریقوں سے اس معاہدے کو غیر مؤثر بنانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ ان کے مطابق 2025 کی جنگ کے بعد پاکستان اپنا یہ مؤقف واضح کر چکا ہے کہ پانی روکنے کی کسی بھی کوشش کو انتہائی سنگین اقدام تصور کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنے آبی مفادات کے تحفظ کے لیے بیرونی خطرات کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ اندرونی سطح پر بھی تیاری کرنا ہوگی۔ ملک میں پانی کے ضیاع کو روکنا، دستیاب وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کرنا، آبی ذخائر میں اضافہ اور پانی کی منصفانہ تقسیم ایسے اقدامات ہیں جن کے بغیر آبی بحران پر قابو پانا مشکل ہوگا۔
مزمل حسین کے مطابق پاکستان کی زرعی معیشت کا انحصار دریاؤں کے پانی پر ہے، اس لیے مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ذخیرہ آب، آبپاشی کے نظام اور پانی کے انتظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ضروری ہے۔
سہیل وڑائچ: مذاکرات اور مکالمہ تنازعات کے حل کا بہتر راستہ
سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے سندھ طاس معاہدے کو 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد خطے کے لیے دوسرا اہم ترین مثبت اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے نے پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کے حوالے سے ایک قابلِ پیش گوئی نظام فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی تنازعات کا حل مذاکرات، مکالمے اور سفارتی روابط کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق بھارت سے لاحق خطرات اور مسلسل کشیدگی کے باعث پاکستان میں سکیورٹی سے متعلق ترجیحات کو غیر معمولی اہمیت حاصل رہی، جس کے اثرات ملک کے جمہوری عمل پر بھی مرتب ہوئے۔
سہیل وڑائچ نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت اور آبی راستوں کو کھولنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار امن اور معاشی استحکام کے لیے دونوں ممالک کے درمیان رابطوں اور تعاون کے امکانات کو مکمل طور پر ختم نہیں ہونا چاہیے۔
اسماعیل راہو: سمندر کی پیش قدمی سندھ کے ساحلی علاقوں کے لیے خطرہ
سندھ کے صوبائی وزیر برائے جامعات و بورڈز محمد اسماعیل راہو نے سندھ کے ساحلی علاقوں کو درپیش ماحولیاتی خطرات اور سمندر کی پیش قدمی کے مسئلے کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے متعدد اضلاع میں سمندر ہزاروں ایکڑ اراضی کو متاثر کر چکا ہے، جس سے مقامی آبادی، زراعت اور قدرتی ماحول کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
ان کے مطابق زیریں علاقوں کی جانب دریائی پانی کے بہاؤ میں کمی اس مسئلے کی اہم وجوہات میں شامل ہے۔ دریاؤں سے مناسب مقدار میں پانی سمندر تک نہ پہنچنے کے باعث ساحلی علاقوں میں ماحولیاتی توازن متاثر ہو رہا ہے اور سمندر کی پیش قدمی کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔
محمد اسماعیل راہو نے پانی کی قلت کے باعث سندھ کی اہم فصل گنے کی پیداوار پر پڑنے والے منفی اثرات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی اور ساحلی علاقوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں کراچی سمیت دیگر ساحلی آبادیوں کو بھی سمندری پیش قدمی کے خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
امجد سعید: پانی کی منصفانہ تقسیم قومی ضرورت ہے
انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کے ممبر پنجاب امجد سعید نے مکالمے کے شرکاء کو پاکستان کے دریائی نظام، سندھ طاس کے ڈھانچے اور ملک میں پانی کی تقسیم کے طریقہ کار کے بارے میں آگاہ کیا۔
انہوں نے مختلف علاقوں اور صوبوں کی آبی ضروریات کے تناظر میں پانی کی تقسیم کے نظام کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ دستیاب آبی وسائل کو منصفانہ اور شفاف انداز میں تقسیم کرنا قومی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق آبی معاملات میں درست اعداد و شمار، ادارہ جاتی تعاون اور متعلقہ فریقوں کے درمیان اعتماد کی فضا برقرار رکھنا انتہائی اہم ہے۔
محسن لغاری: معاہدے نے زرعی شعبے کو تسلسل فراہم کیا
سابق سینیٹر اور پنجاب کے سابق وزیر برائے آبپاشی و خزانہ محسن لغاری نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں آبی آلودگی کی روک تھام سے متعلق شقیں بھی شامل ہیں، تاہم پاکستان اور بھارت دونوں کی جانب سے ان شقوں پر عمل درآمد کے حوالے سے مختلف نوعیت کے مسائل موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس معاہدے نے زرعی زمینوں کو سیراب کرنے کے لیے پانی کی دستیابی میں ایک حد تک تسلسل اور پیش گوئی کی صلاحیت فراہم کی، جو پاکستان جیسے زرعی ملک کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پانی کی دستیابی میں غیر یقینی صورتحال براہِ راست زرعی پیداوار، کسانوں کی آمدن اور غذائی تحفظ کو متاثر کر سکتی ہے۔
محسن لغاری نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کو آبی وسائل کے تحفظ کے ساتھ ساتھ پانی کے معیار، آلودگی کی روک تھام اور معاہدے سے متعلق تمام متعلقہ پہلوؤں پر بھی توجہ دینی چاہیے۔
دریائے چناب پاکستان کے لیے حساس، چار ڈیموں کی منصوبہ بندی کا ذکر
واپڈا کے مشیر برائے ہائیڈرولوجی و آبی انتظام شاہد حمید نے دریائے چناب کو بھارت کی جانب سے ممکنہ آبی اقدامات کے حوالے سے پاکستان کا ایک انتہائی حساس دریا قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دریائے چناب کا پانی بھارت سے پاکستان میں داخل ہوتا ہے، جس کے باعث اس دریا کے بہاؤ میں کسی بھی تبدیلی کے اثرات پاکستان کے لیے اہم ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے بھارتی آبی اقدامات کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے اور اپنے آبی وسائل کے تحفظ کے لیے دریائے چناب پر چار ڈیم بنانے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ ان کے مطابق آبی ذخائر کی تعمیر، دریاؤں کے بہاؤ کی نگرانی اور پانی کے استعمال سے متعلق بہتر منصوبہ بندی مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
عرفان علی: علاقائی سفارت کاری میں چین کے ساتھ تعاون اہم
وزارتِ آبی وسائل کے سابق وفاقی سیکریٹری عرفان علی نے سندھ طاس معاہدے کے تاریخی اور سفارتی پہلوؤں پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے پر دستخط کے وقت عالمی بینک کا جھکاؤ بھارت کی جانب تھا، تاہم موجودہ حالات میں پاکستان کے لیے محض معاہدے سے دستبردار ہونا کوئی قابلِ عمل راستہ نہیں ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ معاہدے کے تحت لاہور سے گزرنے والا دریائے راوی بھارت کے حصے میں آیا تھا۔ ان کے مطابق پاکستان کو اس معاملے کے حل کے لیے اپنی سفارتی حکمتِ عملی کو مزید مؤثر بنانا چاہیے اور چین کے ساتھ تعاون کے ذریعے علاقائی سطح پر سفارتی دباؤ بڑھانے کے امکانات پر بھی غور کرنا چاہیے۔
عرفان علی کے مطابق سندھ طاس معاہدے سے متعلق پیچیدہ مسائل کا حل صرف بیانات سے ممکن نہیں بلکہ پاکستان کو قانونی، سفارتی اور تکنیکی بنیادوں پر اپنا مقدمہ مضبوط بنانا ہوگا۔
قومی اتفاقِ رائے، آبی ذخائر اور بہتر انتظام مستقبل کی ضرورت
مکالمے کے اختتام پر مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے آبی مسائل کا حل کسی ایک ادارے یا صوبے کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ایک مشترکہ قومی معاملہ ہے۔ اس مقصد کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں، پارلیمان، ارسا، واپڈا، وزارتِ آبی وسائل، قانونی ماہرین اور متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی تعاون ناگزیر ہے۔
شرکاء کے مطابق پاکستان کو ایک طرف سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانونی اور سفارتی راستے اختیار کرنے ہوں گے، جبکہ دوسری جانب ملک کے اندر پانی کے بہتر استعمال، ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافے، آبپاشی کے نظام میں بہتری اور پانی کے ضیاع کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

مقررین نے صوبوں کے درمیان آبی معاملات پر اعتماد سازی کو بھی بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب اور سندھ سمیت تمام صوبوں کے تحفظات کو سنجیدگی سے سنا جائے اور پانی کی تقسیم سے متعلق فیصلے شفاف اعداد و شمار، طے شدہ اصولوں اور باہمی مشاورت کی بنیاد پر کیے جائیں۔
مکالمے میں یہ نکتہ بھی نمایاں رہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں، بڑھتی ہوئی آبادی، زرعی ضروریات اور سمندر کی پیش قدمی جیسے عوامل پاکستان کے آبی مستقبل کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ ایسے حالات میں صرف موجودہ تنازعات پر توجہ دینا کافی نہیں ہوگا بلکہ آنے والی نسلوں کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے طویل المدتی آبی پالیسی مرتب کرنا بھی ضروری ہے۔
مقررین کے مطابق پاکستان کی زرعی معیشت، غذائی تحفظ، ماحولیاتی توازن اور قومی سلامتی کا مستقبل پانی کے وسائل کے دانشمندانہ استعمال، منصفانہ تقسیم، مؤثر سفارت کاری اور قومی اتفاقِ رائے سے مشروط ہے۔ سندھ طاس معاہدے سے متعلق موجودہ صورتحال پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج ضرور ہے، تاہم اسے اندرونی آبی اصلاحات، ادارہ جاتی تعاون اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے ایک اہم موقع میں بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
وائس آف جرمنی اردو نیوز (پاکستان)



