
گلگت بلتستان کی آزادی، بھٹو کا وژن اور پیپلزپارٹی کی تاریخ ساز جدوجہد……اسلم ندارسلہری
1975میں ان کی حکومت نے ناردرن ایریاز کونسل لیگل فریم ورک آرڈر کے ذریعے اہم اصلاحات متعارف کروائیں جاگیردارانہ نظام اور فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن جیسے فرسودہ قوانین کا خاتمہ کیا گیا
یکم نومبر گلگت بلتستان کی تاریخ کا وہ روشن دن ہے جو آزادی غیرت قربانی اور عزم و حوصلے کی لازوال داستان اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ یہ دن ان بہادر سپوتوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے 1947 میں ڈوگرہ راج کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور اپنی سرزمین کو آزاد کروانے کے لیے تاریخ ساز جدوجہد کی محدود وسائل اور نامساعد حالات کے باوجود گلگت بلتستان کے عوام نے جس جرأت اور استقامت کا مظاہرہ کیا وہ ہماری قومی تاریخ کا ایک ناقابل فراموش باب ہے۔ یکم نومبر 1947کو ڈوگرہ اقتدار کے خاتمے کے بعد اس خطے کے عوام نے پاکستان کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کیا اور اپنی سیاسی منزل کو پاکستان کے ساتھ وابستہ کردیا۔
راقم کاتعلق پنجاب کی دھرتی سے ہے ،سیاسی و نظریاتی وابستگی پاکستان پیپلزپارٹی سے ہے میں سیاست کو محض اقتدار کے حصول کا ذریعہ نہیں بلکہ عوامی حقوق جمہوری اقدار اور محروم طبقات کی آواز سمجھتا ہوں اسی نظریاتی وابستگی کے تحت گلگت بلتستان کے یومِ آزادی پر میرا قلم اس خطے کے عوام کی قربانیوں اور پاکستان پیپلزپارٹی کے تاریخی کردار کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے متحرک ہے۔ میرے نزدیک پاکستان کی تاریخ کا کوئی بھی باب کسی ایک علاقے تک محدود نہیں گلگت بلتستان کی آزادی وہاں کے عوام کی قربانیاں اور ان کی سیاسی جدوجہد پوری پاکستانی قوم کا مشترکہ سرمایہ ہیں۔آزادی کے بعد گلگت بلتستان کے عوام کا ایک بڑا خواب یہ تھا کہ انہیں بھی پاکستان کے دوسرے شہریوں کی طرح سیاسی شناخت، جمہوری نمائندگی، معاشی ترقی اور آئینی حقوق حاصل ہوں۔ یہ ایک ایسا خطہ تھا جس کی جغرافیائی اہمیت غیرمعمولی تھی، مگر اس کے عوام کو طویل عرصے تک سیاسی اور انتظامی اختیارات کے حوالے سے محدود رکھا گیا۔ ایسے حالات میں پاکستان پیپلزپارٹی کی اصلاحاتی سیاست نے اس خطے کی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا۔
شہید ذوالفقار علی بھٹو کا نام گلگت بلتستان کی سیاسی و انتظامی تاریخ میں ایک نمایاں حوالہ ہے۔ 1975میں ان کی حکومت نے ناردرن ایریاز کونسل لیگل فریم ورک آرڈر کے ذریعے اہم اصلاحات متعارف کروائیں جاگیردارانہ نظام اور فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن جیسے فرسودہ قوانین کا خاتمہ کیا گیا اور انتظامی و عدالتی اصلاحات کے ذریعے اس خطے کو ایک نئے نظام کی طرف لے جانے کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ وہ دور تھا جب گلگت بلتستان کے عوام کو یہ احساس ملا کہ ریاستی نظام میں ان کی شناخت اور حقوق کی اہمیت بھی تسلیم کی جاسکتی ہے۔بھٹو شہید کی سیاست کا بنیادی فلسفہ یہ تھا کہ اقتدار کا اصل سرچشمہ عوام ہیں اور ریاست کی طاقت کا حقیقی مرکز عام آدمی ہے۔ ان کی سیاسی سوچ محض بڑے شہروں یا اقتدار کے ایوانوں تک محدود نہیں تھی بلکہ محروم اور پسماندہ علاقوں کو بھی قومی ترقی میں شریک کرنا اس کا بنیادی جزو تھا۔ گلگت بلتستان میں ہونے والی اصلاحات اسی سوچ کی ایک تاریخی مثال تھیں۔
محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے بھی اس اصلاحاتی سفر کو آگے بڑھایا۔ 1994 کے قانونی و انتظامی فریم ورک کے ذریعے شمالی علاقہ جات کی نمائندہ کونسل اور داخلی انتظامی اختیارات کے عمل کو وسعت ملی۔ بینظیر بھٹو کی سیاست جمہوریت انسانی وقار اور عوامی اختیار کی علامت تھی ان کا سیاسی وژن اس تصور سے جڑا ہوا تھا کہ ملک کے ہر شہری کو فیصلہ سازی میں شریک ہونے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ گلگت بلتستان کے عوام کے لیے بھی یہ جمہوری سفر ایک اہم پیش رفت تھا۔پاکستان پیپلزپارٹی کی تاریخ کا ایک اور اہم باب 2009 میں رقم ہوا جب صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی حکومت نے گلگت بلتستان امپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر متعارف کروایا۔ اس پیکیج کے تحت شمالی علاقہ جات کو گلگت بلتستان کا نام دیا گیا اور ایک نیا سیاسی و انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا گیا۔ گورنر، وزیراعلیٰ، کابینہ، قانون ساز اسمبلی اور گلگت بلتستان کونسل جیسے ادارے قائم کیے گئے۔ اس اصلاحاتی پیکیج کے نتیجے میں خطے کے عوام کو منتخب نمائندوں کے ذریعے اپنے معاملات چلانے کا ایک نیا موقع ملا۔ 2009 کے انتخابات کے بعد سید مہدی شاہ گلگت بلتستان کے پہلے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے۔ اس تاریخی عمل میں اس وقت کے وفاقی وزیر امورِ کشمیر و شمالی علاقہ جات قمر زمان کائرہ کا کردار بھی قابلِ ذکر ہے۔ایک نظریاتی کارکن کی حیثیت سے راقم کے لیے یہ واقعات محض سیاسی تاریخ کے چند صفحات نہیں بلکہ ایک ایسی جدوجہد کی علامت ہیں جس میں محروم خطوں کو شناخت اور اختیار دینے کی کوشش کی گئی۔ شہید بھٹو کی اصلاحات، محترمہ بینظیر بھٹو کی جمہوری پیش رفت اور صدر آصف علی زرداری و وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے دور میں 2009 کا تاریخی پیکیج اس تسلسل کے اہم مراحل ہیں۔تاہم تاریخ سے وفاداری کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ 2009 کے اصلاحاتی پیکیج نے گلگت بلتستان کو مکمل آئینی صوبے کا درجہ نہیں دیا تھا۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مکمل آئینی نمائندگی، آئینی تحفظ، قدرتی وسائل پر اختیار اور وفاقی فیصلہ سازی میں مؤثر شرکت جیسے بنیادی سوالات آج بھی موجود ہیں۔ اس لیے پیپلزپارٹی کے تاریخی کردار کا اعتراف کرتے ہوئے یہ بھی ضروری ہے کہ اس نامکمل سفر کو مکمل کرنے کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے۔
آج یکم نومبر 2026ء کو گلگت بلتستان اپنا یومِ آزادی ایسے وقت میں منا رہا ہے جب اس خطے میں ایک مرتبہ پھر پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت قائم ہے۔ وزیراعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ کی قیادت میں موجودہ حکومت کو ایک اہم تاریخی موقع میسر آیا ہے کہ وہ بھٹو شہید کے اصلاحاتی وژن اور محترمہ بینظیر بھٹو کے جمہوری خواب کو عملی اقدامات کے ذریعے آگے بڑھائے۔ یہ محض اقتدار کی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک ایسی جماعت کی تاریخی ذمہ داری ہے جس نے اس خطے کی سیاسی شناخت اور انتظامی اصلاحات میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔وفاقی سطح پر وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کے ساتھ تعاون اور گلگت بلتستان کے مسائل کے حل کے لیے ہونے والی مشاورت بھی ایک مثبت پیش رفت ہے۔ توانائی، تعلیم، صحت، سیاحت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں ترقیاتی منصوبوں پر توجہ، شمسی توانائی کے منصوبوں کو آگے بڑھانے کی کوششیں اور خطے کے آئینی و معاشی مسائل پر وزیراعظم کی سطح پر مشاورت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ گلگت بلتستان کے معاملات قومی سطح پر زیرِ غور ہیں۔ ان اقدامات کو عملی نتائج تک پہنچانا وفاقی اور صوبائی قیادت دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔موجودہ وزیراعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ عوامی خدمت، انتظامی بہتری اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے ذریعے اپنی حکومت کو عوامی توقعات کے مطابق آگے لے جائیں۔ گلگت بلتستان کے دور دراز علاقوں تک معیاری تعلیم اور جدید طبی سہولتوں کی فراہمی، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع، بجلی کے بحران کا حل، سڑکوں کی بہتری اور سیاحت کے فروغ کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ اس خطے کے قدرتی اور معدنی وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد میں مقامی آبادی کی جائز شراکت بھی یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔سب سے اہم مسئلہ گلگت بلتستان کے آئینی مستقبل کا ہے۔ اس خطے کے عوام پاکستان سے اپنی غیرمتزلزل وابستگی رکھتے ہیں، لیکن انہیں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مکمل آئینی نمائندگی اور ریاستی فیصلہ سازی میں مؤثر کردار بھی ملنا چاہیے۔ پاکستان سے محبت کا تقاضا یہی ہے کہ اس کے ہر شہری کو برابر کا آئینی وقار اور بنیادی حقوق حاصل ہوں۔ گلگت بلتستان کے عوام کے دیرینہ مطالبات کو سنجیدگی سے حل کرنا قومی یکجہتی کو مزید مضبوط کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور صدر آصف علی زرداری سمیت پوری قیادت سے بھی یہ توقع بجا ہے کہ وہ گلگت بلتستان کے حوالے سے اپنی جماعت کی تاریخی اصلاحاتی شناخت کو مزید مضبوط کریں گے۔ موجودہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ماضی کی اصلاحات کو منزل نہیں بلکہ ایک نئے سفر کی بنیاد سمجھے۔ 2009ء میں جس سیاسی شناخت اور انتظامی اختیار کا آغاز ہوا تھا، اسے مزید آگے بڑھاتے ہوئے آئینی حقوق کی فراہمی کے لیے سنجیدہ اور نتیجہ خیز جدوجہد کی جائے۔راقم نزدیک کسی سیاسی جماعت کی اصل کامیابی صرف انتخابات جیتنے یا حکومت بنانے میں نہیں بلکہ عوام کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے میں ہوتی ہے۔ بھٹو شہید کے نام سے وابستگی کا حقیقی تقاضا یہی ہے کہ محروم کو اس کا حق ملے، نوجوان کو مستقبل کی امید ملے، عام آدمی کو انصاف ملے اور پسماندہ علاقوں کو قومی ترقی میں برابر کا حصہ دار بنایا جائے۔ یہی وہ سیاسی فلسفہ ہے جس نے پیپلزپارٹی کو عوامی سیاست کی ایک نمایاں شناخت عطا کی۔
گلگت بلتستان صرف برف پوش پہاڑوں، خوبصورت وادیوں، دریاؤں اور سیاحتی مقامات کا نام نہیں بلکہ یہ پاکستان کی جغرافیائی، دفاعی، معاشی اور ثقافتی اہمیت کا حامل خطہ ہے۔ یہاں کے عوام کی قربانیاں، پاکستان سے ان کی وابستگی اور قومی یکجہتی کے لیے ان کا کردار ہماری مشترکہ تاریخ کا حصہ ہے۔ ان قربانیوں کا حقیقی احترام محض تقریبات اور تقاریر سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے عوام کو ترقی، انصاف، خوشحالی اور مساوی حقوق فراہم کرنا ہوں گے۔
آج یومِ آزادی کے موقع پر شہید ذوالفقار علی بھٹو کی اصلاحاتی سیاست، محترمہ بینظیر بھٹو کی جمہوری جدوجہد اور صدر آصف علی زرداری و وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے دور میں ہونے والی تاریخی پیش رفت کو یاد کرتے ہوئے موجودہ حکومت سے یہ امید وابستہ کرنا فطری ہے کہ وہ اس سفر کو مزید آگے بڑھائے گی۔ وزیراعلیٰ امجد حسین کی قیادت میں گلگت بلتستان کی حکومت اگر عوامی خدمت، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور آئینی حقوق کی جدوجہد کو اپنی اولین ترجیح بناتی ہے تو یہ اس خطے کے عوام کے لیے ایک مثبت اور امید افزا پیش رفت ہوگی۔گلگت بلتستان کے شہداء کو سلام، آزادی کے متوالوں کو خراجِ عقیدت اور اس خطے کے غیور عوام کو یومِ آزادی مبارک۔ میری دعا ہے کہ یہ خطہ امن، خوشحالی، جمہوریت، ترقی اور آئینی حقوق کی منزل حاصل کرے۔ پاکستان پیپلزپارٹی اپنی تاریخی روایت کے مطابق عوامی حقوق کی اس جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرتی رہے اور گلگت بلتستان کے عوام کا پاکستان سے محبت اور وابستگی کا رشتہ مزید مضبوط ہو


