
علامہ اقبال ایک صاحبِ بصیرت سیاستدان….. پیر مشتاق رضوی
کانگرس 1885ء میں بنی تو سر سید نے مسلمانوں کو اس میں شامل ہونے سے روکا کیونکہ کانگرس ہندو اکثریتی جماعت تھی
علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ کو ہم نے اب تک صرف شاعرِ مشرق اور فلسفی کے طور پر یاد کیا ہے، لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ بیسویں صدی کے برصغیر کے سب سے صاحبِ بصیرت، دور اندیش اور بے لوث سیاستدان بھی تھے۔ ان کی شاعری ان کی روح تھی اور سیاست ان کا عملی جہاد۔ وہ محض خواب دکھانے والے نہیں تھے بلکہ خواب کو تعبیر میں بدلنے کا سیاسی ہنر جانتے تھے۔ اگر سر سید احمد خان نے مسلمانوں کو تعلیمی میدان میں بیدار کیا تھا تو اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے اسی بیداری کو سیاسی منزل عطا کی۔
نگاہ بلند، سخن دلنواز، جاں پرسوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے
اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی سیاسی تربیت کا آغاز انجمن حمایتِ اسلام جیسی فعال تنظیم سے کیا۔ سر سید کی وفات 1898ء کے بعد مسلمان سیاسی طور پر یتیم ہو چکے تھے اور ان کے جانشینوں نے 1906ء میں آل انڈیا مسلم لیگ تو بنا لی تھی لیکن وہ ایک کمزور جماعت تھی۔ اقبال رحمتہ اللہ علیہ 1908ء میں مسلم لیگ میں شامل ہوئے اور اسے ایک واضح دو قومی نظریہ دیا۔ وہ اس جماعت میں شامل ہوئے جو یہ سمجھتی تھی کہ مسلمان ہندوستان میں ایک الگ قوم ہیں۔ اس طرح اقبال رحمتہ اللہ علیہ عملاً سر سید احمد خان کے سیاسی مشن کے حقیقی جانشین بنے اور ان کے مشنری ویژن کو سیاسی تحریک میں بدل دیا۔
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
یا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
1906ء میں جب آل انڈیا مسلم لیگ قائم ہوئی تو اس نے مسلمانوں کے لیے ایک الگ سیاسی پلیٹ فارم مہیا کیا۔ لیکن اس نظریے کی اصل روح سر سید احمد خان نے دی تھی۔ سر سید احمد خان نے سب سے پہلے 1867ء میں بنارس میں کہا تھا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں۔ کانگرس 1885ء میں بنی تو سر سید نے مسلمانوں کو اس میں شامل ہونے سے روکا کیونکہ کانگرس ہندو اکثریتی جماعت تھی۔ یہیں سے دو قومی نظریہ کی باقاعدہ سیاسی جماعت آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد پڑی جنہوں نے کانگرس میں شامل ہونے سے مسلمانوں کو منع کیا تھا۔ اس کے بعد اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے اس نظریے کو محض ایک سیاسی نعرے سے نکال کر ایک اسلامی اور فلسفیانہ حقیقت بنا دیا۔ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے کہا کہ مسلمانوں کی قومیت مغربی قومیت کی طرح وطن یا رنگ و نسل پر نہیں بلکہ کلمہ توحید پر قائم ہے۔ اسی لیے وہ فرماتے ہیں کہ اپنی ملت کو مغرب کی اقوام پر قیاس نہ کرو کیونکہ یہ قومِ رسولِ ہاشمی ﷺ ہے جس کی ترکیب ہی خاص ہے۔ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے اسی دو قومی نظریے کی بنیاد پر برصغیر کے مسلمانوں کو ایک الگ سیاسی منزل دکھائی۔ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے 1930ء میں کہا کہ دو قومی نظریہ محض نفرت نہیں بلکہ مسلمانوں کی سیاسی، معاشی اور روحانی بقا کی ضمانت ہے۔ وہ کہتے تھے کہ اسلام خود ایک قومیت ہے، یہ کسی زمین کا نام نہیں۔ اس نظریے کو ایک فلسفیانہ، قرآنی اور آئینی شکل اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے دی۔
اپنی ملت پہ قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی ﷺ
اقبال رحمتہ اللہ علیہ صرف کتابوں اور جلسوں کے سیاستدان نہیں تھے بلکہ وہ ایوان کے اندر قانون سازی کرنے والے عملی سیاستدان بھی تھے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت ان کا پنجاب لیجسلیٹو کونسل کا دور ہے۔ 1926ء میں وہ لاہور سے بھاری اکثریت سے ممبر منتخب ہوئے اور 1929ء تک مسلسل تین سال تک اسمبلی میں مسلمانوں کے حقوق کی جنگ لڑتے رہے۔ انہوں نے مسلمان کسانوں کو ساہوکاروں کے سود سے بچانے کے لیے قانون سازی کی، سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کا کوٹہ بڑھانے کا مطالبہ کیا اور مفت پرائمری تعلیم کا بل پیش کیا۔
اقبال رحمتہ اللہ علیہ کے سیاسی کیریئر کا عروج 29 دسمبر 1930ء کو الہ آباد میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں بطور صدر ان کا تاریخی خطبہ تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک واضح سیاسی حل پیش کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ میں شمال مغربی ہندوستان، یعنی پنجاب، سندھ، سرحد اور بلوچستان کو ملا کر ایک منظم مسلم ریاست کی شکل میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ اسی خطبے کو بعد میں قیامِ پاکستان کا نظریاتی پیش خیمہ کہا گیا۔ لفظ پاکستان تو 1933ء میں چودھری رحمت علی نے دیا لیکن اس کا پورا جغرافیائی اور نظریاتی خاکہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے 1930ء میں ہی کھینچ دیا تھ
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن
اقبال رحمتہ اللہ علیہ کی سیاست صرف ہندوستان تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ عالم اسلام کے عظیم سیاستدان تھے۔ 1931ء اور 1932ء میں انگریز حکومت نے ہندوستان کے آئین کے لیے لندن میں گول میز کانفرنسیں بلائیں تو اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے دوسری اور تیسری گول میز کانفرنس میں شریک ہو کر مسلمانوں کے لیے جداگانہ انتخابات اور صوبائی خودمختاری کا مقدمہ اس خوبی سے لڑا کہ انگریز بھی ان کی ذہانت کے قائل ہو گئے۔ اسی سال 1931ء میں وہ یروشلم میں منعقدہ موتمر عالم اسلامی میں شرکت کے لیے فلسطین گئے۔
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاکِ کاشغر
اقبال رحمتہ اللہ علیہ کا سب سے بڑا، بے مثال اور احسانِ عظیم یہ ہے کہ انہوں نے قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ کو مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر واپس میدان میں لائے۔ 1934ء میں مسلم لیگ تقریباً ختم ہو چکی تھی اور جناح رحمتہ اللہ علیہ ہندوستان کی سیاست سے مایوس ہو کر لندن میں مستقل سکونت اختیار کر چکے تھے۔ ایسے میں اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے 1936ء سے 1938ء تک جناح رحمتہ اللہ علیہ کو 13 تاریخی خطوط لکھے جن میں انہوں نے لکھا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو آج ایک ایسے لیڈر کی ضرورت ہے جو انہیں متحد کر سکے اور وہ لیڈر صرف آپ ہیں۔ اقبال رحمتہ اللہ علیہ کے اس مسلسل اصرار اور سیاسی تڑپ پر جناح رحمتہ اللہ علیہ 1936ء میں واپس آئے اور مسلم لیگ کو ایک مردہ جماعت سے ایک زندہ تحریک بنا دیا۔ اگر اقبال رحمتہ اللہ علیہ یہ سیاسی کردار ادا نہ کرتے تو تحریکِ پاکستان کبھی منزل تک نہ پہنچتی۔ اسی لیے قائد اعظم رحمتہ اللہ علیہ نے کہا تھا کہ اقبال میرے رہنما اور مرشد ہیں۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
اقبال رحمتہ اللہ علیہ کا بے مثال سیاسی کردار آج کے سیاستدانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آج کی سیاست مفاد، کرسی، خاندان اور دولت کے گرد گھومتی ہے جبکہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ کی سیاست نظریہ، ملت، کردار، دیانت و شرافت پر قائم تھی۔ وہ 1922ء میں انگریز سے سر کا خطاب لے چکے تھے، وہ چاہتے تو انگریز کے ساتھ مل کر وزیر بن سکتے تھے لیکن انہوں نے نظام کے اندر رہ کر نظام کو چیلنج کیا۔ انہوں نے کبھی اپنے خاندان کے لیے سیاست نہیں کی، کوئی شوگر مل اور کوئی جائیداد نہیں بنائی، ان کی کل جائیداد ان کی کتابیں تھیں۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو نہیں بلکہ ملت کے بیٹے یعنی جناح رحمتہ اللہ علیہ کو آگے بڑھایا
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ


