
مشرق وسطیٰ کی تازہ ترین صورتحال جانیے
ہم نے فیصلہ کن جواب دیدیا، جنگ روکنے کیلئے اب فیصلہ امریکا کو کرنا ہے: باقر قالیباف امریکا کی جانب سے دی جانے والی جنگ کی دھمکیوں کے آگے ہتھیار نہیں ڈالیں گے: ایرانی صدر ایران کیخلاف دوبارہ حملے شروع کرنےکیلئےکوئی ڈیڈ لائن مقرر نہیں: نائب امریکی صدر
ویب ڈیسک

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘تسنیم’ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بندر خمیر کے ساحلی علاقے کی فضاؤں میں 2 امریکی ’لوکاس‘ ڈرون اور آبنائے ہرمز میں ایک امریکی ایم کیو 9 ڈرون کو مار گرایا ہے۔
واضح رہے کہ اس حالیہ کارروائی سے قبل، گزشتہ رات بھی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے آبنائے ہرمز کے اسٹریٹجک علاقے میں ایک ڈرون کو نشانہ بنا کر تباہ کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا تھا۔ خطے میں کشیدگی کے دوران ایرانی حدود کے قریب امریکی ڈرونز کو نشانہ بنانے کے ان پے در پے دعوؤں سے صورتحال مزید سنگین ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر 3 ٹینکرز تباہ، پاسدارانِ انقلاب
ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے ایران کی اجازت کے بغیر گزرنے کی کوشش کرنے والے 3 ٹینکرز بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر دھماکوں کا شکار ہو گئے ہیں۔
پاسداران کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ان ٹینکرز نے آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں سفر کرتے ہوئے اپنے جیو لوکیشن ٹریکنگ سسٹمز جان بوجھ کر بند کر رکھے تھے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بارودی سرنگوں سے ٹکرانے اور دھماکوں کے بعد یہ جہاز آبنائے ہرمز کے جنوبی ساحل کے قریب آگ کے شعلوں میں گھرے ہوئے ہیں۔
ہم نے فیصلہ کن جواب دیدیا، جنگ روکنے کیلئے اب فیصلہ امریکا کو کرنا ہے: باقر قالیباف
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکرباقر قالیباف کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکا کو ایک فیصلہ کن اور معقول جواب دیا جا چکا ہے، جنگ روکنے کے لیے اب فیصلہ امریکا کو کرنا ہے۔
باقر قالیباف نے کہا کہ کوئی بھی اسٹریٹجک غلط اندازہ ان کے خلاف نئے محاذ کھول دے گا، دشمن کےکسی بھی اسٹریٹجک غلط اندازےپرایران کاردعمل جغرافیائی حدود تک محدود نہیں ہوگا۔
امریکا کے ساتھ کس معاہدے تک پہنچنے سے ابھی بہت دور ہیں، اعلیٰ ایرانی عہدیدار
ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے غیر ملکی خبرایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکا جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے سے ابھی بہت دور ہیں۔
عہدیدار نے کہا کہ ایران امریکا کے حد سے زیادہ مطالبات کو قبول نہیں کرے گا، اگر امریکا آبنائے ہرمز کھلوانا چاہتا ہے تو اسے ایران کی شرائط پوری کرنا ہوں گی، جس کے بعد جوہری مذاکرات شروع ہوسکتے ہیں۔
ایرانی عہدیدار کا کہناہے کہ ثالث ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات کم کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں، تاہم ایران امریکی حملوں کی صورت میں خطے اور اس سے باہر بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔



