
پاکستان میں جدید زراعت کے فروغ کے لیے اہم پیش رفت، این پی او اور ایشیائی پیداواری تنظیم کے اشتراک سے بین الاقوامی تربیتی پروگرام کا آغاز
جدید زرعی طریقوں کا فروغ اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ حکومت کے معاشی ترقی کے اہداف، بالخصوص اڑان پاکستان اور پانچ نکاتی قومی معاشی تبدیلی کے منصوبے کی کامیابی کے لیے اہمیت رکھتے ہیں
سید قاسم بخاری-پاکستان
لاہور: پاکستان میں جدید اور پائیدار زراعت کے فروغ کے لیے قومی پیداواری تنظیم پاکستان اور جاپان کی ایشیائی پیداواری تنظیم کے اشتراک سے پانچ روزہ بین الاقوامی تربیتی پروگرام کا آغاز ہوگیا۔ لاہور میں منعقد ہونے والے اس پروگرام میں مختلف ممالک کے مندوبین، بین الاقوامی زرعی ماہرین اور پاکستانی شعبہ زراعت سے وابستہ پیشہ ور افراد شرکت کر رہے ہیں۔ تربیتی پروگرام 6 نومبر تک جاری رہے گا، جس کا بنیادی مقصد جدید زرعی ٹیکنالوجی، جدت اور پائیدار طریقوں کے ذریعے زرعی پیداوار میں اضافہ اور پاکستانی زرعی شعبے کی عالمی مسابقتی صلاحیت بہتر بنانا ہے۔
افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی جوائنٹ سیکریٹری وزارتِ صنعت و پیداوار ندیم الرحمٰن تھے، جبکہ اس موقع پر ایشیائی پیداواری تنظیم کے قومی پیداواری اعزازات 2025 بھی تقسیم کیے گئے۔ ان اعزازات کے ذریعے پیداواری صلاحیت، جدت، بہترین کارکردگی اور ادارہ جاتی بہتری کے فروغ میں نمایاں خدمات انجام دینے والے اداروں اور متعلقہ شعبوں کی حوصلہ افزائی کی گئی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ندیم الرحمٰن نے کہا کہ زراعت ملکی معیشت کا اہم ستون ہے، جو غذائی تحفظ، روزگار کی فراہمی، دیہی ترقی اور صنعتی شعبے کو خام مال کی فراہمی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، زمین اور مٹی کا پائیدار انتظام، قدرتی وسائل کا مؤثر استعمال اور زرعی مصنوعات میں اضافی معاشی قدر پیدا کرنا ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدید زرعی طریقوں کا فروغ اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ حکومت کے معاشی ترقی کے اہداف، بالخصوص اڑان پاکستان اور پانچ نکاتی قومی معاشی تبدیلی کے منصوبے کی کامیابی کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے پیداواری صلاحیت اور ادارہ جاتی استعداد میں اضافے کے لیے ایشیائی پیداواری تنظیم کے تعاون اور تکنیکی معاونت کو بھی سراہا۔
اس موقع پر چیف ایگزیکٹو قومی پیداواری تنظیم پاکستان محمد عالم گیر چوہدری نے کہا کہ این پی او ملکی معیشت کے مختلف شعبوں میں پیداواری صلاحیت، جدت اور مسابقت کے فروغ کے لیے مؤثر کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ صنعتی ترقی کی طرح اہم ہے، کیونکہ زراعت نہ صرف غذائی تحفظ اور روزگار کا ذریعہ ہے بلکہ ملکی صنعت کو خام مال کی فراہمی میں بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدید زرعی نظام، وسائل کے مؤثر استعمال، زمین اور مٹی کے پائیدار انتظام اور اضافی قدر کی حامل زرعی مصنوعات کے فروغ سے زرعی کارکردگی بہتر بنانے کے ساتھ زراعت اور صنعت کے درمیان روابط بھی مضبوط کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی ماہرین کے تجربات اور جدید عملی طریقوں سے بھرپور استفادہ کریں اور حاصل ہونے والے علم کو عملی اقدامات میں تبدیل کریں۔
پانچ روزہ تربیتی پروگرام کے دوران جدید زرعی ٹیکنالوجی، پائیدار زرعی طریقوں، زمین اور مٹی کے بہتر انتظام، وسائل کے مؤثر استعمال، معلوماتی نظام کے ذریعے زرعی پیداوار میں اضافے، مصنوعات کے معیار میں بہتری اور زرعی اجناس میں اضافی قدر پیدا کرنے کے طریقوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اس کے علاوہ ایشیائی پیداواری تنظیم کے رکن ممالک کے ماہرین اور شرکاء کو اپنے تجربات اور کامیاب عملی طریقوں کے تبادلے کا موقع بھی فراہم کیا جائے گا۔
پروگرام کے ذریعے کسانوں، زرعی کاروباری اداروں اور متعلقہ فریقوں کی پیشہ ورانہ استعداد بڑھانے، پیداواری لاگت اور وسائل کے ضیاع میں کمی، زرعی مصنوعات کے معیار کو بہتر بنانے اور عالمی منڈیوں میں پاکستانی زرعی مصنوعات کی مسابقتی حیثیت مضبوط کرنے میں مدد ملے گی۔
قومی پیداواری تنظیم پاکستان اور ایشیائی پیداواری تنظیم کا یہ مشترکہ اقدام ملکی زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے، پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے پاکستان کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔



