علی عباس کاظمیکالمز

ادبی محفلوں کا بدلتا مزاج……. علی عباس کاظمی

ہم ادبی تنقید کے نام پر اجلاس منعقد کرتے ہیں، مگر ان اجلاسوں میں سنجیدہ مطالعے، تحقیق اور فنی تجزیے کے بجائے اکثر فوری تاثرات کو اہمیت دی جاتی ہے

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

ادب میں تنقید کا منصب بہت اہم ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم یہ سمجھنا ہے کہ تنقید کس چیز پر اور کس مقصد کے لیے کی جا رہی ہے۔ کسی تخلیق کا جائزہ لینا اور کسی تخلیق کار کی شخصیت کا محاسبہ کرنا دو بالکل مختلف معاملات ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے بعض ادبی حلقوں میں یہ فرق دھندلا ہوتا جا رہا ہے۔ شاعر غزل پیش کرتا ہے تو گفتگو شعر کے بجائے شاعر کی شخصیت تک پہنچ جاتی ہے، افسانہ نگار کہانی سناتا ہے تو اس کے کرداروں اور پلاٹ کے بجائے اس کے ذاتی مزاج پر تبصرے شروع ہو جاتے ہیں۔ کسی کی ادبی شہرت، تعلقات، تجربے اور حلقۂ احباب کو اس کی تخلیق کے معیار سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ یوں ادب پر گفتگو کرنے کے لیے بلائی گئی محفلیں بعض اوقات شخصیات کے جائزے کا غیر اعلانیہ فورم بن جاتی ہیں۔ یہ محض طریقۂ کار کی خرابی نہیں بلکہ تنقیدی شعور کی کمزوری ہے۔تنقید کا بنیادی موضوع ناول، افسانہ، شاعری، مضمون اور دوسری ادبی تخلیقات ہونی چاہییں۔۔۔ ان کے مصنفین نہیں۔ اگر کسی افسانے کا اختتام غیر مؤثر ہے تو اس پر بات کی جائے، اگر ناول میں کرداروں کی نفسیاتی تشکیل کمزور ہے تو اس کی نشاندہی کی جائے، اگر کسی شاعر کے ہاں خیال کی تازگی نہیں یا زبان میں غیر ضروری پیچیدگی ہے تو متعلقہ اشعار کو سامنے رکھ کر دلیل دی جائے۔ کسی لکھنے والے کی ذاتی زندگی، خاندانی پس منظر، معاشی حیثیت، مزاج یا ادبی تعلقات کو تنقید کا حصہ بنانے کا کوئی جواز نہیں۔ ایک تخلیق کار کی شخصیت اس کی تخلیق سے مختلف حیثیت رکھتی ہے۔ ضروری نہیں کہ اچھا انسان لازماً اچھا ادیب بھی ہو اور یہ بھی ضروری نہیں کہ کسی شخص کی ذاتی زندگی کے بارے میں ہماری رائے اس کے ادبی کام کا فیصلہ کرنے کا حق دے دے۔ تخلیق کو اس کے اپنے فنی اور فکری معیار پر پرکھنا ہی تنقید کی پہلی شرط ہے۔
ہم ادبی تنقید کے نام پر اجلاس منعقد کرتے ہیں، مگر ان اجلاسوں میں سنجیدہ مطالعے، تحقیق اور فنی تجزیے کے بجائے اکثر فوری تاثرات کو اہمیت دی جاتی ہے۔ شاعر، افسانہ نگار یا مضمون نگار اپنی تحریر کی دس پندرہ نقول تیار کروا کر شرکا میں تقسیم کرتا ہے۔ اسی نشست میں تخلیق پڑھی جاتی ہے اور پھر حاضرین اپنی اپنی رائے پیش کرتے ہیں۔ غزل اور مختصر نظم کے لیے یہ طریقہ کسی حد تک مناسب ہو سکتا ہے، کیونکہ چند اشعار کو پڑھ کر ان کے فنی محاسن، لفظوں کے انتخاب، خیال اور شعری کیفیت پر گفتگو ممکن ہے۔ لیکن افسانے، ناول، مضمون اور تحقیقی مقالے کو اسی پیمانے سے جانچنا علمی سنجیدگی کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ایک افسانہ محض چند واقعات کا بیان نہیں ہوتا۔ اس میں کرداروں کی نفسیات، معاشرتی رویے، واقعات کا باہمی تعلق، مکالموں کی معنویت اور بعض اوقات کئی تہوں میں چھپا ہوا ایک فکری پیغام موجود ہوتا ہے۔ ناول کی وسعت تو اس سے بھی زیادہ مطالعے اور توجہ کا تقاضا کرتی ہے۔ اسی طرح ایک سنجیدہ مضمون میں پیش کیے گئے دلائل، تاریخی حوالوں اور واقعات کی صحت جانچنے کے لیے محض پہلی قرأت کافی نہیں ہوتی۔
جب شرکا کو کسی تحریر کے مطالعے کے لیے مناسب وقت ہی نہ دیا جائے تو ان سے گہری تنقید کی توقع رکھنا غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ ایسی صورت میں گفتگو کا معیار بھی عموماً اسی حد تک رہتا ہے جس حد تک فوری تاثر پہنچ سکتا ہے۔ایک اور بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے تنقید اور فیصلہ سنانے کو ایک ہی عمل سمجھ لیا ہے۔ کسی تخلیق کو کمزور قرار دے دینا آسان ہے، مگر اس کی کمزوری ثابت کرنا محنت، مطالعے اور فنی شعور کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر کسی نقاد کو افسانے کا پلاٹ پسند نہیں آیا تو اسے بتانا چاہیے کہ واقعات کے تسلسل میں کہاں جھول ہے۔ اگر کردار غیر حقیقی محسوس ہوتے ہیں تو اس کے رویے اور مکالموں کی مثال دینی چاہیے۔ اگر شاعری میں خیال کی تکرار ہے تو متعلقہ اشعار کی نشان دہی ہونی چاہیے۔ محض یہ کہہ دینا کہ تحریر میں جان نہیں، شاعر میں پختگی نہیں یا افسانہ نگار ابھی سیکھ رہا ہے، کسی علمی گفتگو کا متبادل نہیں۔ ایسی رائے مصنف کو کوئی راستہ نہیں دکھاتی، صرف ایک غیر واضح فیصلہ اس کے سامنے رکھ دیتی ہے۔ہمارے ادبی ماحول میں خوشامد اور گروہ بندی کا مسئلہ بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بعض اوقات تنقیدی نشست میں پہلے سے طے شدہ ذہنی وابستگیاں گفتگو کا رخ متعین کرتی ہیں۔ دوست کی تحریر میں خامیاں نظر نہیں آتیں اور غیر متعلق شخص کی خوبیوں کا اعتراف بھی مشکل محسوس ہوتا ہے۔ معروف ادیب کے معمولی خیال کو غیر معمولی قرار دیا جاتا ہے، جبکہ نئے لکھنے والے کی اچھی کوشش بھی نظرانداز ہو جاتی ہے۔ یہ طرزِ عمل ادب میں میرٹ کے تصور کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اگر کسی تحریر کی قدر اس کے مصنف کے نام اور تعلقات کی بنیاد پر متعین ہوگی تو پھر تخلیقی معیار کی بات محض ایک خوش نما دعویٰ بن کر رہ جائے گی۔ ادبی دنیا میں بھی وہی اصول ہونا چاہیے جو کسی علمی ادارے میں ہونا چاہیے۔ کام کو اس کے معیار سے جانچا جائے، نام اور تعلق سے نہیں۔
تنقید کے نام پر شخصی حملوں کا رویہ اس سے بھی زیادہ نقصان دہ ہے۔ بعض لوگ کسی تحریر کی خامی بیان کرتے کرتے اس کے مصنف کے کردار، قابلیت، شخصیت اور ذاتی معاملات تک پہنچ جاتے ہیں۔ انہیں شاید احساس نہیں ہوتا کہ وہ علمی گفتگو کی حدود عبور کر رہے ہیں۔ کسی لکھنے والے کو شرمندہ کرنا، اس کی تضحیک کرنا یا حاضرین کے سامنے اس کی ادبی حیثیت کم کرنے کی کوشش کرنا تنقید نہیں بلکہ ذاتی انا کی تسکین ہے۔ نقاد کا کام کسی کو نیچا دکھانا نہیں، اسے بہتر لکھنے کے امکانات سے آگاہ کرنا ہے۔ سخت تنقید ضرور کی جائے، مگر اس کی سختی دلیل میں ہو، لہجے کی تلخی اور شخصیت کی توہین میں نہیں۔ اسی طرح لکھنے والے کو بھی ہر اختلاف کو اپنی ذات پر حملہ سمجھنے کے بجائے اپنی تخلیق پر نظرثانی کا موقع تصور کرنا چاہیے۔اس فرسودہ طریقۂ کار کی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ نثری تخلیقات کو اجلاس سے کم از کم ایک ہفتہ پہلے شرکا تک پہنچایا جائے۔ ہر شریک کو گھر بیٹھ کر مطالعے اور تحقیق کا موقع ملے۔ وہ تحریر کے فکری، فنی، لسانی اور تحقیقی پہلوؤں کا جائزہ لے سکے۔ کسی مضمون میں تاریخی حوالہ موجود ہے تو اس کی تصدیق کی جا سکے، کسی شخصیت سے منسوب واقعے کی حقیقت معلوم کی جا سکے اور کسی افسانے میں کرداروں کے غیر فطری رویوں یا کہانی کے کمزور حصوں کی نشان دہی کی جا سکے۔ اجلاس میں آنے والا شخص محض اپنی پسند یا ناپسند بیان کرنے کے بجائے تیاری کے ساتھ گفتگو کرے۔ اس طرح تنقید ایک وقتی سرگرمی کے بجائے باقاعدہ علمی مشق بن سکتی ہے۔
یہاں ادبی تنظیموں اور اجلاسوں کے منتظمین کی ذمہ داری بھی اہم ہو جاتی ہے۔ اجلاس کی کامیابی کا معیار صرف حاضرین کی تعداد، مہمانِ خصوصی کی آمد، صدر کے اختتامی کلمات یا اجتماعی تصاویر نہیں ہونا چاہیے۔ منتظمین کو یہ دیکھنا چاہیے کہ محفل سے ادب کو کیا فائدہ پہنچا۔ کیا کسی لکھنے والے کو اپنی غلطی سمجھ آئی؟ کیا کسی نوجوان نے تنقید کرنے کا سلیقہ سیکھا؟ کیا کسی تخلیق میں بہتری کی گنجائش واضح ہوئی؟ اگر ان سوالات کا جواب موجود نہیں تو پھر محفل کی ظاہری رونق اس کی علمی کامیابی کا ثبوت نہیں بن سکتی۔ ادب کی خدمت تقریبات کی تعداد بڑھانے سے نہیں بلکہ ان کے معیار کو بہتر بنانے سے ہوتی ہے۔نوجوان لکھنے والوں کی تربیت کے حوالے سے بھی اس تبدیلی کی ضرورت دوچند ہو جاتی ہے۔ انہیں اچھی تحریر پڑھنے کے ساتھ کمزور تحریر کی خامیاں پہچاننا بھی سیکھنا چاہیے۔ اسی طرح انہیں یہ شعور بھی دیا جائے کہ تنقید برداشت کرنا تخلیقی سفر کا حصہ ہے۔ جو شخص اپنی ہر تحریر کو مکمل سمجھتا ہے، وہ بہت جلد اپنی فکری حدود میں قید ہو جاتا ہے۔ لیکن جو اپنی کمزوری تسلیم کر کے اس پر کام کرتا ہے، اس کے لیے آگے بڑھنے کے امکانات ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ نقاد کوئی ایسا حتمی منصف نہیں جس کے فیصلے سے تخلیق کی قسمت طے ہو جائے۔ اس کی رائے بھی مطالعے، تجربے اور فہم کی حدود میں ہوتی ہے۔ اس لیے تنقیدی اجلاس میں اختلاف کی گنجائش ہونی چاہیے۔ مصنف کسی اعتراض کو دلیل سے رد کر سکتا ہے اور نقاد اپنی رائے پر نظرثانی کر سکتا ہے۔ یہی علمی دیانت ہے۔
جہاں سوال اٹھانے، اختلاف کرنے اور اپنی رائے بدلنے کی اجازت نہ ہو، وہاں تنقید نہیں بلکہ ذہنی آمریت جنم لیتی ہے۔ہمیں اپنے ادبی رویوں کا جائزہ لینا ہوگا۔ اگر ہم ہر اجلاس میں ایک دوسرے کی تعریف کرتے رہیں گے تو تخلیقات کی خامیاں کون سامنے لائے گا؟ اگر ہر اختلاف کو ذاتی مخالفت سمجھا جائے گا تو نئی فکر کیسے پیدا ہوگی؟ اگر نقاد تحریر پڑھنے کے بجائے اپنی تقریر کی تیاری میں مصروف رہے گا تو تخلیق کار کو رہنمائی کہاں سے ملے گی؟ اور اگر ادبی محفلوں میں شخصیت کا وزن تخلیق کے معیار سے زیادہ ہوگا تو نئے لکھنے والوں کو آگے بڑھنے کا منصفانہ موقع کیسے ملے گا؟ادب کو ایسے ماحول کی ضرورت ہے جہاں نہ خوشامد کو تنقید سمجھا جائے، نہ تلخی کو بے باکی کا نام دیا جائے اور نہ شہرت کو قابلیت کا ثبوت مانا جائے۔ تخلیق کار کی عزت اپنی جگہ، مگر اس کی تخلیق علمی جانچ سے بالاتر نہیں ہونی چاہیے۔ نقاد کی حیثیت بھی اپنی جگہ، مگر اس کی رائے دلیل اور تحقیق کی پابند ہونی چاہیے۔ ہمیں ایسی تنقیدی محفلیں قائم کرنا ہوں گی جہاں کسی کے نام، تعلق یا مرتبے سے مرعوب ہوئے بغیر اس کے فن پر بات ہو سکے۔ ادب وہاں پروان چڑھتا ہے جہاں تحریر کو کسوٹی پر رکھا جائے، نہ کہ لکھنے والے کو ذاتی پسند و ناپسند کے ترازو میں تولا جائے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button