
اقوام متحدہ میں پاکستان کی بڑی سفارتی پیش رفت، اسلحے پر کنٹرول اور عالمی سلامتی سے متعلق تین اہم قراردادیں منظور
روایتی ہتھیاروں پر کنٹرول کی پاکستانی قرارداد کے حق میں 180 ممالک کی حمایت، بھارت اور اسرائیل کی مخالفت؛ دوسری قرارداد اتفاقِ رائے سے منظور، تیسری کے حق میں 122 ووٹ، جوہری ہتھیار نہ رکھنے والے ممالک کے تحفظ اور علاقائی اعتماد سازی پر عالمی توجہ مرکوز
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق روایتی ہتھیاروں پر کنٹرول سے متعلق قرارداد کو 180 ممالک کی حمایت حاصل ہوئی، جبکہ بھارت اور اسرائیل نے اس کی مخالفت کی۔ پاکستان کی دوسری قرارداد ووٹنگ کے بغیر منظور کی گئی، جبکہ تیسری قرارداد کے حق میں 122 ممالک نے ووٹ دیا اور کسی ملک نے مخالفت میں ووٹ نہیں ڈالا۔
پاکستانی مشن نے ان قراردادوں کی منظوری کو بین الاقوامی سطح پر اسلحے کی دوڑ روکنے، علاقائی کشیدگی کم کرنے اور جوہری ہتھیار نہ رکھنے والے ممالک کے تحفظ کے لیے مشترکہ کوششوں کی اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
یہ قراردادیں ایسے وقت میں منظور ہوئی ہیں جب جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور دنیا کے دیگر حساس خطوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی سلامتی، فوجی طاقت کے توازن اور ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے متعلق خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
روایتی ہتھیاروں پر کنٹرول کی قرارداد، 180 ممالک کی حمایت
پاکستان کی جانب سے پیش کردہ پہلی قرارداد روایتی ہتھیاروں پر علاقائی اور ذیلی علاقائی سطح پر کنٹرول سے متعلق تھی، جس کا بنیادی مقصد مختلف خطوں میں فوجی طاقت کے عدم توازن کو کم کرنا، ہتھیاروں کی غیر ضروری دوڑ کی حوصلہ شکنی کرنا اور تنازعات کے خطرات محدود کرنے کے لیے علاقائی معاہدوں کو فروغ دینا ہے۔
قرارداد میں اس اصول پر زور دیا گیا کہ علاقائی سلامتی کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے متعلقہ ممالک کو اپنی دفاعی ضروریات، باہمی اعتماد اور خطے میں موجود سلامتی کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے تعاون کرنا چاہیے۔
اس میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا کہ فوجی اعتبار سے زیادہ طاقت رکھنے والے ممالک پر علاقائی سلامتی اور اسلحے پر کنٹرول کے مؤثر انتظامات قائم کرنے کی زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق فوجی طاقت کا غیر متوازن ارتکاز خطے میں عدم اعتماد پیدا کر سکتا ہے اور اسلحے کی دوڑ کو تیز کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ ایسے حالات میں علاقائی سطح پر مذاکرات، شفافیت اور باہمی معاہدے فوجی تصادم کے امکانات کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
قرارداد کے حق میں 180 ممالک کی حمایت کو پاکستان کے سفارتی مؤقف کے لیے وسیع بین الاقوامی تائید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم بھارت اور اسرائیل کی مخالفت ظاہر کرتی ہے کہ روایتی ہتھیاروں کے کنٹرول اور علاقائی سلامتی کے بعض اصولوں پر عالمی سطح پر اختلافات بدستور موجود ہیں۔
جنوبی ایشیا میں فوجی توازن اور پاک بھارت تعلقات کے تناظر میں اہمیت
مبصرین کے نزدیک روایتی ہتھیاروں پر کنٹرول سے متعلق قرارداد جنوبی ایشیا کے لیے خصوصی اہمیت رکھتی ہے، جہاں پاکستان اور بھارت دونوں جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک ہیں اور ان کے درمیان طویل عرصے سے متعدد سیاسی، سرحدی اور سلامتی سے متعلق تنازعات موجود ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان ماضی میں جنگیں، سرحدی جھڑپیں اور مختلف نوعیت کی فوجی کشیدگیاں سامنے آ چکی ہیں۔ ایسے حالات میں روایتی فوجی طاقت کا عدم توازن اور جدید ہتھیاروں کی مسلسل خریداری خطے میں عدم اعتماد کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
پاکستان طویل عرصے سے اس مؤقف کا اظہار کرتا رہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے فوجی طاقت کے توازن، تنازعات کے پرامن حل اور اعتماد سازی کے اقدامات کو یکساں اہمیت دینا ضروری ہے۔
دوسری جانب بھارت اپنی دفاعی پالیسی اور فوجی جدید کاری کو قومی سلامتی، سرحدی خطرات اور علاقائی دفاعی ضروریات کے تناظر میں پیش کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جنوبی ایشیا میں کسی بھی مؤثر علاقائی اسلحہ کنٹرول نظام کے قیام کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان مستقل مذاکرات، فوجی سرگرمیوں سے متعلق شفافیت، غلط فہمیوں کی روک تھام اور بحرانوں کے دوران رابطے کے قابلِ اعتماد طریقہ کار کی ضرورت ہوگی۔
علاقائی اعتماد سازی سے متعلق دوسری قرارداد اتفاقِ رائے سے منظور
پاکستان کی جانب سے پیش کردہ دوسری قرارداد کا عنوان ’’علاقائی اور ذیلی علاقائی سطح پر اعتماد سازی کے اقدامات‘‘ تھا، جسے اقوام متحدہ کی پہلی کمیٹی نے ووٹنگ کے بغیر منظور کر لیا۔
اس قرارداد کا بنیادی مقصد مختلف خطوں کے ممالک کے درمیان اعتماد کو فروغ دینا، فوجی اور سیاسی کشیدگی کم کرنا اور ایسے عملی اقدامات کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جن کے ذریعے ممکنہ تنازعات کو مسلح تصادم میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکے۔
اعتماد سازی کے اقدامات میں دفاعی پالیسیوں سے متعلق معلومات کا تبادلہ، فوجی سرگرمیوں میں شفافیت، ہنگامی رابطوں کے نظام، مشترکہ مذاکرات اور علاقائی سلامتی کے معاملات پر مسلسل مشاورت جیسے طریقے شامل ہو سکتے ہیں۔
قرارداد کی ووٹنگ کے بغیر منظوری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کمیٹی کی سطح پر اس مسودے کو باضابطہ رائے شماری کے بغیر قبول کرنے پر اتفاق ہوا۔
پاکستانی مشن کے مطابق موجودہ عالمی حالات میں اعتماد سازی کے اقدامات کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے کیونکہ مختلف خطوں میں فوجی سرگرمیوں، سیاسی اختلافات اور باہمی بداعتمادی کے باعث کشیدگی میں اضافے کا خطرہ موجود ہے۔
جوہری ہتھیار نہ رکھنے والے ممالک کے تحفظ کے لیے تیسری قرارداد منظور
پاکستان کی تیسری قرارداد جوہری ہتھیار نہ رکھنے والے ممالک کو جوہری ہتھیاروں کے استعمال یا استعمال کی دھمکی سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر بین الاقوامی انتظامات سے متعلق تھی۔
اس قرارداد کے حق میں 122 ممالک نے ووٹ دیا، جبکہ مخالفت میں کوئی ووٹ سامنے نہیں آیا۔
قرارداد کا بنیادی مقصد ایسے ممالک کے لیے بین الاقوامی سطح پر قابلِ اعتماد سلامتی کی ضمانتوں کی ضرورت اجاگر کرنا ہے جن کے پاس جوہری ہتھیار موجود نہیں ہیں۔
اس نوعیت کی ضمانتوں کو بین الاقوامی سفارتی اصطلاح میں منفی سلامتی کی ضمانتیں کہا جاتا ہے، جن کے تحت جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک کی جانب سے غیر جوہری ممالک کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال نہ کرنے یا ان کے استعمال کی دھمکی نہ دینے کے وعدوں اور انتظامات پر بات کی جاتی ہے۔
پاکستانی مشن کے مطابق غیر جوہری ممالک کے تحفظ کے لیے مؤثر بین الاقوامی معاہدوں کی ضرورت موجودہ عالمی حالات میں مزید اہم ہو گئی ہے۔
اگرچہ جوہری عدم پھیلاؤ کے بین الاقوامی نظام کے تحت مختلف وعدے اور انتظامات موجود ہیں، تاہم تمام غیر جوہری ممالک کے لیے یکساں اور قانونی طور پر پابند سلامتی کی ضمانتوں کا معاملہ بدستور عالمی مذاکرات کا موضوع ہے۔
قرارداد کی منظوری اس مسئلے کو بین الاقوامی ایجنڈے پر برقرار رکھنے اور مزید سفارتی کوششوں کی حمایت کی علامت سمجھی جا سکتی ہے۔ البتہ کمیٹی کی منظوری بذاتِ خود کوئی نیا قانونی طور پر پابند بین الاقوامی معاہدہ قائم نہیں کرتی۔
مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور عالمی سلامتی کو درپیش خطرات
پاکستانی قراردادوں کی منظوری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، فوجی کارروائیوں اور علاقائی سلامتی سے متعلق خدشات نے عالمی برادری کی توجہ ایک مرتبہ پھر ہتھیاروں کے پھیلاؤ اور فوجی تصادم کی روک تھام کی جانب مبذول کر دی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں موجود سیاسی اور عسکری اختلافات، مختلف ممالک کے دفاعی مفادات اور علاقائی طاقتوں کے درمیان کشیدگی اس خطے کے سلامتی کے ماحول کو پیچیدہ بناتے ہیں۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق ایسے حالات میں اسلحے پر کنٹرول، سفارتی رابطوں اور اعتماد سازی کے انتظامات کو مضبوط بنانا نہایت ضروری ہے تاکہ کسی بھی محدود فوجی تصادم کے وسیع علاقائی بحران میں تبدیل ہونے کے امکانات کم کیے جا سکیں۔
اس تناظر میں پاکستان کی جانب سے پیش کردہ قراردادیں صرف جنوبی ایشیا ہی نہیں بلکہ دیگر حساس خطوں کے لیے بھی اصولی اہمیت رکھتی ہیں۔
اسلحے کی دوڑ اور بین الاقوامی معاہدوں کی افادیت پر سوالات
دنیا کے مختلف حصوں میں بڑھتے ہوئے دفاعی اخراجات، جدید میزائل ٹیکنالوجی، ڈرون نظام، فضائی دفاعی صلاحیتوں اور دیگر جدید ہتھیاروں کی تیاری نے اسلحے پر کنٹرول کے روایتی نظام کے سامنے نئے چیلنج پیدا کیے ہیں۔
بین الاقوامی سلامتی کے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہتھیاروں کی جدید کاری کے ساتھ ساتھ ایسے سفارتی اور قانونی انتظامات بھی ضروری ہیں جو طاقت کے غیر ضروری استعمال، غلط اندازوں اور اچانک فوجی تصادم کے خطرات محدود کر سکیں۔
پاکستانی مشن کے مطابق منظور ہونے والی قراردادیں ایسے وقت میں علاقائی امن و استحکام اور اعتماد سازی کے لیے مشترکہ راستہ فراہم کرتی ہیں جب عالمی سطح پر اسلحے پر کنٹرول کے نظام کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔
ان قراردادوں کی اہمیت اس لحاظ سے بھی نمایاں ہے کہ یہ فوجی طاقت میں اضافے کے بجائے مذاکرات، علاقائی تعاون اور سلامتی کے مشترکہ اصولوں پر زور دیتی ہیں۔
اقوام متحدہ کی پہلی کمیٹی کا کردار اور قراردادوں کی حتمی منظوری
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی پہلی کمیٹی، جسے تخفیفِ اسلحہ اور بین الاقوامی سلامتی کی کمیٹی بھی کہا جاتا ہے، عالمی سطح پر ہتھیاروں میں کمی، جوہری اور روایتی اسلحے پر کنٹرول اور بین الاقوامی سلامتی سے متعلق معاملات کا جائزہ لیتی ہے۔
یہ کمیٹی رکن ممالک کی جانب سے پیش کردہ قراردادوں کے مسودوں پر بحث کرتی ہے اور انہیں ووٹنگ یا اتفاقِ رائے کے ذریعے منظور کر کے جنرل اسمبلی کے سامنے پیش کرتی ہے۔
پاکستان کی تینوں قراردادوں کی پہلی کمیٹی سے منظوری ایک اہم مرحلہ ہے، تاہم ان کی جنرل اسمبلی سے حتمی منظوری کا عمل الگ ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی زیادہ تر قراردادیں قانونی طور پر پابند نہیں ہوتیں، لیکن ان کی سفارتی اور سیاسی اہمیت ہوتی ہے کیونکہ یہ عالمی برادری کے اجتماعی مؤقف، ترجیحات اور مستقبل کی بین الاقوامی بات چیت کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
پاکستان کے سفارتی مؤقف کو عالمی سطح پر تقویت
پاکستانی مشن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں قراردادوں کی منظوری کو عالمی برادری کی جانب سے علاقائی اعتماد سازی، روایتی ہتھیاروں پر کنٹرول اور غیر جوہری ممالک کی سلامتی سے متعلق کوششوں کی حمایت قرار دیا ہے۔
پاکستان کے لیے ان قراردادوں کی اہمیت صرف ان کی منظوری تک محدود نہیں بلکہ ان کے ذریعے تخفیفِ اسلحہ اور عالمی سلامتی کے معاملات پر اپنا مؤقف بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کا موقع بھی ملا ہے۔
180 ممالک کی حمایت سے منظور ہونے والی قرارداد پاکستان کے لیے نمایاں سفارتی کامیابی ہے، جبکہ اعتماد سازی سے متعلق قرارداد کی بغیر ووٹنگ منظوری اور غیر جوہری ممالک کے تحفظ سے متعلق قرارداد کے حق میں 122 ووٹ عالمی سطح پر ان موضوعات کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔
تاہم قراردادوں کی عملی افادیت کا انحصار مستقبل میں رکن ممالک کی سیاسی آمادگی، باہمی تعاون، متعلقہ مذاکرات اور ممکنہ بین الاقوامی انتظامات پر ہوگا۔
عالمی امن کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت
عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر تخفیفِ اسلحہ اور سلامتی کے مسائل محض سفارتی بیانات تک محدود نہیں رہے بلکہ ان کا تعلق براہِ راست علاقائی استحکام، اقتصادی ترقی اور انسانی تحفظ سے بھی ہے۔
فوجی تصادم کے خطرات میں کمی، ہتھیاروں کی غیر ضروری دوڑ کی روک تھام اور بین الاقوامی تنازعات کے پرامن حل کے لیے ضروری ہے کہ ممالک باہمی اعتماد اور سفارتی تعاون کے مؤثر طریقے اختیار کریں۔
پاکستان کی جانب سے پیش کردہ تینوں قراردادیں انہی بنیادی اصولوں کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔
اقوام متحدہ کی پہلی کمیٹی میں ان قراردادوں کی منظوری پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے، جس سے عالمی تخفیفِ اسلحہ، علاقائی سلامتی اور غیر جوہری ممالک کے تحفظ کے معاملات پر پاکستان کے مؤقف کو تقویت ملی ہے۔
تاہم عالمی امن کے لیے اصل کامیابی اس وقت ممکن ہوگی جب بین الاقوامی برادری ان اصولوں کو مؤثر مذاکرات، قابلِ اعتماد معاہدوں اور عملی اعتماد سازی کے اقدامات میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو سکے۔



