
سید عاطف ندیم-ادارت
پاکستان کی معیشت اور بیرونی مالیاتی استحکام کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کے لیے تین ارب امریکی ڈالر کے ڈپازٹ کی مدت میں مزید توسیع کر دی ہے۔ وزیرِ خزانہ کے مطابق سعودی حکومت نے اس مالی معاونت کی مدت ایک معقول عرصے کے لیے بڑھائی ہے، جس سے پاکستان کو بیرونی ادائیگیوں کے انتظام، زرمبادلہ کے ذخائر کے استحکام اور مالیاتی منصوبہ بندی میں سہولت ملنے کی توقع ہے۔
بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو کے دوران جب وزیرِ خزانہ سے سوال کیا گیا کہ آیا سعودی عرب نے پاکستان کے لیے رکھے گئے تین ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی مدت میں توسیع کر دی ہے تو انہوں نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا:
’’جی ہاں، اس کی مدت میں توسیع کر دی گئی ہے۔ اسے ایک معقول عرصے کے لیے بڑھا دیا گیا ہے۔‘‘
تاہم وزیرِ خزانہ نے اس موقع پر توسیع کی حتمی مدت، نئی تاریخِ واپسی یا ڈپازٹ کی دیگر مالی شرائط کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اپنی بیرونی مالیاتی ضروریات پوری کرنے، مہنگے قرضوں کا بوجھ کم کرنے، بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے اور عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہا ہے۔
سعودی عرب کی مالی معاونت پاکستان کے لیے کیوں اہم ہے؟
سعودی عرب پاکستان کے اہم اقتصادی اور مالیاتی شراکت داروں میں شامل ہے اور ماضی میں بھی مختلف مواقع پر پاکستان کو مالی معاونت فراہم کرتا رہا ہے۔
سعودی ڈپازٹس پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے اور بیرونی ادائیگیوں کے حوالے سے مالیاتی دباؤ کم کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔
تین ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی مدت میں توسیع کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کو متعلقہ رقم کی واپسی کے لیے مزید وقت میسر آئے گا، جس سے قلیل مدت میں زرمبادلہ کے ذخائر پر ممکنہ دباؤ کم ہو سکتا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق بیرونی مالی معاونت کی مدت میں توسیع ایسے ممالک کے لیے خصوصی اہمیت رکھتی ہے جنہیں درآمدی ادائیگیوں، قرضوں کی واپسی اور غیر ملکی کرنسی کی دستیابی کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوتا ہے۔
تاہم یہ بات بھی اہم ہے کہ موجودہ ڈپازٹ کی مدت میں توسیع اور نئی رقم کی فراہمی دو مختلف معاملات ہیں۔ وزیرِ خزانہ کے بیان سے ڈپازٹ کی مدت بڑھانے کی تصدیق ہوتی ہے، لیکن اسے پاکستان کو مزید تین ارب ڈالر کی نئی نقد رقم موصول ہونے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔
پاکستان اور سعودی عرب کے اقتصادی تعلقات میں نئی پیش رفت
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ سیاسی، اقتصادی، تجارتی اور دفاعی تعلقات قائم ہیں۔
سعودی عرب نے مختلف ادوار میں پاکستان کو مالی معاونت، ڈپازٹس اور دیگر اقتصادی سہولتوں کے ذریعے مدد فراہم کی ہے۔
پاکستان کے لیے سعودی مالی معاونت کی اہمیت اس وجہ سے بھی زیادہ ہے کہ بیرونی ادائیگیوں اور زرمبادلہ کے ذخائر سے متعلق صورتحال عالمی سرمایہ کاروں، قرض فراہم کرنے والے اداروں اور کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کی توجہ کا اہم مرکز رہتی ہے۔
سعودی ڈپازٹ کی مدت میں توسیع سے پاکستان کو اپنے بیرونی مالیاتی انتظامات میں کچھ اضافی گنجائش حاصل ہو سکتی ہے۔
تاہم طویل المدتی معاشی استحکام کے لیے برآمدات میں اضافہ، غیر ملکی سرمایہ کاری، ترسیلاتِ زر، مالیاتی نظم و ضبط اور قرضوں پر انحصار میں کمی جیسے اقدامات بھی ضروری ہیں۔
مہنگے قلیل مدتی قرضوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کی حکمت عملی
سینیٹ کی ایک کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے حکومت کی قرضوں سے متعلق حکمت عملی پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت مہنگے اور قلیل مدتی قرضوں کو طویل مدتی مالی اعانت سے تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ قرضوں کی بار بار تجدید اور فوری واپسی سے پیدا ہونے والے خطرات کم کیے جا سکیں۔
وزیرِ خزانہ کے مطابق اس مقصد کے لیے بین الاقوامی بانڈز کے اجرا اور پرائیویٹ پلیسمنٹس سمیت مختلف مالیاتی ذرائع پر کام کیا جا رہا ہے۔
پرائیویٹ پلیسمنٹ سے مراد ایسا مالیاتی انتظام ہے جس کے تحت حکومت یا کوئی ادارہ عمومی عوامی پیشکش کے بجائے مخصوص سرمایہ کاروں یا مالیاتی اداروں سے سرمایہ حاصل کرتا ہے۔
محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ حکومت کا مقصد بیرونی قرضوں کے مجموعی بوجھ میں غیر ضروری اضافہ کرنا نہیں بلکہ موجودہ قرضوں کی ساخت کو زیادہ پائیدار بنانا ہے۔
انہوں نے کہا:
’’ہمارا مقصد بالکل واضح ہے، ہم اپنے بیرونی قرضوں میں اضافہ نہیں کرنا چاہتے۔ ہم قلیل مدتی اور مہنگے قرضے واپس کر رہے ہیں اور ان کی جگہ پانچ یا دس سالہ مدت والے قرضے لے رہے ہیں۔‘‘
پانچ سے دس سالہ قرضوں کی طرف منتقلی کیوں ضروری ہے؟
معاشی ماہرین کے مطابق قلیل مدتی قرضوں کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی واپسی یا تجدید نسبتاً کم عرصے میں کرنا پڑتی ہے۔
اگر کسی ملک کو مسلسل نئے قرض لے کر پرانے قرضوں کی ادائیگی کرنا پڑے تو عالمی شرحِ سود میں اضافہ، سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی یا مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال اس کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
اس خطرے کو مالیاتی اصطلاح میں رول اوور رسک یا قرض کی تجدید کا خطرہ کہا جاتا ہے۔
حکومت کی جانب سے پانچ یا دس سالہ مدت کے قرضوں کی طرف منتقلی کا مقصد فوری ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنا اور قرضوں کی واپسی کا نظام زیادہ منظم بنانا ہے۔
طویل مدتی فنانسنگ سے حکومت کو ترقیاتی اور مالیاتی منصوبہ بندی کے لیے نسبتاً زیادہ وقت مل سکتا ہے۔
تاہم قرض کی مدت بڑھانا بذاتِ خود قرض کے مجموعی بوجھ میں کمی کی ضمانت نہیں ہوتا۔ اس کا انحصار نئے قرضوں کی شرحِ سود، مالی شرائط، کرنسی کے خطرات اور مجموعی ادائیگیوں پر بھی ہوتا ہے۔
بین الاقوامی بانڈز اور پرائیویٹ پلیسمنٹس کے ذریعے سرمایہ حاصل کرنے کی تیاری
وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ حکومت بیرونی مالیاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے بین الاقوامی بانڈ مارکیٹ اور مخصوص سرمایہ کاروں کے ذریعے مالی اعانت حاصل کرنے کے امکانات پر کام کر رہی ہے۔
بین الاقوامی بانڈز کے ذریعے حکومت عالمی سرمایہ کاروں سے مخصوص مدت کے لیے قرض حاصل کرتی ہے اور طے شدہ شرائط کے مطابق سود اور اصل رقم کی ادائیگی کرتی ہے۔
پاکستان کے لیے بین الاقوامی بانڈ مارکیٹ تک بہتر شرائط پر رسائی اس کی کریڈٹ ریٹنگ، معاشی کارکردگی، مالیاتی پالیسی اور عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد سے منسلک ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر پاکستان نسبتاً کم لاگت اور طویل مدت کے لیے مالی اعانت حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو قرضوں کی واپسی کے نظام میں بہتری آ سکتی ہے۔
تاہم بین الاقوامی مارکیٹ سے نئے قرض حاصل کرنے کے فیصلوں میں شرحِ سود اور مجموعی مالی لاگت کا محتاط جائزہ لینا ضروری ہوگا۔
لیکویڈیٹی سپورٹ فیسیلٹی اور حقیقی فنانسنگ میں فرق
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے سینیٹ کمیٹی کے سامنے قرضوں کی تنظیمِ نو اور مجوزہ لیکویڈیٹی سپورٹ فیسیلٹی کے درمیان فرق بھی واضح کیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت جس مالیاتی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے، وہ حقیقی فنانسنگ اور حقیقی کریڈٹ پر مبنی ہے۔
ان کے مطابق مہنگے قلیل مدتی قرضوں کی واپسی اور انہیں طویل مدتی قرضوں سے تبدیل کرنے کا عمل مجوزہ نقد رقم کی فراہمی کی سہولت سے الگ ہے۔
لیکویڈیٹی سپورٹ فیسیلٹی عموماً ایسا انتظام ہوتا ہے جس کا مقصد کسی ادارے یا مالیاتی نظام کو ضرورت کے وقت نقد وسائل تک رسائی فراہم کرنا ہوتا ہے۔
اس کے برعکس قرضوں کی تنظیمِ نو میں موجودہ واجبات کی مدت، لاگت یا ادائیگیوں کی ساخت تبدیل کی جاتی ہے۔
وزیرِ خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت قرضوں کے انتظام کو زیادہ پائیدار بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بی پلس تک لے جانے کا ہدف
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ حکومت کا ہدف موجودہ مالی سال کے اختتام یا اگلے مالی سال کے ابتدائی عرصے تک پاکستان کی ساورن کریڈٹ ریٹنگ بہتر بنا کر بی پلس کی سطح تک پہنچانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ طویل مدت میں پاکستان کو ڈبل بی زمرے میں شامل کرانا حکومت کی مالیاتی حکمت عملی کا اہم مقصد ہے۔
ساورن کریڈٹ ریٹنگ کسی ملک کی قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت اور اس سے متعلق خطرات کا جائزہ ظاہر کرتی ہے۔
بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیاں مختلف معاشی عوامل، حکومتی قرضوں، مالیاتی خسارے، بیرونی ادائیگیوں اور زرمبادلہ کے ذخائر سمیت متعدد اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی درجہ بندی کرتی ہیں۔
کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے کسی ملک کو عالمی مالیاتی منڈیوں سے نسبتاً بہتر شرائط پر قرض حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تاہم وزیرِ خزانہ کی جانب سے بی پلس اور ڈبل بی کے اہداف کا اعلان ان درجات کے حصول کی تصدیق نہیں ہے۔ حتمی ریٹنگ متعلقہ بین الاقوامی ایجنسیاں اپنے جائزوں کے مطابق جاری کرتی ہیں۔
پاکستان کے سرکاری قرضوں کا جی ڈی پی سے تناسب کم ہو کر 68.6 فیصد رہ گیا
وزیرِ خزانہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ حکومت کی مالیاتی پالیسیوں اور قرضوں کے انتظام میں بہتری کے نتیجے میں مجموعی ملکی پیداوار کے تناسب سے سرکاری قرضوں کی شرح میں کمی آئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2022-23 میں سرکاری قرضوں کا جی ڈی پی سے تناسب 75.1 فیصد تھا، جو کم ہو کر 68.6 فیصد رہ گیا ہے۔
سرکاری قرضوں کا جی ڈی پی سے تناسب
وزیرِ خزانہ کے پیش کردہ اعداد و شمار
اس طرح فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق سرکاری قرضوں کے تناسب میں 6.5 فیصد پوائنٹس کی کمی ہوئی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق قرضوں کے جی ڈی پی سے تناسب میں کمی ایک مثبت اشارہ ہو سکتی ہے، کیونکہ اس سے ملکی معیشت کے حجم کے مقابلے میں قرضوں کی نسبت ظاہر ہوتی ہے۔
تاہم اس اشاریے میں کمی کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ قرضوں کی مجموعی مالیت بھی کم ہو گئی ہے۔ جی ڈی پی میں اضافے یا دیگر معاشی عوامل کے نتیجے میں بھی قرضوں کا تناسب کم ہو سکتا ہے۔
عوامی قرضوں میں سالانہ اضافے کی شرح 20 سال کی کم ترین سطح پر
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران عوامی قرضوں میں سالانہ اضافے کی شرح کم ہو کر 7.7 فیصد رہ گئی۔
ان کے مطابق یہ گزشتہ 20 برسوں میں قرضوں کے اضافے کی کم ترین سالانہ شرح ہے۔
وزیرِ خزانہ نے اس پیش رفت کو حکومتی قرضوں کے بہتر انتظام اور مالیاتی حکمت عملی میں تبدیلی کا نتیجہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے مہنگے قرضوں کی واپسی، مدت پوری ہونے سے پہلے بانڈز کی دوبارہ خریداری اور موجودہ قرضوں کے تبادلے جیسے اقدامات کیے ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق قرضوں میں اضافے کی رفتار کم ہونا مالیاتی نظم و ضبط کے لیے مثبت ہو سکتا ہے، تاہم طویل المدتی استحکام کے لیے حکومتی آمدنی، اخراجات اور قرضوں کی ادائیگی کے درمیان مناسب توازن بھی ضروری ہے۔
5.9 ٹریلین روپے کے قرضے واپس، دوبارہ خریدے یا تبدیل کیے گئے
وزیرِ خزانہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ حکومت نے قرضوں کے فعال انتظام کے تحت تقریباً 5.9 ٹریلین روپے مالیت کے قرضے واپس کیے، دوبارہ خریدے یا تبدیل کیے ہیں۔
انہوں نے اس رقم کی تفصیلات بھی پیش کیں۔
قرضوں کے انتظام کی تفصیلات
رقوم ٹریلین پاکستانی روپے میں
مجموعی مالیت
5.9 ٹریلین روپے
وزیرِ خزانہ کے مطابق اس مجموعی رقم میں اسٹیٹ بینک سے متعلق 3.6 ٹریلین روپے، یعنی تقریباً 12.9 ارب ڈالر، اور مارکیٹ سے حاصل کردہ 2.3 ٹریلین روپے، یعنی تقریباً 8.2 ارب ڈالر، کے قرضے شامل ہیں۔
انہوں نے مجموعی رقم تقریباً 20.9 ارب ڈالر بتائی۔
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ قرضوں کی واپسی، دوبارہ خریداری اور تبادلہ تین الگ مالیاتی اقدامات ہیں۔ اس لیے پوری 5.9 ٹریلین روپے کی رقم کو خالص قرضوں میں کمی یا مکمل نقد ادائیگی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
قرضوں کے تبادلے کی صورت میں پرانے واجبات کی جگہ نئے واجبات بھی آ سکتے ہیں، جبکہ بانڈز کی دوبارہ خریداری سے ادائیگیوں کی مدت اور قرضوں کی ساخت پر مختلف اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
قرضوں کی قبل از وقت واپسی اور بانڈز کی دوبارہ خریداری کے فوائد
وزیرِ خزانہ کے مطابق حکومت نے قرضوں کے انتظام کو بہتر بنانے کے لیے بعض واجبات کی قبل از وقت ادائیگی اور بانڈز کی دوبارہ خریداری جیسے اقدامات کیے ہیں۔
قرضوں کی قبل از وقت واپسی بعض حالات میں مستقبل کے سودی اخراجات کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، خصوصاً جب متعلقہ قرض زیادہ شرحِ سود پر حاصل کیا گیا ہو۔
اسی طرح بانڈز کی دوبارہ خریداری سے حکومت کو قرضوں کی ادائیگی کے شیڈول کو بہتر بنانے اور مستقبل میں واجب الادا رقوم کے دباؤ کو منظم کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
تاہم ان اقدامات کے حقیقی مالی فوائد کا انحصار بانڈز کی خریداری کی قیمت، قرضوں کی شرائط، دستیاب نقد وسائل اور متبادل فنانسنگ کی لاگت پر ہوتا ہے۔
اس لیے کسی بھی قرض کی قبل از وقت ادائیگی یا تبادلے کی کامیابی کا جائزہ مجموعی مالی اثرات کی بنیاد پر لیا جاتا ہے۔
پاکستان کی معاشی حکمت عملی میں تبدیلی کے اشارے
وزیرِ خزانہ کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت قرضوں کے انتظام میں قلیل مدتی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ طویل مدتی مالیاتی استحکام پر بھی توجہ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
اس حکمت عملی کے اہم مقاصد میں مہنگے قرضوں کی لاگت کم کرنا، بیرونی ادائیگیوں کے خطرات محدود کرنا، قرضوں کی مدت بڑھانا اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ شامل ہیں۔
سعودی عرب کی جانب سے تین ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی مدت میں توسیع پاکستان کو فوری بیرونی مالیاتی دباؤ کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، جبکہ طویل مدتی فنانسنگ کے انتظامات مستقبل میں قرضوں کی واپسی کے نظام کو زیادہ منظم بنا سکتے ہیں۔
تاہم معاشی ماہرین کے مطابق قرضوں کی ساخت میں بہتری کے ساتھ ساتھ برآمدات، سرمایہ کاری، ٹیکس وصولیوں اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ بھی ضروری ہے۔
سعودی مالی تعاون اور کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کے امکانات
سعودی عرب کی جانب سے ڈپازٹ کی مدت میں توسیع پاکستان کے لیے بیرونی مالی معاونت کے تسلسل کی علامت ہے۔
ایسے انتظامات سے عالمی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کو یہ اشارہ مل سکتا ہے کہ پاکستان کو اپنے اہم اقتصادی شراکت داروں کی معاونت حاصل ہے۔
تاہم کسی ملک کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری صرف بیرونی ڈپازٹس کی بنیاد پر نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے مالیاتی خسارے، قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت، زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی کھاتوں اور معاشی پالیسیوں کا مجموعی جائزہ لیا جاتا ہے۔
وزیرِ خزانہ کے مطابق حکومت انہی عوامل میں بہتری لا کر پاکستان کو بی پلس اور بعد ازاں ڈبل بی زمرے کی جانب لے جانا چاہتی ہے۔
معاشی استحکام کے لیے قرضوں پر انحصار کم کرنا بنیادی چیلنج
پاکستان کی معیشت کو طویل عرصے سے بیرونی مالیاتی ضروریات، قرضوں کی واپسی، درآمدی اخراجات اور مالیاتی خسارے جیسے مسائل کا سامنا رہا ہے۔
مختلف ادوار میں پاکستان کو دوست ممالک، بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور عالمی منڈیوں سے مالی معاونت حاصل کرنا پڑی ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق بیرونی ڈپازٹس اور قرضوں کی تجدید وقتی مالیاتی استحکام میں مدد دے سکتے ہیں، لیکن مستقل معاشی بہتری کے لیے ملکی آمدنی اور برآمدات میں اضافہ ناگزیر ہے۔
اسی طرح سرکاری اخراجات میں مؤثر نظم و ضبط، حکومتی اداروں کی کارکردگی میں بہتری، سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول اور معاشی پالیسیوں میں تسلسل طویل المدتی استحکام کے لیے اہم ہیں۔
سعودی عرب کا فیصلہ پاکستان کے لیے مثبت پیش رفت، اصل امتحان معاشی اصلاحات کا تسلسل
سعودی عرب کی جانب سے تین ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی مدت میں توسیع پاکستان کے لیے ایک اہم مالیاتی پیش رفت ہے، جس سے بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو محدود کرنے اور زرمبادلہ کے ذخائر کے استحکام میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
دوسری جانب وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق سرکاری قرضوں کا جی ڈی پی سے تناسب کم ہوا ہے، قرضوں میں سالانہ اضافے کی رفتار سست ہوئی ہے اور حکومت نے 5.9 ٹریلین روپے مالیت کے قرضوں کی واپسی، دوبارہ خریداری یا تبادلے کے اقدامات کیے ہیں۔
حکومت کا آئندہ ہدف پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر بنانا اور مہنگے قلیل مدتی قرضوں کی جگہ نسبتاً طویل مدتی مالی اعانت حاصل کرنا ہے۔
مجموعی طور پر سعودی ڈپازٹ کی مدت میں توسیع، قرضوں کی تنظیمِ نو اور کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کے اہداف پاکستان کی مالیاتی صورتحال کو مستحکم بنانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ تاہم ان اقدامات کی حقیقی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ پاکستان کس حد تک بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرنے، برآمدات بڑھانے، سرمایہ کاری راغب کرنے اور اپنی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔



