
بیرونِ ملک پاکستانی سفارت خانوں میں کروڑوں روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں اہم تفصیلات سامنے آ گئیں
آسٹریا میں پاکستانی سفارت خانے کے اکاؤنٹنٹ پر 16 کروڑ 56 لاکھ روپے کی مبینہ خوردبرد کا الزام، سرکاری رقوم ذاتی اور اہلیہ کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کرنے کا انکشاف؛ معاملہ ایف آئی اے کے سپرد، دو مقدمات درج، بلغاریہ میں پاکستانی سفارت خانے کے مالی معاملات بھی آڈٹ کی زد میں آ گئے
سید عاطف ندیم-ادارت
پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں وزارتِ خارجہ کے زیرِ انتظام بیرونِ ملک پاکستانی سفارتی مشنز کے مالی معاملات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور سرکاری فنڈز کے غیر مجاز استعمال سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ آسٹریا میں پاکستانی سفارت خانے کے ایک اکاؤنٹنٹ پر 16 کروڑ 56 لاکھ روپے کی مبینہ خوردبرد کا الزام ہے، جبکہ بلغاریہ میں پاکستانی سفارت خانے کے مالی معاملات میں بھی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سید نوید قمر کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں مالی سال 2023-24 کے دوران وزارتِ خارجہ سے متعلق آڈٹ رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران آڈٹ حکام نے بتایا کہ آسٹریا میں پاکستانی سفارت خانے کے اکاؤنٹنٹ سلمان قریشی پر الزام ہے کہ انہوں نے سرکاری رقوم میں سے 16 کروڑ 56 لاکھ روپے اپنے اور اپنی اہلیہ کے ذاتی بینک اکاؤنٹس میں منتقل کیے۔
حکام کے مطابق اس معاملے کو مزید تحقیقات کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے حوالے کیا جا چکا ہے اور اب تک دو ایف آئی آرز درج ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔
یہ معاملہ بیرونِ ملک پاکستانی سفارتی مشنز میں سرکاری وسائل کے استعمال، مالیاتی نگرانی اور احتساب کے طریقہ کار کے حوالے سے اہم سوالات اٹھاتا ہے۔
آسٹریا میں پاکستانی سفارت خانے کے اکاؤنٹنٹ پر 16 کروڑ 56 لاکھ روپے کی خوردبرد کا الزام
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو آڈٹ حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ آسٹریا میں پاکستانی سفارت خانے کے مالی ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے دوران سرکاری فنڈز کی مبینہ غیر قانونی منتقلی کا معاملہ سامنے آیا۔
آڈٹ حکام کے مطابق سفارت خانے میں تعینات اکاؤنٹنٹ سلمان قریشی نے مبینہ طور پر 16 کروڑ 56 لاکھ روپے کی سرکاری رقم اپنے ذاتی بینک اکاؤنٹ اور اپنی اہلیہ کے اکاؤنٹ میں منتقل کی۔
اس انکشاف کے بعد سفارتی مشنز میں مالیاتی اختیارات، بینک اکاؤنٹس کے انتظام اور ادائیگیوں کی منظوری کے طریقہ کار سے متعلق سوالات پیدا ہوئے ہیں۔
تاہم آڈٹ میں سامنے آنے والی بے ضابطگی اور کسی فرد کے خلاف جرم کا عدالتی طور پر ثابت ہونا دو الگ معاملات ہیں۔ متعلقہ اکاؤنٹنٹ کے خلاف الزامات کی حتمی قانونی حیثیت ایف آئی اے کی تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے نتائج سے واضح ہوگی۔
معاملہ ایف آئی اے کے سپرد، دو ایف آئی آرز درج ہونے کی اطلاع
اجلاس میں آڈٹ حکام نے بتایا کہ آسٹریا میں پاکستانی سفارت خانے کے مالی معاملات سے متعلق مبینہ خوردبرد کا معاملہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کو بھجوا دیا گیا ہے۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق ایف آئی اے میں اب تک دو ایف آئی آرز درج ہو چکی ہیں۔
ان مقدمات میں شامل مخصوص دفعات، نامزد ملزمان کی مکمل تفصیلات، تحقیقات کی موجودہ صورتحال اور ممکنہ گرفتاریوں کے بارے میں اجلاس کی فراہم کردہ تفصیلات میں مزید معلومات موجود نہیں ہیں۔
مالی جرائم کی تحقیقات میں عام طور پر بینک ٹرانزیکشنز، متعلقہ اکاؤنٹس، ادائیگیوں کی منظوری، سرکاری مالی ریکارڈ اور رقم کی منتقلی کے شواہد کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
اس نوعیت کے معاملات میں تفتیشی ادارے کے لیے یہ تعین کرنا اہم ہوتا ہے کہ سرکاری فنڈز کس اختیار کے تحت منتقل کیے گئے، متعلقہ ادائیگیوں کی منظوری کس نے دی اور کیا مالیاتی قواعد کی خلاف ورزی ہوئی۔
بلغاریہ میں پاکستانی سفارت خانے کے مالی معاملات بھی زیرِ بحث
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آسٹریا کے علاوہ بلغاریہ میں پاکستانی سفارت خانے سے متعلق مالی بے ضابطگیوں کا معاملہ بھی سامنے آیا۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق آڈٹ حکام نے دونوں ممالک میں پاکستانی سفارتی مشنز کے اکاؤنٹنٹس سے متعلق مالی معاملات کی نشاندہی کی۔
تاہم بلغاریہ میں مبینہ بے ضابطگیوں کی مجموعی رقم، متعلقہ اہلکاروں کے نام، ممکنہ مالی نقصان اور تحقیقات کی موجودہ صورتحال کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
اس لیے بلغاریہ کے معاملے کو آسٹریا میں سامنے آنے والے 16 کروڑ 56 لاکھ روپے کے الزام کے ساتھ براہِ راست منسلک کرنا یا دونوں کی مجموعی رقم بتانا فی الحال ممکن نہیں۔
بیرونِ ملک سفارتی مشنز کے مالیاتی نظام پر سوالات
پاکستان کے بیرونِ ملک سفارت خانے اور قونصل خانے سفارتی خدمات کے ساتھ ساتھ انتظامی اور مالی ذمہ داریاں بھی انجام دیتے ہیں۔
ان اداروں کے مالی معاملات میں عملے کی تنخواہیں، عمارتوں کے اخراجات، دفتری ضروریات، سفارتی سرگرمیاں اور دیگر منظور شدہ اخراجات شامل ہو سکتے ہیں۔
چونکہ سفارتی مشنز مختلف ممالک میں کام کرتے ہیں، اس لیے ان کے مالی معاملات میں مقامی بینکاری نظام، غیر ملکی کرنسی اور پاکستان کے سرکاری مالیاتی قواعد کو مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایسے اداروں میں مالیاتی شفافیت برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اندرونی آڈٹ، ادائیگیوں کی مناسب منظوری، بینک اکاؤنٹس کی باقاعدہ جانچ اور مالی ذمہ داریوں کی واضح تقسیم ضروری ہوتی ہے۔
آسٹریا میں سامنے آنے والے الزامات کی روشنی میں یہ سوال اہمیت اختیار کرتا ہے کہ مبینہ طور پر اتنی بڑی رقم کی منتقلی کس طرح ممکن ہوئی اور متعلقہ نگرانی کے نظام نے اسے کس مرحلے پر شناخت کیا۔
ان سوالات کے حتمی جواب کے لیے مکمل آڈٹ رپورٹ اور تحقیقاتی نتائج کی ضرورت ہوگی۔
چھ سال گزرنے کے باوجود تحقیقات میں پیش رفت نہ ہونے پر کمیٹی برہم
چار نومبر 2026 کی میڈیا رپورٹس کے مطابق چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سید نوید قمر نے آسٹریا کے معاملے میں تحقیقات کی سست رفتاری پر شدید ناراضی ظاہر کی۔
انہوں نے کہا کہ چھ سال گزرنے کے باوجود مقدمے میں خاطر خواہ پیش رفت نہ ہونا تشویش ناک ہے۔ انہوں نے ایف آئی اے کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے یہ تاثر بھی ظاہر کیا کہ ادارہ سیاسی مقدمات پر زیادہ توجہ دے رہا ہے۔
ایف آئی اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ متعلقہ شخص کو گرفتار کیا گیا تھا، تاہم بعد میں وہ ضمانت پر رہا ہو گیا۔ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ تحقیقات میں تاخیر اور مقدمات کی پیش رفت سے متعلق وضاحت حاصل کی جا سکے۔
سیکریٹری خارجہ کو دوبارہ انکوائری اور ایک ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت
سیکریٹری خارجہ عاصم افتخار نے اجلاس میں بتایا کہ آسٹریا میں مالی خوردبرد کے الزام میں متعلقہ اکاؤنٹنٹ کو ملازمت سے برطرف کیا گیا تھا اور وزارتِ خارجہ نے آڈٹ کی نشاندہی سے قبل ہی اس کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی تھی۔
سیکریٹری خارجہ نے مبینہ خوردبرد کی رقم ایک لاکھ 70 ہزار یورو بتائی۔ تاہم رپورٹس میں اس رقم کے ساتھ 16 کروڑ 56 لاکھ پاکستانی روپے کا تخمینہ بھی دیا گیا ہے، جس کے درمیان نمایاں فرق موجود ہے۔ اس مالی تضاد کی وضاحت اصل آڈٹ ریکارڈ سے ضروری ہے۔
کمیٹی نے معاملے کی دوبارہ انکوائری کرنے اور ایک ماہ کے اندر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
بلغاریہ میں 2 کروڑ 90 لاکھ روپے کی مبینہ خوردبرد، انکوائری میں تاخیر
اجلاس میں بلغاریہ کے پاکستانی سفارت خانے میں تقریباً 2 کروڑ 90 لاکھ روپے کی مبینہ خوردبرد کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔
آڈٹ حکام کے مطابق اس معاملے کی تحقیقات کے لیے 10 ستمبر 2026 کو انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، تاہم حکومتی کفایت شعاری اقدامات کے باعث متعلقہ ٹیم بیرونِ ملک نہیں جا سکی اور تحقیقات مکمل نہیں ہو سکیں۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اس صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ضروری تحقیقاتی کارروائی کے لیے سہولت فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
برلن میں پاکستانی سفارت خانے کے مالی معاملات بھی زیرِ بحث
اجلاس کے دوران جرمنی کے دارالحکومت برلن میں پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے اسکالرشپ فنڈ سے 10 کروڑ روپے حاصل کرنے کا معاملہ بھی سامنے آیا۔
آڈٹ حکام کے مطابق یہ رقم تین سال گزرنے کے باوجود واپس نہیں کی گئی تھی۔
سیکریٹری خارجہ نے وضاحت کی کہ حکومتی بجٹ کی فراہمی میں تاخیر کے باعث ایچ ای سی کے اکاؤنٹ سے رقم حاصل کی گئی تھی۔
چیئرمین کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ وزارتِ خارجہ کو تعلیمی وظائف کے لیے مختص فنڈ استعمال کرنے کی اجازت کس نے دی۔
کمیٹی نے سرکاری فنڈز کے استعمال میں مالیاتی قواعد کی پابندی اور متعلقہ رقوم کے حسابات واضح کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
سفارت خانوں میں مالیاتی نگرانی کا نظام مؤثر بنانے کی ضرورت
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں سامنے آنے والے معاملات نے بیرونِ ملک پاکستانی سفارتی مشنز میں مالیاتی نظم و ضبط اور احتساب کے نظام کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔
مالیاتی امور کے ماہرین کے مطابق سفارت خانوں میں سرکاری رقوم کی منتقلی کے لیے واضح اختیارات، ادائیگیوں کی دوہری جانچ، باقاعدہ آڈٹ اور مالی ریکارڈ کی شفاف نگرانی جیسے اقدامات ضروری ہیں۔
کمیٹی نے وزارتِ خارجہ کو مستقبل میں ایسی بے ضابطگیوں کی روک تھام کے لیے مؤثر قواعد و ضوابط وضع کرنے کی ہدایت بھی کی۔
آسٹریا اور بلغاریہ میں مبینہ خوردبرد کے معاملات، ایف آئی اے کی تحقیقات میں تاخیر اور دیگر سفارتی مشنز سے متعلق آڈٹ اعتراضات نے وزارتِ خارجہ کے مالیاتی انتظامات پر پارلیمانی نگرانی کی اہمیت بڑھا دی ہے۔
ان معاملات میں ذمہ داری کا حتمی تعین مکمل تحقیقات اور متعلقہ قانونی کارروائی کے بعد ہی ممکن ہوگا۔



