
امریکی مڈ ٹرم الیکشن کے بعد ڈیموکریٹس کا ایوان نمائندگان اور سینیٹ پر کنٹرول، ٹرمپ کو بڑا انتخابی دھچکہ
اپنے ابتدائی ردعمل میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا، ’’میں انتخابی امیدوار نہیں تھا، اگر ہوتا تو ہم بھاری اکثریت سے جیت جاتے!‘‘
سید مدثر احمد-ادارت
ڈیموکریٹس نے امریکی سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کے ساتھ ہی ایوانِ نمائندگان میں بھی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ٹرمپ کی باقی صدارتی مدت کے لیے کانگریس کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
ڈیموکریٹس نے ٹیکساس، کنساس اور اوہائیو سمیت ریپبلکنز کے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے کئی علاقوں میں حیران کن کامیابیاں حاصل کیں۔ کروڑوں امریکی ووٹرز نے صدر ٹرمپ کے خلاف سخت ناراضی کا اظہار کیا۔
اپنے ابتدائی ردعمل میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا، ’’میں انتخابی امیدوار نہیں تھا، اگر ہوتا تو ہم بھاری اکثریت سے جیت جاتے!‘‘
ان کے بیان سے لگتا ہے کہ وہ انتخابی نتائج کو اپنی صدارتی کارکردگی سے الگ قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ڈیموکریٹس کی کامیابیوں کی یہ لہر معیشت سے متعلق ٹرمپ کی پالیسیوں اور فروری میں ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے فیصلے پر ووٹرز کی گہری ناراضی کی عکاس ہے۔ اس جنگ کے نتیجے میں پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ مختلف انتخابی جائزوں میں ووٹرز نے مہنگائی اور اخراجات زندگی پر تشویش اور ٹرمپ کی حکمت عملی پر غصے کا اظہار کیا تھا۔

’ٹرمپ کے خلاف عوامی ردعمل‘
جارجیا سے کامیاب قرار دیے جانے والے ڈیموکریٹ سینیٹر جون اوسوف نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’امریکی عوام نے شاندار اور فیصلہ کن کامیابیوں کے ذریعے صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ نامی شخص کی بدعنوانی، نااہلی اور اخلاقی پستی کو مسترد کر دیا ہے۔‘‘
امریکی میڈیا اداروں، بڑے ٹیلیویژن نیٹ ورکس اور ایسوسی ایٹڈ پریس کی جانب سے ایس ایس آر ایس کے ذریعے کیے گئے انتخابی جائزوں کے مطابق ملک بھر میں نصف ووٹرز نے 2026 کے وسط مدتی انتخابات کو صدر کے خلاف ردعمل ظاہر کرنے کا موقع قرار دیا۔
جائزے میں شامل تین چوتھائی ووٹرز نے کہا کہ وہ ملک کی موجودہ سمت سے یا تو ناراض ہیں یا مطمئن نہیں۔ مزید برآں، 70 فیصد ووٹرز نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ کانگریس صدر کے اختیارات پر مزید نگرانی اور توازن قائم کرے۔

ٹرمپ کے لیے نتائج
ان انتخابی نتائج کے ٹرمپ کے لیے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ایوان نمائندگان کا کنٹرول کھونے کی صورت میں ڈیموکریٹس ٹرمپ کے قانون سازی کے ایجنڈے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں اور ان کی انتظامیہ کے خلاف بڑے پیمانے پر تحقیقات شروع کر سکتے ہیں، جن میں ایران جنگ، غیر قانونی تارکین وطن کی بڑے پیمانے پر ملک بدری اور مبینہ بدعنوانی کے معاملات شامل ہیں۔
ڈیموکریٹس کے سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کی صورت میں وہ عدالتی عہدوں اور حکومت کے اعلیٰ عہدوں پر ٹرمپ کی نامزدگیوں کو بھی روک سکتے ہیں۔
اس خدشے کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے کہ ٹرمپ ناموافق انتخابی نتائج کو چیلنج کر سکتے ہیں، کیونکہ وہ اس سے قبل 2020 کے صدارتی انتخابات میں اپنی شکست کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے نتائج تبدیل کرنے کی کوشش کر چکے ہیں۔



