
اعلیٰ ملکی حکام نے دھوکہ دہی کو چھپانے کے لیے رشوتیں وصول کیں، یوکرینی اینٹی گرافٹ ایجنسیاں
نیشنل اینٹی کرپشن بیورو اور کرپشن کی روک تھام کے ذمے دار خصوصی پراسیکیوٹر کے دفتر کے مطابق قانون نافذ کرنے والے متعدد یوکرینی اداروں کے سینئر اہلکار ذاتی مالی فوائد کے بدلے جرائم کی پردہ پوشی کے اس عمل کے مجرموں کی ’انڈر ورلڈ‘ کی نمایاں شخصیات کے ساتھ مل کر مرتکب ہوئے۔
یوکرین میں بدعنوانی اور رشوت خوری کی روک تھام کے ذمے دار ملکی اداروں کی طرف سے بدھ چار نومبر کے روز کہا گیا کہ اعلیٰ ملکی حکام نے دھوکہ دہی اور فراڈ کے متعدد واقعات کو چھپانے کے لیے رشوتیں وصول کیں۔
یوکرینی دارالحکومت کییف سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق مشرقی یورپ کے ملک یوکرین میں اینٹی گرافٹ ایجنسیوں کی طرف سے کہا گیا کہ انہیں یقین ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ملکی اداروں کے اعلیٰ حکام نے کئی واقعات میں منظم طریقے سے اس لیے رشوت کی رقوم وصول کیں کہ متعدد زیر تفتیش واقعات میں غیر قانونی کاروباروں اور دھوکہ دہی کی نیت سے چلائے جانے والے کال سینٹرز کی سرگرمیوں کو خفیہ رکھا جا سکے۔
نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق یوکرین کے نیشنل اینٹی کرپشن بیورو اور کرپشن کی روک تھام کے ذمے دار خصوصی پراسیکیوٹر کے دفتر نے بتایا کہ اس سلسلے میں پہلی بار ستمبر میں سامنے آنے والے قانونی آپریشن کے نتائج کے مطابق مالیاتی بدعنوانی اور دھوکہ دہی کے واقعات کی اس پردہ پوشی میں یوکرین کی ایس بی یو نامی سکیورٹی سروس، نیشنل پولیس اور پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر کے سرکردہ اہلکار شامل تھے۔
نیشنل اینٹی کرپشن بیورو اور کرپشن کی روک تھام کے ذمے دار خصوصی پراسیکیوٹر کے دفتر کے مطابق قانون نافذ کرنے والے متعدد یوکرینی اداروں کے سینئر اہلکار ذاتی مالی فوائد کے بدلے جرائم کی پردہ پوشی کے اس عمل کے مجرموں کی ’انڈر ورلڈ‘ کی نمایاں شخصیات کے ساتھ مل کر مرتکب ہوئے۔
ساتھ ہی ان یوکرینی اینٹی گرافٹ ایجنسیوں کی طرف سے کہا گیا کہ اس بارے میں تاحال جاری قانونی کارروئی کے بعد مزید تفصیلات جلد ہی منظر عام پر لائی جائیں گی۔



