انٹرٹینمینٹاہم خبریںکھیل

پاکستان میں ” تین دن، ایک مقام، بے شمار تجربات”،اسلام آباد میں پاکستان ٹورازم، سپورٹس اینڈ فیملی فیسٹیول 2026 کا شاندار آغاز

پاکستان کے ثقافتی تنوع، قدرتی حسن، روایتی کھانوں اور سیاحتی امکانات کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لیے وفاقی دارالحکومت میں رنگا رنگ فیسٹیول؛ 200 سے زائد نمائشی اسٹالز، 14 غیر ملکی پویلین، ثقافتی تقریبات، کھیلوں کے مقابلے، میوزیکل کنسرٹس اور خاندانی تفریح کا خصوصی اہتمام

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت پاکستان

اسلام آباد (وائس آف جرمنی اردو نیوز): وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان کی ثقافتی خوبصورتی، سیاحتی امکانات، روایتی کھیلوں، علاقائی دستکاریوں اور خاندانی تفریح کو اجاگر کرنے کے لیے تین روزہ پاکستان ٹورازم، سپورٹس اینڈ فیملی فیسٹیول 2026 کا جمعہ 6 نومبر کو آغاز ہوگیا۔ فیسٹیول 8 نومبر تک جاری رہے گا، جس کے دوران پاکستان کے چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی تہذیبی روایات، ثقافتی ورثے، روایتی کھانوں اور سیاحتی مقامات کو ایک ہی پلیٹ فارم پر متعارف کرایا جا رہا ہے۔

تین روزہ فیسٹیول کا مرکزی پیغام "3 دن، ایک مقام، بے شمار تجربات” رکھا گیا ہے، جس کا مقصد شہریوں، خاندانوں، نوجوانوں، بچوں، مقامی و غیر ملکی سیاحوں اور سفارتی برادری کو پاکستان کی متنوع ثقافت، کھیلوں اور سیاحت سے روشناس کرانا ہے۔

فیسٹیول کی مختلف سرگرمیاں پاکستان سپورٹس کمپلیکس، ایف نائن پارک اور مارگلہ ہلز میں منعقد کی جا رہی ہیں، جہاں ثقافتی نمائشوں، روایتی کھیلوں، فوڈ فیسٹیول، دستکاریوں، بچوں کی تفریح، سائیکلنگ، راک کلائمبنگ، کار شو اور موسیقی کی تقریبات کا اہتمام کیا گیا ہے۔

احسن اقبال کا پاکستان کو عالمی سطح پر متحد سیاحتی منزل کے طور پر متعارف کرانے پر زور

پاکستان ٹورازم، سپورٹس اینڈ فیملی فیسٹیول کی افتتاحی تقریب کے موقع پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان قدرتی حسن، تاریخی ورثے، ثقافتی تنوع اور مہمان نوازی کی بے مثال روایات سے مالامال ملک ہے، تاہم ان وسیع امکانات سے بھرپور معاشی فوائد حاصل کرنے کے لیے ایک جامع اور مربوط قومی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو عالمی سیاحتی منڈی میں ایک متحد سیاحتی منزل (Unified Tourism Destination) کے طور پر متعارف کرایا جانا چاہیے تاکہ بین الاقوامی سیاحوں کو ملک کے مختلف علاقوں کی سیاحتی خصوصیات ایک مشترکہ قومی شناخت کے تحت پیش کی جا سکیں۔

احسن اقبال کے مطابق پاکستان کے شمالی علاقہ جات، تاریخی مقامات، مذہبی سیاحت، ثقافتی تہوار، روایتی کھانے اور قدرتی مناظر عالمی سیاحت میں نمایاں مقام حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری، سیاحتی سہولیات میں بہتری، جدید انفراسٹرکچر، عالمی معیار کی خدمات اور مربوط تشہیری مہم کے ذریعے پاکستان کی سیاحتی صنعت کو نئی بلندیوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

2035 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت کا ہدف، سیاحت کو کلیدی اہمیت حاصل

وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر تک پہنچانے کے قومی وژن میں سیاحت ایک اہم معاشی شعبے کی حیثیت رکھتی ہے۔

ان کے مطابق سیاحت کی ترقی سے نہ صرف غیر ملکی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے بلکہ ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ، ریسٹورنٹس، دستکاری، مقامی تجارت، رہائش، ٹور آپریٹرز اور دیگر خدمات سے وابستہ شعبوں میں وسیع پیمانے پر معاشی سرگرمیوں کو فروغ مل سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے اور عالمی سطح پر پاکستان کی مثبت شناخت اجاگر کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مضبوط تعاون ناگزیر ہے۔

احسن اقبال نے اس نوعیت کے فیسٹیولز کو معاشی، سماجی اور ثقافتی ترقی کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اجتماعات نہ صرف شہریوں کو صحت مند تفریح فراہم کرتے ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ثقافتی شناخت اور سیاحتی صلاحیت کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔

200 سے زائد نمائشی اور تجارتی اسٹالز، 14 غیر ملکی اسٹالز بھی شامل

فیسٹیول کی ایک نمایاں خصوصیت 200 سے زائد نمائشی اور تجارتی اسٹالز کا قیام ہے، جہاں پاکستان کے مختلف علاقوں کی ثقافتی مصنوعات، روایتی دستکاریاں، ملبوسات، کھانے پینے کی اشیا اور سیاحتی سرگرمیوں سے متعلق معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔

ان اسٹالز میں 14 غیر ملکی اسٹالز بھی شامل ہیں، جن کے ذریعے مختلف ممالک کی ثقافت، مصنوعات اور سیاحتی خصوصیات کو متعارف کرایا جا رہا ہے۔

غیر ملکی شرکت کو پاکستان میں ثقافتی روابط، عوامی سفارت کاری اور بین الاقوامی سیاحتی تعاون کے فروغ کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

فیسٹیول میں شریک مقامی کاروباری اداروں اور دستکاروں کو اپنی مصنوعات متعارف کرانے اور ممکنہ خریداروں تک رسائی حاصل کرنے کا موقع بھی مل رہا ہے۔

یہ نمائش خاص طور پر چھوٹے کاروباروں، روایتی ہنرمندوں، خواتین کی گھریلو صنعتوں اور مقامی مصنوعات تیار کرنے والے افراد کے لیے معاشی مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے ثقافتی پویلین توجہ کا مرکز

فیسٹیول میں پاکستان کے چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے ثقافتی پویلین قائم کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے ملک کے مختلف خطوں کی تہذیبی روایات، علاقائی شناخت، دستکاریوں، روایتی ملبوسات اور کھانوں کو پیش کیا جا رہا ہے۔

پنجاب کے ثقافتی پویلین میں صوبے کی روایتی دستکاریوں، ملبوسات اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کیا جا رہا ہے، جبکہ سندھ کی ثقافتی شناخت میں اجرک، سندھی ٹوپی اور روایتی فنون کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔

خیبر پختونخوا کے پویلین میں صوبے کی ثقافتی روایات، علاقائی مصنوعات اور سیاحتی امکانات کو متعارف کرانے کا اہتمام کیا گیا ہے، جبکہ بلوچستان کی منفرد دستکاری، بلوچی کڑھائی اور روایتی ثقافت بھی فیسٹیول کے مجموعی ثقافتی منظرنامے کا حصہ ہے۔

گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے پویلینز کے ذریعے شمالی پاکستان کے قدرتی حسن، پہاڑی ثقافت، روایتی مصنوعات اور سیاحتی مقامات سے متعلق آگاہی فراہم کی جا رہی ہے۔

ان پویلینز کا بنیادی مقصد شہریوں کو پاکستان کے مختلف علاقوں کے ثقافتی ورثے سے متعارف کرانا اور قومی سطح پر ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔

نیپال کے سفارت خانے کی شرکت، ثقافتی اور سیاحتی تعاون کو فروغ دینے کا عزم

پاکستان ٹورازم، سپورٹس اینڈ فیملی فیسٹیول 2026 میں غیر ملکی سفارتی نمائندگی بھی توجہ کا مرکز ہے۔

اسلام آباد میں نیپال کے سفارت خانے نے 6 سے 8 نومبر تک منعقد ہونے والے فیسٹیول میں شرکت پر مسرت کا اظہار کیا ہے۔

نیپال کی شرکت پاکستان اور نیپال کے درمیان سیاحت، ثقافتی روابط اور عوامی سطح پر تعلقات کے فروغ کے لیے ایک مثبت موقع فراہم کرتی ہے۔

پاکستان اور نیپال دونوں ممالک قدرتی مناظر، بلند پہاڑی سلسلوں، کوہ پیمائی، مہماتی سیاحت اور ثقافتی ورثے کے حوالے سے نمایاں شناخت رکھتے ہیں۔

اس نوعیت کی بین الاقوامی تقریبات سے دونوں ممالک کے سیاحتی شعبوں کے درمیان تجربات کے تبادلے اور مستقبل میں مشترکہ سرگرمیوں کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

فوڈ اسٹریٹ میں پاکستان کے روایتی ذائقوں کی بہار

فیسٹیول میں قائم فوڈ اسٹریٹ شہریوں اور خاندانوں کے لیے خصوصی دلچسپی کا مرکز ہے، جہاں ملک کے مختلف علاقوں کے روایتی کھانوں اور مقامی ذائقوں کو متعارف کرایا جا رہا ہے۔

پاکستانی کھانوں کی علاقائی پہچان کو اجاگر کرنے کے لیے فوڈ اسٹالز کا اہتمام کیا گیا ہے، جس سے شہریوں کو ایک ہی جگہ مختلف ثقافتوں کے ذائقوں سے لطف اندوز ہونے کا موقع مل رہا ہے۔

کھانوں کے ساتھ روایتی دستکاریوں اور ثقافتی سرگرمیوں کی موجودگی نے فیسٹیول کو ایک جامع خاندانی تفریحی تقریب کی شکل دے دی ہے۔

اس نوعیت کی سرگرمیاں نہ صرف مقامی کھانوں کی تشہیر میں مددگار ثابت ہوتی ہیں بلکہ چھوٹے کاروباروں اور فوڈ انڈسٹری سے وابستہ افراد کے لیے بھی نئے تجارتی امکانات پیدا کرتی ہیں۔

بچوں اور خاندانوں کے لیے خصوصی تفریحی سرگرمیاں

منتظمین نے فیسٹیول کو ہر عمر کے افراد کے لیے دلچسپ بنانے کی کوشش کی ہے۔

بچوں کی تفریح کے لیے جھولوں، میجک شوز، سرکس اور پیٹ شو سمیت مختلف سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا ہے، جبکہ نوجوانوں اور کھیلوں میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے تیراندازی اور راک کلائمبنگ جیسی سرگرمیاں بھی شامل کی گئی ہیں۔

فیسٹیول میں شریک خاندانوں کے مطابق اس تقریب کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ ایک ہی جگہ بچوں کی تفریح، ثقافتی سرگرمیوں، روایتی کھانوں اور کھیلوں سے لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

خاندانی سطح پر ایسی تقریبات شہری زندگی میں صحت مند تفریح، سماجی میل جول اور ثقافتی آگاہی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

دوسرے روز سائیکلنگ، ٹینٹ پیگنگ، کار شو اور میوزیکل کنسرٹ کا انعقاد

فیسٹیول کے دوسرے روز، ہفتہ 7 نومبر کو کھیلوں، ثقافتی سرگرمیوں اور تفریحی تقریبات کا خصوصی پروگرام ترتیب دیا گیا ہے۔

اعلان کردہ شیڈول کے مطابق صبح 8 بجے سائیکلنگ مقابلے منعقد کیے جائیں گے، جن میں سائیکلنگ کے شوقین افراد اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔

ایف نائن پارک میں صبح 10 بجے روایتی کھیل ٹینٹ پیگنگ، یعنی نیزہ بازی، کے مقابلوں کا اہتمام کیا جائے گا۔

نیزہ بازی پاکستان کے روایتی گھڑ سواری کھیلوں میں نمایاں مقام رکھتی ہے اور بالخصوص پنجاب سمیت مختلف علاقوں میں ثقافتی اہمیت کی حامل ہے۔

اسی روز غیر ملکی سفارت کاروں کی آمد بھی متوقع ہے، جس سے فیسٹیول کی بین الاقوامی اہمیت مزید اجاگر ہونے کی امید ہے۔

دیگر اعلان کردہ سرگرمیوں میں کار شو، ڈبل ڈیکر بس سفاری، ثقافتی پرفارمنس، آتش بازی اور میوزیکل کنسرٹ شامل ہیں۔

ان پروگراموں کا مقصد شہریوں اور سیاحوں کو متنوع تفریحی تجربات فراہم کرنے کے ساتھ پاکستان کی ثقافتی اور کھیلوں سے متعلق روایات کو نمایاں کرنا ہے۔

مارگلہ ہلز میں مہماتی سیاحت اور قدرتی ماحول کی اہمیت

اسلام آباد کے قدرتی حسن کی علامت مارگلہ ہلز کو بھی فیسٹیول کی سرگرمیوں میں شامل کیا گیا ہے۔

مارگلہ ہلز اپنے سرسبز پہاڑوں، قدرتی مناظر اور پیدل سفر کے راستوں کے باعث ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کے لیے خصوصی کشش رکھتی ہیں۔

فیسٹیول میں اس مقام کی شمولیت پاکستان میں مہماتی اور قدرتی سیاحت کے امکانات اجاگر کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

ماحولیاتی اور سیاحتی نقطۂ نظر سے ایسی سرگرمیوں کے ذریعے شہریوں میں قدرتی مقامات کے تحفظ، ذمہ دارانہ سیاحت اور صحت مند طرزِ زندگی سے متعلق آگاہی بڑھانے کے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔

آخری روز فیملی اینڈ کڈز رن اینڈ رائیڈ، کامیاب شرکا میں انعامات تقسیم ہوں گے

فیسٹیول کے تیسرے اور آخری روز، اتوار 8 نومبر کو خاندانوں اور بچوں کے لیے خصوصی فیملی اینڈ کڈز رن اینڈ رائیڈ پروگرام منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

اس سرگرمی کا مقصد بچوں اور والدین کو مشترکہ کھیلوں اور جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ترغیب دینا ہے۔

منتظمین کے مطابق فیسٹیول کے اختتامی روز مختلف کھیلوں اور مقابلوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے شرکا میں انعامات بھی تقسیم کیے جائیں گے۔

اختتامی سرگرمیوں کے ذریعے تین روزہ تقریبات میں شریک افراد کی حوصلہ افزائی اور کھیلوں کے فروغ کا پیغام اجاگر کیا جائے گا۔

سیاحت، ثقافت اور کھیلوں کا فروغ معاشی ترقی کے لیے اہم

پاکستان ٹورازم، سپورٹس اینڈ فیملی فیسٹیول 2026 محض ایک تفریحی اجتماع نہیں بلکہ سیاحت، ثقافت، کھیلوں اور مقامی کاروباری سرگرمیوں کو ایک دوسرے سے منسلک کرنے کی کوشش بھی ہے۔

پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے وسیع امکانات موجود ہیں، تاہم ان امکانات سے مکمل فائدہ اٹھانے کے لیے سیاحتی مقامات تک بہتر رسائی، محفوظ سفری سہولیات، معیاری رہائش، تربیت یافتہ افرادی قوت، مؤثر مارکیٹنگ اور جدید ڈیجیٹل معلوماتی نظام کی ضرورت ہے۔

اسی طرح ثقافتی میلوں اور علاقائی نمائشوں کے ذریعے روایتی دستکاریوں اور مقامی مصنوعات کو نئی منڈیوں تک پہنچانے کے مواقع بھی پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

سیاحت کے فروغ سے براہِ راست فائدہ حاصل کرنے والے شعبوں کے علاوہ ٹرانسپورٹ، خوراک، مقامی تجارت، رہائش اور خدمات فراہم کرنے والے کاروبار بھی معاشی سرگرمیوں میں اضافے سے مستفید ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کی عالمی شناخت اجاگر کرنے کا موقع

اسلام آباد میں منعقد ہونے والا یہ فیسٹیول پاکستان کی ثقافتی شناخت، سیاحتی مقامات اور روایتی کھیلوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر پیش کرنے کی اہم کوشش ہے۔

غیر ملکی اسٹالز، سفارتی شرکت اور مختلف صوبوں کے ثقافتی پویلینز کے ذریعے مقامی شہریوں کے ساتھ بین الاقوامی شرکا کو بھی پاکستان کے ثقافتی تنوع سے روشناس ہونے کا موقع مل رہا ہے۔

پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے لیے اس نوعیت کے فیسٹیولز کو مستقل بنیادوں پر منعقد کرنا، عالمی سیاحتی اداروں کے ساتھ تعاون بڑھانا اور مختلف علاقوں کی منفرد ثقافتی خصوصیات کو بین الاقوامی سطح پر پیش کرنا مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مربوط حکمت عملی، نجی شعبے کی شرکت اور سیاحتی انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری بھی طویل المدتی کامیابی کے لیے اہم ہوگی۔

پاکستان ٹورازم، سپورٹس اینڈ فیملی فیسٹیول 2026 کا بنیادی تصور پاکستان کے مختلف خطوں کی ثقافت، روایات، کھیلوں اور سیاحتی خصوصیات کو ایک مشترکہ قومی پلیٹ فارم پر پیش کرنا ہے۔

یہ فیسٹیول جہاں شہریوں اور خاندانوں کو تفریح کے مواقع فراہم کر رہا ہے، وہیں پاکستان کے ثقافتی تنوع، علاقائی ورثے اور روایتی ہنرمندی کو نمایاں کرنے کا ذریعہ بھی بن رہا ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں 6 سے 8 نومبر تک جاری رہنے والی یہ تقریبات پاکستان کے سیاحتی امکانات کو اجاگر کرنے اور ثقافتی روابط مضبوط بنانے کی ایک کوشش ہیں۔

منتظمین کو توقع ہے کہ تین روزہ فیسٹیول کے ذریعے نہ صرف مقامی اور غیر ملکی شرکا کو پاکستان کے مختلف ثقافتی رنگ دیکھنے کا موقع ملے گا بلکہ سیاحت، کھیلوں، مقامی تجارت اور عوامی سطح پر ثقافتی ہم آہنگی کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button