مشرق وسطیٰ

غزہ سے بے دخل فلسطینیوں کی آباد کاری، امریکہ اور اسرائیل کی نظریں افریقہ ممالک پر

امریکہ اور اسرائیل نے تین افریقی ممالک کے حکام سے رابطہ کیا ہے تاکہ غزہ سے فلسطینیوں کو بےدخل کر کے ان کے ملکوں میں آباد کیا جا سکے۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے صدر ٹرمپ کے مجوزہ منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سوڈان، صومالیہ اور صومالیہ سے علیحدہ ہونے والے علاقے صومالی لینڈ کی حکومتوں سے رابطہ کیا ہے۔
یہ تینوں ممالک چونکہ بری حالت میں ہیں اور کسی حد تک کشیدگی کی لپیٹ میں بھی رہتے ہیں اس لیے یہ تجویز صدر ٹرمپ کے فلسطینیوں کو ’خوبصورت علاقے‘ میں بسانے کے بیان کے حوالے سے چکوک و شبہات کو جنم دے رہی ہے۔
سوڈان کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ انہوں نے امریکہ کی جانب سے تجویز کو مسترد کر دیا ہے، جبکہ صومالیہ اور صومالی لینڈ کے حکام نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ وہ ان رابطوں سے آگاہ نہیں ہیں۔
امریکی اور اسرائیلی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صومالیہ اور صومالی لینڈ کے ساتھ رابطوں کی تصدیق کی ہے جبکہ امریکی حکام نے سوڈان کے ساتھ بات چیت کی بھی تصدیق کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ کتنی پیش رفت ہوئی یا کس سطح پر بات چیت ہوئی۔
وائٹ ہاؤس نے رابطوں کی کوششوں پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور اسرائیلی کابینہ کے وزیر رون ڈرمر کے دفاتر نے بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے رواں ہفتے کہا تھا کہ اسرائیل فلسطینیوں کو اپنے ملک بسانے والے ممالک کی نشاندہی کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اسرائیل اپنی وزارت دفاع کے اندر ایک ’بہت بڑا امیگریشن ڈیپارٹمنٹ‘قائم کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button