پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

عظمیٰ بخاری کا گورنر پنجاب کو دوٹوک جواب: "آئینی رول کی ادائیگی کے سوا کوئی مشورے کی ضرورت نہیں”

وزیر اطلاعات پنجاب نے گورنر کے کھلے خط پر سخت ردعمل دیتے ہوئے مؤثر گورننس، سیلاب متاثرین کی خدمت اور مریم نواز کی قیادت کا دفاع کیا

لاہور ( خصوصی نمائندہ) –پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے گورنر پنجاب کی جانب سے حکومتِ پنجاب کو لکھے گئے کھلے خط پر بھرپور اور دوٹوک ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ "گورنر کو صرف اپنا آئینی کردار ادا کرنا چاہیے، نہ کہ غیر ضروری مشورے دینا۔”

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب گورنر پنجاب کی جانب سے حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال میں حکومتی اقدامات پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے ایک کھلا خط لکھا گیا، جس میں امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے تجاویز بھی شامل تھیں۔


"ہمیں کسی کی مشاورت کی ضرورت نہیں” — عظمیٰ بخاری

عظمیٰ بخاری نے گورنر کے خط کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ:

"گورنر صاحب کو کھلا خط لکھنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ پنجاب حکومت پہلے ہی سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سرگرمیاں بھرپور انداز میں جاری رکھے ہوئے ہے۔”

انہوں نے کہا کہ گورنر کو ہر بار ان کا آئینی کردار یاد دلانا پڑتا ہے، جو کہ ان کے منصب کے لیے باعثِ افسوس ہے۔ "گورنر بار بار اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہیں، جبکہ ان کا کردار صرف آئینی دائرہ کار تک محدود ہونا چاہیے۔”


مریم نواز کی قیادت میں ریلیف آپریشن

وزیر اطلاعات نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ:

"سیلاب کے اگلے ہی دن مریم نواز چکوال پہنچیں، متاثرہ افراد سے ملاقات کی اور ہنگامی اقدامات کا آغاز کیا۔”

انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت دن رات ریلیف آپریشن میں مصروف ہے، اور تمام ادارے متحرک انداز میں کام کر رہے ہیں۔ "ہم صرف زبانی جمع خرچ پر یقین نہیں رکھتے بلکہ عملی اقدامات پر یقین رکھتے ہیں۔”


"اپنی جماعت کو خط لکھیں، ہمیں نہیں”

عظمیٰ بخاری نے گورنر کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں واقعی کچھ کہنے کی ضرورت ہے، تو وہ اپنی سیاسی جماعت یا وفاقی حکومت کو مشورے دیں:

"پنجاب کے عوام نے مریم نواز کو مینڈیٹ دیا ہے، اور ہم عوام کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے۔ ایسے میں نمائشی بیانات اور فوٹو سیشن کی سیاست ناقابل قبول ہے۔”

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پنجاب حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھانے کے بجائے، گورنر کو چاہیے کہ وہ ریاستی اداروں کے آئینی توازن کا احترام کریں۔


سیاسی حلقوں میں گونج اور ردعمل

عظمیٰ بخاری کے سخت بیان نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان نہ صرف مرکز اور پنجاب حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کی عکاسی کرتا ہے، بلکہ یہ وفاق اور صوبے کے آئینی تعلقات پر بھی سوالات اٹھاتا ہے۔

تاہم، حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں پنجاب حکومت کسی بھی قسم کی سیاسی مداخلت کے بغیر انتظامی امور پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، اور ہر سطح پر مؤثر حکمرانی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔


گورنر اور حکومت پنجاب میں تناؤ کی تاریخ

یہ پہلا موقع نہیں جب گورنر اور پنجاب حکومت کے درمیان اختلافات سامنے آئے ہوں۔ ماضی میں بھی گورنر کی جانب سے انتظامی معاملات پر بیانات اور تجاویز دی جاتی رہی ہیں، جنہیں حکومت پنجاب اکثر غیر ضروری مداخلت قرار دیتی ہے۔

سیاسی ماہرین کے مطابق یہ تناؤ اس وقت تک جاری رہ سکتا ہے جب تک دونوں فریقین آئینی دائرہ کار کی مکمل پاسداری نہ کریں۔


نتیجہ: عوامی خدمت ترجیح، سیاست نہیں

عظمیٰ بخاری کا سخت اور واضح ردعمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پنجاب حکومت، خاص طور پر سیلاب جیسی ایمرجنسی کی صورتحال میں، ہر طرح کی سیاسی مداخلت کو مسترد کرتے ہوئے صرف عوامی خدمت پر توجہ مرکوز رکھنا چاہتی ہے۔

وزیر اطلاعات نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ:

"ہم نمائشی سیاست پر یقین نہیں رکھتے۔ ہماری ترجیح صرف عوامی ریلیف، خدمت اور شفاف گورننس ہے۔”

پنجاب حکومت کے اس مؤقف سے واضح ہوتا ہے کہ وہ سیاسی دباؤ کے بجائے کارکردگی کے بل بوتے پر عوامی اعتماد حاصل کرنے کی حکمتِ عملی پر گامزن ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button