اہم خبریںپاکستان

چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کی تقرری کے موقع پر ٹرائی سروسز گارڈ آف آنر کی شاندار تقریب

تقریب کا آغاز جنرل ہیڈ کوارٹرز کے خوبصورت احاطے میں پاکستان کی مسلح افواج کے تینوں حصوں کے جوانوں کی جانب سے ایک شاندار گارڈ آف آنر پیش کیے جانے سے ہوا

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز آئی ایس پی آر کے ساتھ

جنرل ہیڈ کوارٹرز (GHQ) میں آج پاکستان کی مسلح افواج کے لیے ایک اہم دن تھا، جہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، NI (M), HJ، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز (COAS اور CDF) کو ان کے نئے عہدوں پر تقرری کے موقع پر ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی۔ اس موقع پر پاکستان کی تینوں افواج نے ان کی قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے ان کو ٹرائی سروسز گارڈ آف آنر پیش کیا۔

تقریب میں اعلیٰ فوجی قیادت کی شرکت:

اس تقریب میں پاکستان کی تینوں افواج کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اس میں پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف، NI, NI(M)، ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، NI (M) HJ، چیف آف ایئر اسٹاف اور تینوں افواج کے دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔ تقریب کا آغاز جنرل ہیڈ کوارٹرز کے خوبصورت احاطے میں پاکستان کی مسلح افواج کے تینوں حصوں کے جوانوں کی جانب سے ایک شاندار گارڈ آف آنر پیش کیے جانے سے ہوا، جس کے بعد فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور دیگر اعلیٰ افسران نے اس موقع پر خطاب کیا۔

سہ فریقی افواج کے انضمام اور ہم آہنگی پر زور:

چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز نے اپنے خطاب میں پاک فوج کے سپاہیوں، افسروں اور فوجی قیادت کی عظمت کو سراہا۔ انہوں نے خاص طور پر پاکستان کی مسلح افواج کے مرد و خواتین کی پیشہ ورانہ مہارت کا ذکر کیا اور کہا کہ مارکہ حق کے دوران دکھائی جانے والی بہادری اور ہمت پوری قوم کے لیے ایک مثالی نمونہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مارکہ حق کے ملٹی ڈومین آپریشنز اب مستقبل کی جنگ کی نصابی کتاب کا حصہ بن چکے ہیں اور یہ جدید جنگ کے عین مطابق حکمت عملیوں کا بہترین نمونہ ہیں۔

انہوں نے سہ فریقی خدمات کے انضمام اور ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ مسلح افواج کو جنگ کی نئی حقیقتوں کے ساتھ ہم آہنگ رہنا ہوگا۔ خاص طور پر، سائبر اسپیس، الیکٹرو میگنیٹک اسپیکٹرم، آؤٹر اسپیس، اور انفارمیشن کی معلومات کے شعبے میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے ساتھ ہمیں ان جنگی میدانوں میں بھی تیار رہنا ہو گا جہاں روایتی جنگی حکمت عملی سے آگے بڑھ کر جدید، سائنسی اور ٹیکنالوجی کی مدد سے مزید مؤثر طریقے سے لڑنا ممکن ہے۔

نئے CDF ہیڈ کوارٹر کا قیام:

سی او اے ایس اور سی ڈی ایف نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ نئے قائم کردہ چیف آف ڈیفنس فورسز ہیڈ کوارٹر کو ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ہیڈ کوارٹر سہ فریقی خدمات کی چھتری کے تحت مستقبل میں درپیش خطرات کے لیے ایک بہتر انضمام اور ہم آہنگی کا موجب بنے گا، جو کہ پاکستان کی مسلح افواج کو آنے والے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کرے گا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مستقبل کی جنگیں صرف روایتی میدانوں تک محدود نہیں ہوں گی، بلکہ ان میں سائبر حملے، ڈیٹا اور معلومات کی جنگ اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال شامل ہو گا۔ اس لیے سہ فریقی افواج کا انضمام اور ہم آہنگی ضروری ہے تاکہ ہم دشمن کے تمام ہتھکنڈوں کا مؤثر جواب دے سکیں۔

شہداء کو خراج عقیدت:

سی او اے ایس اور سی ڈی ایف نے اپنے خطاب میں شہداء کو بھی خراج عقیدت پیش کیا، جن کی قربانیاں ہمیشہ پاکستانی قوم کا فخر بنی رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کی قربانیوں کی بدولت پاکستان کی سرحدیں محفوظ ہیں اور ہمارے جوانوں کی بہادری کی بدولت ہم اپنے دشمنوں کے ہر حربے کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں۔

تقریب کا اختتام اور ایوارڈز کی پیشکش:

تقریب کے اختتام پر پاکستان نیوی اور پاک فضائیہ کی جانب سے نشانِ حق کے ہیروز کو ان کے شجاعانہ کارناموں پر ایوارڈز پیش کیے گئے۔ یہ ایوارڈز ان سپاہیوں کو دیے گئے جنہوں نے جنگ کے دوران اپنی بہادری اور عزم سے قوم کا سر فخر سے بلند کیا۔ اس موقع پر ایوارڈز حاصل کرنے والوں نے اپنی خدمات اور قربانیوں کی بدولت پاکستان کی مسلح افواج کی شان بڑھائی۔

سی او اے ایس کا اختتامی پیغام:

اختتامی کلمات میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستانی مسلح افواج کے افسران اور جوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی فوج کا مستقبل ایک جدید، مضبوط اور ثقافتی طور پر ہم آہنگ فوج بننے کا ہے جو کسی بھی جارحیت کو روکے رکھے اور اپنی قوم کا مکمل اعتماد حاصل کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج صرف ایک جنگی مشین نہیں بلکہ ایک ثقافت اور عزم کا مظہر ہے، جو ہر مشکل سے سرخرو ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

خلاصہ:

آج کی یہ شاندار تقریب پاکستان کی مسلح افواج کی طاقت، پیشہ ورانہ مہارت اور اس کے تمام افسران اور جوانوں کے عزم کا بھرپور مظہر تھی۔ چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کی تقرری کے موقع پر اس گارڈ آف آنر اور ایوارڈز کی پیشکش نے اس بات کو ثابت کیا کہ پاکستان کی فوج ہر میدان میں پوری دنیا کے سامنے ایک طاقتور اور پیشہ ور فورس کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button