کاروبارتازہ ترین

پی آئی اے کی نیلامی: عارف حبیب کا کہنا ہے کہ صرف بہترین کارکردگی والے ملازمین کو ساتھ رکھا جائے گا

پی آئی اے کی تنظیم نو اور اس کے کامیاب آپریشنز کے لیے ایک مستحکم اور پیشہ ور ٹیم کی ضرورت ہے۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نیلامی میں 75 فیصد حصہ خریدنے والے معروف بزنس گروپ کے سربراہ، عارف حبیب نے کہا ہے کہ پی آئی اے میں صرف وہ ملازمین ساتھ رہیں گے جو اپنی کارکردگی میں بہتری دکھائیں گے، جبکہ دیگر ملازمین کے لیے ٹیم میں شامل رہنا مشکل ہوگا۔ عارف حبیب کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کو دوبارہ کامیاب بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ادارے میں صرف وہی افراد شامل ہوں جو اپنے کام میں محنتی اور قابل ہوں۔

عارف حبیب نے کراچی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کی موجودہ مالی حالت اور آپریشنل مسائل کا حل صرف اس وقت ممکن ہے جب ادارے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افراد کو ہی اہم ذمہ داریاں دی جائیں۔ انہوں نے اس بات کو واضح کیا کہ پی آئی اے کی تنظیم نو اور اس کے کامیاب آپریشنز کے لیے ایک مستحکم اور پیشہ ور ٹیم کی ضرورت ہے۔

کارکردگی کی بنیاد پر انتخاب
عارف حبیب نے کہا کہ "ہم پی آئی اے میں موجودہ ملازمین کو یہ موقع دیں گے کہ وہ اپنی کارکردگی کو بہتر بنائیں۔ لیکن جو لوگ اپنی ذمہ داریوں کو مؤثر طریقے سے نہیں نبھائیں گے، ان کے لیے ٹیم میں شامل رہنا مشکل ہوگا۔” انہوں نے مزید کہا کہ "ہم صرف ان ملازمین کو ساتھ رکھیں گے جو پی آئی اے کی بحالی میں واقعی مددگار ثابت ہوں گے اور ادارے کی ترقی کے لیے اپنی محنت سے حصہ ڈالیں گے۔”

عارف حبیب نے کہا کہ پی آئی اے میں موجودہ سسٹم میں اصلاحات لانے کی ضرورت ہے تاکہ ادارے کی کارکردگی اور مسافروں کے لیے فراہم کی جانے والی سروسز کو بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی آئی اے کے مستقبل کے لیے ایک مضبوط اور محنتی ٹیم ضروری ہے، اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ادارے کی بحالی کے عمل میں شامل افراد اپنے کام کو بھرپور طریقے سے انجام دیں۔

پی آئی اے کی نیلامی کے بعد کا لائحہ عمل
عارف حبیب نے پی آئی اے کی نیلامی میں 75 فیصد حصص خریدنے کے بعد اپنی کمپنی کی جانب سے ادارے کی تنظیم نو اور آپریشنز کو بہتر بنانے کے لیے کئی اہم اقدامات کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے میں جدت لانے، جدید طیارے خریدنے، اور عالمی معیار کی سروس فراہم کرنے کے لیے تمام وسائل استعمال کیے جائیں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پی آئی اے کے موجودہ مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک مربوط حکمت عملی اپنائی جائے گی۔

عارف حبیب نے کہا کہ پی آئی اے کے مالی بحران اور انتظامی مسائل کا حل صرف اصلاحات، نئی حکمت عملی، اور کام کرنے والے عملے کی محنت سے ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کے کامیاب آپریشنز کے لیے انٹری اور ایگزٹ پروسیجرز میں آسانی، سکیورٹی چیکز کی بہتری اور مسافروں کے لیے بہترین سروس فراہم کرنا انتہائی ضروری ہے۔

ملازمین کی بہتری کے لیے اقدامات
عارف حبیب نے پی آئی اے کے ملازمین کے حوالے سے بھی اپنی بات رکھی اور کہا کہ "ہم ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے مختلف اقدامات کریں گے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ صرف وہ افراد پی آئی اے کا حصہ رہیں جو اپنی کارکردگی میں مسلسل بہتری لائیں اور ادارے کی کامیابی کے لیے کام کریں۔”

عارف حبیب نے مزید کہا کہ پی آئی اے کے تمام ملازمین کو جدید تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنا سکیں اور عالمی سطح کی خدمات فراہم کر سکیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ادارے کی بہتری کے لیے ملازمین کو مناسب مراعات بھی فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔

پی آئی اے کی بحالی کے لیے عالمی سطح پر حکمت عملی
عارف حبیب نے پی آئی اے کے عالمی سطح پر ایک کامیاب ایئرلائن بنانے کے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہم پی آئی اے کو صرف قومی سطح پر نہیں بلکہ عالمی سطح پر ایک نمایاں ایئرلائن بنانا چاہتے ہیں۔ ہم اس ادارے کو جدید طیاروں، بہترین سروسز اور اعلیٰ معیار کی پروازوں کے ذریعے عالمی سطح پر مسافروں کا اعتماد دوبارہ حاصل کریں گے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ پی آئی اے کی بحالی کے لیے مکمل حکمت عملی تیار کی جائے گی جس میں عالمی معیار کے ہوائی جہازوں کی خریداری، نئے ریل روٹس کا تعین، اور سروس کے معیار میں نمایاں بہتری شامل ہوگی۔

مستقبل کی توقعات
عارف حبیب کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کا 75 فیصد حصہ خریدنا ایک بڑی ذمہ داری ہے اور اس کے ذریعے پی آئی اے کو نیا مقام دلانے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کے مستقبل کے حوالے سے ان کا وژن واضح ہے اور وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ادارہ ایک مضبوط اور منافع بخش ایئرلائن بنے۔

عارف حبیب نے آخر میں کہا کہ پی آئی اے کے اندر موجود تمام تر مسائل اور چیلنجز کے باوجود وہ اپنے گروپ کی جانب سے ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے تاکہ پی آئی اے کو دوبارہ عالمی سطح پر کامیاب بنایا جا سکے۔

نتیجہ
عارف حبیب نے اس بات کا عزم کیا کہ پی آئی اے کے مستقبل میں کامیابی کے لیے تمام ملازمین کو اپنی کارکردگی میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے ادارے کی تمام تر اصلاحات اور اقدامات کارکردگی کی بنیاد پر کیے جائیں گے تاکہ پی آئی اے کو ایک نئی روشنی مل سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button